بلاگراعظم کو پردیس آئے بہت برس گذر چکے ہیں۔ جب سے آیا ہے کبھی واپس جانے کا اتفاق نہیں ہوا۔ وجہ یہی ہے کہ تمام مصروفیات اور کاروبار زندگی ادھر کینیڈا ہی سے جڑا ہے۔ تمام خاندان یہیں ہے۔ واپس جانے کی کوئی وجہ نہیں تو جانا کیا۔
کتنے برس ہوگئے؟
اسے چھوڑو۔ بس یوں سمجھو کہ جب آیا تھا تو آنڈے اٹھارہ روپے درجن ، ڈبل روٹی گیارہ روپے کی ، اور ودیا قسم کا چاول بھی چھتیس روپے کلو میں مل جاتا تھا۔ سیانے کا کہنا ہے کہ اب ان قیمتوں کے آخر میں ایک اور آنڈے۔۔۔بولے تو۔۔۔صفر کا اضافہ کر لو۔ بلاگراعظم اپنی اسی بےخبری کی وجہ سے پاکستان کے لمحہ بہ لمحہ بدلتے حالات پر پرمغز بیان دینے سے قاصر رہتا ہے۔
سیاست پر پوسٹیں؟
کیوں کروں؟ ادھر ہزاروں میل دور ٹورنٹو میں بیٹھ کر مجھے پاکستان کی سیاسی ذلالت سے کیا لینا دینا؟ جن لوگوں کا مستقبل اس سے جُڑا ہے صرف وہی جانیں۔ وہ بی بی۔۔۔ایکسکیوزمی۔۔۔ "شہید" بی بی پالٹی کو ووٹ دیں یا بھگوڑا لیگ کو۔ جذباتی نوجوان کے پیچھے لگیں یا مستقل قومی مشکل کو جپھا ماریں۔ مجلس المنافقون کے ہاتھ بعیت کریں یا طالبان کے کت خانہ پر منہ صاف کریں۔ سانوں کی؟؟
ادھر سیانے کی اپنی ہی چول ہے۔ کہتا ہے کہ اگر اردو میں ٹک ٹک کرنے کا چا پورا ہوچکا ہے تو انگریزی بلاگ پر واپس آجاؤ۔ کہ بلاگستان میں پنپنے کے لئے ضروری ہے کہ بندہ سیاست اور مذہب دونوں کو رگیدتا رہے۔
پاکستانی ذلاست سے بیزاری تو بتا دی۔
رہ گیا مذہب تو میرے "مرتد" ہونے کا انکشاف مومنین بلاگستان پر پہلے ہی واضح ہے۔
اُدھر سیانے کا حساب کتاب بتاتا ہے کہ بلاگر اعظم کے نارے وجنا ناممکن ہے۔ تاہم اگر یک بلاگہ پالٹی بنانی ہے تو الگ بات ہے۔
لیکن۔۔۔
بلاگراعظم صرف بلاگراعظم ہی نہیں۔۔۔ پھپھڑ بلاگستان بھی تو ہے۔
لہذا بلاگراعظم نے اپنے اعلیٰ سیاسی شعور کا ثبوت دیتے ہوئے اپنے مشیر سیانیات کو عہدے سے برخاست کردیا ہے۔ اور اس کی جگہ خدمات حاصل کی ہیں ایک کنسلٹنٹ کی جسے کراچی کی سڑکوں پر آدھی صدی قبل سو گھنٹے سکوٹر چلانے کا وسیع تجربہ ہے۔
کنسلٹنٹ نے کچھ حساب کتاب کرکے ایک کھاتہ تیار کیا ہے۔ جو بتاتا ہے کہ کتنی لاشیں کس پالٹی کی طرف نکلتی ہیں۔ لیکن بلاگر اعظم کو شک ہے کہ اس میں وہ شہید بھی شامل ہیں جو کنسلٹنٹ کے اپنے سکوٹر تھلے آچکے ہیں۔
قارئین کرام۔۔
بلاگر اعظم کی سمجھ میں کچھ نہ آوے ہے۔
بلاگراعظم جس شہر کا باسی ہے وہاں مختلف رنگ و نسل ، مذاہب ، اور قومیت کی تقریبا ڈیڑھ سو سے زائد قومیں آباد ہیں۔ اور اس شہر میں عصبیت کا شکار اگر کوئی ہوا ہے تو شائد ستر برس پہلے ہوا ہے۔ جب کسی ایک قومیت والے نے دوسرے قومیت والے کوایک چماٹ اور دوگھسن مارے تھے۔ پھر کبھی ایسا واقعہ رونما نہیں ہوا کہ امن کی دیوی ان ناپاک لوگاں کو نپ کے رکھتی ہے۔
اُدھر برخاست کیا گیا سیانا جان نہیں چھوڑتا۔ کہتا ہے کہ نقص امن کی گڑھتی پاک لوگاں کی "پاکیزگی" میں ہے۔ اور پاکیزگی سے تیرا کیا لینا دینا؟ تو اسے چھوڑ اور سیلاب زدگان پر ایک دلخراش پوسٹ لگا۔
