28 May 2010

پردیس میں تبلیغ دین


کینیڈا وارد ہوئے مجھے تقریبا ایک ہفتہ گزرا تھا اور میں جیٹ لیگ کی کیفیت میں تھا۔ تما م دن اپارٹمنٹ میں اونگھتے اور رات جاگتے کٹتی تھی۔ انہی دنوں کی بات ہے کہ جب میں ایک دوپہر صوفہ پہ پڑا اونگھ رہا تھا کہ کسی نے بیرونی دروازہ پیٹنا شروع کر دیا۔ میزبان گھر پر موجود نہیں تھے اس لیے چارو نا چار مجھے ہی دروازہ کھولنا تھا۔ بڑی مشکل سے گرتے پڑتے دروازے تک پہنچے اور پِیپ ہول سےنظر دوڑائی۔ کیا دیکھتا ہوں کہ ایک لمبے تڑنگے ا فریقی النسل صاحب کھڑے دانت دکھا رہے ہیں۔ سوچا یہی وقت ہے اپنی انگریزی آزمانے کا۔ بس اپنے آپ کو کسی بھی غیر مانوس لہجے میں انگریزی دانی کے لیے تیار کرتے ہوے جھٹ سے دروازہ کھول ڈالا۔  دوسری طرف موصوف نے مجھے دیکھتے ہی کسی جناتی زبان میں گفتگو شروع کردی۔ پہلے تو سمجھ ہی نہ آسکی کہ یا الٰہی کیا ماجرا ہے، کہ ہماری انگریزی جیسی بھی ہے اتنی بُری بھی نہیں کہ کان پڑا کچھ سنائی ہی نہ دے۔ چند لمحے سر کھجانے کے بعد احساس ہوا کہ الفاظ جانے پہچانے سے ہیں۔ فوراً ہی یہ حقیقت آشکار ہوئی کہ موصوف پنجابی میں گفتگو فرما رہے ہیں۔ اور ساتھ کاندھے سے لٹکے بیگ میں سے کوئی پمفلٹ نکال کر مجھے تھمانے کی کوشش کرنے لگے۔ میں ٹکٹکی باندھے حیرت سے ان کے منہ کو دیکھتا رہا۔ موصوف یسوع مسیح کا کوئی پیغام امن پڑھارہے تھے۔ اپنی حیرت پہ قابو پاتے ہوئے میں نے عرض کی کہ جناب جو پمفلٹ آپ تھمانے کی کوشش میں ہیں وہ میرے لیے بے کار ہے  کہ یہ گُرومکھی رسم الخط میں ہے اور میں نہ تو Sick ہوں نہ ہی سکھ ہوں۔ نیز یہ کہ مرتد ہونے کا میرا دور دور تک کوئی ارادہ نہیں۔ آپ جائیں اپنا راستہ ناپیں۔ بجائے ہٹنے کے انھوں نے جھٹ سے ایک اور پمفلٹ اردو میں چھپا ہوا نکالا اور ساتھ ہی اردو میں واعظ شروع کردیا۔ اب تو میں ان کی صلاحیتوں کی داد دیے بغیر نہ رہ سکا۔ استفسار پر معلوم ہوا کہ موصوف کا تعلق کسی عیسائی مشنری سے ہے اور چھ سال امریکہ میں چرچ کے زیراہتمام کسی تعلیمی ادارے میں اردو، پنچابی اور ہندی سیکھتے رہے ہیں کہ ہم دیسیوں تک اپنی تبلیغ کرسکیں۔ اور نہ صرف یہ کہ اردو، پنجابی بلکہ اس ادارے میں درجنوں غیر ملکی زبانیں سکھانے کا بندوبست ہے جہاں سے فارغ لتحصیل طلبہ و طالبات غیر ملکی زبانیں سیکھ کر تبلیغ کے مشن پر روانہ ہوتے ہیں۔ پیغام سے قطع نظر ان کی کوشش اور جذبہ قابل قدر تھا۔ اور ساتھ ہی ساتھ حیرت ہو کہ کتنے بڑے پیمانے پر یہ کام جاری ہے۔


