13 June 2010
"فوجی"
نام تو ان کا کچھ اور تھا۔ لیکن سکول میں "فوجی" کی عرفیت سے ہی مشہور تھے۔ فوجی صاحب۔۔فوجی۔۔یا فوجا۔۔۔ عزت باتکلف، تمسخر یا نفرت۔۔۔جس کے جو احساسات۔۔۔اس کے مطابق الفاظ برائے ذوق انتخاب۔ میں نہم جماعت میں تھا جب اُن سے فیضیاب ہوا۔ سکول میں طریقہ کار کچھ یوں تھا کہ جماعت ہشتم کے بعدتمام لڑکوں کو نئے سرے سے مختلف سیکشن میں تقسیم کر دیا جاتا۔ اساتذہ کو بھی ان کی قابلیت اور محنت کے اعتبار سے مختلف سیکشن الاٹ کیے جاتے۔ قابل ترین سیکشن اے میں اور پھر درجہ بہ درجہ سیکشن ایف تک۔ فوجی صاحب کے حصےسیکشن ایف آتا تھا۔۔۔کہ اس سے نیچے کوئی درجہ بندی نہیں تھی۔ مختلف جماعتوں سے عمدہ نتائج برآمد کرنے کے لئے ذہین طلبہ کوٹہ کی صورت میں بٹائے جاتے۔ لائق طلبہ کی اکثریت سیکشن اے میں جبکہ اساتذہ کو یکساں مواقع فراہم کرنے کی مد میں کچھ ذہین طلبہ سیکشن ایف میں بھی پھینک دیے جاتے۔ ذہین ہونے کے الزام میں کوٹہ سسٹم کا یہ استرا مجھ پر بھی چلا۔۔۔اور میں مشرف با فوجی ہوا۔
پیروں میں ایک غلیظ چپل۔۔۔بغیر استری شدہ شلوار قمیض۔۔۔اورسر پر ایک چُرمُر سی ٹوپی۔۔۔فوجی صاحب اپنی ملگجی داڑھی میں انگلیاں پھیرتے ایک ہاتھ سے اپنی شلوار تھامے اور بغل میں چرمی بستہ دبائے مخصوص حالت میں کمرہ جماعت میں داخل ہوتے۔ خوش کلامی خوش لباسی سے کچھ کم نہ تھی۔ گرجتے ایسے۔۔۔ جیسے منہ سے پھول برستے۔۔۔
"بٹ کُتی دے پُتر ایدھر آ۔۔۔" ، "اوئے پنج پینڑاں دے پرا۔۔۔"
ستر طلبہ کی جماعت میں ایسی پُھبتیاں۔۔۔ایسے فقرے عام سننے کو ملتے تھے۔ جو لڑکے زیادہ منظورنظر ہوتے۔۔۔ان کے نت نئے رشتے ان کی خاندانی خواتین سے بدلے جاتے۔شرمناک الفاظ۔۔۔فحش گالیاں۔۔۔ لکھتے ہاتھ کانپتے ہیں۔۔۔کہ آنکھیں پڑھنے کی نہیں۔۔لیکن کان سننے کے عادی ہیں۔ خوش کلامی صرف فحش گالیوں تک ہی محدود نہ تھی۔ بلکہ استاد صاحب فحش جنسی لطیفے بھی بڑے شوق سے سرعام جماعت میں سناتے۔ بزم ادب کا پیریڈ ہے۔۔۔ابتداء تلاوت و نعت سے۔۔۔اور اختتام ایک فحش جگت پر۔ کئی ماہ تو یونہی سلسلہ چلتا رہا۔ پھر اُوپر سے شکایت آئی۔۔۔کہ ہتھ ہولا رکھیں۔ فوجی صاحب کی رُت تو نہ بدلی۔۔۔البتہ یہ تبدیلی آئی کہ لطیفے کا فحش حصہ کسی ایک لڑکے کے کان میں سُنا دیا جاتا۔۔۔کہ گوہر دانش آگے تک پہنچا دے۔
