1 September 2010

(۱) فہم دین

لاہور کے جس علاقے سے میرا تعلق ہے وہاں قریب ہی تنظیم دعوت اسلامی والوں کی مسجد ہے جسے عرف عام میں "بڑی مسجد" کہا جاتا ہے۔ تنظیم دعوت اسلامی کے اراکین ہروقت ہرے رنگ کی مخصوص پگڑیاں پہننے کے سبب "ہری پگڑی والے" کی عرفیت سے جانے جاتے ہیں۔ سر پر ہرے رنگ کی پگڑی ، گردن سے نیچے آتے تیل لگے بال ، سفید رنگ کا کرتا اور شلوار، شلوار ٹخنوں سے کئی انچ اونچی اور پاؤں میں کھلی چپل۔ یہ اُن کی تصور کردہ شریعت کے مطابق "اسلامی لباس" ہے۔ یوں تو ہری پگڑیوں والے تمام ہفتہ اس شرعی لباس میں ملبوس دکھائی دیتے ہیں لیکن جمعرات کی رات بڑی مسجد میں ہفتہ وار اجلاس کے انعقاد کے سبب سوڈیوال مین بازار ان کا رش لگا رہتا ہے۔۔۔ جہاں وہ سڑک پر سٹال لگا کر اپنا جماعتی لٹریچر بانٹنے کے ساتھ ساتھ تبلیغ دین کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ مجھے عموما رات کو تندور کی روٹیاں لینے کی عادت تھی۔ لیکن جمعرات کی رات میں سڑک پر موجود تندور پر جانے سے کتراتا تھا۔ وجہ یہ تھی کہ کلین شیو ہونے اور ٹراؤزر پہننے کی سبب مجھے لیکچر سننا پڑتا کہ یہودیوں اور عیسائیوں کا لباس ترک کرکے اسلامی وضع قطع اختیار کی جائے۔ گرمیوں میں تو اور بھی مصیبت ہوتی جب میں نے نیکر پہنی ہوتی۔ باوجود اس کے کہ نیکر گھٹنوں سے نیچے تھی۔ تبلیغ کے دوران دلچسپ قسم کے "دلائل" سننے کو ملتے۔ جس میں سب سے دلچسپ شانوں پر لٹکتے بالوں کی فضیلت تھی۔ کہ کس طرح کسی "حدیث شریف" کی رو سے کاندھے پر لٹکتے ہر ایک بال پر ہزار ہزار نیکیاں ملیں گی۔چہرے پر داڑھی اور اونچی شلوار تو ان کے نزدیک فرض تھی۔ جبکہ سبزپگڑی اور لمبے تیل لگے بال واجب۔ باقی ہر حلیہ فاسق تھا۔ بھلے آپ نے سادہ شلوار قمیض ہی کیوں نہ زیب تن کی ہو۔ محلے کے لڑکوں کے لئے اصل سزا یہ تبلیغ نہ تھی بلکہ اگلے دن گلی کے کونوں کھردروں سے اٹھنے والا وہ تعفن تھا جو مسجد کی لیٹرین محدود ہونے کے سبب ہماری گلیوں میں موجود ہوتا تھا۔ اگلے دن کرکٹ کھیلتے وقت ہم لوگ خیال رکھتے کہ گیند گلی کے کونوں ، پودوں کی کیاری اور دیوار کے کناروں پر نہ چلی جائے ورنہ گندی ہوجائے گی۔

دین کی اصل فہم فراست اور روح کو پس پشت ڈال کر سطحی تاویلات گھڑنے اور ظاہری عناصر پر شدومد کے ساتھ اصرار کرنے والے ان مومنین کے ساتھ میں نے اپنے بچپن اور لڑکپن کے کئی برس گزارے۔ اس وقت چوں کہ صرف یہی "اسلامی معاشرہ" دیکھا تھا اسی لئے اسی کو صحیح جانتے تھے۔ بھلا ہوسکتا ہے کہ ایک آدمی نے بسم اللہ پڑھی ، آیت سنائی ، حدیثیں بیان کیں۔۔۔اماموں کے قصے سنائے اور غلط ہو سکا؟؟ ایسی باتیں تو الف سے ے تک ٹھیک ہوتی تھی ورنہ ایمان جانے کا اندیشہ تھا۔ حدیث سنائی گئی۔۔آیت بیان کی گئی۔۔۔ذہن مائل ہو نہ ہو بس ایمان لے آؤ ورنہ۔۔ورنہ گئے کام سے۔ فل سٹاپ ، پیریڈ۔۔مکو ٹھپ!!