دوسری طرف رائے ونڈ پاکستان سے آئے کئی مبلغ حضرات سے مل چکا ہوں جن کی انگریزی کی ماڑی حالت دیکھ کر حیرت ہوتی تھی کہ تبلیغ تو درکنار یہ ہوائی اڈے سے یہاں تک کیسے پہنچے؟  معلوم ہوا کہ یہ حضرات صرف اردو، پنجابی سے ہی اپنا کام چلاتے ہیں اور دیسیوں کے علاوہ کسی اور کو اپنا پیغام پہنچانے کے لائق نہیں سمجھتے۔ عرب ممالک سے آئی تبلیغی جماعتوں کا حال بھی زیادہ مختلف نہیں، سوائے مغربی زبانوں میں اسلامی کتابیں چھپوانے کے کوئی قابل ذکر کام نہیں کیا گیا۔ باقی رہے دوسرے مسلمان، تو انہیں اپنی زندگی کی مصروفیات سے ہی فرصت نہیں، دین کی کسے پرواہ ہے۔ تو پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ تبلیغ کا کام کیسے جاری ہے اور یہ جو تھوڑے بہت لوگ مسلمان ہو رہے ہیں تو اس کے پیچھے کیا اسرار ہے؟

تحقیق کرنے پر معلوم ہوا کہ وہ نو مسلمین کی یا تو اپنی کاوش تھی یا پھر کچھ اللہ لوگ انفرادی طور پر تبلیغ کا کام جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ان نومسلمین نے کتابوں اور انٹرنیٹ سے معلومات حاصل کرنے کا آغاز اپنے تجسس کی خاطر کیا اور پھر گرتے پڑتے دل و دماغ کی کشمکش سے گزرتے ہوئے اسلام لانے کے فیصلہ کن نتیجہ پر پہنچے۔ ان نومسلمین کو اپنے معاشرے اور خاندان کی طرف سے جو مخالفت بھگتنی پڑتی ہے وہ تو اپنی جگہ، لیکن کئی ایسے مسائل کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے جس کی ذمہ داری بڑی حد تک ہم پیدائشی مسلمانوں پر ہے۔ مثال کہ طور پر ہم لوگ پبلک ریلیشننگ میں کافی کمزور واقع ہوئے ہیں۔ تقریباٍ پچانوے فیصد مساجِد اور اسلامی تنظیموں کی ویب سائٹس نہ تو باقاعدگی سے اپ ڈیٹ رکھی جاتی ہیں اور نہ ہی ان پر غیر مسلم مقامی آبادی سے رابطے کا کوئی مؤثر ذریعہ(Outreach Program) ہے۔ ویب سائٹس پر شائع کی گئی ای میل کے پتے پر میل بھیجیں تو کئی کئی ہفتے جواب ہی نہیں آتا۔ فون کرو تو اول تو کو ئی اٹھاتا ہی نہیں، اور اگر بفرض محال کوئی اٹھا لے تو عموما ایسے شخص سے پالا پڑتا ہے کہ تمام وقت ان کی انگریزی سمجھتے اور اپنی سمجھاتے گزر جاتا ہے۔ میں ایک ایسی نو مسلم خاتون سے واقف ہوں جو اپنی قریبی مسجد سے رابطہ کرنے پرصحیح اور مثبت جواب نہ ملنے پر مایوس ہو چکی تھیں۔ آخر انھیں کئی ماہ بعد ا یک نزدیکی شہر کی مسجد کا رخ کرنا پڑا۔ تبدیلی مذہب کے سلسلے میں اور کیا حالات پیش آسکتے ہیں اس کا اندازہ آپ صفیہ جو کہ یہودی النسل ہیں کے قبول اسلام کے واقعہ سے لگا سکتے ہیں۔

تبلیغ کا جو طریقہ رسول کریمﷺ کی سنت سے ثابت ہے اس میں اعلیٰ کردار، اخلاق، عمل اور دلیل شرط ہے۔ پہلی تین خصوصیات تو ہم میں باقی رہی نہیں، اور دلیل کا موقعہ ہم ناسمجھی اور جذبات کی رو میں بہہ کر گنوا دیتے ہیں۔ واضح رہے کہ بات مسلمانوں کی تعداد بڑھانے کی نہیں بلکہ اسلام اور مسلمانوں کا دفاع اور صحیح تصویر پیش کرنے کی ہے۔ یا تو ہم اپنی ذمہ داری کا احساس کرتے ہو اپنا کام سلیقہ سے نبٹائیں ورنہ غیر نمائندہ افراد کی طرف سے مسلمانوں کی کردار کشی اور اسلام کے بارے میں بدفہمی پھیلانے کا سلسلہ یونہی جاری رہے گا۔






