18 June 2010
ہوزے ساراماگو۔۔۔ایک عہد کا خاتمہ!
جب میں پردیس نووارد تھا اور انگریزی پر کوئی خاص دسترس نہ تھی تو یونیورسٹی داخلہ لینے سے قبل مجھے اسکول میں انگریزی کے کچھ کورسز کرنا پڑے۔ کورسز میں درس وتدریس کا طریقہ کار کچھ یوں تھا کہ طلبہ کو ایک فہرست دی جاتی کہ اس فہرست میں سے اپنی اپنی پسند کا ایک ناول چن لیں۔ جس کو پڑھ کر آپ کو اس پر تنقیدی مضامین لکھنے ہوں گے۔ ناولوں کی فہرست مغربی مصنفین کی لکھی ہوئی انگریزی تصانیف یا اُن کے انگریزی تراجم پرمشتمل تھی۔ اس وقت تک میری سنجیدہ ادب سے کوئی خاص واقفیت تھی اور نہ ہی کسی مغربی مصنف کی لکھی کوئی بڑی تصنیف پڑھی تھی۔ کوئی ناول چننا اور پھر وہ بھی ایسا کہ اس پر کچھ تنقیدی کام کیا جاسکے۔۔۔ایک بڑی سردردی تھی۔ خیر۔۔۔تھوڑی بہت معز ماری کے بعد ایک منفرد سے عنوان پر نظر جم گئی۔ بلائینڈنس(Blindness) ۔۔۔جو کہ نوبل انعام یافتہ نامور پُرتگیزی ادیب ہوزے ساراماگو(Jose Saramago) کی تصنیف تھی۔ اس ناول پر کام کرنے سے پہلے استانی صاحبہ نے خبردار کیا کہ اسے پڑھنا اور لکھنا کوئی اتنا آسان نہیں۔۔۔خصوصاً اگر آپ نے اس ضمن کوئی ایسا کام پہلے کبھی نہ کیا ہو۔ لیکن چونکہ تہیہ کرچکا تھا اس لئے کام کا آغاز کر ڈالا۔
ناول شروع کرتے ہی احساس ہوگیا کہ کس چیز میں ہاتھ ڈالا ہے۔ یہ ناول دراصل ایک تمثیلی قصہ(Allegory) تھا۔ یعنی ایک ایسی داستان جس میں استعارے کے ذریعہ بیان کیا گیا تخیلاتی منظر اور صورتحال بالواسطہ کسی گہری حقیقت کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ ناول میں ایک ایسے شہر کا منظر پیش کیا گیا تھا جس میں اندھے پن کی وباء پھیل چکی تھی۔ اور حکومت وقت مریضوں کو پکڑ پکڑ کر مخصوص مقامات پر نظر بند کرنے میں مصروٖف تھی۔ اُدھر حال یہ تھا کہ اس نفسا نفسی کے عالم میں ہر شخص کو بس اپنے پیٹ کی بھوک مٹانے کی پڑی تھی۔ کیا امیر کیا غریب۔۔۔سب ایک سے تھے۔ ناول کی انفرادیت صرف اس دلچسپ کہانی تک ہی محدود نہ تھی۔ بلکہ کئی دوسرے غیر روایتی عناصر میں بھی یکتا تھا۔ ناول میں کوئی اسم معروف استعمال نہ کیا گیا تھا۔ کسی کردار کو اس کے نام سے بیان کرنے کی بجائے اسم عام کا سہارا لیا گیا تھا۔اگر کوئی ڈاکٹر ہے تو۔۔'ڈاکٹر' کے اسم سے، یا اگر کسی نے چشمہ لگا رکھا ہے تو "چشمے والا" کی عرفیت استعمال کی گئی تھی۔ ایک اور دلچسپ بات جو اس ناول کی وجہ شہرت تھی وہ یہ کہ اس تصنیف کا طرز تحریر کُلی طور پر Run-on Sentence پر مشتمل تھا۔ عموماً جہاں ختمہ (فُل سٹاپ) دیا جاتا ہے وہاں کومہ اور جہاں اقتباس ختم کیا جاتا ہے وہاں ختمہ کا استعمال بکثرت کیا گیا تھا۔ نتیجتاً ایک ایسا عجب طرز تحریر تشکیل پا گیا کہ جس میں اکثر مقامات پر ایک جملہ کئی کئی صفحات پر جبکہ ایک اقتباس پورے باب پر مشتمل ہوتا تھا۔ لیکن یہ مصنف ہوزے ساراماگو کا کمال تھا کہ قاری اس غیر روایتی طرز تحریر پر مذتذب نہ ہوتا بلکہ کہانی میں پوری طرح غرق ہو جاتا۔
