1 November 2010

باتاں

میں جب کبھی یار لوگوں کو بتاتا کہ بھئی "بھلے وقتوں" میں دودھ سترہ روپے لٹر مل جاتا تھا۔ آنڈے تو ہمارے وقت میں بس چوبیس روپے درجن تھے۔ اور یہ چینی چین کے علاوہ ادھر پاکستان میں بھی پائی جاتی تھی۔ یار لوگ اس سے منہ مِٹھا کرتے تھے۔
تو یار لوگ دیدے پھاڑ کر منہ تکتے کہ تو تو ہمارے دادے کے زمانے کا لگتا ہے۔
انھیں بتانا پڑتا کہ بھئی پاکستان کبھی جانا نہیں ہوا اس لئے کچھ اندازہ نہیں کہ وہاں کیا نیر چل رہا ہے تو پھر ایک نوی مصیبت
" تو کینیڈا میں لیگل تو ہے نا؟"
لہذا اس رنگ بازی سے جان چھڑانے کے لئے میں نے کچھ عرصہ پہلے ایک مصنوعی گوشوارا تخلیق کرڈالا۔ جس میں میرے وقتوں کی قیمتوں کو سیانے کی ہدایت پر دو سے ضر ب دے کر قیمت حاضرہ حاصل کی گئی تھی۔
پر اب سنا ہے کہ سیلاب نے سب کی نہائیاں نہائیاں کروا دی ہیں۔سب کے بیڑے ترگئے ہیں۔ سیانے کا نیا گوشوارا بھی اب - E - کا میسیج دیتا ہے۔ حالات اتنے دگرگوں ہیں کہ یار لوگ اپنی مدد آپ کے تحت سبزی منڈی اگا رہے ہیں۔
یہاں سکھ ایسے کام دیکھاتے ہیں۔ اچھے بھلے علاقے میں اچھا سا مکان خریدیں گے۔ اور اس کے بیک یارڈ کو سبزیوں سے بھر دیں گے۔ اب ظاہر ہے اس میں باغیچے والی خوبصورتی نہیں رہتی۔ ارد گرد کے لوگ ناک چڑھاتے ہیں۔ نئے لوگ وہاں شفٹ ہونے سے گھبراتے ہیں۔ اور ان علاقوں میں مکان کی قیمت گرتی چلی جاتی ہے۔ کچھ سکھ حضرات اپنے بیک یارڈ کھیت میں باوا بھی لگا دیتے ہیں۔ اور اس کے سر پر اپنا کیس تا کہ سکھ اور سک کے اس نمونے سے ہیلوئین کا تاثر ابھرے اور کچھ بھرم رہ جائے۔
اب تو میں اپارٹمنٹ میں رہتا ہوں اس لئے باغیچہ کی نعمت میسر نہیں۔ لیکن پردیسی لوگ سٹائل رکھتے ہیں۔ اس لئے اپارٹمنٹ میں بھی ایک سولیریم ہوتا ہے۔ کہ وہاں پھول بوٹے لگائیں اور بید کی کرسیاں میز ڈا کر چائے کافی نوش فرمائیں۔ لیکن پاک لوگ ادھر بھی فنکاری مارتے ہیں۔ کمپیوٹر اور صوفہ کم بیڈ گھسا دیتے ہیں۔ کسی سے پوچھو کہ بھئی کتنے کمروں کا اپارٹمنٹ ہے؟۔۔۔" ساڑھے تین"۔
لاہور والے گھر میں ایک اوسط رقبہ کا باغیچہ تھا۔ اور پورے محلے میں ہمارا ہی گھر تھا جس کا باغیچہ تھا۔ کہ جن وقتوں میں والد صاحب نے مکان لیا تھا پور محلہ ہی باغیچہ تھا۔ پھر ہر ماجے گامے نے وہاں شفٹ ہونا شروع کردیا۔ آنے سے پہلے صورتحال یہ تھی کہ سبزہ یا تو ہمارے باغیچے میں تھا یا کچھ لوگوں کے سروں پر جن کا تذکرہ میں نے اپنی ایک پوسٹ میں کیا تھا اور چونکہ ان کے ہمدرد یہاں گرمی کھائیں گے اس لئے بار بار تذکرہ مناسب نہیں۔

