حال ہی میں زومبیوں پر ایک فلم دیکھنے کا اتفاق ہوا ہے جس میں تمام اداکار ہی ہدایت کار ہیں۔ عام زومبی (Zombie) فلموں کے برعکس یہ ہارر ہے نہ کامیڈی۔ بلکہ ایک المیہ ہے۔ فلم بور ہے ، بلکل زومبیوں کی طرح۔ البتہ زومبیوں کے متعلق بہت کچھ بتلاتی ہے۔ فلم برداشت کرنے کے نتیجے میں جو حقائق مجھ پر آشکار ہوئے وہ پیش خدمت ہیں تاکہ آپ بھی بوریت سے مستفید ہوسکیں۔
۱) زومبی بات نہیں بلکہ صرف الفاظ سمجھتا ہے۔ ان الفاظ کے پیچھے انھوں نے کچھ Archetype بنا رکھے ہیں۔یعنی ہر لفظ کے ساتھ کوئی تصور ہے۔ دوران گفتگو جونہی آپ وہ الفاظ بولتے ہیں زومبی آپ کی تمام بات بھول کر وہ الفاظ صرف اور صرف اپنے طے شدہ Archetype کے مطابق وصول کرتا ہے۔اور اسی کے مطابق ردعمل دیتا ہے۔مثال کے طور پر یوں سمجھیں کہ جوں ہی آپ لفظ "آسمان" بولیں گے تو زومبی کا مغز اسےکچھ اس طرح وصول کرے گا:
آسمان = نیلا رنگ ، سورج ، چاند ، تارے
بس اب آپ آسمان کے متعلق جو مرضی سمجھانے یا بیان کرنےکی کوشش کریں۔ کوئی فائدہ نہیں کہ زومبی کی سوئی وہیں اس کے تصور کردہ چار الفاظ میں اٹکی ہے۔ وہ انہی تصوارات سے اپنی من پسند جھاگ بنائے گا اور ردعمل ظاہر کرےگا۔
۲) اوپر بیان کی گئی صورتحال سے بچنے کے لئے ضروری ہے کہ آپ الفاظ بدلتے رہیں۔ نئی سے نئی اصطلاحات متعارف کرواتے رہیں۔ بھلے مدعا بیان کرنا کتنا ہی مشکل کیوں نہ ہو جائے۔فائدہ یہ ہوگا کہ زومبی اپنی زومبی لغت کی طرف رجوع کرنے میں ناکام رہے گا۔ بادل ناخواستہ آپ کی بات سمجھنے پر مجبور ہوگا یا کندھے اچکا کر آگے نکل جائے گا۔ اور آپ اس کے عتاب سے بھی محفوظ رہیں گے۔
۳) تمام زومبی جسمانی طور پر نارمل دیکھائی دیتے ہیں۔ عام چھوٹی موٹی بات چیت میں بھی وہ نارمل ہی دیکھائی دیں گے۔ تاہم معاملہ جوں ہی صورتحال کے تجزیہ اور معاملہ کو پرکھنے پر آئے گا۔ زومبی اپنے طے شدہ Archetype کے مطابق ریسپانس دے گا۔ عین اس وقت آپ پر عقد کھلے گا کہ آپ زومبی سے مخاطب ہیں۔
۴) تمام زومبییوں کے Archetype ایک جیسے ہوں گے۔ یکساں ردعمل ظاہر کریں گے۔ مخصوص باتیں کرتے وقت مخصوص آوازیں نکالیں گے۔ ان آوازوں کو Cliche کہا جاتا ہے۔
۵) زومبی کے تمام Archetype چند گنی چنی باتوں کا تحفظ کرتے ہیں۔ جو اس کا کل اثاثہ و افتخار ہیں۔ زومبی اپنی وحشتناک حالت میں تب پہنچتا ہے جب آپ اس تفاخر پر ضرب لگائیں۔
۶) شائد آپ نے سن رکھا ہو کہ زومبی میں خون نہیں۔ یہ صرف جزوی طور پر درست ہے۔ زومبی میں خون بہت ہے کہ جوش بہت ہے۔ البتہ اگر اس کے تفاخر کو ٹھیس پہنچے تو۔۔۔ کاٹو تو بدن میں لہو نہیں۔