17 comments:

  1. بہت اچھی تحرير ہے جو کہ عملی حالت پيش کر رہی ہے ۔ جب ميں انجيئرنگ کالج لاہور ميں داخل ہوا 1956ء تو ميرا واسطہ تبليغی جماعت سے پڑا ۔ اُس زمانہ ميں ان ميں الثريت پڑھے لکھے لوگوں کی تھی يعنی انجيئر ڈاکٹر ايم ايس سی پی ايچ ڈی وغيرہ ۔ اُن لوگوں کا طرزِ تبليغ اپنے حُسنِ سلوک سے شروع ہوتا تھا اور ہر آدمی تبليغ کرنا شروع نہيں کر ديتا تھا بلکہ صرف دين کا اچھا عِلم رکھنے والا ہی يہ کام کرتا تھا باقی اس کا ساتھ ديتے تھے ۔ اب تبليغی جماعت ميں ہر قسم کے لوگ شريک ہو چکے ہيں اور اس ميں شامل قابل لوگوں پر پردے کا کام کر رہے ہيں

    ReplyDelete
  2. ان ميں اکثريت پڑھے لکھے لوگوں کی تھی

    ReplyDelete
  3. آج کی تبلیغ بس اتنی رہ گئی ہے کہ
    اسلام کے نام پہ مسلمانوں کو تنگ کرو
    نماز کے بعد ایک پرچی پہ اپنی حاضری لگواؤ
    اور مرکز میں جا کر ایک ہی بات بار بار سنو
    اور رٹو طوطے بن کے تم بھی ان ہی لوگوں میں شامل ہو جاؤ

    ReplyDelete
  4. صحیح فرمایا!

    ReplyDelete
  5. بہت اچھا لکھا عثمان ۔۔

    ReplyDelete
  6. حوصلہ افزائی کا شکریہ!

    ReplyDelete
  7. السلام علیکم
    میری طرف سے بھی خوش آمدید عثمان۔۔۔تھوڑی تاخیر سے ہی سہی!
    اچھے موضوع پہ توجہ دلائی ہے اور اچھے انداز میں دلائی ہے۔۔
    یہاں تبلیغی جماعت بس اپنی تعداد بڑھاتی ہے، تاہم پھر بھی ان میں سے جو لوگ اس کام میں آتے ہیں ان کی حوصلہ افزائی ضروری ہے جو کہ ہمارے معاشرے میں کہیں نہیں ملتی۔۔ آپ بھی دیارِ غیر میں ہیں اسی لئے آپ نے ایک عیسائی مشنری کو بھی سراہا ہے، یہاں ہوتے تو فوراً دروازہ بند کر لیتے یا کوئی بہانہ بنا کر کھسکنے کی کوشش کرتے۔۔۔خواہ مسلمان مشنری ہی کیوں نہ آ جاتا!

    ReplyDelete
  8. بلاگ پر تشریف آوری کا شکریہ
    ویسے آپ کی بات کسی حد تک ٹھیک ہے۔

    ReplyDelete
  9. مجھے علم نہیں آپ کس شہر میں رہتے ہیں ورنہ ٹورنٹو میں تو ہر گورے کالے مشنری والے کو چاینیز آتی ہے اور وہ چاینیز کو تبلیغ کرتے ہیں ۔ ہمارے مسلمانوں کو صرف ڈاکٹر انجنیر وغیرہ بننے سے فرصت ملے تو کچھ اور بھی سیکھیں دین کی تبلیغ کے لیے۔ ویسے خود سے تو ان سے دین پر عمل ہوتا نہیں تو دوسروں کو تبلیغ کے لیے کچھ سیکھنا شاید انکے نزدیک وقت برباد کرنا ہو ۔ میرے بڑے بھای نے حفظ شروع کیا تو سارے خاندان والوں نے کہہ کہہ کر اسکی مت مار دی تھی کی تیری ماں تجھے ملا بنا دے گی تو تو کھاے گا کہاں سے وہ بیچارہ آدھا کر کے بھاگ لیا ۔ یہ تو حال ہے ۔۔۔ ویسے سنا ہے کچھ یار دوست ایٹن سینٹر کے باہر ایک پھٹا لگاتے ہیں تبلیغِ اسلام کے لیے کافی لوگ وہاں مسلمان ہوے ہیں ۔۔ جن میں ایک پادری بھی شامل ہے ۔