ہوزے ساراماگو کی تصانیف اور پُرتگیزی ادب سے یہ میرا پہلا تعارف تھا۔ اس کے بعد اُن کی دوسری تصانیف؛ دی ڈبل، آل دی نیمز، سینگ، اور ڈیتھ وِد انٹرولز کے انگریزی ترجمے پڑھے۔ ان تمام میں مندرجہ بالا طرز تحریر اختیار کیا گیا تھا۔ ہر داستان اپنی مثال آپ تھی کہ جس میں بظاہر ایک عجیب اور بے وُقعت معلوم ہونے والے تخیل کو لے کر فلسفہ آرائی کی گئی تھی۔ یہ انوکھا طرز تحریر رکھنے والا مصنف جس نے ۱۹۹۸ء میں ادب کا نوبل انعام جیتا آج ستاسی برس کی عمر میں انتقال کر گیا ۔ کسی بھی بڑے ادیب کی طرح انکی زندگی بھی تنازعات سے پاک نہ تھی۔ ملحد تھے اور تمام عمر کیمونسٹ پارٹی کے رُکن رہے۔ نوے کی دہائی کے اوئل میں حضرت عیسٰیؑ کی زندگی پر لکھے جانے والے ناول ' صحیفہ بنام یسوع مسیح' (The Gospel According To Jesus Christ) لکھنے پر کافی لے دے ہوئی اور پُرتگال جیسے کیتھولک ملک میں زندگی اجیرن ہو گئی۔ بعد ازاں اسرائیل کا فلسطینیوں پرظلم کو 'ہولو کاسٹ' تعبیر کرنے پر صہیونیوں کی طرف سے بھی لعن طعن کا سامنا کرنا پڑا۔
ان کی تصانیف نے پُرتگیزی ادب پر جو اثرات مرتب کئے وہ تو کئے لیکن پُوری دنیا میں اپنی مداحوں کو جس چاشنی سے روشناس کروایا وہ اپنی مثال آپ ہے ۔ کم ہی ہیں ایسے لوگ جو اجنبی افراد کو اجنبی تہذیبوں سےایسے بےمثل انداز میں متعارف کرواسکتے ہیں۔ دوسرے اہل اردو کا تو مجھے معلوم نہیں تاہم میرے لئے دلچسپ ناول پڑھنے کا ایک سلسلہ ناول نگار کی موت کے ساتھ اپنے اختتام کو پہنچا۔
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
پریکٹیکل لائف بڑی مشکل چیز ہے جناب۔ اردو میں بھی بے شمار اچھے ناول نگار ہو گزرے ہیں جو واقعی پڑھنے اور سمجھنے سے تعلق رکھتے ہیں، ایسے ناولوں کو پڑھنا اور سمجھنا بہت آسان ہے کیوں کہ وہ مادری زبان میں ہیں، جب کہ انگریزی ناول پڑھنے کے لیے زبان پر بھی اچھی خاصی دسترست ہونی چاہیے اسی لیے اس پڑھنے کے لیے زیادہ وقت درکار ہے، اور ہمیں کبھی اردو ناول پڑھنے کا وقت نہیں ملا۔ انگریزی تے بہت دور دی گل اے
ReplyDelete:-D
ایک عالم کی موت پوری نسل انسانی کا نقصان ہے ۔ ایسے لوگ بار بار نہیں پیدا ہوتے ۔ میں نے گارسیا کو تو نہیں پڑھا مگر پائیلو کو ِہلہو کو ضرور پڑھا ۔ ان سے متعارف کرانے کا شکریہ
ReplyDeleteتم نے یہ تو بتا یا ھع نھن کہ تنکئد کیا کع