۷) زومبی کاٹ کردوسروں کو زومبی نہیں بناتے۔ نہ ہی زومبی ہونے کے لئے ضروری ہے کہ آپ زومبی لینڈ یا زومبیوں کے درمیان رہیں۔زومبی ہونے کا واحد طریقہ یہ ہے کہ آپ ایک طویل عرصہ اپنا ذہن جامد رکھیں۔ صورتحال کو من و عن اسی طرح تسلیم کریں جسطرح آپ کے سامنے پیش کی جاتی ہے۔ آسان نتائج کا انتخاب کریں۔ ایسے کہ آپ کے پہلے سے تسلیم شدہ Archetype کو نہ کوئی گزند پہنچے اور تفاخر کا تحفظ بھی باقی رہے۔
۸) عام تصور کے برعکس زومبی جذبات سے عاری ہرگز نہیں۔ بلکہ یہ ایک انتہائی جذباتی مخلوق ہے۔ یوں کہہ لیجئے کہ زومبی صرف اور صرف جذبات رکھتا ہے۔ اس کی ہر بات ہر "استدلال" جذبات پر محمول ہے۔
۹) ایک انتہائی دلچسپ بات یہ ہے کہ عام فلموں کے برخلاف یہاں زومبی کو معلوم ہوتا ہے کہ وہ کنٹرولڈ ہے۔ تاہم وہ اپنے ذہن کو نہیں بلکہ ارد گرد کے معاشرے اور اپنی زندگی کو کنٹرولڈ سمجھتا ہے۔ جبکہ اس کے خیال میں اس کا ذہن مکمل طور پر آزاد ہے۔
۱۰) زومبی زومبیت سے مکمل ناواقف ہے۔ زومبی کو اپنے یا دوسروں کے متعلق کبھی یہ معلوم نہیں ہوسکتا کہ وہ زومبی ہیں۔ البتہ ہر وہ شخص جو اس کے Archetype شئیر نہیں کرتا زومبی کے تصور کردہ سسٹم کا حصہ ہے۔
اپنے ارد گرد جائزہ لیں۔ کیا آپ دیکھ سکتے ہیں کہ لوگ ہاتھ پھیلائے ڈکراتی آوازوں کے ساتھ کلیشے نکالتے آپ کو کوستے ہوئے آپ کی طرف بڑھ رہے ہیں؟
اگر ایسا ہے تو گئے کام سے۔ بچاؤ کا آسان طریقہ یہ ہے کہ آنکھ ، کان ، ناک ، منہ اور ذہن بند کرلیں۔ زومبی غائب ہوجائیں گے۔
وہ ذامبی ہی کیا جو اپنے ذامبی ہونے پر فخر نہ کرے اور دوسروں کے اپنے جیسے ذامبی نہ ہونے پر افسوس کا اظہار نہ کرے ۔
ReplyDeleteوہ ذامبی ہی کیا جو اپنے غیر اخلاقی اخلاقیات کو اخلاقی اخلاقیات ثابت کرنے کیلئے کسی بھی غیر اخلاقی بات کو جائز نہ سمجھتا ہو ۔
ذامبیز کو ذامبیز کہنا ایک غیر اخلاقی حرکت اور ذامبیز کو ذامبیز ثابت کردینا اخلاقا گری ہوئی حرکت کنسیڈر ہوا کرتی ہے جی ۔ ذامبی نہ بننا تو اتنا مشکل کام نہیں مگر ذامبی نہ بن کر دکھانا مشکل کام ضرور ہو جایا کرتا ہے ۔
یعنی اگر دوسرا اپنے جیسا ذامبی نہیں ھے۔تو اسے ادھیڑ دینا چاھئے۔
ReplyDeleteذامبی کو ہر دوسرا سانس لیتا جانور ذامبی ہی نظر آتا ہے۔ اس ریموٹ کنٹرول سے کنٹرولڈ نہیں تواس ریموٹ کنٹرول سے کنٹرولڈ ھے۔
ذامبی ذامبی کو اس لئے کاٹتا ھے۔کہ اپنے والے ریموٹ کنٹرول سے کیوں کنٹرولڈنہیں!! :d: :d:
:mrgreen: :mrgreen: :mrgreen:
بوریت شیئر کرنے سےاگرچہ کہ اسکا حلقہء اثر بڑھتا ہے مگر شیئر کرنے والے پہ بوجھ کم ہوتا ہے. آپ نے اچھا کیا کہ اسے شیئر کر لیا.
ReplyDeleteآپکا نکتہ نمبر دو انتہائ اہم ہے. اسے بچائو کے قوانین میں بھی رکھنا چاہئیے.
کچھ سوال ذہن میں آتے ہیں.