کنسلٹنٹ کہتا ہے کہ نہیں۔ سیلاب زدگان پر تو وہاں کے لوگ نہیں لکھتے۔۔۔تو تمہیں کیوں موت پڑی ہے؟ اور تمھیں کیا گھنٹہ درد ہوتا ہے؟ شوق پورا کرنا ہے تو کوئی اخباری لنک لگا دو۔ یا پھر یہ سمجھو کہ پاک لوگ سیلاب میں نہائیاں کر رہے ہیں۔
نہائیاں سے یاد آیا کہ ادھر ٹورنٹو میں بھی بڑی گرمی ہے۔ لیک اونٹاریو کے ساحل پر میموں نے انت پائی ہوگی۔
میں تو چلا۔۔۔
کل پھر صبح ہوگی۔
بھائی آپ تو دل برداشتہ ہو گئے۔
ReplyDeleteمیں کیونکہ کم پڑھا لکھا اور کم فہم ہوں اس لئے کچھ سمجھ نہ آئے تو سوال شوال کرتا ہوں۔کچھ سیکھ ہی لوں گا۔اتنی تو چھوٹ دے دیں۔ اور سچ بتاوں متفق نہ ہوں تو چھیڑ چھاڑ کر جاتا ہوں۔
زیادہ ناراض ہوئے تو اونٹاریو لیک پر آکر پکڑ لوں گا۔
پھر دونوں کسی دلبر کو ٹرائی ماریں گے۔ :e: :e: :e:
سانوں کی، کے پیچھے کیا آپ کا دل روتا نہیں ہے؟
ReplyDeleteبہت اعلی۔
ReplyDeleteبلاگر اعظم اپنے شہر کے تھانے پاکی تھانوں کی طرح کردے
ReplyDeleteوہاں کی کچہریاں پاکی کچہریوں کی طرح
ایک سال بعد وہاں کا حال بھی پاکی شہروں کی طرح ہوجائے گا
خاموشی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ReplyDeleteوہاں امن کی دیوی اس لئے براجمان ہے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ جو کچھ ہے دنیا میں ہے۔ ایک بس جلنے کا مطلب کروڑوں کا نقصان۔ وہ بنیہ گری میں اپنا نقصان برداشت نہیں کر سکتے۔
ReplyDeleteہمارے یہاں اصل زندگی مرنے کے بعد شروع ہوتی ہے۔ اس لئے ہر ایک دوسرے کو جلد سے جلد جہنم واصل کرنا چاہتا ہے، ٹارگٹ کلنگ کے ذریعے، خود کش حملے کے ذریعے، سیلاب کی خبر گیری نہ کر کے، آگ لگنے والی جگہوں کو بچانے والے فائر انجن نہ جمع کر کے، زلزلے کی صورت میں دیواریں کاٹنے والے کٹر نہ ہونے کی صورت میں، با عزت روزگار مہیا نہ کر کے، ہم صرف موت میں ایکدوسرے کی مدد کرتے ہیں۔ پھر جب کوئ ان کوششوں سے مر جاتا ہے تو یا تو ہم اسکے نوحے پڑھتے ہیں اور دیگر لوگوں کو عذاب کی وعید دیتے ہیں یا ہم مٹھائیاں بانٹتے ہیں اور خوشی کے ایس ایم ایس کرتے ہیں اور ہماری خوشی چھپائے نہیں چھپتی۔ جبکہ آپکے یہاں یہ ہوتا ہوگا کہ ایسے ہر واقعے کا باریک بینی سے تجزیہ ہوتا ہوگا کہ یہ کیوں ہوا تاکہ اصل وجوہات کا پتہ چلا کر انکا سد باب کیا جائے۔ اگر ہم بھی ایسے ہی کرنے لگیں تو یہ تو دنیا کی زندگی ہو جائے گی۔ جبکہ ہمارے یہاں اصل زندگی مرنے کے بعد شروع ہوتی ہے۔
اس لئے آپ بیٹھ کر میموں کا نظارہ کیجئیے۔ امید ہے واپس آکر آپ اس چیز پہ پوسٹ لکھیں گے پاکستان میں خواتین کس قدر غیر اسلامی حرکات کرتی ہیں۔ ایسی پوسٹوں کی ہمارے یہاں بہت ضرورت ہے، للہ ہمیں ان سے محروم نہ رکھئیے گا۔
آ گيا تھا يہاں پڑھ کر نام جناب کا
ReplyDeleteچلا جا رہا ہوں پڑھ کر کلام آپ کا
لو جی نہایاں نہایاں ہو گی ہوں تو سفر نامے کا حال پیش کیا جائے
ReplyDelete:mrgreen: :mrgreen:
کاش سیلاب زدگان پر ایک عدد پوسٹ " پھڑکانے" سے ان کی مدد ہو سکتی.
