1 November 2010

باتاں

میں جب کبھی یار لوگوں کو بتاتا کہ بھئی "بھلے وقتوں" میں دودھ سترہ روپے لٹر مل جاتا تھا۔ آنڈے تو ہمارے وقت میں بس چوبیس روپے درجن تھے۔ اور یہ چینی چین کے علاوہ ادھر پاکستان میں بھی پائی جاتی تھی۔ یار لوگ اس سے منہ مِٹھا کرتے تھے۔
تو یار لوگ دیدے پھاڑ کر منہ تکتے کہ تو تو ہمارے دادے کے زمانے کا لگتا ہے۔
انھیں بتانا پڑتا کہ بھئی پاکستان کبھی جانا نہیں ہوا اس لئے کچھ اندازہ نہیں کہ وہاں کیا نیر چل رہا ہے تو پھر ایک نوی مصیبت
" تو کینیڈا میں لیگل تو ہے نا؟"
لہذا اس رنگ بازی سے جان چھڑانے کے لئے میں نے کچھ عرصہ پہلے ایک مصنوعی گوشوارا تخلیق کرڈالا۔ جس میں میرے وقتوں کی قیمتوں کو سیانے کی ہدایت پر دو سے ضر ب دے کر قیمت حاضرہ حاصل کی گئی تھی۔
پر اب سنا ہے کہ سیلاب نے سب کی نہائیاں نہائیاں کروا دی ہیں۔سب کے بیڑے ترگئے ہیں۔ سیانے کا نیا گوشوارا بھی اب - E - کا میسیج دیتا ہے۔ حالات اتنے دگرگوں ہیں کہ یار لوگ اپنی مدد آپ کے تحت سبزی منڈی اگا رہے ہیں۔
یہاں سکھ ایسے کام دیکھاتے ہیں۔ اچھے بھلے علاقے میں اچھا سا مکان خریدیں گے۔ اور اس کے بیک یارڈ کو سبزیوں سے بھر دیں گے۔ اب ظاہر ہے اس میں باغیچے والی خوبصورتی نہیں رہتی۔ ارد گرد کے لوگ ناک چڑھاتے ہیں۔ نئے لوگ وہاں شفٹ ہونے سے گھبراتے ہیں۔ اور ان علاقوں میں مکان کی قیمت گرتی چلی جاتی ہے۔ کچھ سکھ حضرات اپنے بیک یارڈ کھیت میں باوا بھی لگا دیتے ہیں۔ اور اس کے سر پر اپنا کیس تا کہ سکھ اور سک کے اس نمونے سے ہیلوئین کا تاثر ابھرے اور کچھ بھرم رہ جائے۔
اب تو میں اپارٹمنٹ میں رہتا ہوں اس لئے باغیچہ کی نعمت میسر نہیں۔ لیکن پردیسی لوگ سٹائل رکھتے ہیں۔ اس لئے اپارٹمنٹ میں بھی ایک سولیریم ہوتا ہے۔ کہ وہاں پھول بوٹے لگائیں اور بید کی کرسیاں میز ڈا کر چائے کافی نوش فرمائیں۔ لیکن پاک لوگ ادھر بھی فنکاری مارتے ہیں۔ کمپیوٹر اور صوفہ کم بیڈ گھسا دیتے ہیں۔ کسی سے پوچھو کہ بھئی کتنے کمروں کا اپارٹمنٹ ہے؟۔۔۔" ساڑھے تین"۔
لاہور والے گھر میں ایک اوسط رقبہ کا باغیچہ تھا۔ اور پورے محلے میں ہمارا ہی گھر تھا جس کا باغیچہ تھا۔ کہ جن وقتوں میں والد صاحب نے مکان لیا تھا پور محلہ ہی باغیچہ تھا۔ پھر ہر ماجے گامے نے وہاں شفٹ ہونا شروع کردیا۔ آنے سے پہلے صورتحال یہ تھی کہ سبزہ یا تو ہمارے باغیچے میں تھا یا کچھ لوگوں کے سروں پر جن کا تذکرہ میں نے اپنی ایک پوسٹ میں کیا تھا اور چونکہ ان کے ہمدرد یہاں گرمی کھائیں گے اس لئے بار بار تذکرہ مناسب نہیں۔