حضرت علیؓ کا کوئی قول ہے کہ جس نے مجھے ایک حرف بھی پڑھایا۔۔۔وہ میرا استاد ہے۔ فوجی صاحب اس قول کی رُو سے استاد نہیں قرار پاتے تھے۔سرقہ دو سال انھوں نے کچھ نہ پڑھایا تھا۔۔۔۔کہ وہ پڑھانے اور سکھانے پر نہیں۔۔۔بلکہ سُدھانے پر ایمان رکھتے تھے۔ سدھانے کے لئے سدھانے والے مولا بخش استعمال کرتے ہیں۔۔۔یا اگر آپ کا واسطہ کبھی پُلسیئے سے پڑا ہو تو لتر تو آپ نے دیکھا ہو گا۔ یہاں صُورتحال کچھ مختلف تھی۔ لتر اور مولا بخش کو مِلا کر ایک نئی شے ایجاد کی گئی۔ شہتوت کی چند لکڑیوں پر ربڑ یا چمڑا مونڈھا گیا تھا۔ اس لِتر بخش کی ضیافت دینے کے لئے ایک بڑا مقدم طریقہ دریافت کیا گیا۔ طریقہ کار یہ تھا۔۔۔کہ ایک بینچ پر دو موٹے تازے لڑکوں کو بَٹھا دیا جاتا۔۔۔ایک انتظام جسے پنجاب کے سکولوں میں "ٹِکٹکی" کہا جاتا ہے۔ دو رضا کاروں کی مدد سے بدنصیب شکار کو ہانکتے ہوئے اس مقام ٹکٹکی تک لایا جاتا۔۔۔ایک نعرہ اُٹھتا۔۔۔
"فَڑ لو اینوں۔۔"
بینچ پر براجمان پہلوان شکار کو یک دم جپھی ڈال لیتے۔ جبکہ ٹانگیں قابو کرنےکے لئے لانگڑی دے کر کِڑکی لگائی جاتی۔
قارئین گرامی!۔۔۔منظر کو اسکی کامل خوبصورتی کے ساتھ سمجھنے کے لئے تصور میں لائیں کہ پسینے میں شرابور دو پہلوانوں نے آپ کی بغلوں میں سر دے کر جپھی ڈال رکھی ہے۔ جبکہ آپ کا سر اُن کے کندھوں سے بلند ہوتا ہوا باقی ہم جماعتوں کا دیدار کر رہا ہے۔ جو پُشت پر بیٹھے پُرلطف انداز میں بتیسی سجائے گردنیں اونچی کرتے آپ کو ٹکر ٹکر دیکھ رہے ہیں۔ آپ کا پیٹ بینچ پر لگے ڈیسک پر جبکہ ٹانگیں نیچے پہلوانوں کی لگائی کڑکی میں پھنسی ہیں۔ اور ذہین ہے کہ ہر قسم کے خیالات سے مکمل عاری۔۔۔انتظار کرتا کہ کام شروع ہو۔ کام کی تفصیل لکھتے میرے ہاتھ ساتھ نہیں دیتے۔۔۔اور نشت سُن ہوئی جاتی ہے۔ کام کے دوران شکار کے حلق سے نکلی نامانوس آوازں کو کسی جاندار کی آواز سے تشبیہ نہیں دی جاسکتی۔ البتہ اگر آپ نے کیچڑ میں ٹائر پیکنچر ہوتے سُنا ہے۔۔۔تو بس اُس کے بین بین تصور کر لیجئے۔ شکار جب ٹکٹکی سے اُترتا۔۔تو حرکت نہ کرتا۔ بس چھت پر لگے بلب کو ٹکر ٹکر دیکھتا۔