کیا ذومبیت جینیاتی طور پہ منتقل ہو سکتی ہے؟
کیا ایک ذومبی کو کسی ایسے طریقے سے انسان بنایا جا سکتا ہے کہ اسے پتہ نہ چلا کہ کیا سازش ہو رہی ہے؟
عینکوں کی نئی دکان تو نہیں کھول رہے آپ؟
ReplyDelete;-)
عنیقہ آپا سے سہمت ہوں کہ نقطہ نمبر 2 انتہائی اہمیت کا حامل ہے. بلکہ میں تو آئندہ سے کوشش کروں گا اس مفید مشورے پر عمل کرکے ان زنانہ و مردانہ مینڈکوں سے (جو اپنے ہی بنائے ہوئے کوئیں میں قید مچلتے رہتے ہیں) اپنی تحاریر کو ٹوئسٹ ہونے سے بچا سکوں.
ReplyDeleteخاصیت نمبر دس اس سارے مراسلے کی مکمل وضاحت کرتی نظر آتی ہے اور اگر غور کیا جائے تو اس مراسلے کی وجوہات بھی بیان کرتی دکھائی دے گی.
ReplyDeleteآزمائش شرط ہے.
بھیا کاشف نصیر، لیکن آپکو لکھنےنے کی تحریک تو صرف اسی وقت ملے گی جب عنیقہ آپا ایسا کچھ لکھیں جو آپکے نظریات پہ بھاری ہو. ایک تھیسس بار بار عنیقہ آپا پہ تو نہیں لکھا جا سکتا. کچھ اور بہن بھائ بھی پا ل لیں. اور انکے کچھ لکھنے سے پہلے خود ہی اپنے طور پہ کچھ لکھ ڈالیں.
ReplyDeleteویسے آپ جیسے نظریاتی مسلم پاکستانی کا لفظ سہمت استعمال کرنا خاصہ دلچسپ ہے. یہ خالصتآ ہندی لفظ ہے اور اسٹار پلس اور ہندی فلموں سے ہمارے یہاں آ گیا ہے. خود پرانی ہندی فلموں میں بھی شاید ہی استعمال ہوتا ہو. تو کیا آپ نے دو قومی نظرئیے کی چھٹی کر دی.
"خواص الذومبی" ترکیب دیکھ کر کچھ اس طرح کی تراکیب کا خیال آتا ہے
ReplyDeleteنوائے ٹائم
صدائے ہارن
ٹائمِ مرگ
لائفِ جاودانی
:-D
اس طرح کی تراکیب پر یہاں کچھ گفتگو کی گئی ہے ، ملاحظہ کیجیے :
http://www.urduweb.org/mehfil/showthread.php?21003-%D8%BA%D8%B2%D9%84-%DB%94-%DA%86%D8%B4%D9%85%D9%90-%D8%AE%D9%88%D8%B4-%D8%AE%D9%88%D8%A7%D8%A8%D8%8C-%D9%81%DB%81%D9%85%D9%90-%D8%B1%D8%B3%D8%A7-%DA%86%D8%A7%DB%81%DB%8C%DB%92-%DB%94-%D9%85%D8%AD%D9%85%D8%AF-%D8%A7%D8%AD%D9%85%D8%AF%D8%94
سنکی : میں نے بتایا نا۔۔۔کہ زومبی زومبیت سے مکمل ناواقف ہے۔ پاگل آدمی کو نہیں پتا ہوتا کہ وہ پاگل ہے۔ نہ وہ پاگل پن پر فخر کرتا ہے۔ :f: آپ کی باقی باتیں خود تضادی کا شکار ہیں۔ :-?