ہاں تو میں کیا کہہ رہا تھا؟
باغیچہ۔۔۔

تو ہمارے باغیچے میں یا تو پھول تھے یا تین چھوٹے چھوٹے درخت۔ جن پر پھول شول کھلتے رہتے تھے۔ ایک وہ پودا بھی تھا جس کا نام یاد نہیں رہا۔ لیکن بقر عید پر بکرا اسے چبا ڈالتا تھا اور پھر مرچوں کی شدت سے پورے باغیچہ اور ملحقہ گیراج میں ناچتا پھرتا۔ بہت بعد میں ہم نے لیموں کا پودا بھی لگا دیا۔ یہ واحد پھل یا سبزی دار پودا تھا۔ ہر سال دو سو لیموں دے جاتا۔ جس کو نچوڑ کر کیوب جما کر فریز میں محفوظ کر لیتے۔ اور پھر سارا سال اس کی سکنجبین۔بچپن میں بہن بھائیوں سے جب کبھی لڑائی ہوتی تو ان کی چیزیں لے کر اس باغیچے میں دفنا دیتا۔ رات کے وقت باغیچے سے خوف آتا کہ ابھی آواز آئے گی۔۔۔"دھم"۔۔۔وہ جیسے جاسوسی ناولوں میں ہوتا ہے۔
باغیچہ اگر اچھی حالت میں مزین ہو تو اس کا ایک فائد یہ ہے کہ علاقے کے لوگوں پر خوامخواہ رعب شوب پڑتا ہے۔اس سہولت سے ہم نے بہت فائد اٹھایا ان زمانوں میں بھی جب سکول کی فیس دینے کی فکر والدین کو ستاتی تھی۔بندے کے پاس ہور کچھ رہے نہ رہے۔ باغیچہ ضرور رہنا چاہیے۔سٹائل رہتا ہے۔

27 October 2010

خواص الذومبی

حال ہی میں زومبیوں پر ایک فلم دیکھنے کا اتفاق ہوا ہے جس میں تمام اداکار ہی ہدایت کار ہیں۔ عام زومبی (Zombie) فلموں کے برعکس یہ ہارر ہے نہ کامیڈی۔ بلکہ ایک المیہ ہے۔ فلم بور ہے ، بلکل زومبیوں کی طرح۔ البتہ زومبیوں کے متعلق بہت کچھ بتلاتی ہے۔ فلم برداشت کرنے کے نتیجے میں جو حقائق مجھ پر آشکار ہوئے وہ پیش خدمت ہیں تاکہ آپ بھی بوریت سے مستفید ہوسکیں۔

۱) زومبی بات نہیں بلکہ صرف الفاظ سمجھتا ہے۔ ان الفاظ کے پیچھے انھوں نے کچھ Archetype بنا رکھے ہیں۔یعنی ہر لفظ کے ساتھ کوئی تصور ہے۔ دوران گفتگو جونہی آپ وہ الفاظ بولتے ہیں زومبی آپ کی تمام بات بھول کر وہ الفاظ صرف اور صرف اپنے طے شدہ Archetype کے مطابق وصول کرتا ہے۔اور اسی کے مطابق ردعمل دیتا ہے۔مثال کے طور پر یوں سمجھیں کہ جوں ہی آپ لفظ "آسمان" بولیں گے تو زومبی کا مغز اسےکچھ اس طرح وصول کرے گا:
آسمان = نیلا رنگ ، سورج ، چاند ، تارے
بس اب آپ آسمان کے متعلق جو مرضی سمجھانے یا بیان کرنےکی کوشش کریں۔ کوئی فائدہ نہیں کہ زومبی کی سوئی وہیں اس کے تصور کردہ چار الفاظ میں اٹکی ہے۔ وہ انہی تصوارات سے اپنی من پسند جھاگ بنائے گا اور ردعمل ظاہر کرےگا۔

۲) اوپر بیان کی گئی صورتحال سے بچنے کے لئے ضروری ہے کہ آپ الفاظ بدلتے رہیں۔ نئی سے نئی اصطلاحات متعارف کرواتے رہیں۔ بھلے مدعا بیان کرنا کتنا ہی مشکل کیوں نہ ہو جائے۔فائدہ یہ ہوگا کہ زومبی اپنی زومبی لغت کی طرف رجوع کرنے میں ناکام رہے گا۔ بادل ناخواستہ آپ کی بات سمجھنے پر مجبور ہوگا یا کندھے اچکا کر آگے نکل جائے گا۔ اور آپ اس کے عتاب سے بھی محفوظ رہیں گے۔

