16 July 2010

پردہ اور مغرب

مغربی ممالک کے بہت سے لوگ یہ چاہتے ہیں کہ تارکین وطن ان کے ملک آئیں تو سہی. لیکن اپنی تہذیب بڑی حد تک پس پشت ڈال کر آئیں. نئے دیس کے نئے اور مقامی رنگ اپنائیں. تارکین وطن کی اگلی نسلوں کی ایک بڑی تعداد تو ان توقعات کو خاطر خواہ پورا کر لیتی ہے. لیکن پہلی نسل کے لئے فطری طور پر یہ ہرگز ممکن نہیں. پہلی نسل مقامی زبان پر سو فیصد عبور نہیں حاصل کر سکتی. مقامی لہجہ نہیں اپنا سکتی. ان کی تہذیب اور روایات میں پوری طرح غرق نہیں ہوسکتی. تارکین وطن کی پہلی نسل مقامی تہذیب سے میل تو رکھ سکتی ہے لیکن انضمام نہیں کرسکتی. لہذا ان تفرقات سے رابطے کا ایک فقدان جنم لیتا ہے. جو ایسی دوریاں پیدا کردیتا ہے کہ جس سے مقامی آبادی اور تارکین وطن نفسیاتی طور پر ایک دوسرے کے مسائل، طرز زندگی اور جملہ تہذیب کو سمجھنے اور تسلیم کرنے سے عاری ہو جاتے ہیں. مقامی آبادی میں تارکین وطن اور خارجی تہذیب سے بیزاری بڑھتی چلی جاتی ہے. ادھر تارکین وطن اپنے آپ کو بڑی حد تک اپنی کمیونٹی میں محدود کرتے چلے جاتے ہیں. یہ عمل اگر ایک مدت تک جاری رہے تو تارکین وطن کا ایک مرئی یا غیر مرئی گیٹو وجود میں آجاتا ہے. جس میں تارکین وطن اپنے آپ میں محدود اور مقامی آبادی سے غیرمرئی طور پر کٹ کے رہ جاتے ہیں.
مغرب میں پردے کا مسئلہ بڑی حد تک اسی بیزاری تہذیب سے منسلک ہے. خوف ایک بیرونی اور انجانی تہذیب کا جو کسی حد تک ان کے معاشرے کے ظاہری خدوخال بدل سکتی ہے. وہی خوف جو ہمارے ہاں روایت پسند عناصر میں پایا جاتا ہے. کہ مغرب سے آنے والا تبدیلی کا ریلا ان کی تہذیب کو زک پہنچا رہا ہے. ہمارے ہاں بہت سے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ مغرب بس صرف اور صرف دین اسلام سے متنفر ہے. اور اسلام سے خفگی ہی ان کی ان حرکات کا موجب ہے. حالانکہ بات اتنی سیدھی نہیں. درست کہ مغرب کے کچھ لوگ مذہب سے خائف ہیں. لیکن بڑی اکثریت ان لوگوں کی ہے جو بس غیر تہذیب سے خائف ہیں. یہ غیر تہذیب چاہے کوئی ہو. افریقی ، اسلامی، چینی ، یا لاطینی. استدلال ان کا بس یہ ہے کہ جیسا دیس ویسا بھیس. روم میں رہنا ہے تو رومیوں کی طرح رہو. نہیں تو گھر جاؤ. پردہ چونکہ اسلامی تہذیب کو دوسری تہذیبوں سے ممتاز کرتا ہے اس لئے تہذیب بیزار لوگوں کا سب سے بڑا نشانہ ہے. یہاں حقوق نسواں کارفرما ہے نہ ہی بنیادی اسلامی عقائد سے خفگی. مغرب کے بہت سے عام شہری تو اسلام کے بنیادی اصولوں تک سے واقف نہیں. تو محض عقائد سے نفرت کہاں سے آگئی؟
اگر بات ہے حقوق نسواں کی تو پردے پر پابندی کے موجودہ قوانین حقوق نسواں کی اصل روح کے بالکل خلاف ہیں. اس معاملے میں حق انفرادی طور پر صرف عورت کا ہے. وہی فیصلہ کرے گی کہ وہ کیا پہنے اور کیا نہ پہنے. نہ معاشرہ قدغن لگا سکتا ہے ، نہ حکومت اور نہ ہی کوئی دوسرا فرد. مغرب میں حقوق نسواں کا حمایتی ایک مختصر طبقہ اس بات کو بخوبی سمجھتا ہے. لیکن چونکہ مغرب میں مذہب اور بنیادی انسانی و شہری حقوق کا ٹکراؤ اور تناؤ بہت پرانا ہے اس لئے وہ لوگ جو اس مسئلے کو مذہب سے الگ کر کے محض ایک بنیادی انسانی حق کے طور پر دیکھنا چاہتے ہیں۔۔۔انھیں بھی مشکلات اور غلط فہمی کا سامنا رہتا ہے۔ ایک الزام ان پر پردہ مخالف قوتوں کی طرف سے آتا ہے جو انھیں اسلام کی طرف جھکاؤ کا طعنہ دیتے ہیں۔ دوسرے خود ان کا تارک وطن آبادی سے رابطے کا فقدان غلط فہمی پیدا کرتا ہے۔ غلط فہمی یہ فرق کرنے میں کہ یہ کس حد تک بیرونی تہذیب کے بندھنوں میں بندھی عورت پر جبر کا مسئلہ ہے اور کس حد تک عورت کے بحثیت ایک فرد اسکے ذاتی فیصلے اور خواہش کا۔ ادھر دوسری طرف کچھ تہذیب بیزار مقامی لوگ ہر ایسے قانون کے لئے رائے سازی کرتے ہیں کہ جس سے خارجی تہذیب اپنے ذیادہ سے ذیادہ بنیادی عناصر کھودے۔ مسلمانوں کے سلسلے میں ان کی یہ تان سب سے پہلے پردے کے مسئلے سے شروع ہوتی ہے۔ مقامی آبادی کاایک حصہ۔۔۔ جو براہ راست اس معاملے میں ابتدائی طور پر کوئی رائے نہیں رکھتا۔۔۔مسلمانوں سے رابطے کے فقدان اور بلآخر پروپگینڈے کا شکار ہوکر تہذیب بیزاروں کے ساتھ جا کھڑا ہوتا ہے۔حالانکہ ان میں کئی لوگ ایسے ہوتے ہی کہ جنکا مدعا صرف اتنا ہوتا ہے کہ تارکین وطن مقامی آبادی سے ذیادہ سے ذیادہ انضمام کریں۔ لیکن پروپیگنڈا ان کے یہ مثبت جذبات سلب کر لیتا ہے۔
مسلمانوں کا اگر اس معاملے میں مشاہدہ کریں تو آپ دیکھیں گے کہ مسلمانوں کی ایک بڑی آبادی عملی طور پر ایسے طرز لباس پر کاربند ہے۔۔۔جو مغربی طرز لباس سے ذیادہ متصادم نہیں۔ بہت سی عورتیں کاندھوں سے ٹخنوں تک ہی ڈھانپنے پر اکتفا کرتی ہیں۔ جو کہ ہر جگہ قابل قبول ہے اور کہیں بھی اچنبھے کا باعث نہی بنتا۔ کم و بیش اتنی ہی تعداد سر پر سکارف یا حجاب لیتی ہے۔ بڑے شہروں میں رہتے ہوئے عام زندگی میں ہروقت تو کوئی بڑا مسئلہ درپیش نہیں آتا۔ لیکن یہ مسلمان عورتوں کو مغربی سماج میں بڑی حد تک نمایاں اور ایک حد تک الگ تھلگ کرنے کا موجب ضرور بنتا ہے۔ اور اگر آپ کسی ایسے علاقے میں رہائش پذیر ہوں جہاں تارکین وطن کی تعداد قلیل ہے تو وہاں مسائل اور بھی بڑھ جاتے ہیں۔ میری رائے میں اگر مسلمان ایک ایسے معاشرے میں رہ رہے ہیں کہ جس کی معاشرتی اقدار مسلمانوں کی آبائی معاشرتی اقدار سے کچھ مختلف ہیں تو اس معاملے میں کسی حد تک لین دین کرنے میں کوئی حرج نہیں۔ مثال کے طور پر برقعہ اور چہرے کے نقاب پر اصرار بالکل غیر ضروری ہے۔ سر پر لیے حجاب اور مناسب لباس زیب تن کرکے پردے کا اہتمام بخوبی کیا جاسکتا ہے۔ لیکن حال یہ ہے کہ کچھ خواتین و حضرات کالے برقعے اور چہرے پر ڈالے جانے والے نقاب پر ہی اصرار کرتے ہیں۔ اور وہ اسی لباس سمیت مغربی سماج کے ہر شعبہ میں شامل ہونا چاہتے ہیں جو بہرحال عملی طور پر ممکن نہیں۔ اسی طرح کچھ ایسے شعبہ جات کہ جن میں سر پر حجاب لینا بھی ممکن نہیں مثلاً پولیس وغیرہ۔۔۔۔تو وہاں بھی مسلمانوں کو محض اس لئے ہاتھ نہیں روک لینا چاہیے کہ پردہ کے تقاضے ان کے معیار کے مطابق پورے نہیں ہورہے۔ ان شعبہ جات سے پیچھے ہٹنے میں نقصان اور کسی کا نہیں صرف مسلمانوں کا ہے۔
ایک انتہائی اہم بات ذہن میں رکھیں کہ اسلام ایک دین ہے اور مغرب ایک تہذیب۔ دین اور تہذیب مکمل طور پر ایک دوسرے کے مترادف یا نعم البدل نہیں۔ دین مقامی تہذیب میں ایک نیا رنگ ضرور لے کر آتا ہے۔۔۔کچھ پرانے عناصر کو ہٹا کر نئے ضرور شامل کرتا ہے۔ لیکن کلی طور پر کسی بھی تہذیب کو تلپٹ کرنے پر اصرار نہیں کرتا۔ جس طرح ایک عرب اسلامی معاشرہ ہے ، ایک پاکستانی اسلامی معاشرہ ہے۔۔، ایک افریقی اسلامی معاشرہ ہے۔۔۔اسی طرح ایک مغربی اسلامی معاشرہ بھی ممکن ہے۔ بلکہ یہ ایک حد تک اپنا وجود رکھتا ہے تاہم اتنا نمایاں نہیں۔ دین اسلام دنیا کی تمام تہذیبوں کے لئے ہے۔ اسلامی معاشرے میں دنیا کی تمام تہذیبوں میں سرایت کر جانے کی صلاحیت ہے۔ دین مقام کا محتاج نہیں۔ وہ مسلمان تارکین وطن جو اپنے آبائی اسلامی ممالک چھوڑ کر آتے ہیں ان کے لئے بہتر یہی ہے کہ پچھلی تہذیب پیچھے چھوڑنے کی کوشش کریں۔ مغربی معاشرے پر ، پاکستانی یا عرب اسلامی معاشرہ تھوپنے کی ضرورت نہیں۔ مغربی معاشرے سے ہی اسلامی معاشرے کے لئے راہ اور گنجائش نکالیں۔