ہاں تو میں کیا کہہ رہا تھا؟
باغیچہ۔۔۔

تو ہمارے باغیچے میں یا تو پھول تھے یا تین چھوٹے چھوٹے درخت۔ جن پر پھول شول کھلتے رہتے تھے۔ ایک وہ پودا بھی تھا جس کا نام یاد نہیں رہا۔ لیکن بقر عید پر بکرا اسے چبا ڈالتا تھا اور پھر مرچوں کی شدت سے پورے باغیچہ اور ملحقہ گیراج میں ناچتا پھرتا۔ بہت بعد میں ہم نے لیموں کا پودا بھی لگا دیا۔ یہ واحد پھل یا سبزی دار پودا تھا۔ ہر سال دو سو لیموں دے جاتا۔ جس کو نچوڑ کر کیوب جما کر فریز میں محفوظ کر لیتے۔ اور پھر سارا سال اس کی سکنجبین۔بچپن میں بہن بھائیوں سے جب کبھی لڑائی ہوتی تو ان کی چیزیں لے کر اس باغیچے میں دفنا دیتا۔ رات کے وقت باغیچے سے خوف آتا کہ ابھی آواز آئے گی۔۔۔"دھم"۔۔۔وہ جیسے جاسوسی ناولوں میں ہوتا ہے۔
باغیچہ اگر اچھی حالت میں مزین ہو تو اس کا ایک فائد یہ ہے کہ علاقے کے لوگوں پر خوامخواہ رعب شوب پڑتا ہے۔اس سہولت سے ہم نے بہت فائد اٹھایا ان زمانوں میں بھی جب سکول کی فیس دینے کی فکر والدین کو ستاتی تھی۔بندے کے پاس ہور کچھ رہے نہ رہے۔ باغیچہ ضرور رہنا چاہیے۔سٹائل رہتا ہے۔

26 comments:

  1. رواں، ہلکی پھلکی اور مزےدار تحریر ہے.

    ReplyDelete
  2. سبزہ، کل میرے معدے میں ہو گا (ساگ)
    کچھ لوگوں کے بھیجے میں بھی ہوتا ہے۔ نام لونگا تو لوگ گرمی کھائیں گے۔

    ReplyDelete
  3. اطمعنان ہی اطمعنان ہے جی ۔ لگتا ہے کہ گسہ نکالنے میں کامیابی کا چرچا کیا جا رہا ہے ۔

    ReplyDelete
  4. آپکے بلاگ مُجھے لاہور پہنچادیتے ہیں ، سکنجبین پینے اور مٹھے چوسنے کا ذائقہ ۔۔۔۔ یاد آرہا ہے - فری میں لاہور پہنچانے کا - بہت شکریہ

    ReplyDelete
  5. آپ نے فرمایا،
    ہاں سکھ ایسے کام دیکھاتے ہیں۔ اچھے بھلے علاقے میں اچھا سا مکان خریدیں گے۔ اور اس کے بیک یارڈ کو سبزیوں سے بھر دیں گے۔

