اگر راہ چلتے آپ کا واسطہ کسی بھونکتے کتے سے پڑ جائے تو آپ کیا کرتے ہیں؟ اسے نظر انداز کرتے ہیں یا پیچھے مڑ کر اسے جواب دیتے ہیں؟ اور پھر خبر کیا ہے؟ کتے کا بھونکنا یا پھر آپ کا مڑ کر جواب دینا؟ اگر کل تک ہزار لوگ اس سے واقف تھے تو آج پوری دنیا اس سے واقف ہے- بندہ پوچھے پاکستان کو فیس بک پر پابندی لگا کرکیا ملا؟ الٹا کارٹون بنانے والوں کی ناصرف مشہوری کرائی بلکہ ان کے مزموم مقاصد کو تقویت پہنچائی- اور پوری دنیا میں اپنا تمسخر بھی بنوایا۔
لوگ کہتے ہیں کہ پھر کیا جائے؟۔ ۔ ۔ جناب! بہتر طریقہ علاج تو یہی تھا کہ کارٹون بنانے والوں کے ساتھ بھونکتے کتوں ایسا سلوک کیا جاتا- یعنی انھیں بلکل ہی نظر انداز کردیا جاتا- وہ خودہی رولا ڈال کر چپ ہو جاتے- پابندی لگا کر ہم نے انھیں ضرورت سے ذیادہ لفٹ کرائی ہے اور وہی کر ڈالا جو وہ چاہتے تھے یعنی ہمیں چڑانا جس میں وہ پوری طرح کامیاب رہے۔
ایسا ہی ایک کارنامہ ہم ملعون ڈینیش اخبار کے ساتھ بھی کر چکے ہیں- وہ اخبار جسے بمشکل دوسو افراد ہی پڑھتے ہو ں گے، اس کی شہرت ہم نے پوری دنیا میں پھیلا دی- پھر جو نہیں بھی اس مزموم حرکت میں شریک تھا وہ بھی اس زلیل حرکت میں شامل ہو گیا- اور ہم بیٹھے اپنے ہی شہروں میں توڑ پھوڑ کرتے رہ گئے۔
سلمان رشدی جیسے اوسط درجے کے لکھاری کو جسے ہندوستان سے باہر کوئی گھاس نہیں ڈالتا تھا، ہم نے پوری دنیا میں مشہور کروا ڈالا- ایک معولی لکھاری کی کوئی اہمیت تھی نہ ہی اس کا توہین رسالت کرنا کو ئی اہم خبر تھی- تاہم خمینی صاحب سے تو پوری دنیا واقف تھی- رشدی کے خلاف فتوہ داغ کر موصوف نے اسے پوری دنیا میں شہرت دے دی- آج کل لندن، امریکہ میں بیٹھ کر مسلمانوں کو دعائیں دیتا ہو گا۔
سوال یہ ہے کہ کیا ہم رشدی، ڈینیش اخبار یا فیسں بک کو کو ئی دو ٹکے کا بھی نقصان پہنچا سکے؟ یا الٹا ان کے گھناؤنے مقاصد کو تقویت اور اپنی ہنسی اڑواتے رہے- ایکشن ضرور لیجیئے۔ لیکن وہ قدم اٹھائیے اور وہاں تک اٹھایئے جہاں مخالفین کو نقصان اور ہمیں فائدہ پہنچے- سلمان رشدی سے بھارتی عدالت میں ہی نبٹا جا سکتا تھا۔ ڈینش اخبار کا تنازع ڈنمارک تک رکھنا ہی مناسب تھا- اور فیس بک کے معاملے میں مزکورہ صفحے پر خامو شی سے پابندی لگا کر معاملہ رفع دفع کیا جا سکتا تھا- لیکن آفرین ہے ہم پر کہ ہر کام کو بگاڑنے کے ہم عادی ہیں- جانے جزبات کی بجائے عقل سے کام لینا ہم کب سیکھیں گے؟
درست کہ انسان کو کتا نہيں بننا چاہيئے
ReplyDeleteمجھے ای ميلز آيا کرتی تھيں کہ "فلاں ويب سائٹ بری ہے ۔ سب دوستوں کو اطلاع کريں"۔ ميں نے بجائے مزيد دوستوں کو مطلع کرنے کے واپس ای ميل بھيجنے والے کو لکھا کہ "کيوں اس ويب سائٹ کی مشہوری کر رہے ہو"۔
موجودہ سلسلہ ميں اگر قدم اٹھانا تھا تو حکومت کو چاہيئے تھا کہ متعلقہ سرور جس ملک ميں ہے انہيں کہا جاتا کہ نفرت انگيزی سے باز آئيں
بلکل!، سو فیصد اتفاق کرتا ہوں
ReplyDeleteرائے دینے کا بہت بہت شکریہ!
اتنی عقل ہوتی ہماری قوم میں تو اور کیا چاہیئے تھا ۔۔
ReplyDeleteواقعی ہم عقل کم ہی استعمال کرتے ہیں۔ دین جو مکمل طور عقل اور منطق کی بنیادوں پر کھڑا ہے کو ہم نے اپنے اطوار سے صرف ایک جزباتی مسلہ بنارکھا ہے۔ ہم سالوں مسجد نہیں جاتے لیکن اگر کوئی مسجد کو نقصان پہنچاتا ہے تو ہم سراپا احتجاج بن جاتے ہیں۔ ہم مدتوں قرآن کو کھل کر نہیں دیکھتے لیکن اگر کبھی معلوم پڑجائے کی کسی نے اس کی توحین کی ہے تو مرنے مارنے کے لئے اٹھ کھڑے ہوتے ہیں۔ علامہ اقبال نے کہا تھا:
ReplyDeleteمسجد تو بنا لی شب بھر میں ایمان کی حرارت والوں نے
من اپنا پرانا پاپی ہے صدیوں میں نمازی بن نہ سکا