    ReplyDelete
  10. جی میں آس پاس ہی رہتا ہوں۔۔اور ٹورنٹو میں بھی ایک عرصہ گزار چکا ہوں۔
    بات ٹھیک ہے۔۔۔ہم لوگ خود کچھ کرتے نہیں۔۔۔پھر شکایت مولوی سے کرتے ہیں کہ جاہل ہے۔ ایٹن سینٹر کے متعلق میں جانتے ہوں۔ وہاں ایک جگہ ہال بُک کراو کر اسلام پر مباحثہ بھی کئی دفعہ ہو چکا ہے۔۔۔انڈیا سے ایک آدھ دفعہ ڈاکٹر ذاکر نائیک بھی تشریف لا چکے ہیں۔۔۔تو مطلب یہ کہ کچھ لوگ کام کر تو رہے ہیں۔۔۔۔لیکن جتنا اسلام کے خلاف پروپیگینڈا ہے۔۔۔تو یہ کوششیں تو اس کے مقابلے میں عشر عشیر بھی نہیں۔ ہو نا تو یہ چاہیے کہ ہر مسلمان اپنے اردگرد تھوڑی بہت کوشش کرتا رہے۔ تبلیغ نہ سہی۔۔۔۔امییج بہتر کرنے کے لئے تو تھوڑا بہت ہاتھ پاؤں مارے جاسکتے ہیں۔لیکن یہاں تو یار لوگوں کو مال بننانے سے فرصت نہیں۔

    ReplyDelete
  11. عثمان پہلی بار آئی پہلی تحریر پڑھی پہلی بار لکھ رہی ہوں کہ لگتا نہیں کہ آپ نے پہلی بار ہی اتنا اچھا لکھا ۔ جس نے پہلی بار ہی اتنا متاثر کیا۔ اللہ پاک زور قلم اور زیادہ

    ReplyDelete
  12. اگر آپ تعریف کرتی ہیں۔ ۔ ۔ تو مان لیتا ہوں۔ ورنہ لکھنے کے آدھ گھنٹا بعد تک سوچتا رہا تھا کہ پوسٹ کردوں۔۔۔کہ ڈیلیٹ کردوں۔
    جہاں تک لکھنے کا تعلق ہے تو اس سے پہلے میں صرف گائے کا مضمون ہی لکھا کرتا تھا۔ پہلی بار ڈرتے ڈرتے اپنے دماغ کو زحمت دی ہے۔
    تحریر پسند کرنے اور حوصلہ افزائی کا بہت شکریہ!

    ReplyDelete
  13. عثمان ہم سب یہاں سیکھ رہے ہیں ، میں کم علم بھی ابھی چند الفاظ لکھنا شروع کیے ہیں ۔ تعریف اس لیے کی کہ تحریر ہے ہی اتنی جاندار کچھ نہ کہنا عثمان کے ساتھ ناانصافی تھی ۔ اور ڈرتے ڈرتے مت لگایا کرو ۔ جو دل میں ہو کہہ دیا کرو ،

    ReplyDelete
  14. شروع ميں تو ميں ڈر گئی جب کالے کو پنجابی بولتا سنا ،ميں سمجھی آپ بھي پنجابيوں کو کالا ثابت کرنے کے مشن پر چل نکلے ہيں

    ReplyDelete
  15. اوجی میں تو خود پنجابی ہوں۔ ۔ ۔ ۔ لاھوڑیا ہوں بلکہ۔
    اور پنجابیوں کو کالا کس نے کہاِ؟۔ ۔ ۔ اس نے کبھی بٹ نہیں دیکھے؟

    ویسے بلاگستان میں کیا کوئی ٹینشن ہے؟

    ReplyDelete
  16. ویسے وہ آپکو سکھ کیوں سمجھا تھا؟
    :)
    اچھا لکھا ہے آپ نے۔ جاری رکھیے یہ سلسلہ۔

    ReplyDelete
  17. جہاں میں قیام پزیر تھا۔ وہاں دیسیوں اور خاص طور پر سکھوں کی اچھی خاصی تعداد آباد تھی۔ دوسرا یہ کہ وہ عمارت پرانے طرز کی تھی۔ اور نیچے دیے گئے ڈائریکٹری سے آپ بزر نمبر کے علاوہ ابارٹمنٹ اور نام کا پتا بھی چلا سکتے تھے۔

    ReplyDelete