جون ۲۰۱۰ء کے وسط میں جب اردو بلاگستان کے حالات کشیدہ ہوگئے تو بلاگر اعظم نے یکم جولائی ۲۰۱۰ء کو آل بلاگستان چھاپہ لیگ کے سالانہ اجلاس میں چودہ نکات پیش کئے جو تحریک بلاگستان میں سنگ تذلیل کی حیثیت رکھتے ہیں۔
بلاگر اعظم کےچودہ نکات درج ذیل ہیں:-
۱) آئیندہ دستور بلاگی نوعیت کا ہوگا جس میں بلاگروں کو ذیادہ سے ذیادہ خود مختاری دی جائے۔
۲) تمام بلاگروں کو مستقل اور یکساں تبصراجات حاصل ہوں۔
۳) بلاگستان میں بلاگوں کو ایسے تشکیل دیا جائے کہ ہر بلاگ میں بارہ سنگھے کو مؤثر نمائندگی حاصل ہو۔ نیز کسی بلاگ کو کوریا والوں کے شر سے محفوظ نہ سمجھا جائے۔
۴) مرکزی مجلس بلاگستان میں فحش نگاروں کی تعداد ایک تہائی سے کم نہ ہو۔
۵)جداگانہ طرز تحریر کا انتخاب ہر بلاگر پر لاگو ہو۔ تاہم اگر کوئی بلاگر چاہے توجاوید چودھری کا سرقہ لگا سکتا ہے۔
۶) بلاگوں میں ایسی کوئی سکیم نہ لائی جائے جس سے تحریروں اور تبصروں میں بھائی لوگوں اور جماعتیوں کے لتے متاثر ہوں۔
۷) تمام بلاگروں کو ہر قسم کی روشن خیالی، تاریک خیالی، خام خیالی اور رنگ بازی ڈالنے کی آزادی میسر ہو۔
۸) مجالس بلاگ ساز اور اردو سیارہ میں ایسی کوئی تحریر منظور نہ کی جائے جس کے خلاف میرے تین چوتھائی تبصرہ نگار فیصلہ دے دیں۔
۹) ڈفرستان کو بلاگستان سے الگ کردیا جائے۔
۱۰) ڈفرستان اور شمال مغربی خونخواہ میں دوسرے بلاگوں کی طرز پرتھیمز نافذ کی جائیں۔
۱۱) بلاگروں اور دوسرے چھاپہ ماروں کو یہودیوں کی چمپی ان کی اپنی صوابدید پر کرنے کی کھلی چھٹی دی جائے۔
۱۲) بلاگستان میں بلاگروں کو لسانی ، انسانی، مذہبی، قومی، سیاسی اور جنسی کُت خانہ پھیلانے کی ضمانت دی جائے۔
۱۳)کسی منظر ڈرامے میں ایسا کوئی ڈرامہ تشکیل نہ دیا جائے جس میں مجھے ملنے والے ایوارڈوں کی تعداد ایک تہائی سے کم ہو۔
۱۴) بلاگستان کے بلاگوں کے بلاگ رولوں میں مجھے شامل کیا جائے۔ شامل نہ کرنے کی صورت میں ترلے منتیں کرائی جائیں۔
میٹرک کا امتحان امتیازی نمبروں سے فیل کرنے والے یہاں نظر ڈالیں۔
بارہ سنگھے اور کوریا والوں کی بابت سینئر جغادریوں سے دریافت کریں۔
ہا ہا ہا ہا۔۔۔۔۔۔ارے بھائی کسی کے پنکھے آپ بھی تپ گئے۔میرے چولہے کی آنچ بھی شروع میں بڑی تیز تھی۔پھر میں نے چولہا بند کرکے ٹھنڈی ٹھنڈی کھانا شروع کی۔اب سکون سے ہوں۔اردو سیارہ والے اردو کی فروغ کیلئے تھوڑی کام کر رہے ہیں۔وہ ہمارے معاشرے کی نمائیندگی کر رھے ہیں۔ان کے قوائد وضوابط پڑھو اور اس میں شامل بلاگ پڑھو اور سر دھنو!! اب آپ معاشرے کی نمائیندگی سمجھو یا کمی۔۔۔۔۔۔۔گی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ آپ پر منحصر ھے۔
ReplyDeleteاپنی بات ڈرے بغیر کہہ دیا کریں۔اردو بلاگ پر لکھنا اور تبصرہ کرنا انجوئے کیا کریں۔
زبردست !