ReplyDeleteیاسر : زومبی ، زومبی کو نہیں پہچان سکتا۔ اگر پہچان لے تو وہ خود زومبی نہیں ہے۔ :lol:
عنیقہ ناز : زومبیت جنیاتی نہیں ہوسکتی۔ کہ خدا نے ہر انسان کو آزاد پیدا کیا ہے۔ بندہ خود سعی کرے اور پھر اسے ماحول سے ترغیب بھی ملے۔۔۔تبھی زومبی بن سکتا ہے۔ :d:
آپ کا دوسرا سوال اہم ہے۔ اگر اس سوال کا جواب مل جائے تو زومبیالوجی کے بنیادی مسائل ہی حل ہوجائیں۔ زومبی کو انسان بنانے کے لئے دوباتوں پر توجہ دی جاسکتی ہے۔ ایک تو یہ کہ زومبی کو کسی طریقے سے یہ باور کرایا جائے کہ اس کی سوچ اور تصورات کے مفید متبادل موجود ہیں۔ اور پھر اسے اپنی زومبی لغت سے باہر سوچنے پر مجبور کیا جائے۔ دوسرا یہ کہ ماحول میں کسی طرح تبدیلی لائے جائے۔ تاہم یہ سب اتنا آسان معلوم نہیں ہوتا۔ زومبیالوجی میں ابھی بہت کام باقی ہے۔ آپ کی تحقیقی صلاحیتیں کس دن کام آئیں گی۔ زومبی ذہن کے کیمیائی خواص پر کچھ روشنی ڈالیے نا۔ :g:
جعفر : زومبیت کے تریاق کی تلاش میں مصروف ہوں۔ کوئی بھی عنیک کارگر ثابت نہیں ہوئی۔ :-D
کاشف : لگتا ہے کہ آپ نے نقطہ نمبر دو پر ابھی سے کام شروع کردیا ہے۔ لیکن یار۔۔۔زومبیت کے علاج کا کہا ہے۔۔۔ اردو کا گلا گھونٹنے کا نہیں۔ :mrgreen:
منیر عباسی : آپ نے غور کیا۔ مجھے خوشی ہوئی۔ بس اسی طرح کوشش کرتے رہیں۔ اللہ خیر تے بیڑے پار! :wink:
الف نظامی : لنک مہیا کرنے کا شکریہ۔ بحث دلچسپ ہے۔ لیکن میں چونکہ شاعری نہیں بلکہ نثر میں مصروف ہوں۔۔۔ اور نثر بھی کوئی عام نہیں۔۔۔بلکہ بلاگی نثر۔ تو بس۔۔۔آزادی ہے۔ :-P
بھئی ہم نے ذامبیز کے کم سے کم خواص بتائے تھے جو آپ کی ڈیفینیشن کی جنرلائیزیشن قطعا نہیں ہیں ۔ آپ اگر یوز اینڈ ان نیسیسری اور نوبل لائز کو بھی دیکھ لیں تو شائد آپکی رائے بدل جائے ۔
ReplyDeleteیار عثمان تو ہی بتا میں نے پچھلے پون سال میں کتنوں پر تھیسیس لکھا ہے؟
ReplyDeleteیوزفل تھا صرف یوز نہیں ۔ سوری ۔
ReplyDeleteسنکی : بیماری کی تشخیص بھلے آپ اپنی مرضی سے کریں۔ لیکن اس کے خلاف مدافعت پر تو راضی ہوں۔ :x:
ReplyDeleteکاشف : نہیں لکھا تو لکھنا شروع کرو۔ :-P ابتدا مجھ سے کرو۔ باقی سب چھوڑ۔۔میں ہوں نا! :n:
جو اپنا علاج خود کریں انکا علاج کوئی دوسرا تجویز بھی کیا کرے ۔
ReplyDeleteارے بھائی
ReplyDeleteذومبی ذومبی کو پہچان لیتا۔
نہیں تو گروہ بندی ختم نہ ہوجائے۔
اپنے ذومبی پر کچھ تنقید ہونی چاھئے۔
اپنا ذومبی بھی تھوڑا تحمل مزاج ہونا چاھئے۔
نہیں تو صرف زہریلا تیزابی ذومبی زہر اگلتا جاتا ھے۔
اوراپنے ہمنوا ذومبی نام و بے نام قسم کے پیدا کرتا جاتا ھے۔ :mrgreen: :mrgreen: :mrgreen:
زبردست بھئی! ویسے تو تحریر خوبیوں سے مالامال ہے اور میں یہ سوچ رہا ہوں کہ خاصیت نمبر دس کا اطلاق کہاں کہاں ہوسکتا ہے؟
ReplyDeleteسوچنےکی جائے ہے...... :wink:
4 بار پڑھنے کے بعد سمجھ ہی گئی میں ۔۔ شاباش دیں جلدی سے مجھے ۔۔ کل سے میں بھی غور کروں گی کہ میرے ارد گرد کتنے ذومبی ہیں گِن کے بتاتی ہوں ۔۔ :r:
ReplyDeleteسنکی : زومبیت کا علاج خود ہی کرنا پڑتا ہے۔ دوسرے صرف اپنا بچاؤ ہی کرسکتے ہیں۔ :roll:
ReplyDeleteیاسر : جناب آپ بھی لکھ ڈالیے زومبی کی خصوصیات۔ :k:
وقار : خاصیت نمبر دس کا اطلاق کم از کم ان پر نہیں ہوسکتا جو زومبیوں کو پہچان لے۔ :f:
حجاب : شاباش!! آپ کے گرد تو جن بھوت ہوں تو ہوں۔ وہاں زومبی کہاں۔ :wink:
ہمیں نہ تو مدافعت سے کوئی مسئلہ ہے اور نہ ہی کسی کا اپنے لئے گنجائش نکال لیا کرنے سے ۔ ہاں اگر کوئی یہ کہے کہ "اپنے لئے مدافعت یا گنجائش نکال لیا کرنے کا حق صرف مجھے ہے" تو ہم پولائٹسٹ پاسیبل وے میں اعتراض کر دیا کرتے ہیں ۔
ReplyDeleteاس پوسٹ کا عنوان دیکھ کے یوں لگا تھا جیسے کسی جنگلی مخلوق کے بارے میں بیان ہوگا لہٰذا آگے پڑھنے سمجھنے کی کوشش ہی نہ کی یا پھر زومبی کی طرح سوئی ایک ہی جگہ یعنی جنگلی مخلوق پر اٹک گئی :-? تو ٹھیک سے سمجھ ہی نہیں آئی پوسٹ ۔۔ ابھی دوبارہ پڑھنے پر شکر ہے پلے پڑ ہی گئی ۔۔ :roll:
ReplyDeleteسنکی : اگر میں نے زومبیوں کی اقسام گنوائی ہوتیں تو آپ کا اعتراض بجا تھا۔ لیکن میں نے تو صرف خواص گنوائے ہیں۔ اگر آپ کے خیال میں یہ خواص نامکمل ہیں تو آپ مکمل کر ڈالیے۔ دیکھتے ہیں کہ کس کس کا احاطہ ہوتا ہے۔ :d:
ReplyDeleteسارہ : زومبی بھی ایک طرح کی جنگلی مخلوق ہی ہے۔ آپ ٹھیک ہی سمجھی تھیں۔ :wink: بلاگ پر خوش آمدید! :m:
ہم نے تو جی اپنے پہلے ہی تبصرے میں اپنے آپ کو ایکسکلوڈ کیئے بغیر ذامبیز کو ڈیفائن کردیا تھا ۔ اب تو ہمیں بھی آپ کی دیکھی ہوئی اس فلم میں انٹرسٹ ہوگیا ہے کہ کچھ لوگ اگر ذامبیز نہیں ہیں تو کیونکر بھلا ۔ فلم کا نام بتائیں، پلیز ۔
ReplyDeleteکچھ تبصروں میں زومبیوں والی ہٹ دھرمی بھی نظر آئی. اب تو مجھے بھی جاہل اور سنکی صاحب کے مندرجہ بالا تبصرے کے بعد اشتیاق پیدا ہو گیا ہے کہ ذومبیوں والی یہ فلم دیکھی جائے.
ReplyDeleteکیا نام ہے اس فلم کا عثمان؟ کب ریلیز ہوئی؟
حضرات!
ReplyDeleteیقین جانئے کہ زومبیت پر تحقیق کے جملہ حقوق ہمارے نام محفوظ نہیں۔ یہ تو ایک عام مرض ہے۔ آپ بھی آگے بڑھیے اور اس کے خلاف تحقیق میں اپنا حصہ ڈالیے۔ بس غور کرنا ہے۔ مرض خود بخود رفع ہوتا چلا جائے گا۔ :-D
یقینا ذامبیز وہی نہیں ہونگے جو ذامبیز بناتے ہونگے یعنی کے ایوالونگ پیراسائٹک وائرسز ۔ ایوالونگ پیراسائٹک وائرسز بھی تو نئے قسم کے ایسے ذامبیز بنائیں گے جنہیں صرف پرانے ذامبیز ہی ذامبیز نظر آئنگے اور وہ پرانے ذامبیز کو آئیسولیٹ کرنے کا مطالبہ بھی کرینگے ۔ نئے ذامبیز اسلئے سمارٹ ہونگے کہ ابھی وہ اپنے ہوسٹ وائرس کی بدنامی کا سبب نہیں ہونگے ۔ جب ہوسٹ وائرس کی بدنامی کا سبب بنیں گے تو آئیسولیٹ بھی کردیئے جائنگے اور مور امیونڈ ذامبیز سے ریپلیس بھی ہو جائنگے ۔ اب پیراسائٹک وائرس کا کام ہے کہ وہ پھر سے ایوالو کرے اور امیونڈ ذامبیز سے ایسے نئے ذامبیز بنائے جنکو صرف پرانے ذامبیز ہی ذامبیز لگیں مگر وہ ہوسٹ وائرس کو نہ پہچان سکیں ۔
ReplyDeleteمگر جناب اس فلم کا نام تو بتلا دیجئے. ہمیں آپ کی بات پر شک کرنے کا کوئی حق حاصل نہیں، مگر اس فلم کو دیکھنے کے بعد ہی کوئی غور و فکر سے تحقیق کے بعد اس مرض کو رفع کرنے کا کوئی شافی علاج سامنے آ جائے.
