3 August 2010

بوالعجیبیاں

بلاگراعظم کو پردیس آئے بہت برس گذر چکے ہیں۔ جب سے آیا ہے کبھی واپس جانے کا اتفاق نہیں ہوا۔ وجہ یہی ہے کہ تمام مصروفیات اور کاروبار زندگی ادھر کینیڈا ہی سے جڑا ہے۔ تمام خاندان یہیں ہے۔ واپس جانے کی کوئی وجہ نہیں تو جانا کیا۔

کتنے برس ہوگئے؟

اسے چھوڑو۔ بس یوں سمجھو کہ جب آیا تھا تو آنڈے اٹھارہ روپے درجن ، ڈبل روٹی گیارہ روپے کی ، اور ودیا قسم کا چاول بھی چھتیس روپے کلو میں مل جاتا تھا۔ سیانے کا کہنا ہے کہ اب ان قیمتوں کے آخر میں ایک اور آنڈے۔۔۔بولے تو۔۔۔صفر کا اضافہ کر لو۔ بلاگراعظم اپنی اسی بےخبری کی وجہ سے پاکستان کے لمحہ بہ لمحہ بدلتے حالات پر پرمغز بیان دینے سے قاصر رہتا ہے۔

سیاست پر پوسٹیں؟

کیوں کروں؟ ادھر ہزاروں میل دور ٹورنٹو میں بیٹھ کر مجھے پاکستان کی سیاسی ذلالت سے کیا لینا دینا؟ جن لوگوں کا مستقبل اس سے جُڑا ہے صرف وہی جانیں۔ وہ بی بی۔۔۔ایکسکیوزمی۔۔۔ "شہید" بی بی پالٹی کو ووٹ دیں یا بھگوڑا لیگ کو۔ جذباتی نوجوان کے پیچھے لگیں یا مستقل قومی مشکل کو جپھا ماریں۔ مجلس المنافقون کے ہاتھ بعیت کریں یا طالبان کے کت خانہ پر منہ صاف کریں۔ سانوں کی؟؟

ادھر سیانے کی اپنی ہی چول ہے۔ کہتا ہے کہ اگر اردو میں ٹک ٹک کرنے کا چا پورا ہوچکا ہے تو انگریزی بلاگ پر واپس آجاؤ۔ کہ بلاگستان میں پنپنے کے لئے ضروری ہے کہ بندہ سیاست اور مذہب دونوں کو رگیدتا رہے۔

پاکستانی ذلاست سے بیزاری تو بتا دی۔

رہ گیا مذہب تو میرے "مرتد" ہونے کا انکشاف مومنین بلاگستان پر پہلے ہی واضح ہے۔

اُدھر سیانے کا حساب کتاب بتاتا ہے کہ بلاگر اعظم کے نارے وجنا ناممکن ہے۔ تاہم اگر یک بلاگہ پالٹی بنانی ہے تو الگ بات ہے۔

لیکن۔۔۔

بلاگراعظم صرف بلاگراعظم ہی نہیں۔۔۔ پھپھڑ بلاگستان بھی تو ہے۔

لہذا بلاگراعظم نے اپنے اعلیٰ سیاسی شعور کا ثبوت دیتے ہوئے اپنے مشیر سیانیات کو عہدے سے برخاست کردیا ہے۔ اور اس کی جگہ خدمات حاصل کی ہیں ایک کنسلٹنٹ کی جسے کراچی کی سڑکوں پر آدھی صدی قبل سو گھنٹے سکوٹر چلانے کا وسیع تجربہ ہے۔

کنسلٹنٹ نے کچھ حساب کتاب کرکے ایک کھاتہ تیار کیا ہے۔ جو بتاتا ہے کہ کتنی لاشیں کس پالٹی کی طرف نکلتی ہیں۔ لیکن بلاگر اعظم کو شک ہے کہ اس میں وہ شہید بھی شامل ہیں جو کنسلٹنٹ کے اپنے سکوٹر تھلے آچکے ہیں۔

قارئین کرام۔۔

بلاگر اعظم کی سمجھ میں کچھ نہ آوے ہے۔

بلاگراعظم جس شہر کا باسی ہے وہاں مختلف رنگ و نسل ، مذاہب ، اور قومیت کی تقریبا ڈیڑھ سو سے زائد قومیں آباد ہیں۔ اور اس شہر میں عصبیت کا شکار اگر کوئی ہوا ہے تو شائد ستر برس پہلے ہوا ہے۔ جب کسی ایک قومیت والے نے دوسرے قومیت والے کوایک چماٹ اور دوگھسن مارے تھے۔ پھر کبھی ایسا واقعہ رونما نہیں ہوا کہ امن کی دیوی ان ناپاک لوگاں کو نپ کے رکھتی ہے۔