ReplyDeleteاب یہ سنگ تذلیل دیکھیے کون کب عبور کرتا ہے۔
یار کچھ اس پر بھی فرمایا ہوتا کہ کچھ مخصوص ٹاپ ٹین بلاگر ایک دوسرے کے ہی بلاگ پر تبصرہ کرتے رہتے ہیں اور ہم جیسے درجہ چہارم کے بلاگروں کو گھاس ہی نہیں ڈالتے
ReplyDeleteورنہ دل تو کرتا ہے کہ ۔ ۔ ۔
کيا خوب پوائنٹ بنائے ہيں ميرا ہنس ہنس کر اچھا حال ہو رہا ہے برا ہو ميرے دشمنوں کا
ReplyDeleteٹاپ ٹین کے نام بیان کیے جائیں تاکہ ان کے خلاف موثر کاروائی عمل میں لائی جائے!
ReplyDeleteحضور نکتہ نمبر 14 پر عمل کر دیا گیا ہے۔ باقی نکات پر اگلے مہینے کی 32 تاریخ کو مجلس قانون ساز بلاگران میں باقاعدہ بحث کی جائے گی۔
ReplyDeleteیہ ڈفرستان سے علیحدگی کیوں بھئی۔۔! اور تھیم پہ بھی پابندی لگائی جا رہی ہے۔۔۔!!
ReplyDeleteیہ کس کی "نہرو رپورٹ" کا جواب دیا ہے۔۔۔۔؟
ان چودہ میں سے ساڑھے گیارہ پونے بارہ پہ تو پہلے سے ہی عمل ہو رہا ہے۔ بس ڈھائی پونے تین رہتے ہیں ان پہ عمل ہونے میں دیر تو نظر نہیں آتی، لیکن کل ملا کر سوا ایک نکات ایسے ہیں کہ ان پر کبھی عمل ہونا ناممکن ہے۔
ReplyDeleteہر نکتے پر اتفاق رائے کے لئے الگ الگ آل بلاگستان گول میز کانفرنس بلائی جائے اور شدید اختلاف رکھنے والوں کے منہ پر پٹی اور ہاتھوں پہ رسی باندھ کر شرکت کی شرط عائد کی جائے۔
یار یہ جاوید چوہدری کے سرقے کی بات بالکل غلط ہے
ReplyDeleteوہ لگاتا ہے میرے سٹائل کا چھاپہ۔۔۔
دوپہر گرم تھی۔ سورج سوا نیزے پر تھا۔ میرے دفتر کا دروازہ کھلا اور ایک نوجوان عینک پہنے، پسینے سے شرابور، بوسیدہ لباس میں ملبوس، دفتر میں اجازت لئے بغیر گھس آیا۔ اس نے مجھے دیکھا، ناک میں انگلی گھمائی اور کرسی پر بیٹھ کر مجھ سے تخم لنگاہ کا شربت منگانے کو کہا۔۔۔۔
بس کہ ہور۔۔۔
جاپانی : آپ کے چولہے کی آنچ تو اب تیز ہوئی ہے۔ بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ چولہا ہی پھٹنے کو ہے۔
ReplyDeleteآپ کا بلاگ اب تک اردو سیارہ پر نمودار کیوں نہیں ہوا؟
طلحہ : سنگ میل عبور کرنے والے بہت ہیں۔ البتہ سنگ تذلیل کا معلوم نہیں۔
شازل : ٹاپ ٹینوںکو اپنی لڑائیوں سے فرصت ہو تو تب نا۔
پھپے کٹنی : آپ کے دشمنوں کا کام تو کب کا صاف ہو چکا۔