    یہ جو پچھلا صحن ہوتا ہے انگریزوں کے یہاں بھی اس کا مقصد سبزی اگانا ہی ہوتا ہے. وہ اسے کچن گارڈن کہتے ہیں. جو جو ممالک انکی کالونی رہے وہاں انکی دیکھا دیکھی یہ بات آگئ. انکی کالونی کا ایک حصہ ہم بھی رہے ہیں. اس لئے مجھے آپکی یہ بات سکھوں کے حوالے سے پڑھ کر حیرت ہوئ. میرے ایک رشتے دار اسکاٹ لینڈ میں رہتے ہیں. اور وہ اپنے پودوں کے لئیے پتوں کو گلا سڑآ کر قدرتی کھاد بھی خود تیار کرتے ہیں. ایک اور فیملی فرینڈ جو امریکہ میں ہیں انکا کہنا ہے کہ وہ اپنی ضرورت کی سبزیاں خود اگاتے ہیں. اس سلسلے میں نیٹ پہ سب سے معلومات اور بلاگز بھی مغربی فرسٹ ورلڈ ممالک کے ہی زیادہ ہیں.
    خیر، ہماری اماں کے بے انتہا مشاغل میں سے ایک درختوں کا شوق بھی ہے. ہمیشہ سے ہمارے گھر میں ہی نہیں خاندان کے دیگر گھروں میں بھی موتیا اور رات کی رانی کا ایک ایک جھاڑ ضرور رہا . میرے بچپن کا گھر محض ڈیڑھ سو گز پہ مشتمل تھا. لیکن اس کا چھوٹا سا صحن درختوں سے ڈھکا رہتا تھا. میں جب نو دس سال کی تھی تو امی نے مجھے گھر کے باہر ایک بڑی سی کیاری بنا دی تھی. اس میں ، میں نے سرسوں اور گاجر تک اگائ تھی. میری اس کیاری کی دیکھا دیکھی پورے محلے میں کیاریاں بن گئ تھیں. کیا خوبصورت دن تھے.

    ReplyDelete
  6. 365 دن میں 200 لیموں اور پورا سال سنکجبین ۔۔ اچھا اچھا باقی کے 165 دن گلا بھی خراب ہو جاتا ہوگا ۔۔ اور باغیچہ میں صرف 3 چھوٹے چھوٹے درخت ؟؟؟ اور جو چیزیں آپ نے دفنائیں ۔۔ اُن کا کوئی پودا نکلا کبھی ؟؟ :-P

    ReplyDelete
  7. جعفر : شکریہ :-D

    بدتمیز : سبز و شادابی دل و دماغ کے لئے بہترین ہے۔ :mrgreen:

    سنکی : یار میں کوئی بلاگی سوپ سیریل لکھ رہا ہوں؟ رات گئی بات گئی۔ :wink:

    ایم ڈی : یعنی کھٹی میٹھی یادیں۔ :-D

    عنیقہ ناز : شمالی امریکہ میں کچھ اس طرح ہے کہ اگر آپ شہر سے باہر کسی مضافاتی قصبے یا کنٹری سائیڈ یعنی دیہات وغیرہ میں رہتے ہیں۔ اور آپ کا گھر بھی کافی بڑا ہے تو وہاں اپنے لان کے ایک حصے کو لوگ اس طرح ترتیب دے لیتے ہیں کہ کچھ پھل یا سبزیاں اگائی جاسکیں۔تاہم یہ سب کافی پلاننگ سے ترتیب دیا جاتا ہے۔ ان کا یہ بیک یارڈ ، پاتیو اور لان کے علاوہ ہوتا ہے۔ :m:
    تاہم اگر آپ شہروں میں آجائیں تو اس بات کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ وہاں آپ کو پھول بیلیں اور چھوٹے درخت ہی نظر آئیں گے۔ کسی کونے میں کوئی پھل دار درخت نظر آجائے کچھ اس طرح کہ لان یا پاتیو کے مجموعی حسن میں کمی نہ لائے تو بات ہے۔ ورنہ آپ یہ کبھی نہ دیکھیں گی جس کا ذکر آپ نے کیا ہے۔ :s:
    سکھ حضرات میں سے جن کا تعلق دیہات سے ہوتا ہے وہ خاص طور پر اس طرح کے کام دیکھاتے ہیں۔ اپنے لان اور پاتیو کی زمین کو اپنے کھیت کی طرز پر استعمال کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ سکھوں میں وہ لوگ جو چندی گڑھ جیسے ماڈرن شہر سے آتے ہیں وہ کبھی یہ نہیں کریں گے۔ بلکہ اپنے لان کو لان کے طور پر ہی استعمال کریں گے۔
    آپ نے انگریزوں کا ذکر کیا۔ ہندوستان میں انگریز کئی کئی کنال کے محلات میں رہتے تھے۔ جن کا طرز زندگی کافی فرق تھا۔شہر کے گنجان علاقوں میں چند سو گز پر بنے گھروں کی ڈیکوریشن الگ ہوگی۔ :!:

    حجاب : ہاں درخت کی تعداد سوچ سمجھ کے رکھنی چاہیے زمین کی بجائے لان کے مجموعی حسن کو مدنظر رکھنا اولین ہے۔ جو چیزیں دفنائیں وہ نہ مل سکیں۔ ان کا پودا کہاں سے نکلتا۔ :s:

    ReplyDelete
  8. Error: please fill the required fields (name, email).
    یہ دو دفعہ آیا ہے ۔۔۔ میں نےا تنا کچھ لکھا تھا ۔۔۔۔ اب تو یاد بھی نہیں رہا کہ کیا لکھا تھا ۔۔۔ خیر جب تحریر کو پڑھا تو بہت اچھا لگا ۔۔۔ میں سمجھی رات ہی رات مین ملک کے حالات بہت اچھے ہو گے ہیں ۔۔۔ لیکن جب پڑھتے پڑھتے غور کیا تو معلوم پڑا کہ عثمان نے سمندر کی ریت پر یہ تحریر لکھی ہے ۔۔۔۔جس کو سمنبدر کی لہریں آتے جاتے مدم کرتی جا رہی ہین ۔۔۔۔ عثمان اب سمندر پر جانا چھوڑ دو یا پھر اس قسم کی تحریر

    ReplyDelete
  9. تانیہ جی ،
    شائد کوئی وقتی خرابی پیش آئی ہوگی۔ یا پھر بلاگ آپ سے ناراض ہوگیا ہوگا۔ :aaa:
    اور ہاں ، سمندر پر جانا کیسے چھوڑ سکتا ہوں جی ؟۔۔۔وہاں تو بہت ضروری کام کرنے ہوتے ہیں نا۔ جیسے بلاگ کو قارئیں چاہیے ویسے حسینوں کے بھی حسن بین چاہیے۔ :love:

    ReplyDelete
  10. ہمم، انڈیا میں ، میری سارا ددھیالی خاندان موجود ہے. دیہات سے ہٹ کر میرے چچا کا شہر میں خاصہ بڑا گھر ہے. میں اپنے بچپن میں وہاں گئ تھی. انکا اگلا لان بے حد خوبصورت تھا. اسکی گھاس کی کٹائ بھی خاص پیٹرن میں ہوتی تھی جو میں نے کہیں اور نہیں دیکھی. لیکن انکا کچن گارڈن بھی کم از کم تین سو گز کے رقبے پہ ہوگا. جس میں ہر سبزی کے لئے علیحدہ کیاری بنی ہوئ تھی. کئ درخت تو امرود کے ہی تھے. اب میری ایک قریبی رشت دار جو کہ آسٹریلیا کے شہر وولنگانگ میں رہائش پذیر ہیں. یہ سڈنی کے پڑوس میں ہے. اپنےبیک یارڈ میں سبزیاں اگانے کی مہم پہ ہیں. کراچی میںزیادہ تر گھروں میں جہاں جگہ ہو کم از کم ایک پھلدار درخت ضرور ہوتا ہے. اور لوگوں کے اپنے طور پہ انفرادی تجربے کرنے کی وجہ سے ایسے پھلدار درخت یا پودے بھی نظر آجاتے ہیں جو ملکی یا مقامی نہیں ہوتے. حتی کہ ڈیفینس جیسے پوش علاقوں میں لوگ پھل اور سبزیاں اگانے کے تجربے کر رہے ہیں. تودیہات کے علاوہ یہ ٹرینڈ شہروں میں بھی پایا جاتا ہے. میں تو پھلوں اور سبزیوں کے پودوں کو اتنا بد صورت نہیں سمجھتی. میرے گھر کے پچھلے حصے میں بیل کا درخت ہے. اسکا پھل بڑا مخصوص ذائقہ رکھتا ہے. بہت کم لوگوں کو پسند آتا ہے. گھر میں کوئ نہیں کھاتا، کئ بار یہ مہم چلی کہ اسے کٹوا دیا جائے مگر ہر بار، میں اسکی شدید مخالفت کرتی رہی. حالانکہ میں نے اسکے پھل کو کبھی چکھا بھی نہیں. اسکی خوشبو ہی مجھے نا پسند ہے. شاید یہ وہ واحد پھل ہوگا جو مجھے ناپسند ہے. لیکن میں اسے کٹتا ہوا نہیں دیکھ سکتی. کیا ہوا بے چارہ ایک کونے میں کھڑا ہے. پھل تو دیتا ہے. :f:
    میرا خیال ہے کہ تھوڑا سا پودوں کو تراش خراش کر اور دھو دھلا کر رکھا جائے تو اچھے لگتے ہیں چاہے پھلدار اور سبزی کے ہوں. ایک اور راز کی بات بتائووں جس چیزکو غریب یا متوسط طبقہ ، امراء کی نقل میں کرنا چھوڑ دیتا ہے اور حقیر سمجھنے لگتا ہے. امراء اسی چیز کو ذرا مختلف مرکزی خیال کے ساتھ کرنا شروع کر دیتے ہیں اور اسٹائل بناتے ہیں. :n: جیسے امیر ممالک میں آرگینک پھل اور سبزیاں کیا ہوتے ہیں جو عام پھلوں اور سبزیوں کے مقابلے میں مہنگے ملتے ہیں. یہاں میں اپنی بات پہ ختمہ لگاتی ہوں.

    ReplyDelete
  11. عثمان ، آپ کی حسِ مزاح کہاں سوئی ہوئی ہے جگائیں اُس کو ۔۔ آپ کو تو یہ بھی نہیں پتہ کہ ٹافیاں اگر زمین میں دبا دی جائیں تو اُن کا پودا بھی نکلتا ہے ۔۔ مگر ایسا خواب میں ہوتا ہے وہ بھی بچپن میں :-P ایک آپ ہیں فٹ سے لکھ دیا وہ چیزیں نہیں ملیں پودا کہاں سے نکلتا :roll:

    عنیقہ ۔۔ بیل پر پسی ہوئی مرچ ، نمک اور تھوڑی سی چینی ڈال کر کھانے میں بہت مزا آتا ہے ۔۔ ویسے میں نے کبھی بیل کا درخت نہیں دیکھا آپ اُس کی تصویر پوسٹ کریں ناں :a:

    ReplyDelete
  12. عنیقہ ناز : چلئے میں اس بات پر اصرار نہیں کرتا کہ دنیا بھر میں اس بارے میں کیا رحجانات ہیں۔ میں صرف اپنی پسند ہی بیان کروں گا۔ یہی کہ اگر کوئی پودا خوبصورت پھول دیتا ہے۔ یا اس کے پتے خوش نما ہیں یا یہ کہ پودا کٹاؤ کے بعد خوبصورت تصویر پیش کرتا ہے تو اس کی جگہ گھر میں موجود باغیچے میں خوب بنتی ہے ورنہ نہیں۔ درخت بھی میں وہی پسند کروں گا جو منظر میں اور بھی خوبصورتی اور رومانیت بھردے۔ :a:
    کیا خیال ہے۔ کس میں رومانویت ہے۔ آم اور پیپل کے درختوں میں۔۔۔ان کے تنے پر کھدے نام۔۔۔ جن پر مدتوں تک آپ انگلیاں پھیرتے رہیں۔۔۔
    یا توریوں اور کھیرے کے پودوں میں جن کا اثر ان کے ہضم ہونے سے پہلے ہی سرد ہوجائے ؟
    کس کی یادیں آپ کے ساتھ عمر بھر رہیں گی ؟ :y:
    باغیچے کی خوبصورتی اولین ہے۔ خیر اسکی تعریف اور ذوق بھی ہرشخص کا اپنا ہے۔ 8)