پپو بچوں کے لئے ضیافت نہیں بلکہ صحبت تھی۔ پپو بچہ۔۔۔جسے شائد آپ پوپٹ بچے کے نام سے بھی جانتے ہوں۔۔۔لتر بخش کی بجائے دست شفقت وصول کرتے۔ یہ دست شفقت وہ نہیں جسکا سر دست تذکرہ آپ کتابوں میں پڑھتے آئے ہیں۔ اس دست میں وہ شفقت تھی جسے انگریزی میں Sexual Harassment کہتے ہیں۔ اردو اس کی ابھی ایجاد نہیں ہوئی۔۔۔کہ معاشرہ تسلیم سے انکاری ہے۔ زبان عام پرتھا کہ موصوف دو پپو بچوں کو "فارغ" کراچکے ہیں۔ لیکن نہ کبھی کسی نے "چار گواہ" دیکھے۔۔۔نہ کبھی کسی کا کچھ بِگڑا۔ ایسے جنسی درندوں اساتذہ کے زیرِ سایہ شاگردوں کو بھی بھٹکتے دیر نہیں لگتی۔ ماحول اتنا کرہیہ تھا۔۔۔کہ لڑکے شلواروں پر ہاتھ ڈال کر پکڑتے تھے۔ موصوف کو اس خبیث فعل کی شکایت کرو تو معنی خیز انداز میں مسکراتے ہوئے کہتے۔۔۔"چسکے لے رہا ہے"۔
استاد کی جو نفرت میرے دل میں بیٹھی۔۔۔پھر پردیس آنے تک نکل نہ سکی۔ وہاں ڈنڈے مار کر ڈنڈے کی عظمت کے گن گائے جاتے۔ مغرب کے طلبہ پر پُھبتیاں کَسی جاتی۔۔۔کہ وہ استاد کی عزت سے واقف نہیں۔ یہ قول ٹھیک ہی تھا۔ کہ مغرب کا استاد کی عزت پر نہیں۔۔۔بلکہ بلاتخصیص عمر و رشتہ۔۔۔ باہمی عزت و آبرو (Mutual Respect) پر ایمان ہے۔ استاد کی محبت، شفقت اور اس کی طرف سے کی گئی عزت سے تو میں بڑی حد تک پردیس آ کر ہی واقف ہوا۔ یہاں فوجی صاحب کی قبیل کے لوگوں کے لئے زندان بنائے جاتے ہیں۔۔۔اور اگر کبھی سورج دیکھ لیں تو Sex Offender کا سٹکر لگا کر پھرنا پڑتا ہے۔ مغرب کے اساتذہ کے قصے پھر سہی۔۔۔فی الحال واپس فوجی کی طرف چلتے ہیں۔ میٹرک کرنے کے چند برس بعد میری ملاقات دو پرانے واقف کاروں سے ہوگئی۔۔۔جو فوجی کے آگے پیچھے پھرتے تھے۔۔۔اور بڑے منظور نظر رہ چکے تھے۔ دوران گفتگو بات فوجی کی طرف چل نکلی۔
"فوجی صاحب کی سُناؤ"۔۔۔میں نے استفسار کیا۔
"فوجی تو مر گیا!"۔۔۔جواب ملا۔
"مر گیا؟؟"۔۔۔میں نے مارے حیرت کے پوچھا۔
"ہماری دعاؤں سے مرا ہے"۔۔۔جواب آیا۔
نوٹ:- پپو بچوں پر بیتی پڑھنے کے لئے ہفتہ فحاشی کا انتظار فرمائیں۔
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
معشوقی دست شفقت کو اپنے خاور صاحب دستہ شفقت لکھتے ہیں۔
ReplyDeleteلگتا ھے آپ کی اور خاور صاحب کی خوب نبے گی۔جیسے مل بیٹھے بلاگ پر دیوانے دو۔
دست شغقت؟؟
ReplyDeleteنہیں جی دسته
همرے والے سکول میں بھی ایک هوتے تھے لیکن وھ اتنے طاقتور خاندان سے تھے که مشرف جیسا ڈکٹیٹر ان کے چاچے کے پتر کا سہارا لے کر چلتا رها ہے
* تشریح
ReplyDeleteبڑے حساس موضوع پر لکھا ہے اور بڑا صحیح لکھا ہے
ReplyDelete"پپو بچوں" سے تعارف کروانے کی میں نے بڑی کوشش کی
لیکن اس تشیح نما پوسٹ کے بعد بھی کوئی نہ سمجھے تو سمجھو وہ بھی پپو ہی رہا ہے