۳) تمام زومبی جسمانی طور پر نارمل دیکھائی دیتے ہیں۔ عام چھوٹی موٹی بات چیت میں بھی وہ نارمل ہی دیکھائی دیں گے۔ تاہم معاملہ جوں ہی صورتحال کے تجزیہ اور معاملہ کو پرکھنے پر آئے گا۔ زومبی اپنے طے شدہ Archetype کے مطابق ریسپانس دے گا۔ عین اس وقت آپ پر عقد کھلے گا کہ آپ زومبی سے مخاطب ہیں۔

۴) تمام زومبییوں کے Archetype ایک جیسے ہوں گے۔ یکساں ردعمل ظاہر کریں گے۔ مخصوص باتیں کرتے وقت مخصوص آوازیں نکالیں گے۔ ان آوازوں کو Cliche کہا جاتا ہے۔

۵) زومبی کے تمام Archetype چند گنی چنی باتوں کا تحفظ کرتے ہیں۔ جو اس کا کل اثاثہ و افتخار ہیں۔ زومبی اپنی وحشتناک حالت میں تب پہنچتا ہے جب آپ اس تفاخر پر ضرب لگائیں۔


۶) شائد آپ نے سن رکھا ہو کہ زومبی میں خون نہیں۔ یہ صرف جزوی طور پر درست ہے۔ زومبی میں خون بہت ہے کہ جوش بہت ہے۔ البتہ اگر اس کے تفاخر کو ٹھیس پہنچے تو۔۔۔ کاٹو تو بدن میں لہو نہیں۔

۷) زومبی کاٹ کردوسروں کو زومبی نہیں بناتے۔ نہ ہی زومبی ہونے کے لئے ضروری ہے کہ آپ زومبی لینڈ یا زومبیوں کے درمیان رہیں۔زومبی ہونے کا واحد طریقہ یہ ہے کہ آپ ایک طویل عرصہ اپنا ذہن جامد رکھیں۔ صورتحال کو من و عن اسی طرح تسلیم کریں جسطرح آپ کے سامنے پیش کی جاتی ہے۔ آسان نتائج کا انتخاب کریں۔ ایسے کہ آپ کے پہلے سے تسلیم شدہ Archetype کو نہ کوئی گزند پہنچے اور تفاخر کا تحفظ بھی باقی رہے۔

۸) عام تصور کے برعکس زومبی جذبات سے عاری ہرگز نہیں۔ بلکہ یہ ایک انتہائی جذباتی مخلوق ہے۔ یوں کہہ لیجئے کہ زومبی صرف اور صرف جذبات رکھتا ہے۔ اس کی ہر بات ہر "استدلال" جذبات پر محمول ہے۔

۹) ایک انتہائی دلچسپ بات یہ ہے کہ عام فلموں کے برخلاف یہاں زومبی کو معلوم ہوتا ہے کہ وہ کنٹرولڈ ہے۔ تاہم وہ اپنے ذہن کو نہیں بلکہ ارد گرد کے معاشرے اور اپنی زندگی کو کنٹرولڈ سمجھتا ہے۔ جبکہ اس کے خیال میں اس کا ذہن مکمل طور پر آزاد ہے۔

۱۰) زومبی زومبیت سے مکمل ناواقف ہے۔ زومبی کو اپنے یا دوسروں کے متعلق کبھی یہ معلوم نہیں ہوسکتا کہ وہ زومبی ہیں۔ البتہ ہر وہ شخص جو اس کے Archetype شئیر نہیں کرتا زومبی کے تصور کردہ سسٹم کا حصہ ہے۔

اپنے ارد گرد جائزہ لیں۔ کیا آپ دیکھ سکتے ہیں کہ لوگ ہاتھ پھیلائے ڈکراتی آوازوں کے ساتھ کلیشے نکالتے آپ کو کوستے ہوئے آپ کی طرف بڑھ رہے ہیں؟
اگر ایسا ہے تو گئے کام سے۔ بچاؤ کا آسان طریقہ یہ ہے کہ آنکھ ، کان ، ناک ، منہ اور ذہن بند کرلیں۔ زومبی غائب ہوجائیں گے۔