جب میں پردیس آیا تو صورتحال مختلف تھی۔ اول تو مذہب کے متعلق یہاں زیادہ بات نہیں ہوتی۔ لیکن اگر ذاتی دلچسپی ، تبلیغ اور اسلام کے خلاف غلط تصورات کے رفع کرنے کی سعی میں مذہب پر بات ہوبھی جائے تو محض حدیث اور آیت سنانے سے گذارا نہیں ہوتا کہ اس حقیقت پسندانہ لیکن ملحدانہ کافر معاشرے میں بات صرف اور صرف دلیل اور عقلی استدلال سے کرنی پڑتی ہے۔ آپ نے آیت سنادی۔۔اچھی بات ہے۔ لیکن ایک غیر مسلم کے لئے یہ کوئی معنی نہیں رکھتی جب تک بیان کی گئی حکمت استدلال سے ثابت نہ کی جائے۔ اور اگر دعویٰ ہو کہ آپ کا دین واحد دین فطرت ہے تو معاملہ اور بھی حساس ہوجاتا ہے کہ بیان کی گئی بات منطق اور فطرت پر ثابت کرکے دکھاؤ۔ اور یہ وہ مقام ہے جہاں "مستند مدرسوں" کے "سند یافتہ" میں نے جان چھڑاتے دیکھے ہیں۔۔۔ کہ رٹا اور فکر میں آگ اور پانی ایسا تضاد ہے۔ پاکستانی مساجد جنہوں نے غیرمسلموں میں تبلیغ کا آج تک کوئی کام انجام نہیں دیا۔۔۔ان سے جان چھڑا کر کچھ دوسرے "فاسق" لوگوں سے تعلق جوڑا جن کا بنیادی سبق یہ تھا۔۔۔کہ کچھ نہیں بننے لگا جب تک مطالعہ (اور مطالعہ دین) کے دوران اپنے آپ سے تنقیدی سوالات نہ پوچھو۔ اس کوشش میں مجھے دو فائدے ہوئے۔ ایک تو یہ کہ دین کی وہ بہت سی باتیں جن پر میں محض خوف اور بچپن میں سنی سنائی ہونے کی وجہ سے یقین رکھتا تھا۔۔ان پر ذہنی اور عقلی طور پر بھی ایمان لے آیا۔ دوسرا یہ کہ جب بحث کے دوران غیرمسلم سے واسطہ پڑتا تو محض سنی سنائی سنانے کے علاوہ بھی میرے پاس کچھ نا کچھ کہنے کو ہوتا۔ کم از کم قرآن کے بارے بحث کرتے وقت مجھے بہت کم پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔ ہربات منطقی استدلال سے کرتے ہوئے گرتے پڑے کہیں تک پہنچا ہی لیتا۔ حدیث کا معاملہ البتہ مختلف ہے۔ ان میں سب سے دلچسپ میری ایک ملحد کے ساتھ مسئلہ تقدیر پر بحث تھی۔ جی وہی مسئلہ تقدیر جس پر سوچنا بھی "گناہ" ہے۔ عالم تو نہ بن سکا لیکن اندھے اعتقاد کی رِیت سے بھی جان چھوٹ گئی۔