ٹکٹکی کا جو منظر پیش کیا ہے کچھ نہ پوچھ یار
واللہ بچپن آنکھوں کے سامنے گھوم گیا ہے
اس کی وجوہات جو میں سمجھ پایا ہوں آج تک
ReplyDeleteوہ بیان کرنے کی لئے ایک پوری تحریر چاہیے۔۔۔
خاص طور پر پاکستان میں درمیانی عمر کے مردوں میں یہ رجحان کیوں ہوتا ہے۔۔۔
لیکن چھاپ میںپھر بھی نہیں سکتا
جی بالکل۔۔۔ آپ مجھے بزدل سمجھ سکتے ہیں
ویسے بھی میں نے بہادری کا دعوی کبھی کیا ہی نہیں۔۔۔۔
یہ ہے اس معاشرے کی اکثریت کا رخ جسے دیکھنے کے بجائے لوگوں کو اس بات کا غم کھائے جاتا ہے کہ آزادی ء نسواں کی حامی خواتین بچے نہیں پیدا کرنا چاہتیں۔ اب کوئ اس معاشرے سے سوال کرے کہ کیا دیا ہے آپ نے اپنے پیدا کردہ بچوں کو۔ ایک ماحول کا، محبت کا تحفظ ہوتا ہے وہ بھی دینے سے قاصر ہیں۔ والدین اپنے بچوں کو اسکول بھیجنا تو اپنی ذمہ داری سمجھتے ہیں مگر اس سے آگے انہیں کچھ پتہ ہی نہیں ہوتا کہ انکے بچوں کے ساتھ کیا ہورہا ہے۔ کون انکی معصومیت کو تباہ کر رہا ہے اور کون انکی تابندگی کو گہنا رہا ہے۔
ReplyDeleteہمارے یہاں مغرب کی بے راہ روی کے بڑے قصے ہوتے ہیں اور انکی ہر خوبی کا توڑ انکی بے راہ روی کے قصوں سے پر کیا جاتا ہے۔ مگر جو کچھ ہمارے یہاں ہوتا ہے اسے اتنا چھپا کر رکھا جاتا ہے کہ در حقیقت کرنے والے کو اس سے تحفظ حاصل ہوتا ہے۔
نا معلوم، بچوں کو اس اذیت سے کب اور کیسے نجات ملے گی۔
فیچرز کو کوالیٹیز کہنے والے معاشروں کی کوالیٹیز کچھ ایسی ویسی ہی ہوتی ہیں اور ایسا ویسا کہاں نہیں ہوتا ۔ محسوس سبھی کرتے مگر انداز بیان، جسمیں کرہت کا اظہار اور لعنت بھیجنے کا انداز بھی شامل ہے، تھوڑا بہت مختلف ہوتا ہے ۔
ReplyDeleteعثمان صاحب ،ای-میل بھیجنے کا شکریہ-آپ نے جس کردار کی اپنے بلاگ میں نشاندھی کی ھے تقریبآ اسکولوں میں پایا جاتا ھے بلکہ مدرسوں
ReplyDeleteاور مسجدوں میں بھی فوجی کو دیکھا گیا ھے-آپ کی جراءت کے آپ اُسے سامنے لے آے-آپ نے میرے بلاگ کے فونٹ کے بارے میں جو کہا تھا اس بارے میں - یاسر نے جو مشو رہ دیا اُس پر عمل کیا حاصل کچھ نہ ھُوا-اصل مین مجھے کمپیوٹر صحیح طور پر چلانے نہیں آتا ھے ممکن ھے یاسر کے مشورہ پر صحیح عمل نہ ھوا ھو-اللہ آپ کو خوش رکھے -
اللہ خوش رکھے یہ ہفتہ فحاشی کب سے شروع ہو را؟
ReplyDeleteمیں بی بلاگ کے واسطے کوئی پوسٹیں پُوسٹیں پالش پُولش کر لوں