ReplyDeleteآپ رہنمائی تو کریں نا ہماری، فلم کا نام تو بتلا دیجئے. آپ کی مشکل آسان ہو بھی سکتی ہے.
منیر عباسی :
ReplyDeleteزومبی فلم ہے دنیا میرے آگے
ہوتا ہے شب و روز ڈرامہ میرے آگے
یہ فلم ہر جگہ موجود ہے۔ نام کی اہمیت نہیں کہ ہر ہدایت کار کی اپنی ایک ورائٹی ہے۔ بس خواص ہی ہیں جو یکساں ہیں اور پہچان کا کام دیتے ہیں۔ :d:
سنکی : اب آئے آپ ذرا ذرا لائن پر۔ارتقاء ہی تو ہے ہر طرف۔ ارتقاء اور تغیر۔ کیا دنیا اس کے بغیر قائم رہ سکتی ہے؟ جہاں ارتقاء ہے وہ چیز آگے بڑھ رہی ہے۔ جو رک گئی ، جامد ہوگئی۔۔۔کام سے گئی۔ :star:
جہاں وائرس کو کریئیشن کی سپورٹ ہے وہیں ذامبیز کی ایمیونیٹی بھی ایوولیوشن کے دم سے ہے ۔ اب اس جنگ کے ذیادہ لینتھی ہونے کے امکانات کم ہیں جی ۔
ReplyDeleteبہت زبردست عثمان مگر جن کے لئے تم نے یہ تحریر لکھی ہے ان کے چھ فٹ اوپر سے گزر گئی یہ ذومبیز کو سارے جہاں میں تلاش کرنے نکل پڑے مگر انھیں کہیں نہ ملا اور نہ کسی نے ان سے یہ کہہ کر تعارف کرایا کہ میں ذومبی ہوں کسی نے یہ زحمت نہیں کی کے اپنے اندر تلاش کرتے اگر ایسا کرتے تو کئی ذومبیز مل جاتے مثلا ً مذہبی ذومبی علاقائی ذومبی لیسانی ذومبی فرقہ ورانہ ذومبی وغیرہ وغیرہ
ReplyDeleteسنکی : زومبیت کے خلاف جنگ جاری ہے :!:
ReplyDeleteنغمہ سحر : یہی تو بات ہے۔ تلاش کرنے کے لئے اُنھیں غور کرنا پڑتا۔ اور پھر جس نے غور کیا ، وہ زومبی نہ رہا۔ :d: ویسے آپ نے زومبی کی اقسام خوب گنوائی ہیں۔ اس پوسٹ کی دوسری قسط آپ کے ذمہ ۔ :-P
ذومبیت ایسے ہی نہ گئی، گئی بھی تو مینوپلیشن کو ساتھ لیکر ہی جائیگی اور اسکے بعد ایوولیوشن بھی میننگلیس ہوجائیگی ۔
ReplyDeleteاس 'خاص' بوریت سے مستفید کرانے کا شکریہ (:
ReplyDeleteزومبیز کو مغز کی تلاش ہے، آپ کو پریشانی کی ضرورت نہیں :)
ReplyDeleteیہ ازراہ تفنن کہا ہے، دل آزاری مقصود نہیں لہذا امید ہے برا نا مانیں گے۔ جامد تقلید پر تیکھا مضمون ہے پر خوب لکھا ہے، شکریہ
عامر شہزاد : شکریہ
ReplyDeleteعدنان مسعود: ستائش کے لئے بڑا ممنون ہوں۔ :)
زومبیوں کی تفصیلی تعریف کے لئے شکریہ ، اب میں زومبیوں کو زومبی کہوں گا تو اس پر ان کے ذہن پر کونسی کونسی شبہیں ابھریں گیں ؟ تفصیل درکار ہے.
ReplyDeleteوسلام
طالوت : زومبیوں کو زومبی کہلوانے پر اپنی شبیہ ہی تصور میں آئے گی۔ :grin:
ReplyDelete