اپنی محدود اور ناقص فہم و فراست سے میں یہ کسی حد تک جاننے میں کامیاب ہوا کہ اسلام ایک تہذیب ایک کلچر یا زندگی گزارنے کا پیکج نہیں بلکہ انفرادیت اور معاشرت کے کچھ بنیادی ستون اور اصول مہیا کرتا ہے۔ اسلام آفاقی تہذیب نہیں بلکہ آفاقی دین ہے۔ اس کو ایک تہذیب میں مقید کرنا اس کی توہین ہے۔ اسلام جس معاشرت ، جس تہذیب ، جس جغرافیے اور جس قوم میں جائے گا وہاں سے کچھ غلط چیزیں نکال پھینکے گا، کچھ نیا اور مثبت لے کر آئے گا اور کچھ بے ضرر جوں کا توں رہنے دے گا۔ جب عرب میں آئے گا تو عربی اسلامی معاشرہ قائم کرے گا۔ ہندوستان میں آئے گا تو ہندوستانی اسلامی معاشرہ اور اس طرح چین جاپان ، افریقہ اور مغرب۔۔۔جی ہاں وہی فاسق اور فاجر مغرب میں جائے گاتو بالترتیب چینی ، چاپانی ، افریقی اور مغربی اسلامی معاشرہ قائم کرے گا۔ اسلام کا مقصد درج بالا معاشروں کی تہذیب اور معاشرت کو تلف کرنا ہرگز نہیں ہے۔ بلکہ کچھ آفاقی اصولوں کے مطابق ایک حد تک مثبت تبدیلی لانا ہے۔ یہ تبدیلی لوگوں کے باطن اور معاشرت میں دکھائی دے گی۔ پاکستانی ، عرب ، چینی ، افریقی اور مغربی مسلمان بہت سے باتوں اور کاموں میں مماثلت رکھنے کے باوجود یکساں تہذیب کے حامل نہیں ہوں گے۔ تہذیب ، زبان ، سماج اور فطرت میں تغیر خدا کی نشانیاں ہیں۔

جب برطانیہ کا ایک انگریز اسلام قبول کرے گا تو وہ "غیر انگریز" نہیں بن جائے گا۔ بے حیا بے تہذیب لباس سے جان ضرور چھڑائے گا۔۔۔انگریزی لباس سے نہیں۔ اپنا ستر ڈھاپنے گا۔۔۔اور زمانے، موسم حغرافیے اور موجودہ تہذیب کے لحاظ سے مہذب لباس زیب تن کرے گا۔ اس کا غیر مسلم انگریزوں سے ظاہری انفرادیت میں فرق یہیں تک معمور ہوگا۔ باقی انفرادیت اس کے باطن سے نمودار ہوگی۔ جینز اور جوگر سے جان چھڑا کر تہمد ، کھلی چپل اور پگڑی پہننا محض اس لئے اس پر فرض نہیں کہ عرب صحراؤں اور پاکستان کے دیہاتوں میں لوگ یہ "اسلامی لباس" زیب تن کرتے ہیں۔ انگریز کا انگریزی اسلامی معاشرہ مختلف ہوگا۔ پاکستان اور صحرائے عرب کے مسلمانوں سے بھی اور برطانیہ کے غیر مسلم گوروں سے بھی۔ انگریز کا جینز اور جوگر پہننا اس کا اسلام سے "اظہار بیزاری" یا عالم کفر سے "اظہار وابستگی" نہیں۔ بلکل اسی طرح جس طرح ایک پاکستانی کا تہمد اور جبہ کی بجائے شلوار قمیض اور کرتا پاجامہ پہنا کفر سے اظہار وابستگی نہیں۔اسوہ حسنہ شمائل نبوی پر منحصر نہیں۔ رسول اللہ کی وضع قطع اپنے زمانے، علاقے اور موسم کے اعتبار سے مخصوص تھی۔ تہمد ، کرتا ، پگڑی صرف رسول اللہ ﷺ اور صحابہ ہی نہیں قریش کے کافر بھی پہنتے تھے۔ صحرائے عرب کا موسم سرد ہوتا تو لباس اتنا ہی مہذب لیکن مختلف ہوتا۔ دین مین تقویٰ کا عظیم تصور لباس سے منسلک کردینا فدوی کی ناقص رائے میں انتہا درجے کی سطحیت ہے۔

"اسلام بمقابلہ مغرب" کا تصور کچھ اسلام بیزار طاقتوں کی طرف سے آیا ہے۔ جو اسلام کو اپنی نفرت اور جہالت کی بنا پر ایک کلٹ یا قبیلہ سمجھتے ہیں۔ افسوس ناک امر ہے کہ ہمارے مسلمان لاشعوری اور نادانی میں آکر یہ اصطلاح استعمال کرتے ہوئے اپنا ردعمل دکھا بیٹھتے ہیں۔ یہ کرتے ہوئے وہ یہ نہیں دیکھتے کہ اسلام کو ایک آفاقی دین سے گرا کر محض ایک تہذیب کے تقابل پر لا رہے ہیں۔ اسلام دنیا کی تہذیبوں کے اندر سرایت کرجانے اور اس کے ضروری حصوں کو ایک مخصوص سانچے میں ڈھالنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

19 comments:

  1. ویسے آپ کس تندور پر پائے جاتے تھے؟

    ReplyDelete
  2. میں سوڈیوال میں پلا بڑھا۔ امریکہ آنے تک وہیں رہا اور اب بھی وہیں جا کر رہنے کا ارادہ ہے۔ میں وہاں ہر حلئے میں پھرا۔ آپ کو سوڈیوال کے من پسند لباس یعنی شلوار اور ٹی شرٹ کا بخوبی علم ہو گا۔ مجھے آج تک کسی نے ایسی تبلیغ نہیں کہ باوجود اس کے کہ میں جمعرات کو ان کے لگائے گئے بازار میں مٹر گشت کیا کرتا تھا۔ جمعہ اسی مسجد میں پڑھتا تھا باوجود کے چھوٹی مسجد میرے گھر کے پاس تھی۔ آپ عام انسانوں سے ہٹ کر کیا ایسی حرکت کرتے تھے کہ آپ کا ہر جمعرات ناطقہ بند کر دیا گیا تھا؟

    ReplyDelete
  3. میں بھی سوڈیوال میں پلا بڑھا اور کینیڈا آنے تک وہیں رہا۔ میں وہاں نیکر ، شرٹ اور ٹراؤزر میں خوب پھرا اور ہرقسم کی تبلیغ سنی۔ ہری پگڑیوں والوں کے ساتھ سوڈیوال سے لے کر سول لائنز تک ساتھ رہا۔
    آپ کونسے مومنانہ لباس زیب تن کرتے رہے کہ آپ کو تبلیغ کر شرف نہیں پہنچا؟ :lol:
    ماچھیوں کے ہوٹل کے پاس ایک تندور ہے۔ ایک بٹ ہوٹل میں اور اس کے سامنے۔۔۔ اور ایک ڈاکٹر شعیب کے کلینک کے سامنے۔ اب معلوم نہیں کہ باقی رہے ہیں کہ نہیں۔ میرے آنے تک وہیں تھے۔

    ReplyDelete
  4. شاباش، آپ تو استاد سے بڑھ گئے.

    ReplyDelete
  5. دین اور تہذیب کی بات تندوروں تک پہنچ گئی ہے
    بہرحال میں کم و بیش اس تحریر سے متفق ہوں
    ہمارے محلے کی مسجد کے امام صاحب بوجہ جینز ہمیشہ مجھے ترچھی نظر سے دیکھا کرتے تھے۔ کٹھے میٹھے اسلامی بھائی اس حلیے کی ترویج واقعی بڑی شدومد سے کرتے ہیں۔ لیکن ان کے علاوہ کسی اور گروپ سے کسی اصرار کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔

    ReplyDelete
  6. عثمان آپ نے بہت ہی شاندار لکھا ھے -

    ReplyDelete
  7. بہت اچھی تحریر ھے۔
    کم و پیش متفق ہوں۔
    لیکن طوطوں کو الزام نہ دیں۔
    وہ تو بے چارے ہو تے ہیں۔ :a: :a: :a:

    ReplyDelete
  8. محترم!۔

    آپ نے اسلام کے آفاقی دین ہونے کو نہایت اچھے طریقے سے اجاگر کیا ہے۔

    کسی معاملے پہ کسی خاص نتیجے پہ پہنچنے کے لئیے ذاتی تجربہ کو اہمیت نہیں دی جاتی۔ کیونکہ بہت ممکن ہے کسی دوسرے فرد یا افراد کو مختلف تجربہ ہوا ہو۔ جو اہم بات ہے کہ پاکستان میں عام آدمی میں روزمرہ زندگی گزارنے کی بنیادی اصولوں سے لیکر سیاست تک ہر معاملے میں علم اور شعور کی کمی ہے۔ جس وجہ سے ہر دوسرا فرد یا گروہ اپنے حساب سے دین کی تشریح کرتا نظر آتا ہے۔ بہت ممکن ہے کہ انکے خلوص نیت میں کمی نہ ہو مگر بنیادی علم اور لازمی شعور کی کمی کی وجہ سے انکا طریقہ کار درست نہ ہو۔ جس وجہ سے آپ ابھی تک اُن سے حساس ہیں۔