35 comments:

  1. تبصرہ کرتے کرتے تین دفعہ
    Error establishing database connection
    کا ایرر آیا ہے

    ReplyDelete
  2. یار اتنی سیریس اور طویل پوسٹوں کو پڑھتے پڑھتے تو میرا وہ حال ہوتا ہے جو 3 پراٹھے اور 2 جگ لسی پینے کے بعد ہوتا ہے. :D

    ReplyDelete
  3. عثمانJuly 16, 2010

    میں ایڈمن میں تھوڑی چھیڑ چھاڑ کر رہا تھا. شائد اس وجہ سے ہوگا.
    اللہ کرے یہ ہوسٹنگ سٹیبل ہو. دوسرں نے یقین تو دلایا ہے.

    اور پوسٹ دی اینی بستی.......نہیںںںںں.....

    ReplyDelete
  4. ہوں۔۔۔بہت خوب۔۔۔۔۔لیکن اسلامی تہذیب والوں کا کیا کریں کہ اپنی تہذیب اور سوچ کو اسلام جتانے پر تلے ھوتے ہیں۔
    ٹخنوں سے اوپر شلوار رکھنا مذھب ھے۔شلوار قمیض دینی لباس ھے۔اگر بندہ کہہ دے کہ ثابت کریں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی اذار بند والا لباس پہنا تو غصہ کر جائیں گے۔جب تک دین کا مطالعہ نہیں کیا جائے گا۔اس وقت تک دوسروں کیلئے دین فطرت کی غلط تشہیر کا باعث بنے گا۔

    ReplyDelete
  5. مغربی اسلامی معاشرہ اسی صورت میں ممکن ہے جب اس پر اتفاق رائے ہو سکے . نہ اتفاق رائے ہو گا نہ اس قسم کا معاشرہ وجود میں آ سکے گا

    ReplyDelete
  6. عثمان - آپ نے بہت ہی اہم سماجی مسئلے پر قلم اٹھا یا ھے -میرے خیال میں تارکین کی نئی نسل کو کافی پریشانی -ہورہی ہوگی دومعا شروں کے درمیان میں وہ سینڈوچ بن رہی ہوگی  گھر کا ماحول الگ باہر کا ماحول الگ - ہیگل اورمارکس کی جدلیات کا قانون کہتا ہے کہ دونوں معا شروں کی نئی نسل نئے معاشرہ کو جنم دیں گی -نئے معاشرہ کو جنم دینے میں تکلیفیں اُٹھا نی پڑتی ہیں -اللہ تعلیٰ رحم فرمائے آمین

    ReplyDelete
  7. عثمان - آپ نے بہت ہی اہم سماجی مسئلے پر قلم اٹھا یا ھے -میرے خیال میں تارکین کی نئی نسل کو کافی پریشانی -ہورہی ہوگی دومعا شروں کے درمیان میں وہ سینڈوچ بن رہی ہوگی  گھر کا ماحول الگ باہر کا ماحول الگ - ہیگل اورمارکس کی جدلیات کا قانون کہتا ہے کہ دونوں معا شروں کی نئی نسل نئے معاشرہ کو جنم دیں گی -نئے معاشرہ کو جنم دینے میں تکلیفیں اُٹھا نی پڑتی ہیں -اللہ تعلیٰ رحم فرمائے آمین

    ReplyDelete
  8. طالوتJuly 17, 2010

    درست تجزیہ ہے عثمان ۔ ایک معاشرے میں ایک ساتھ رہنے والے مختلف الخیال لوگوں کو سمجھنا چاہیے کہ بے کار اور بے جا باتوں پر اصرار فتنہ کا سبب بنتا ہے ۔اور اگر آپ اقلیت میں ہوں تو نقصان بھی سب سے زیادہ آپ ہی کا ہوتا ہے ۔ دراصل ہم لوگوں کو اپنی معاشرت کو اسلامی معاشرت قرار دینے گریز کرنا چاہیے ۔ اسلام بنیادی اصول فراہم کرتا ہے اور میرے کم علم و تجربے کے مطابق اسلامی بنیادی اصول کسی بھی معاشرے سے متصادم نہیں ہوتے ۔
    اب آپ نے جو اسلامی پاکستانی معاشرہ یا عرب اسلامی معاشرہ وغیرہ کی بات کی ہے بجا طور پر درست ہے ۔ مگر ہمیہ بات سمجھنے کو تیار ہی نہیں ۔
    وسلام

    ReplyDelete
  9. طالوتJuly 17, 2010

    وضاحت کر دوں کہ جس پاکستانی اسلامی معاشرے کی تائید کر رہا ہوں اور اوپری جملے میں مخالفت اس سے میری مراد اپنے اسلامی معاشرے کو بنیادی اسلامی معاشرہ سمجھنا ہے ۔
    وسلام

    ReplyDelete
  10. میرا نہیں خیال کہ مسلمان اپنے فرائض کی ادائیگی میں دنیا کے کسی خطے یا کسی دوسری تہذیب کا محتاج ہوسکتا ہے. مثلاً یہ کہ مغربی معاشرے میں اگر نماز و روزہ کا کونسیپٹ سرے سے موجود نہیں یا اقلیت کی موجودگی میں معدوم پڑ گیا تو بھی ایسے فرائض کو چھوڑنا مناسب نہیں.