17 September 2010

حیرت کدہ

لینرڈ سسکند ایک جگہ لکھتا ہے کہ اسے بچپن میں ایک سرکس میں کام کرنے کا تجربہ ہوا۔ جہاں اسے بحثیت رضاکار کچھ سامان منتقل کرنا پڑا۔ دوران کام جب اس نے ایک چھ فٹ جسامت کا بظاہر قویٰ ہیکل اور وزنی پتھر اٹھانے کی کوشش کی تو یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ پتھر یوں اٹھتا گیا کہ گویا کاغذ کا بنا ہو۔ ایک خاتون نے ایک بھاری بھرکم کرسی گھسیٹنے کی کوشش کی تو کرسی تیلیوں کا ایک ڈھیر ثابت ہوئی۔ دو نوجوان ایک چھوٹے سے سوٹ کیس کو ہلانے میں ناکام رہے۔تمام اشیاء بظاہر کچھ اور دیکھائی دیتی تھیں۔ ان خصوصیات کی حامل تھیں جو ہم روزمرہ کے مشاہدے اور تجربے سے فرض کرتے ہیں۔ تاہم رضاکاروں پر جب اصلیت کھلی تو انہیں حیرت کے لمحے سے گذرنا پڑا جو دیکھنے والوں اور خود رضاکاروں کے لئے محظوظ کن تھا۔

لینرڈ سسکند نے یہ مثال قارئین کو بلیک ہول کی حقیقت سمجھانے کی خاطر بیان کی۔ سسکند کا استدلال تھا کہ کائنات کے بنیادی اور ابدی حقائق اس وقت تک سمجھے اور ہضم نہیں کیے جا سکتے جب تک کہ آپ کامن پرسپشن (common perception) سے چھٹکارا پا کر اشیاء اور واقعات کی حقیقت کامن سینس (common sense) پر محمول نہ کریں۔ ایک ایسا مقام جہاں زمان و مکاں کے بظاہر بنیادی سمجھے جانے والے خواص یکسر تبدیل معلوم ہوں کی حقیقت سمجھنے کے لئے ضروری ہے کہ آپ پہلے سے متصور کامن پرسپشن پر مبنی خیالات اور "حقائق" کا ذہن سے صفایا کردیں۔ پھر ہی بذریعہ کامن سینس نئے حقائق جاننے کے قابل ہوسکیں گے۔ وجود کا حجم ہونا ، لمحات کا گذرنا ، مادے کا وزن رکھنا ، یہ اور ان جیسے کئی تصورات ہیں جسے ہم اپنی روزمرہ زندگی میں ان چیلنجڈ (unchallenged) تصور کرتے ہیں کہ ان کے برخلاف کبھی کوئی بات ہمارے مشاہدے میں نہیں آتی۔ لیکن یہ تصورات ہرگز کسی منطقی یا سائنسی استدلال پر پورا نہیں اترتے۔

بنیادی طور پر کامن پرسپشن دو طریقوں سے پیدا ہوتی ہے۔ ایک حواس خمسہ سے جو آپ کو محدود مشاہدہ اور تجربہ فراہم کریں۔ دوسرا یہ کہ لوگوں (بشمول آپ) کے کچے خیالات جو ایک عرصہ تک آپ کے گردوپیش میں گردش کرنے کے سبب آپ کے ذہن میں بلا استدلال جم جائیں۔ یہ خیالات اگر ایک عرصہ تک ان چیلنجڈ رہیں تو آپ متعلقہ معاملے میں ریلم آف کامن پرسپشن (Realm of Common Perception) میں گھر جاتے ہیں۔دوسری طرف کامن سینس باوجود اس کے کہ ذہن کا ایک جزو لازمی ہے۔۔۔ ہر معاملے میں ہروقت ہر ذی روح کے استعمال میں نہیں۔ یہ ذہن کا جزو لازمی ہونے کے سبب عام دستیاب ضرور ہے۔ لیکن عام مستعمل نہیں۔ میں کامن سینس کو محض "عام" فہم تک محدود نہیں سمجھتا کہ جو ہر شخص ہر چھوٹے بڑے معاملے میں استعمال کرتا ہے۔ اس کا دائرہ کار کل محصول انسانی علم تک وسیع ہوسکتا ہے۔ ایک سائنسی تھیوری جو ایک غیر سائنس دان کو متعلقہ معاملے کی سمجھ نہ ہونے کے سبب ریلم آف کامن سینس (Realm of Common Sense) سے باہر معلوم ہوتی ہے۔ وہی سائنسی تھیوری ایک سائنسدان کو متعلقہ معاملے کی پوری طرح سمجھ ہونے کی بنا پر ریلم آف کامن سینس میں معلوم ہوتی ہے۔ وجہ اس کی یہی ہے سائنسدان کی فہم متعلقہ معاملے میں محض پرسپشن کی بجائے باقاعدہ کسی منطقی استدلال پر قائم ہے۔ یہاں ایک دلچسپ بات نوٹ کریں کہ غیر سائنسدان متعلقہ معاملے کو اپنے ریلم آف کامن سینس سے باہر ہونے کے سبب معاملے کی حقیقت کو لامحالہ کامن پرسپشن سے جانچنے کی کوشش کرے گا۔ اور یقناً اس معاملے میں حیرت کا شکار ہوگا کیونکہ متعلقہ معاملے کی حقیقت اس کی ریلم آف کامن پرسپشن میں بھی نہیں آتی۔