اُدھر برخاست کیا گیا سیانا جان نہیں چھوڑتا۔ کہتا ہے کہ نقص امن کی گڑھتی پاک لوگاں کی "پاکیزگی" میں ہے۔ اور پاکیزگی سے تیرا کیا لینا دینا؟ تو اسے چھوڑ اور سیلاب زدگان پر ایک دلخراش پوسٹ لگا۔

کنسلٹنٹ کہتا ہے کہ نہیں۔ سیلاب زدگان پر تو وہاں کے لوگ نہیں لکھتے۔۔۔تو تمہیں کیوں موت پڑی ہے؟ اور تمھیں کیا گھنٹہ درد ہوتا ہے؟ شوق پورا کرنا ہے تو کوئی اخباری لنک لگا دو۔ یا پھر یہ سمجھو کہ پاک لوگ سیلاب میں نہائیاں کر رہے ہیں۔

نہائیاں سے یاد آیا کہ ادھر ٹورنٹو میں بھی بڑی گرمی ہے۔ لیک اونٹاریو کے ساحل پر میموں نے انت پائی ہوگی۔

میں تو چلا۔۔۔

کل پھر صبح ہوگی۔

19 comments:

  1. بھائی آپ تو دل برداشتہ ہو گئے۔
    میں کیونکہ کم پڑھا لکھا اور کم فہم ہوں اس لئے کچھ سمجھ نہ آئے تو سوال شوال کرتا ہوں۔کچھ سیکھ ہی لوں گا۔اتنی تو چھوٹ دے دیں۔ اور سچ بتاوں متفق نہ ہوں تو چھیڑ چھاڑ کر جاتا ہوں۔
    زیادہ ناراض ہوئے تو اونٹاریو لیک پر آکر پکڑ لوں گا۔
    پھر دونوں کسی دلبر کو ٹرائی ماریں گے۔ :e: :e: :e:

    ReplyDelete
  2. سانوں کی، کے پیچھے کیا آپ کا دل روتا نہیں ہے؟

    ReplyDelete
  3. بلاگر اعظم اپنے شہر کے تھانے پاکی تھانوں کی طرح کردے
    وہاں کی کچہریاں پاکی کچہریوں کی طرح
    ایک سال بعد وہاں کا حال بھی پاکی شہروں کی طرح ہوجائے گا

    ReplyDelete
  4. خاموشی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ReplyDelete
  5. وہاں امن کی دیوی اس لئے براجمان ہے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ جو کچھ ہے دنیا میں ہے۔ ایک بس جلنے کا مطلب کروڑوں کا نقصان۔ وہ بنیہ گری میں اپنا نقصان برداشت نہیں کر سکتے۔
    ہمارے یہاں اصل زندگی مرنے کے بعد شروع ہوتی ہے۔ اس لئے ہر ایک دوسرے کو جلد سے جلد جہنم واصل کرنا چاہتا ہے، ٹارگٹ کلنگ کے ذریعے، خود کش حملے کے ذریعے، سیلاب کی خبر گیری نہ کر کے، آگ لگنے والی جگہوں کو بچانے والے فائر انجن نہ جمع کر کے، زلزلے کی صورت میں دیواریں کاٹنے والے کٹر نہ ہونے کی صورت میں، با عزت روزگار مہیا نہ کر کے، ہم صرف موت میں ایکدوسرے کی مدد کرتے ہیں۔ پھر جب کوئ ان کوششوں سے مر جاتا ہے تو یا تو ہم اسکے نوحے پڑھتے ہیں اور دیگر لوگوں کو عذاب کی وعید دیتے ہیں یا ہم مٹھائیاں بانٹتے ہیں اور خوشی کے ایس ایم ایس کرتے ہیں اور ہماری خوشی چھپائے نہیں چھپتی۔ جبکہ آپکے یہاں یہ ہوتا ہوگا کہ ایسے ہر واقعے کا باریک بینی سے تجزیہ ہوتا ہوگا کہ یہ کیوں ہوا تاکہ اصل وجوہات کا پتہ چلا کر انکا سد باب کیا جائے۔ اگر ہم بھی ایسے ہی کرنے لگیں تو یہ تو دنیا کی زندگی ہو جائے گی۔ جبکہ ہمارے یہاں اصل زندگی مرنے کے بعد شروع ہوتی ہے۔
    اس لئے آپ بیٹھ کر میموں کا نظارہ کیجئیے۔ امید ہے واپس آکر آپ اس چیز پہ پوسٹ لکھیں گے پاکستان میں خواتین کس قدر غیر اسلامی حرکات کرتی ہیں۔ ایسی پوسٹوں کی ہمارے یہاں بہت ضرورت ہے، للہ ہمیں ان سے محروم نہ رکھئیے گا۔

    ReplyDelete
  6. آ گيا تھا يہاں پڑھ کر نام جناب کا
    چلا جا رہا ہوں پڑھ کر کلام آپ کا

    ReplyDelete
  7. لو جی نہایاں نہایاں ہو گی ہوں تو سفر نامے کا حال پیش کیا جائے
    :mrgreen: :mrgreen:

    ReplyDelete
  8. کاش سیلاب زدگان پر ایک عدد پوسٹ " پھڑکانے" سے ان کی مدد ہو سکتی.