ReplyDeleteشکریہ۔ نئی معلومات دینے کیلیے۔
ReplyDeleteمیں نے کافی دنوں سے ای -میل چیک نہیں کی تھی آج چیک کیا تو آپ کی بھی دو ای -میل ملیں سوچا کہ پہلے آپ کا شُکریہ ادا کروں پھر آپکی ای- میل کو آزماؤں -آپ سے گُزارش ھے کہ کینیڈا کےسابقہ سربراہ مملکت کی بیوی مسز ٹروڈو کی آپ بیتی ضرور پڑھیں میرے نقطہ نگاہ سے کافی دلچسپ ھے اور انسانی فطرت کے بارے میں اور محبت کے بارے میں سوال اُٹھا تی ھے- اب میں آپکے بلاگ پر تبصرہ کر رھا ھوں کہ اس ناول کی کہانی اور اس کہانی نے آپ پر جو اثرات چھو ڑے-اسکو بلاگ میں ڈھالتے تو ھم لوگ بھی اُس عظیم مصنف کو زیادہ بہتر جان پاتے-آپ کے دل کی طرح ھمارے دل بھی اس عظیم مصنف کو بہتر خراج عقیدت پیش کر تے-میں خالق کائنات سے دُعا گو ھوں کہ ھوزے ساراماگو کی لغزشوں کو در گُزر فرماےء آمین
ReplyDeleteیاسر بھائی: کوئی شک نہیں کہ اردو ادب کسی سے کم نہیں۔ لیکن اردو کو وہ مقام ابھی تک نہیں مل سکا جو اسکا حق ہے۔ باقی کتابیں پڑھنے کا ٹائم تو نکالنا پڑتا ہے۔ میرا مشورہ ہے کہ سونے سے آدھ گھنٹا قبل ورق گردانی ضرور کیجئے۔
ReplyDeleteمحمد ریاض شاہد: گارسیا کو ابھی تک میں نے بھی نہیں پرھا۔ لیکن سُنا بہت ہے اس کے بارے میں۔ وقت نکال کر پڑھنا ہی پڑے گا۔
lovely:یہ پوسٹ ساراماگو کے بارے میں ہے۔ میرے تنقیدی کام کے بارے میں نہیں۔
Saad:بہت شکریہ۔۔۔اور بلاگ پر خوش آمدید!
MD:معلومات دینے کا شکریہ۔ میں دیکھتا ہوں کہ اس آپ بیتی میں کیا ہے۔ اگر دلچسپ معلوم ہوئی تو پہلی ہی فرست میں لائبریری سے لے کر پڑھوں گا۔ باقی ساراماگو کے چھوڑے اثرات کو تحریر میں ڈالنے کے قابل ہوتا تو یہاں نہ ہوتا۔ ویسے آپ کھل کر اپنے خیالات کا اظہار کر سکتے ہیں۔ میں اپنی تحریروں پر کی گئی تنقید کو قابل ستائش سمجھتا ہوں۔
مجھے بھی انگيزی نہيں آتی آپ والا نسخہ استعمال کرنا پڑے گا
ReplyDeleteبے انتہا شُکریہ-بےانتہاشُکریہ-بےشُکریہ-شُکریہ ھی شُکریہ-مگر کس بات کا-؟ ارے بھئ آپ کے طُفیل میں جمیل نوری نعستعلیق کے پرچے میں کامیاب ھوگیا ھوں زندہ باد، زندہ باد ـ یقینا" انسان جزبات کا اظہار اسی طرح کرتاھے،وُہ بچہ بن جاتا ھے-بُہت شُکریہ-
ReplyDeleteآپ چند منٹ کیلئے میرے بلاگ پر تشریف لائیں آپکو خوشی ہوگی کہ آپ کے بھیجے ہوئے عکس کار آمد ثابت ہوئے ہیں -اس کے علاوہ نیا بلاگ "شیرنی کی آپ بیتی" بھی ملا حظہ فرمائیں-شکریہ احسان مند Md
ReplyDeleteانگریزی کیوں نہیں آتی؟؟
ReplyDeleteیونیورسٹی میں فرانسیسی پڑھتی رہی ہیں؟؟
میں تو اس سا رے گا ما کو پڑھنے سے پہلے منٹو کو پڑھوں گا
ReplyDeleteاردو کا پہلا حق ہے بھئی
تو اچھا فحش نگار کبھی نہ بن سکے گا۔
ReplyDelete