ادھر ایک سوال ہے۔ کیا حیرت ریلم آف کامن پرسپشن اور ریلم آف کامن سینس کے درمیان ایک عالم ہے؟ میری ناقص رائے میں شائد یہ اسی طرح ہے۔ آپ پرسپشن سے سینس کی طرف جب سفر کرتے ہیں تو حیرت کدے سے گذرتے ہیں۔ جب تک آپ دونوں میں سے کسی ایک بھی ریلم میں موجود رہیں۔۔حیرت وجود رکھتی ہے نہ آپ محسوس کرسکتے ہیں۔ اول الذکر میں تمام معاملات جوں کے توں ہے جیسا آپ نے تصور کررکھا ہے۔ جبکہ موخر الذکر میں کل معاملہ کلی طور پر استدلال کے تابع ہے۔ جب آپ کی پرسپشن ٹوٹتی ہے تو آپ کو حیرت ہوتی ہے۔ مزید آگے بڑھ کر اگر ریلم آف کامن سینس میں داخل ہوجائیں تو حیرت پھر غائب۔ وہاں ہر چیز منطقی ہے۔

کوئی بھی ذہن تمام وقت کلی طور پر ریلم آف کامن پرسپشن میں رہ سکتا ہے نہ ریلم آف کامن سینس میں۔ ذہن دونوں ریلم کی سپر پوزیشن (superposition) کی حالت میں ہے۔ اب یہ ایک فرد پر منحصر ہے کہ وہ کس لمحہ کسی معاملے میں کس ریلم پر ذیادہ انحصار کرتا ہے۔ مزید یہ بھی ممکن ہے کہ اگر آپ بذریعہ استدلال یعنی کامن سینس سے کوئی نتیجہ اخذ کریں تو حاصل کردہ نتیجہ تجزیہ کے بعد آپ کے کامن پرسپشن کا حصہ بن جائے کہ ایک عرصہ تک اس سے واسطہ پڑنے کے سبب اب آپ کو بار بار تجزیہ کرنے کی ضرورت نہیں اور آپ اسے من و عن تسلیم کررہے ہیں۔ اور مستقبل میں اگر کسی نئی حقیقت سے واسطہ پڑے تو یہ آپ کے انھیں پرانے تصورات کو چیلنج کرے جو دراصل آپ نے کامن سینس سے اخذ کئے تھے لیکن اب کامن پرسپشن کا حصہ ہیں۔ سائنس کی تاریخ میں بارہا ایسے موڑ آئے ہیں جب ماضی میں اخذ کردہ نتائج کامن پرسپشن کی صورت میں مستقبل میں دریافت ہونے والے نئے نتائج سے مزاحمت کرتے رہے۔ خود بلیک ہول کی تاریخ ۱۹۳۰ء سے لے کر ۱۹۶۰ء تک اس کی ایک نمایاں مثال ہے۔

نوٹ: خود کلامی کو ہم کلامی سے ہمکنار کرنا آسان نہیں کہ اس کے لئے انشاء و تصنیف کی جو نزاکتیں درکار ہیں وہ مجھ میں محدود ہیں۔نیز انگریزی اصطلاحات بنسبت اردو کے اپنے اندر وسیع معنی رکھتی ہیں اس لئے ان کا استعمال ناگزیر ہے۔ عین ممکن ہے کہ کامن پرسپشن اور کامن سینس کا یہ گورکھ دھندہ آپ کو نان سینس معلوم ہورہا ہو۔ لہذا بلاجھجھک سوال پوچھ کر اپنی اور میری سینس میں اضافہ فرمائیے۔