    ہاں! جہاں تک بات ہے دیگر مسنون اعمال کی تو میں 'گنجائش' کا قائل ہوں. البتہ اسلام چونکہ دین ہے، اس لیے اس کے احکامات پر کسی قسم کا لین دین یا تہذیب کی فوقیت کو میں درست نہیں مانتا.

    ReplyDelete
  11. بہت فکر انگیز تحریر ہے.

    ReplyDelete
  12. عثمانJuly 17, 2010

    یاسر : لوگ چھوٹی چیزوں میں اسلام ڈھونڈنے کی کوشش کرتے ہیں. تبہی چھوٹے معاملات میں الجھ کر رہ جاتے ہیں.

    محمد ریاض شاہد : اتفاق رائے تو ان باتوں میں کبھی پیدا نہی ہو سکتا. ہاں زمانے کا جبر قوم کو کسی نہ کسی طرف ڈال ہی دیتا ہے. اور پھر تہذیب تو ازخود پھیلتی پھولتی ہے.

    md: تارکین وطن کی پہلی نسل ہمیشہ سب سے ذیادہ تکلیف اٹھاتی ہے. اگلی نسلین تو پھر آہستہ آہستہ سنبھل جاتی ہیں.

    طالوت : تائید کا شکریہ. اور بلاگ پر خوش آمدید!!

    محمد اسد : مسلمان دنیا کے کسی نا کسی تہذیب سے ہی تعلق رکھتے ہیں. دین اس تہذیب میں کسی قدر مثبت تبدیلی پید کرتا ہے.

    Sumara: شکریہ اور بلاگ پر خوش آمدید!

    ReplyDelete
  13. السلام علیکم ورحمۃ وبرکاتہ،
    بھائي عثمان،بہت فکرانگیزمضمون لکھاہے۔بات وہی ہےکہ اسلام توایسامذہب ہےجوکہ انسان کی فطرت کےعین مطابق ہے۔عورت کی اہم ضرورت پردہ بھی ہے۔دراصل یہ تصادم کی شکل اسی وقت پیداہوتی ہےجب اس کوانتہائی شدت سےنافذکرنےکی کوشش کرتاہے۔ہرچیزکاایک وقت ہوتاہےجب آپ معاشرےکےساتھ تصادم کریں گےتووہ آپ کےساتھ ایسےہی جذبات رکھےگا۔ آپ جوبھی کام کریں اس کوٹھنڈےمزاج سےکریں۔اورآہستہ آہستہ اس کونافذکرنےکی کوشش کریں تومیرےخیال کےمطابق کوئي بھی مشکل نہیں دراصل مغرب نےپردہ کوایک اسلام کاایک ماٹوبنالیاہے۔اگرمجبوری میں کچھ دیراس کومعطل کرکےلوگوں کوسمجھایاجائےتوامیدہےکہ یہ معاملہ حل ہوسکتاہے۔ باقی اللہ تعالی ہم کودین کوصحیح طورپرسمجھنےکی ہمت و حوصلہ دے۔ آمین ثم آمین

    والسلام
    جاویداقبال

    ReplyDelete
  14. اوہ خدایا یہ کیسی پوسٹ ہے۔ کیا خشک ڈائجسٹ کے لیے لکھی ہے؟ ڈفر کی ہمت ہے پڑھ لی میرے سے پوسٹ تو کیا تبصرے بھی پورے نہیں پڑھے گئے، پر پوسٹ کو میں نے محفوظ کر لیا ہے جس دن نیند نہیں آ رہی ہو گی اس دن پڑھونگا انشاللہ بیچ پوسٹ کے نیند آ جائے گی۔

    ReplyDelete
  15. اس میں کوئی شک نہیں کہ خود اسلام میں چہرے کے پردے کی فرضیت اور عدم فرضیت پر اختلاف ہے لیکن پچھلے چودا سو سالوں سے مسلمان علماء کی ایک عظیم اکثریت چہرے کے پردے کو لازمی سمجھتی ہے. کچھ دیگر علماء جیسے ڈاکڑ زاکر نائیک وغیرا چہرے کے پردے کو فرض نہیں سمجھتے التبہ سب ہی علماء کا اتفاق ہے کہ زیادہ پردا زیادہ تقوا کی علامت، خود امی عائشہ رضی اللہ کے بارے میں اتفاق ہے کہ وہ سر تا پا حجاب کیا کرتی تھیں. اب ایسی صورت میں مغرب کو مسلمانوں کے جزبات کا احترام کرنا پڑے گا اور اگر مسلمان عورت خود چہرے کا نقاب کرنا چاہے تو اسے مجبور کرنا بھی انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے زمہ میں آئے گا. اگر وہ افغانستان، ایران اور سعودیہ میں یہ کہتے ہیں کہ لباس لوگوں کا زاتی معاملہ ہے تو انہیں اپنے یہاں بھی اس ہی اصول پر کاربند ہونا پڑے گا. لیکن مغرب کا کوئی اصول نہیں وہ اسلام سے خوفزدہ ہے، سیاسی اور تہزیبی اسلام سے جو تیزی سے پہیل رہا ہے.