ReplyDeleteکاش یہ اتنا آسان ہوتا.
اے کاش!!!!!
چلیں آپ نے تو ان موضوعات کو نہ چھیڑنے کی وجوہات بیان کردیں. آپ کی خلاصی ہوئی...
ReplyDeleteجن کی نہیں ہوئی انہیں لے دے کے پاکستان پہ ہی لکھنا پڑتا ہے .... اور پاکستان میں یہی کچھ ہے سو.....ہور کی کریئے ....!
بائی دا وے، آپ کے بلاگ پہ کبھی تصویری کہانیاں نہیں دیکھیں... چلیں پھر نیک کام میں دیری کیسی؟ لیک اونٹاریو پہ اترنے والی پریوں کی کہانی عثمان عرف ’سانوں کی‘ کی زبانی...!! :mrgreen:
بھراوا چھڈ ہن لاجاں لوجاں نوں ۔ لکھ چھڈ تے ٹنگ چھڈ ۔
ReplyDeleteتے فیر شام سویرے موجاں ای موجاں ۔ :l:
وسلام
قارئین کرام و تبصرہ نگاران!
ReplyDeleteبلاگراعظم کی بوالعجیبیوں کو سنجیدہ لینے کا شکریہ۔ 8-O
ایک بات تو میں لکھنا بھول گئ کہ یہ جو آپ نے چیزوں کے بھائو لکھے ہیں تو یہ تو بہت دور کی باتیں ہیں. مجھے بھی دماغ پہ زور ڈالنا پڑا کہ کب ایسا ہوتا تھا. آپکی عمر کیا ہے. مردوں سے عمر پوچھنا تو بد اخلاقی میں نہیں آتا. اور نہ بتائیں، یاد داشت کو صاف کر کے پتہ چل ہی جائے گا کہ یہ کس سن کے بھائو ہیں. دیکھا ایسی باتوں سے لوگ کیا کیا کھوج نکالتے ہیں.
ReplyDeleteہاہاہا..
ReplyDeleteبہت خوب! :mrgreen:
چلیں ایسا کریں کہ اندازہ لگائیں. تین اشارے دیتا ہوں. :wink:
اسی کی دہائی کی پیدائش ہوں :lol:
سینئیر ٹین ایجر تھا جب پاکستان چھوڑا تھا :a:
اور جب چھوڑا تھا تو پاک لوگ سپر مین صدام حسین کی فتح کے دعوے کررہے تھے. :z:
بوجھو تو جانیں! :t:
ارے آپ تو سنجیدہ ہو گئے. عمر میں کیا رکھا ہے. بعد میں پیدا ہونا کوئ قصور نہیں اور پہلے پیدا ہونے میں کوئ فنکاری نہیں. البتہ پیدائش کے بعد جسمانی طور پہ بڑے ہوتے رہنا اور ذہنی عمر کا نہ بڑھنا ایک بیماری ہے. پولیو میں بھی ایسا ہی ہوتا ہے. آپ کو تو لگتا ہے پولیو کی ویکسینیشن ہوئ ہے. اس میں مبتلا لوگوں کو تو کچھ نہیں پتہ چلتا، انکو سنبھالنے والوں کے گناہ معاف ہو جاتے ہیں. :h:
ReplyDelete:roll: :? :(
ReplyDeleteعثمان صاحب خیر تو ہے، اتنی مایوسی. بھیا کراچی والے تو پھر کسی ڈھیٹ مٹی کے ہوئے نا کہ کبھی بے زار اور مایوس نہیں ہوتے.
ReplyDeleteآپ پر تو چند برسوں میں ہی کنیڈا کے اثرات نمودار ہونے لگے، صاحب اپنے اندر چھپے پاکستانی کو تلاش کرے اگر وہ مل گیا تو آپ بھی تھوڑی بہت بے حسی اور بے غیرتی سیکھ لے گیں.
میں تو جی لیک اونٹاریو کی تصویری کہانیوں کا منتظر ہوں. :mrgreen:
ReplyDeleteمعزز قارئین لیک اونٹاریو کی جان چھوڑ دیں صاحب بلاگ خود جا$ے گا تو آپ کی تسکین کا سامان کرے گا نہ
ReplyDelete