    اس سارے معاملے میں آپ کو پاکستان کے ایک عام شہری کی محدود ترین کیپیسٹی کو بھی مدنظر رکھنا چاہئیے جو اسے مالی، سیاسی اور دینی الغرض کسی بھی لحاظ سے کچھ کرنے نہیں دیتی اور جب وہ اپنے طور پہ منظم ہو کر کچھ کرنا چاہتے ہیں تو اسکا نتیجہ وہی آتا ہے جو آپ کو بھونڈا لگا۔ اسلئیے ضروری ہے کہ پاکستان میں ہر قسم کی تبدیلی کے لئیے جہاں پاکستانی عام شہری کے عام مسائل حتمی معنوں میں حل کئیے جانے ضروری ہیں۔ وہیں انھٰن تعلیم کے زیور سے آراستہ کیا جانا ازبس ضروی ہے۔ تاکہ وہ دین سمیت ہر معاملے کو اسکی اصل ڑوح کے مطابق سمجھ سکیں۔

    ReplyDelete
  9. کامرانSeptember 01, 2010

    اگر داڑھی اور ٹوپی کا نام مسلمان ہے تو عیسائی پادری بھی آدھا مسلمان ہے۔
    لباس اور حليہ انسان کے کردار کا ثبوت سمجھ لينا مناسب بات نہيں۔ لباس اور حليہ ہزاروں سال پرانا رواج ہے۔ رواج کا تعلق موسم اور جغرافيائی حالات سے ہے ناکہ مذہب يا انسان کی اندرونی حالت سے ۔۔۔ شکريہ

    ReplyDelete
  10. آپ کی باتوں سے میں زیادہ اختلاف نہیں کروں گا کیونکہ میں بھی تقلید شخصی کا قائل نہیں اور میرا فہم دین بھی قرآن و سنت کے ذاتی مطالعہ پر مبنی ہے اور میں بھی قرآن کو رٹنے کے بجائے قرآن کی فہم کو عام کرنے کا قائل ہوں.

    البتہ ایک فرق یہ ہے کہ میرے فہم دین میں سنت نبوی، صحابہ اور امت کے اجتماعی تعامل اور اجماع اور اکابر علمائے دین کی علمی کاوشوں کو بھی بہت زیادہ اہمیت حاصل ہے اور میں عقل کو قرآن و سنت پر حاوی نہیں ہونے دیتا بلکہ قرآن و سنت کو سمجھنے کے لئے عقل کو بحثیت ٹول استعمال کرتا ہوں.

    میرے نذدیک دین ایک مکمل ضابطہ حیات جو انفرادی سے لیکر اجتماعی زندگیوں کے تمام معاملات کا احاطہ کرتی ہے اور بات کم از کم مسلمانوں کو سمجھانے کے لئے عقل سے زیادہ موثر چیز قرآن اور حدیث ہیں کیونکہ عقلی استدلال اور دلائل سے اختلاف کیا جاسکتا ہے لیکن کوئی مسلمان قرآن اور صحیح حدیث سے اختلاف کرنے کی جرت نہیں رکھتا.

    ReplyDelete
  11. عنیقہ ناز : استاد کو دیکھ کر شاگرد رنگ پکڑتا ہے. :wink:

    جعفر: ترچھی نظر 8-O آپ پر یا جینز پر :lol: جینز اور آپ دونوں سے ہمدردی ہے. :mrgreen:

    md : بہت شکریہ!

    یاسر : بہت شکریہ!

    جاوید گوندل صاحب : آپ کی رائے سے اتفاق ہے. جہاں تک لوگوں کی اپنی فہم فراست سے دین سمجھنے کا تعلق ہے تو وہ تو احسن ترین ہے. لیکن فتنہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب لوگ اپنی رائے اور اخذ کردہ نتائج پر جم کر اسے انا کا مسئلہ بنا ڈالتے ہیں. اس سے اگلے مرحلے میں تشدد جنم لیتا ہے۔۔۔۔اور پھر آہستہ آہستہ معاشرہ تباہی کی طرف۔

    کامران : شکریہ !