    ReplyDelete
  16. بھائی بات سیدھی سی ہے لمبی بحث کی ضرورت نہیں۔ ملک عیسائیوں کے، وہ جیسا مرضی قانون بنائیں! اگر آپ اسلامی قانون ہی چاہتے ہیں تو کسی اسلامی ملک میں تشریف لے آئیے!

    ReplyDelete
  17. آپ نے اپنی تحرير ميں سير حاصل بحث کی ہے مگر اس بات يا عمل کا کيا جواز ہے کہ عيسائی ننز تو پورا پردہ کريں اور مسلمان عورت کے خلاف قانون بنايا جائے ؟ سکھوں کی پگڑی تلاشی کيلئے کھولنے کی اجازت نہ ہو اور يہودی ربی لمبی داڑھياں رکھيں مگر مسلمان داڑھی والے کو دہشتگرد يا انتہاء پسند کہا جائے
    ايسا صرف غيرمسلم نہيں کرتے بلکہ ہمارے ہموطن جو سينے پر ہاتھ مار کر اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہيں وہ بھی يہی کہتے ہيں مگر قرآن شريف کو سمجھنا ان کے خيال ميں ضروری نہيں ہے
    کسی بھی معاشرے کا کبھی مسئلہ اس ميں پائے جانے والے عقائدات کا نہيں رہا سوائے موجودہ دور کے جب باعمل مسلمان کو انتہاء پسند کہا جاتا ہے اور بے عمل مسلمان کو روشن خيال اور محبت والا۔ اگر معاشرتی ہم آہنگی ہی کو بنياد بنانا ہے تو امريکا اور اس کے غير مسلم اتحاديوں نے عراق اور افغانستان کو کيوں تباہ کيا اور ان دونوں ممالک پر کيوں قبضہ کر رکھا ہے ؟ کيا يہ محبت اور ہم آہنگی پھيلائی جا رہی ہے ۔ اسی طرح انہی کا ناجائز بچہ اسرائيل پچھلے 62 سال سے جو کچھ کر رہا ہے يہ معاشرتی ہم آہنگی ہے يا محبت
    کيا اصول اور قانون صرف مسلمانوں کيلئے ہيں ؟

    ReplyDelete
  18. عثمانJuly 19, 2010

    آپ کے بیان کئے گئے نقاط بھی اپنی جگہ درست ہیں۔ جہاں تک ننز کی بات ہے تو اس میں یقنناً ان کی منافقت کارفرما ہے۔ لیکن اگر مزید وجوہات تلاش کی جائیں تو دو باتیں غور کرنے کی ہیں۔ ایک تو یہ کہ ننز مکمل طور پر ان کی مغربی تہذیب کا مقامی کردار ہے۔ باہر سے درآمد شدہ نہیں ہے۔ دوسرا یہ کہ ننز بہرحال ایک محدود زندگی گذارتی ہیں جو بڑی حد تک چرچ تک ہی محدود رہتی ہے۔ شائد یہی وجہ ہے کہ انھیں کسی قسم کی مخالفت کا سامنا نہیں کرنا پڑتا۔
    بہرحال جو مسلمان تارکین وطن مغرب میں مقیم ہیں انھیں کچھ نہ کچھ مصلحت سے کام تو لینا پڑے گا۔

    ReplyDelete
  19. اچھا موضوع اٹھایا عثمان.
    مصلحت اور گنجائش سے کام لینے والی آپکی بات درست ہے لیکن مغرب کے منافقانہ رویوں سے بھی انحراف نہیں.... جو ڈھول وہ خود پیٹتے ہیں اسی کی آواز نہیں سن پاتے.....

    ReplyDelete
  20. السلامُ علیکم عثمان بھائی
    آپ نے ایک بہت ہی اہم سماجی مسلے کو بہت خوبصورتی کے ساتھ بیان کیا ہے.
    اللہ کرے زور قلم اور زیادہ