"اللہ" کے ہجے صصحیح کر دے یار اوپر
ReplyDeleteہممم۔۔۔۔۔
ReplyDeleteایک ایسے ہی فوجی کا قصہ مجھے بھی معلوم ہے لیکن جعفر کی طرح میں بھی بزدلی کا کمال مظاہرہ کرتے ہوئے فی الحال اپنے تک ہی رکھوں گا۔۔
ڈفر تجویز اچھی ہے۔۔۔ :)
ReplyDeleteمیں بھی امتحانوں سے فارغ ہونے ہی والا ہوں بس۔۔۔
یاسر جاپانی: خاور صاحب تک پہنچنے میں وقت لگے گا۔ البتہ تو اگر کبھی ہفتہ فحاشی منایا گیا تو وہ تو کھا گئے شکست۔
ReplyDeleteخاور صاحب: خوش آمدید۔ امید ہے آپ کا دُکھڑا بھی جلد سننے کو ملے گا۔
ڈفر: سنا دے یار اپنے پر ہوئے ظلم۔ اور ٹکٹکی تو کچھ بھی نہیں۔۔۔میںنے تو بڑے بڑے منظر دیکھے ہیں۔ پپو بچوں پر تفصیل رپورٹ پھر آئے گی۔ کمنٹ میںلفظ کی تصیح کر دی ہے۔
جعفر صاحب؛ اس کی یک مبہم سی وجوہ ہے میرے پاس۔ وہ تھیوری مو قع محل دیکھتے ہوئے آرام سے بیان کی جائے گی۔
عنیقہ آپی: "شانِ مستورات" نامی میری ایک تحریر کا انتظار کریں۔ آپ کی تمام تشنگی میں دور کردوںگا۔ انشااللہ!
ہیلو-ہائے-اےاواے: یہ آپ نے میری تعریف کی ہے یا بِستی؟ ویسے کیا آپ ابھی تک ناراض ہیں؟
MDصاحب: شکریہ۔ آپ ورڈ پریس پر کیوں نہیں آتے؟۔۔۔یہ بلاگ سپاٹ سے کہیں بہتر ہے۔
عین لام میم: حوصلہ کریے۔۔۔۔۔اور بیان کر دیجئے۔
"یہ آپ نے میری تعریف کی ہے یا بِستی؟ ویسے کیا آپ ابھی تک ناراض ہیں؟"
ReplyDeleteآپ تو جانتے ہی ہونگے کہ ناراض لوگ یا تو دوسرے کا پکا بندوبست کردیتے ہیں یا پھر اپنی مزید بِستی کرانے کیلئے ہی بار بار واپس آتے رہتے ہیں ۔آپ صرف چوتھے بلاگر ہیں جہاں آجکل کسی کو اپنا کیا ہوا تبصرہ ملیگا ۔ میرا تبصرہ یقینا مختلف ضرور ہوگا مگر اسمیں بغیر کسی بائس کے بلاگر کی ہی بات کو ریپیٹ کرنے کی کوشش کی گئی ہوتی ہے ۔آپکو اگر محسوس ہوا کہ ہم ناراض ہیں تو معافی چاہتے ہیں ۔ جیسا گلہ "اؤے" والا آپسے کیا تھا ویسا ہی گلہ " ہائے ہائے" والا تو ہم نے تانیہ صاحبہ سے بھی کیا تھا ۔
[...] پپو بچوں پر بیتی کی ایک مختصر جھلک آپ میرے پچھلی تحریر “فوجی” میں پڑھ آئے ہیں۔ باقی رہا یہ مؤا کافر مغرب تو ان کافروں [...]
ReplyDeleteیار کن اسکولوں میں پڑھتے رہے ہو؟ کبھی ماسٹر جی کو کٹ نہیں لگائی؟ اللہ تیرا لاکھ لاکھ شکر ہم میں سے اکثر کو اس قابل کیا تھا کہ ماسٹروں کو آفٹر اسکول کٹ لگا دیا کرتے تھے۔ ماسٹر اور ہم سب باجماعت اسکول میں سیدھے رہتے تھے۔
ReplyDelete