    کاشف : جہاں تک میں نے آپ کو پڑھا ہے۔۔۔ یہی پایا ہے کہ آپ تقلید کے قائل ہیں۔ جبکہ میرے نزدیک کسی مفتی اعظم کا فتویٰ اور رائے اس وقت تک کوئی وزن نہیں رکھتی جب تک اسے استدلال سے ثابت نہ کردیا جائے۔
    آپ نے کہا کہ کوئی مسلمان قرآن اور حدیث سے اختلاف نہیں کرسکتا۔ یہ بات اتنی سیدھی نہیں ہے۔ اگر حدیث کا پوچھیں تو اس پر تمام محدثین تک متفق نہیں تو امت کی بات ہی کیا۔ تاہم یہ درست ہے کہ حدیث سے راہنمائی ایک اتنہائی اہم جز ہے۔ لیکن عقل و استدلال پس پشت ڈالنا دانشمندی نہیں۔
    قرآن کریم ہر قسم کے شک سے پاک ہے۔ لیکن ان مسالک کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے جو مختلف فرقے بنائے بیٹھے ہیں۔ عقل اور استدالال سے کام لے کر ایک دوسرے کی بات سنتے تو سب یکجا نہ ہو جاتے؟

    ReplyDelete
  12. اگر آپ کے پاس وقت ہے تو اسے اس طرح ضائع کرنے کی بجائے دين اور دنيا دونوں کے مطالعہ ميں لگايئے ۔ پھر اِن شاء اللہ آپ کو ايسی تحارير لکھنے کی ضرورت پيش نہيں آئے گی ۔ سبز پگڑی والوں پر مجھے بھی اعتراض ہو سکتا ہے ليکن آپ کا کام صرف اعتراض کرنا ہے ۔ اس کی بجائے اگر آپ اصل فہمِ دين پيش کريں تو قارئين کا بھلا ہو گا اور آپ کی عاقبت بھی سنور جائے گی ۔
    وہ کام نہ کريں روندی ياراں نوں ناں لے کے بھراواں دے

    ReplyDelete
  13. محترم افتخار اجمل بھوپال صاحب : اللہ کا شکر ہے کہ میں وقت ضائع کرنے کی بجائے دین اور دنیا دونوں کے مطالعہ میں صرف کرنے کی کوشش کرتا ہوں تب ہی ان نتائج پر پہنچ کر یہ پوسٹ لکھ سکا ہوں. میں کتنا کامیاب ہوا اور آیا میری آخرت کتنی سنورے گی۔۔۔یہ فیصلہ خدا کے ہاتھ میں ہے۔
    مجھے یہ واضح کرنے کی چنداں ضرورت نہیں کہ بے جا اعتراض اور تنقید کرنا کن کا شیوہ ہے۔
    اللہ تعالٰی آپ کو مجھے اور ہم سب کو فہم دین اور اس پر عمل پیرا ہونے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین!

    ReplyDelete
  14. عبداللہSeptember 03, 2010

    میں صرف اتنا کہوں گا کہ ہم چاہے کتنا خودکو مومن ثابت کر لیں مگر یہ حقیقت ہے کہ اندر سے ہم نفرتوں سے بھر پور ہیں کبھی لسانی بنیاد پر کبھی مزہبی اور فرقہ وارانہ بنیاد پر،
    کل جو سانحہ لاہور مین پیش آیا کسی نے اس پر افسوس کا اظہار نہیں کیامحض اس لیئے کہ وہ جلوس فقہ جعفریہ کا تھا!!!!
    میں صرف ایک سوال پوچھتا ہوں کیا وہ مسلمان نہیں تھے؟؟؟؟؟؟
    نہیں وہ تو شیعہ تھے اورشیعہ تو واجب القتل ہوتے ہیں نا
    :(
    ارے کیا وہ انسان بھی نہ تھے؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟

    ReplyDelete
  15. عبداللہ ۔۔۔
    آپ کے تبصرے کا موضوع سے براہ راست کوئی تعلق نہیں ہے. براہ کرم اپنا فساد یہاں لانے سے پرہیز کریں. ہر آدمی خدا کے سامنے جواب دہ ہے. شکریہ.

    ReplyDelete
  16. عبداللہSeptember 03, 2010

    بہت خوب جو بات میں کہوں وہ آپ کے نزدیک فساد کے زمرے میں آتی ہے اور آپ اور باقی سب جس کو جو جی چاہیں کہتے رہیں،سبحان اللہ کیا اعلی و ارفعی سوچ ہے!!!
    یہ فساد میرا شروع کیا ہوا نہیں ہے آپکے بھائی بندوں کے فسادی انداز گفتگو نے مجھے یہ انداز اختیار کرنےپر مجبور کیا،خیر جو چاہے آپکا حسن کرشمہ ساز کرے!!!!
    آپ چاہیں تو میرے دونوں تبصرے ڈلیٹ کردیں،شکریہ