    کاش یہ اتنا آسان ہوتا.

    اے کاش!!!!!

    ReplyDelete
  9. چلیں آپ نے تو ان موضوعات کو نہ چھیڑنے کی وجوہات بیان کردیں. آپ کی خلاصی ہوئی...
    جن کی نہیں ہوئی انہیں لے دے کے پاکستان پہ ہی لکھنا پڑتا ہے .... اور پاکستان میں یہی کچھ ہے سو.....ہور کی کریئے ....!
    بائی دا وے، آپ کے بلاگ پہ کبھی تصویری کہانیاں نہیں دیکھیں... چلیں پھر نیک کام میں دیری کیسی؟ لیک اونٹاریو پہ اترنے والی پریوں کی کہانی عثمان عرف ’سانوں کی‘ کی زبانی...!! :mrgreen:

    ReplyDelete
  10. طالوتAugust 04, 2010

    بھراوا چھڈ ہن لاجاں لوجاں نوں ۔ لکھ چھڈ تے ٹنگ چھڈ ۔
    تے فیر شام سویرے موجاں ای موجاں ۔ :l:
    وسلام

    ReplyDelete
  11. عثمانAugust 04, 2010

    قارئین کرام و تبصرہ نگاران!
    بلاگراعظم کی بوالعجیبیوں کو سنجیدہ لینے کا شکریہ۔ 8-O

    ReplyDelete
  12. ایک بات تو میں لکھنا بھول گئ کہ یہ جو آپ نے چیزوں کے بھائو لکھے ہیں تو یہ تو بہت دور کی باتیں ہیں. مجھے بھی دماغ پہ زور ڈالنا پڑا کہ کب ایسا ہوتا تھا. آپکی عمر کیا ہے. مردوں سے عمر پوچھنا تو بد اخلاقی میں نہیں آتا. اور نہ بتائیں، یاد داشت کو صاف کر کے پتہ چل ہی جائے گا کہ یہ کس سن کے بھائو ہیں. دیکھا ایسی باتوں سے لوگ کیا کیا کھوج نکالتے ہیں.

    ReplyDelete
  13. عثمانAugust 04, 2010

    ہاہاہا..
    بہت خوب! :mrgreen:
    چلیں ایسا کریں کہ اندازہ لگائیں. تین اشارے دیتا ہوں. :wink:
    اسی کی دہائی کی پیدائش ہوں :lol:
    سینئیر ٹین ایجر تھا جب پاکستان چھوڑا تھا :a:
    اور جب چھوڑا تھا تو پاک لوگ سپر مین صدام حسین کی فتح کے دعوے کررہے تھے. :z:
    بوجھو تو جانیں! :t:

    ReplyDelete
  14. ارے آپ تو سنجیدہ ہو گئے. عمر میں کیا رکھا ہے. بعد میں پیدا ہونا کوئ قصور نہیں اور پہلے پیدا ہونے میں کوئ فنکاری نہیں. البتہ پیدائش کے بعد جسمانی طور پہ بڑے ہوتے رہنا اور ذہنی عمر کا نہ بڑھنا ایک بیماری ہے. پولیو میں بھی ایسا ہی ہوتا ہے. آپ کو تو لگتا ہے پولیو کی ویکسینیشن ہوئ ہے. اس میں مبتلا لوگوں کو تو کچھ نہیں پتہ چلتا، انکو سنبھالنے والوں کے گناہ معاف ہو جاتے ہیں. :h:

    ReplyDelete
  15. :roll: :? :(

    ReplyDelete
  16. عثمان صاحب خیر تو ہے، اتنی مایوسی. بھیا کراچی والے تو پھر کسی ڈھیٹ مٹی کے ہوئے نا کہ کبھی بے زار اور مایوس نہیں ہوتے.
    آپ پر تو چند برسوں میں ہی کنیڈا کے اثرات نمودار ہونے لگے، صاحب اپنے اندر چھپے پاکستانی کو تلاش کرے اگر وہ مل گیا تو آپ بھی تھوڑی بہت بے حسی اور بے غیرتی سیکھ لے گیں.

    ReplyDelete
  17. میں تو جی لیک اونٹاریو کی تصویری کہانیوں کا منتظر ہوں. :mrgreen:

    ReplyDelete
  18. معزز قارئین لیک اونٹاریو کی جان چھوڑ دیں صاحب بلاگ خود جا$ے گا تو آپ کی تسکین کا سامان کرے گا نہ

    ReplyDelete