    والسلام
    شکریہ

    ReplyDelete
  21. کونسی ہوسٹنگ استعمالنگ؟

    ReplyDelete
  22. بھائی بات سیدھی سی ہے لمبی بحث کی ضرورت نہیں۔ ملک عیسائیوں کے، وہ جیسا مرضی قانون بنائیں! اگر آپ اسلامی قانون ہی چاہتے ہیں تو کسی اسلامی ملک میں تشریف لے آئیے!
    اسلام علیکم، میں سعد کے اس مختصر تبصرے سے متفق ہوں، وہ پاوں تھوڑی پکڑتے ہیں ہمارے کے ہمارے ملک میں آو، ھم خود بہتر سے بہتر مستقبل کے لیئے جاتے ہیں انکی غلامی کرنے، مشہور محاورہ ھے کے، غلام اپنے آقا کے دماغ سے سوچتا ھے، بھائی غلامی بھی کبھی شرطوں پھ ھوتئ ھے کیا؟ افغانستان ھے افغانستان نہیں پسند تو وزیرستان چلے جاو، اپنے ملک میں ایک دین پر متفق ہو نہیں سکے آج تک کچھ دن رہ گئیے رمضان کے چاند پر ہی دیکھ لیجئیے گا اس قوم کی یکجہتی، پہلے خود تو کسی بات پھ متفق ہوجاو پھر بات کرنا انہیں کسی معاملے پر خود سے متتفق کرنے کی، احسان مانو انکا کے وہ تمہیں شہریت بھی دیتے ہیں شادی کرنے کی اجازت بھی دیتے ہیں تنہا کاروبار کرنے کی آذادی بھی دیتے ہیں زمین کی خرید فروخت اور جائیداد بنانے کی بھی مکمل اجازت دیتے ہیں، اس میں سے کوئی ایک بھی سہولت ذرا کوئی سعودیھ عرب سے لے کر تو دیکھائے پھر مانوں میں اسے۔ وہ منھ نہیں لگاتے ہمیں غلام ابن غلام سمجتے ہیں اچھوتوں جیسا سلوک کرتے ہیں وہ ہمارے ساتھ مگر ان کے اس رویئے کے خلاف کوئی آواز نہیں اٹھاتا، اور جو عزت بھی دے رہا ھے دولت بھی دے رہا ھے شہرت بھی دے رہا ھے مقام بھی دے رہا ھے اپنے ہم مذہب شہری جیسے تمام حقوق بھی دے رہا ھے، زمین گھر جائیداد شادی بیاہ ہر طرح کی آذادی دے رہا ھے اس پر ہی غراتے بھی ہیں ہم، یھ کیسی منافقت ھے ؟

    ReplyDelete
  23. بھائی بات سیدھی سی ہے لمبی بحث کی ضرورت نہیں۔ ملک عیسائیوں کے، وہ جیسا مرضی قانون بنائیں! اگر آپ اسلامی قانون ہی چاہتے ہیں تو کسی اسلامی ملک میں تشریف لے آئیے!
    اسلام علیکم، میں سعد کے اس مختصر تبصرے سے متفق ہوں، وہ پاوں تھوڑی پکڑتے ہیں ہمارے کے ہمارے ملک میں آو، ھم خود بہتر سے بہتر مستقبل کے لیئے جاتے ہیں انکی غلامی کرنے، مشہور محاورہ ھے کے، غلام اپنے آقا کے دماغ سے سوچتا ھے، بھائی غلامی بھی کبھی شرطوں پھ ھوتئ ھے کیا؟ افغانستان ھے افغانستان نہیں پسند تو وزیرستان چلے جاو، اپنے ملک میں ایک دین پر متفق ہو نہیں سکے آج تک کچھ دن رہ گئیے رمضان کے چاند پر ہی دیکھ لیجئیے گا اس قوم کی یکجہتی، پہلے خود تو کسی بات پھ متفق ہوجاو پھر بات کرنا انہیں کسی معاملے پر خود سے متتفق کرنے کی، احسان مانو انکا کے وہ تمہیں شہریت بھی دیتے ہیں شادی کرنے کی اجازت بھی دیتے ہیں تنہا کاروبار کرنے کی آذادی بھی دیتے ہیں زمین کی خرید فروخت اور جائیداد بنانے کی بھی مکمل اجازت دیتے ہیں، اس میں سے کوئی ایک بھی سہولت ذرا کوئی سعودیھ عرب سے لے کر تو دیکھائے پھر مانوں میں اسے۔ وہ منھ نہیں لگاتے ہمیں غلام ابن غلام سمجتے ہیں اچھوتوں جیسا سلوک کرتے ہیں وہ ہمارے ساتھ مگر ان کے اس رویئے کے خلاف کوئی آواز نہیں اٹھاتا، اور جو عزت بھی دے رہا ھے دولت بھی دے رہا ھے شہرت بھی دے رہا ھے مقام بھی دے رہا ھے اپنے ہم مذہب شہری جیسے تمام حقوق بھی دے رہا ھے، زمین گھر جائیداد شادی بیاہ ہر طرح کی آذادی دے رہا ھے اس پر ہی غراتے بھی ہیں ہم، یھ کیسی منافقت ہے؟

    ReplyDelete
  24. عثمانJuly 21, 2010

    http://www.byethost.com/

    ReplyDelete
  25. عثمانJuly 21, 2010

    بھائی گیلی دھوپ ، فکر پاکستان..

    آپ کی جھنجھلاہٹ اپنی جگہ معقول ہے. اور سعودی عرب وغیرہ والی دلیل سے بھی میں متفق ہوں. لیکن شائد آپ نے میری تحریر غور سے نہیں پڑھی. میں مغربی تہذیب کو بدلنے یا اپنی تہذیب ان پر تھوپنے کی بات ہرگز نہیں کر رہا. میں صرف پردے کے تنازع کی وجہ اور یہ کہ مسلمان اس مسئلے سے کسطرح نبٹ سکتے ہیں....بیان کر رہا ہوں.

    ReplyDelete
  26. عثمانJuly 21, 2010

    سعد :
    میں کسی اسلامی قانون کی بات نہیں کررہا. آپ میری تحریر کا آخری پیراگراف غور سے پڑھ لیں.