    حجاب : خوب کہا ! :b: لیکن دراصل میں حیران رہا کہ مجھے دبائی ہوئی چیزیں کیوں نہ مل سکیں ؟ باوجود اس کے کہ میں نے بعد میں کئی جگہ کھود کر نکالنے کی کافی کوشش کی ؟ ان کے درخت شائد خواب ہی میں بن سکتے تھے۔ لیکن "بیج" حقیقت میں غائب ہوگئے۔ :?:

    ReplyDelete
  13. ارے عثمان وہاں کیا حیسناوں کی بات کرتے ہیں ۔ اب تو سمندر میں مچھلیاں ہی ہوں گی ۔۔۔۔ چلو اچھا ہے ایک اور فاہدہ بھی ہے سمندر جانے کا ۔۔۔۔۔ اور ہاں بلاگ ناراض ہو سکتا ہے ۔۔۔۔۔ کیونکہ انسان کے ہاتھ سے ہی چلتا ہے ۔۔۔اور انسان کا کیا بھروسہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کب ۔ کہاں ۔ کیوں ۔۔۔۔ ؟؟؟

    ReplyDelete
  14. اچھا تو آپ کا تعلق بھی لاہور سے ہے ، خوشی ہوئی جان کر

    باغیچہ کا اچھآ نقشہ کھینچا ہے اور مجھے میں اپنے گھر کے چھوٹے سے باغیچہ کی یاد دلا دی جس میں ہم کرکٹ کا شوق پورا کر لیا کرتے تھے پھر حالات کے ساتھ نہ کرکٹ رہی نہ وہ درختوں بھرا باغیچہ

    ReplyDelete
  15. دیکھیں میں نے تو بات ختم کر دی تھی مگر آپ نے پوچھا کس کی یادیں ساتھ رہیں گی. تو اس تورئ کی بیل کی جسکے پھل میں اپنی بیٹی کے ساتھ توڑونگی. اس وقت بھی جتنی خوشگوار یادیں درختوں سے وابستہ ہیں. ان میں نیم، بکائن، آم، جامن، شہتوت، انگور، امرود، کیلے اور لیموں شامل ہیں. دیکھیں اس میں چمپا، گلاب ، موتئیے، اور رات کی رانی کا تذکرہ بھی نہیں.
    :d:
    کچھ لوگوں نے گلاب وغیرہ کے پھول دئیے مگر سب بازار سے خریدے ہوئے تھے. جن سے گلاب جیسی یادیں وابستہ ہیں انہیں کبھی پھول دینے کی توفیق نہ ہوئ.
    :m:

    ReplyDelete
  16. محب علوی : بلاگ پر خوش آمدید ! :-D

    عنیقہ ناز : مجھے یقین ہے کہ آپ کے لان میں کیکٹس کا پودا ضرور ہوگا۔ :c: جہاں تک گلاب کی بات ہے وہ میں پیش کردیتا ہوں۔ امید ہے یاد رہوں گا۔ :-P :m: :m: :m: :m: :m: :m: :m: :m:

    ReplyDelete
  17. آپکا یہ یقین بالکل درست ہے۔ میرے پاس اچھے خاصے مختلف اقسام کے کیکٹس موجود ہیں۔ کیکٹس سال میں ایک دفعہ پھول دیتے ہیں مگر یہ بہت خوبصورت اور اکثر بڑے نازک ہوتے ہیں۔ یہ ایسے ہوتے ہیں کہ مزید ایک سال انکے لئے انتظار کیا جا سکتا ہے۔ :wink:
    آپکے پیش کردہ پھولوں میں اور بازاری پھولوں میں کیا فرق ہے واضح کیا جائے۔ :n:

    ReplyDelete
  18. بازاری پھول بازاری قسم کے ہوتے ہیں۔ دینے والے کی کوئی غرض ہوتی ہے یہی وجہ ہے کہ ان میں کوئی خوشبو نہیں ہوتی۔
    جبکہ ان پھولوں کی کوئی قیمت ہے نہ دینے کی کوئی غرض۔ کتنے شاگرد ہیں جو استانی کو پھول دیتے ہیں ؟ :l:

    ReplyDelete
  19. :lol:
    کل ہی میں نے اپنی بیٹی کو بتایا کہ اگر وہ اپنی ٹیچر کو کوئ پھول خود سے بنا کر اور اس میں رنگ بھرکر انہیں تحفے میںدے تو وہ سرپرائز ہو جائیں گی. اسکے چہرے کی چمک نے بتایا کہ اسے یہ آئیڈیا خاصہ پسند آیا. سو ایک شاگرد یہاں بھی ہے. کیا خیال ہے میں اسکی صحیح تربیت کر رہی ہوں. :d:

    ReplyDelete
  20. شاگرد کی کارکردگی اور تربیت کیسی جارہی ہے اس کا فیصلہ تو استاد کرتا ہے۔ :-D

    ReplyDelete
  21. عثمان، یہ اس بلاگ کی تھیم کل کچھ اور تھی اور آج پھر پہلے والی ہی ہے...ایسا ہی ہے یا میرا براؤزر کچھ گڑبڑ کر رہا ہے؟ :roll:

    ReplyDelete
  22. ہاہاہا۔۔۔
    آپ کا براؤزر بلکل ٹھیک ہے۔ میں دراصل ایک نئی تھیم کے ساتھ کچھ تجربات کررہا تھا۔ مشغلے کے طور پر تھیم کو چھیڑتا رہتا ہوں۔ :z:

    ReplyDelete
  23. یار یہاں میں نے بھی ایک تبصرہ ٹھوکا تھا وہ کہاں غائب ہوگیا؟

    ReplyDelete
  24. میرا خیال ہے وہ تبصرہ ہی ٹھک گیا ہے۔ :z: سپیم میں بھی نہیں ہے۔ شائد کوئی عارضی خرابی ہوئی ہو۔

    ReplyDelete
  25. یادوں کی گرد سے آپ نے باغیچہ بھی خوب ڈھونڈ نکالا ہے ۔ ہمارے گھروں میں عموماً آنگن ہوا کرتا تھا ۔ جہاں باغیچہ خود بہ خود اپنی جگہ بنا لیتا تھا ۔ رات کی رانی ، موتیے کی خوشبو رات کو آنگن سے ہوتی ہوئی کھڑکیوں کے ذریعے کمروں میں داخل ہوتی تو طبعتوں میں عجیب سا سرور داخل ہوجاتا تھا ۔ خصوصاً بارشوں میں جب ہر پودا اور درخت دھل کر نکھر جاتا تو باغیچہ نیا نیا سا لگنے لگتا تھا ۔ عہدِ ماضی کی یادیں ہیں ۔ آپ نے بھی کیا یاد دلا دیا ۔ اب تو نہ آنگن ہے ، نہ باغیچہ ۔ بس وہ کچھ کمرے باغچیے کی قبر پر تعمیر کرلیئے گئے ہیں ۔

    ReplyDelete
  26. ظفری صاحب ۔۔
    صرف گھروں میں ہی نہیں۔۔پاکستان میں تو ہر سرسبز جگہ کاٹ کر تعمیرات کھڑی کرلی گئی ہیں۔ شہروں میں تو سبزہ شاذونادر ہی ملتا ہے۔
    بلاگ پر آمد اور اپنی یادیں شئیر کرنے پر بہت مشکور ہوں۔ :-D

    ReplyDelete