Saad: نکتے پر عمل کا شکریہ۔ اب اجلاس کی صدارت بھی آپ ہی سنبھالیے۔
عین لام میم : یہاں تو ہر طرف رپورٹیں ہی رپورٹیں ہیں۔ باقی ڈفر ہر کسی کو کہاں ہضم ہوتا ہے۔ بڑی سخت چیز ہے وہ۔
ڈفر : کونسے پوائنٹس ہیں جن پر عمل ہونا باقی ہے یا نہیں ہوسکتا۔ مفصل رپورٹ لکھو۔
جعفر : سر جی ۔ ہم نے بھی جاوید چودھری کے لتے لینے تھے۔ لیکن آپ نے تو ہمارے لیے دروازہ ہی بند کر دیا۔ اب میں نے کچھ دوسرے کالم کاروں پر نظر رکھی ہے۔ میرا حصہ نہ لے اُڑیے گا۔
آپ آصف زورداری کے مقابلے پر سياسی جماعت بنا رہے ہيں کيا ؟
ReplyDeleteزورداری کا مقابلہ کرنا آسان کام نہيں ہے ۔ سکاٹ لينڈ يارڈ سے رابطہ کر کے اپنی جان کی حفاظت کا بندوبست کر ليجئے
واہ بھئی زبردست نکات لکھے ہیں، ویسے یہ ایک تہائی ایوارڈوں والی بات خوب کہی، میں ان نکات کی پرزور حمایت کرتا ہوں :mrgreen:
ReplyDeleteپہلے تو یہ بتائیں آپ کو بلاگر اعظم کا عہدہ کس نے دیا :P
ReplyDeleteبہت خوب
ReplyDeleteWelcome to Bloger Azzam Sahib and his 14 Points
ReplyDeleteافتخار اجمل صاحب : زرداری کے مقابلے میں لٹیروں کا گروہ ہی مقابلہ کرسکتا ہے۔ سیاسی پارٹی میںاتنا دم کہاں؟
ReplyDeleteوقار اعظم : بلاگ پر خوش آمدید!!
حجاب : کم از کم آپ تو میری حمایت میں ووٹ دیں۔
کاشف نصیر : خوش آمدید اور تحریر کی پسندیدگی کا شکریہ!
آپ کو بلاگ لسٹ میں ایڈ کر کے ثبوت دیا ہے میں نے کہ میرا ووٹ آپ کا :smile:
ReplyDeleteعثمان صاحب آپ کے لنک کا بہت بہت شکریہ، میں نے اس ایچ ٹی ایم ایل اسکریپٹ پر کام شروع کردیا ہے۔ ابتدائی طور پر میرے پانچ تازہ مضامین جمیل نوری نستعلق پر پڑھے جاسکتے ہیں۔ امید ہے آئندہ آپ کو ہمارے بلاگ پڑھنے میں کوئی دقت نہیں ہوگی۔
ReplyDeleteآپ کے بلاگ پر تحریر اب اچھی نظر آرہی ہے۔ ویسے شکریہ تو آپ جہانزیب اشرف صاحب کا ادا کریں جن کا وہ بلاگ اور ہدایات تھیں۔
ReplyDeleteکیا زمانہ یاد کروا دیا آپ نے۔ امتحانات میں جب بھی میں کوئی ایک نکتہ بھول جاتا تھا تو کوئی ایک یا دو نکتے دہرا دیتا تھا۔ میں اگر قائداعظم ہوتا تو پاکستان کو کتنا نقصان اٹھانا پڑتا۔ بچ گئے نا آپ سب لوگ؟ :)
ReplyDelete