    ReplyDelete
  27. میرے خیال سے مسلمانوں کو معزرت خواہانہ لہجہ ترک کرنا ہوگا. پردا اور ڈاڑھی متفقہ اسلامی فریضے ہیں اگر مغرب میں انکی مخالفت ہورہی ہے تو مسلمانوں کو اسے اسلام کی ہی مخالفت سمجھنی چاہئے. اس طرح سے اگر ہم جھکتے جائیں گے تو ایک دن ہم اپنا پورا دین انکی سوچ اور خواہشات کے مطابق ڈھالنے پر مجبور ہوجائیں گے، کیا ہم اس وقت کے لئے تیار ہیں. صاحب جب پاکستان، ایران اور سعودیہ عرب جیسے مذہبی ملکوں میں بھی عیسائیوں کو تمام مذہبی حقوق حاصل ہیں اور انکی عبادت اور عقیدے پر کسی طرح کی کوئی پابندی نہیں تو مغرب میں اسطرح کی پابندیاں لگانے کی کیا اخلاق تک ہے. کسی بھی مذہب کی عبادات میں رخنے ڈالنا انسانیت کے خلاف جرم ہے. قصور وار کے خلاف لکھنے کے بجائے خود مسلمانوں کو گنجائش پیدا کرنے کا مشورہ دینا کہاں کی عقل مندی ہے.

    ReplyDelete
  28. عثمانJuly 21, 2010

    یہ معذرت خواہانہ رویہ نہیں ہے بلکہ مصلحت ہے۔ نہ تو برقعہ اسلامی فریضہ ہے ، نہ چہرے کا نقاب اور نہ ہی داڑھی۔ ان جزویات کو ترک کرنا دین ترک کرنے کے مماثل ہرگز نہیں۔ جس ملک میں رہتے ہیں وہاں کے رسم و رواج اور لوگوں کے مزاج کے مطابق حتیٰ المقدور چلنا ہوگا۔ ورنہ مسلمان تارکین وطن کی غیرمسلم ممالک میں رہنے کی کوئی گنجائش نہیں۔
    مسلمانوں کو وہاں گنجائش اس لیے نکالنا ہے کہ مسلمان وہاں چل کر آئے ہیں۔ وہاں کی تہذیب پر اپنی تہذیب تھوپنا ناممکن ہے۔
    پاکستان اور سعودیہ میں تو مسلمانوں کو بنیادی انسانی حقوق حاصل نہیں آپ غیر مسلموں کی بات کررہے ہیں؟ مغرب نے مسلمان تارکین وطن کو کہیں ذیادہ شہری حقوق دیے ہیں بہ نسبت ان مسلمان ممالک کے جو غیر مسلم تو کجا مسلم تارک وطن سمیت اپنی آبادی کو بھی دینے کو تیار نہیں۔

    ReplyDelete
  29. عثمان بھائی آپ سے کس نے کہ دیا کہ مسلمان خواتین پر حجاب فرض نہیں، مسلم علماء کا چودہ سو سال سے اس کی فرضیت پر اجماع ہے، سورہ نور اور سورہ احزاب میں اسکی فرضیت کے واضع ترین احکامات ہیں. کچھ علماء جو اختلاف رکھتے ہیں وہ بھی چہرے کے پردے کی فرضیت پر اختلاف کرتے ہیں بال اور باقی بدن کا حجاب بھی انکے یہاں فرض ہے. دوسری بات یہ کہ ڈاڑھی بھی دین کی جز نہیں چاروں فقہ میں واجب ہے، تو پھر عید کی نماز بھی واجب اسے بھی چھوڑ دیتے ہیں. وتر کی نماز بھی اسے بھی چھوڑ دیتے ہیں، بعض علماء کے نزدیک نماز باجماعت بھی واجب ہے اسے بھی چھوڑ دیتے ہیں

    عثمان بھائی مسئلہ یہ نہیں کہ کیا اسلام میں فرض اور کیا واجب اور کیا سنت ہے یا کیا اہم اور کیا غیر اہم. بات یہ ہے کہ کیا اہل مغرب کو یہ اختیار ہے کہ وہ مسلمانوں کی کسی بھی عقیدے یا عبادت پر پابندی لگاسکتے ہے. چاہے فرض ہو، واجب ہو، سنت ہو یا مستحب.

    بحثیت مسلمان ہم سے کسی کو بھی یہ اختیار نہیں کہ اللہ اور اسکے رسول کے احکامات میں سے جو چاہے مانے اور جو نا چاہیں اسے ترک کردیں. یہ معبودیت کہاں کی ہوئی یہ تو دنیا داری اور نفس پرستی ہوگئی. پھر جب ہمیں یہ اختیار نہیں تو ہم یہ اختیار اہل مغرب کو کیونکر دے دیں.

    تیسری اور اہم بات ڈاڑھی اور حجاب شعائر اسلام میں سے ہے. ان دونوں چیزوں سے مسلمانوں کی شناخت بھی وابستہ ہے. تو کیا ہمیں اپنی شناخت پر سمجھوتہ کرلینا چاہئے. نہیں صاحب نہیں. ڈاڑھی نہ رکھنا اور حجاب نہ کرنا ایک علیحدہ چیز ہے لیکن کسی باشرع کو ڈاڑھی منڈوانے کا مشورہ دینا یا کسی باحجاب خاتون کو بے پردا ہونے کا مشورہ دینا خود کشی کے مترادف ہے.

    ReplyDelete
  30. مسلمان کی اولین ترجیع یہ ہونی چاہئے کہ انہیں اپنے مطابق چلا سکیں نہ کہ خود انکے مطابق چلنے لگیں. اگر ہم اپنے مذہب کو حق اور سچ سمجھتے ہیں تو ہمیں یہ حق اور سچ اہل مغرب کو سمجھانا ہوگا. یہ ہماری ذمہ داری ہے. قرآن کہتا ہے کہ تم بہترین امت ہو کیونکہ تم نکالی گئی ہو لوگوں کو اچھائی کا حکم دینے اور برائی سے روکنے کے لئے.