    ReplyDelete
  17. السلام علیکم ورحمۃ وبرکاتہ،
    کسی نےکیاخوب کہاتھاکہ اسلام ڈارھی میں ہےڈارھی میں اسلام نہیں۔ لیکن ایک بات جوحقیقت ہےکہ اسلام نےلباس وغیرہ کی کوئي قیدنہیں لگائی ہےیہ توہماری بھائي بندوں کی باتیں ہیں بلکہ وہ لباس پسندکیاجوکہ سترکواچھی طرح ڈھانپ دے۔باقی علامہ اقبال کاشعرہے جوکہ ہماری صحیح عکاسی کرتاہے۔کیونکہ یہ چیزبھی ضروری ہے۔
    وضع میں تم ہو نصارٰی تو تمدن میں ہنود
    یہ مسلماں ہیں جنہیں دیکھ کے سرمائیں یہود
    یوں تو سید بھی ہو مرزا بھی ہو افغان بھی ہو
    تم سبھی ہو بتاؤ تو مسلمان بھی ہو
    باقی عبداللہ بھائی، جوچیزغلط ہےوہ غلط جودرست ہےمیں نےاپنےبلاگ میں اسکی مذمت کی ہے جوکہ یہاں ہےhttp://javediqbal.ueuo.com/?p=381
    باقی ہرکسی کااپنانظریہ کیونکہ یہ باتیں آپ ہی کہتےہیں کہ مذہب ہرکسی کاذاتی مسئلہ ہے۔بات یہ نہیں بلکہ بات یہ ہےکہ آپ اگرسچےہیں تواس کی تبلیغ کریں کیونکہ امربالمعروف نہی المنکرکیاہے۔اللہ تعالی ہم کودین اسلام کی صحیح تعلیمات پرعمل پیراہونےکی توفیق عطاء فرمائے۔ آمین ثم آمین
    والسلام
    جاویداقبال

    ReplyDelete
  18. ميں کچھ مصروف رہا پھر اسلام آباد چلا گيا سو تاخير ہو گئی
    بلا شُبہ آپ دين و دنيا دونوں کا بہت عِلم رکھتے ہيں پھر بھی ميں آپ کی لکھی گئی تمام تحارير اور دوسرے بلاگز پر کئے گئے تبصرے مدِ نظر رکھتے ہوئے اللہ سُبحانُہُ و تعالٰی کا مندرجہ ذيل فرمان نقل کرنے پر مجبور ہوا ہوں
    سورت 49 الحُجرَات آيت 11 و جُزو آيت 12
    يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا يَسْخَرْ قَوْمٌ مِنْ قَوْمٍ عَسَى أَنْ يَكُونُوا خَيْرًا مِنْهُمْ وَلَا نِسَاءٌ مِنْ نِسَاءٍ عَسَى أَنْ يَكُنَّ خَيْرًا مِنْهُنَّ ۖ وَلَا تَلْمِزُوا أَنْفُسَكُمْ وَلَا تَنَابَزُوا بِالْأَلْقَابِ ۖ بِئْسَ الِاسْمُ الْفُسُوقُ بَعْدَ الْإِيمَانِ ۚ وَمَنْ لَمْ يَتُبْ فَأُولَئِكَ هُمُ الظَّالِمُونَ
    يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اجْتَنِبُوا كَثِيرًا مِنَ الظَّنِّ إِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ إِثْمٌ
    ترجمہ
    اے ایمان والو! مرد دوسرے مردوں کا مذاق نہ اڑائیں ممکن ہے کہ یہ ان سے بہتر ہوں (۱) اور نہ عورتیں عورتوں کا مذاق اڑائیں ممکن ہے کہ یہ ان سے بہتر ہوں اور آپس میں ایک دوسرے کو عیب نہ لگاؤ (۲) اور نہ کسی کو برے لقب دو (۳) ایمان کے بعد فسق برا نام ہے، (٤) اور جو توبہ نہ کریں وہی ظالم لوگ ہیں۔‏
    اے ایمان والو! بہت بد گمانیوں سے بچو یقین مانو کہ بعض بد گمانیاں گناہ ہیں

    ReplyDelete
  19. محترم افتخار اجمل بھوپال صاحب : بہت شکریہ! :m:
    اللہ تعالیٰ ہم دونوں کو اس پرعمل پیرا ہونے کی توفیق دے !

    ReplyDelete