    ReplyDelete
  31. عثمان بھائی میں نے بھی تو اس ہی مسلے کا حل بتایا ھے، کے وہ پاوں تھوڑی پکڑ رہے ہیں ہمارے کے ہمارے وطن میں آو، اسکا حل یھ ہی ھے کے اچھا مستقبل اچھی تعلیم پیسھ اور مقام چھاہیئے تو انکے رولز کو فالو کرو ورنھ باہر جانے کا اتنا ہی شوق ھے تو افغانستان یا وزیرستان چلے جاو۔

    ReplyDelete
  32. عثمانJuly 22, 2010

    کاشف :
    برقعہ اور چہرے کا نقاب حجاب کی فرضیت میں شامل نہیں. داڑھی بھی فرض نہیں. جس چیز کی دین میں چھوٹ ہے تو مصلحت کے تقاضوں کے تحت چھوڑی جا سکتی ہے. اہل مغرب کو بڑی حد تک اختیار ہے کہ وہ کئی معاملات میں قانون سازی کر سکتے ہیں. اور کر رہے ہیں. یقینا آپ ان قوانین پر ناپسندیدگی کا اظہار کرتے ہوئے تنقید کرسکتے ہیں. لیکن آُپ کسی بھی طریقے سے انھیں روک نہیں سکتے. تو بس مسلمان تارکین کے پاس مصلحت پسندی کے سوا اور کوئی راستہ نہیں بچتا.
    مسلمان کا ایک عقیدہ ہوتا ہے. میں مسلمان کی ایک شناخت کے کسی فلسفے کا قائل نہں. مسلمان اپنی تہذیب کے مطابق ہی رنگ اختیار کرتا ہے. عرب، افریقی، پاکستانی...کسی بھی تہزیب کو اٹھا کر دیکھ لیں. مذہبی اعتقاد تہذیب کے رنگ کو یکسر تبدیل کرنے پر اصرار نہیں کرتا.
    آپ مغرب کو ذیادہ سے ذیادہ تبلیغ کرسکتے ہیں. انھیں اپنے مطابق چلانے پر اصرار نہیں کرسکتے.

    ReplyDelete
  33. عثمان صاحب کیا آپ مفتی ہیں؟ اگر نہیں ہیں اور دین کے صرف ایک طالب علم ہیں تو کس طرح کسی ایسے حکم کی فرضیت اور عدم فرضیت کا فتوا دے رہیں ہیں جن پر پچھلے چودا سو سال سے علمائے کرام کی عظیم اکثریت کا ایک دوسرا موقف رہا ہے.

    عثمان صاحب آپ میرا مسئلہ نہیں سمجھے، بات فرض، واجب اور سنن کی نہیں ہے. میں تو یہ کہ رہا ہوں کہ کیا ہم دین کے کسی حکم کو حالات اور واقعات کی بنا پر موقوف کرسکتے ہیں. کیا شریعت ہمیں اسکی اجازت دیتی ہے کہ ہم اللہ کے دین کو حالات کے تابع کردیں، ناکہ حالات کو اسکے تابع کرنے کی کوشش کریں.

    میرے نذدیق تو دین اسلام ایک پورا پیکیج ہے. یعنی ایک پوری پیکچ ڈیل کرنی ہوتی ہے. یعنی اللہ کی رضا کے بدلےجو ایک مسلمان کا الٹیمیٹ مطلوب ہوتا ہے اسکے سارے احکامات کے آگے سرتسلیم خم کرنا ہوگا. قرآن کریم بھی یہی کہتا ہے "يَـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ ٱدۡخُلُواْ فِى ٱلسِّلۡمِ ڪَآفَّةً۬ وَلَا تَتَّبِعُواْ خُطُوَٲتِ ٱلشَّيۡطَـٰنِ‌ۚ إِنَّهُ ۥ لَڪُمۡ عَدُوٌّ۬ مُّبِينٌ۬ (٢٠٨سُوۡرَةُ البَقَرَة) " یعنی پورے کے پورے دین میں داخل ہوجاو اور شیطان کے راستے پر مت چلو.

    ReplyDelete
  34. عثمانJuly 26, 2010

    میں کسی قسم کے فتووں کا قائل نہیں. نہ کسی قسم کی اسلامی پاپائیت کا قائل ہوں. صرف اجتہاد کا قائل ہوں اور اس طرح کی یہ قرآن سے کسی طور متصادم نہ ہو. ہزاروں علمائے کرام کی ان چودہ سو سالوں میں مختلف موضوعات پر مختلف رائے رہی ہے. میں ان آراء کو میں صرف علمی آراء کے طور پر ہی دیکھتا ہوں. پتھر پر لکیر نہیں سمجھتا.
    صرف فرض ہی فرض ہوتے ہیں. باقی چیزیں ضرورت اور پسندیدگی پر آتی ہیں.
    دین پیکج نہیں بلکہ اصول دیتا ہے. انسان کو چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ عقل اور شعور کو استعمال میں لا کر ہی ان اصولوں پر چلے.

    ReplyDelete
  35. Relatively decent put up. We really located your current web page along with needed for you to express that will We have extremely loved checking your current web log along with threads. However I’ll always be checking your current supply along with My spouse and i desire for you to read through your current web log yet again.

    ReplyDelete