15 June 2010

"پپو بچے"


'پپو بچے'۔۔۔جی بالکل۔۔۔پپو بچے!  ان پپو بچوں سے اول تو آپ اچھی طرح واقف ہیں۔ اگر نہیں تو یا تو آپ خود ایک پپو بچہ ہیں یا خوامخواہ میسنے بننے کی نا کام کوشش کر رہے ہیں۔ تیسری صورت یہی ہوسکتی ہے کہ آپ ساری عمر ملک سے باہر رہے ہیں۔ اس صورت میں آپ چرچ والے بابے سے رابطہ کریں۔ چرچ والا بابا آپ کو پپو بچہ بننے یا پکڑنے کے تمام گر سکھا دے گا۔۔۔ کہ وہ ان تجربات سے گزر کر ہی چرچ والا بابا بنے ہیں۔ فی الحال چرچ والے بابے کو گولی کرائیں اور مسجد والے بابے کی طرف آئیں۔ لیکن ٹھہریے! مسجد جانے سے پہلے آپ کو پپو بچہ بننا پڑے گا۔۔۔نہیں تو کہانی ڈلنے کا مجا نہیں آوے گا۔ پپو بچہ بننا کوئی مشکل نہیں۔۔۔ بتائے دیتا ہوں۔


اچھی طرح خوشبو والے صابن سے نہا دھو کر اچھا بچہ بن جائیے۔ آنکھوں میں سُرمہ اور بالوں میں سرسوں کا تیل تو آپ کی ماما نے لگا ہی دیا ہے۔ انھیں کہیں کہ گردن پر خوشبو دار پوڈر بھی مل دیں۔ عطر تو آپ کے گھر میں نہیں ہو گا۔ اگر ہوگا تو اس بات کے قوی امکانات ہیں کہ آپ کے گھر میں بھی کوئی بابا ہے۔ فی الحال اس بابے کو گولی کرائیں اور آگے چلیں۔ حرام پرفیوم تو ہر گھر میں ہوتا ہے۔ چلے گا۔۔۔سب چلے گا۔ لگائیے اورلیجئے۔۔۔ایک ٹُش ٹُش سا پپو بچہ تیار ہے۔ او ٹھہریے۔۔یہ کہاں چل پڑے؟  پپو بچے اکیلے مسجد نہیں جاتے۔ راستے میں لوگ پکڑ لیتے ہیں۔ اور مسجد والے بابے تک جانے کی نوبت نہیں رہتی۔ بڑا بھائی۔۔۔پاپا۔۔۔ یا کوئی بڑا پپو بچہ (پپو بچہ کی عمر دراز ہوتی ہے۔) آپ کو مسجد چھوڑ آئے گا۔ مسجد میں بحیثیت پپو بچہ ایک بات کا خیال رکھنا ضروری ہے۔ اور وہ یہ کہ آپ نے پنجابی ہر گز نہیں بولنی۔ اردو بولئے۔۔۔انگریزی تڑکےکے ساتھ۔ لیکن پریشان ہونے کی ضرورت نہیں کیونکہ اور کچھ نہیں تو کھوتی ماڈل انگلش میڈیم سکول تو آپ جاتے ہی رہے ہیں۔ بس۔۔۔"سوری"۔۔۔"پلیز" موقع بہ موقع کہتے رہیے۔ اور غیرپپو بڑے بچوں کو بھائی جان پکاریے۔ باقی سب خیرہے۔ پپو بچہ ہونے کی گارنٹی آپ کو مسجد کے باہر بابے سے ملاقات سے پہلے ہی مل جائے گی۔ کہ غیر پپو بڑے بچے جو کلام اللہ کے سرقہ ڈیڑھ سال سے رٹے لگا رہے ہیں۔۔۔آپ کی گالوں کی چٹکیاں لینا شروع کردیں گے۔ بُرا نہ منائیں کہ اس میں خطر ہے۔ صرف اتنا کہیں۔۔۔"بھائی جان نہ کریں"۔

کلاس شروع ہوتے ہیں آپ کی واٹ شروع۔ بابا جی پہلے سپارہ چومیں گے پھر آپ کے ننھے مُنے گال۔ سپارے خشک لیکن آپ کے گال تھوک سے لبریز۔ دونوں بازؤں کے کف سے اپنے گال پُونجھ لیجئے۔  بابا جی آپ کو دوسرے گندے بچوں کے ساتھ نہیں بیٹھنے دیں گے۔ بلکہ آپ کو اپنے پاس مصٰلے پر بیٹھائیں گے۔ گھبرایئے نہیں۔ وہاں مصٰلے کے گرد آپ جیسے کئی پپو بچے بیٹھے ہوں گے۔ رونی بُوتھی بنا کر آپ بھی بیٹھے رہیے۔ اگر مصٰلے پر جگہ نہ ہو تو بابا جی آپ کی اپنی گود میں جگہ کرائیں گے۔ میرے ایک بڑے قابل اعتماد دوست جو ایک معروف پپو بچہ رہ چکے ہیں۔۔ذاتی تجربہ بیان کرتے فرماتے ہیں کہ بابا جی آپ کو گود میں بٹھاتے ہی "ہوش پکڑ لیں گے"۔ اور اپنے جسم کو نیچے حرکت دیں گے۔ آپ کی طبیعت تو گھبرائے گی۔ لیکن "ہوش پکڑنے" اور حرکت دینے کی حقیقت آپ پر کچھ عرصہ بعد ہی آوے گی۔ اور کچھ نہیں تو چٹکیاں لینے والے غیر پپو بڑے بچے آپ کو کلاس یا واٹ ختم ہوتے ہی مسجد کے باہر کھڑے دانت نکال کر یا چٹکایا ں مارتے ہوئے سمجھا دیں گے۔یہ غیر پپو بڑے بچے ایک زمانے میں خود پپو بچے رہ چکے ہیں۔ یہ غیر پپو بڑے بچے آپ کو بڑی بڑی پتے کی باتیں بتائیں گے جو کہ خود انہیں کم از کم پانچ سات سال بعد پتا ہونی چاہییں تھی۔ مثلاً میں جب ایک پپو بچہ تھا تو ماما سے پوچھتا کہ " گلی میں رہنے والے ڈوگی نے بچے کیسے دئیے؟"۔ ماما نے تو صرف پریوں کا بتایا۔ البتہ غیر پپو بڑے بچوں نے انسان اور پری دونوں کا بتایا۔ ساتھ ہی ساتھ انکلوں اور آنٹیوں کی تصویریں بھی دکھائیں جو سمجھ نہ آنے کے باوجود میرے کان لال کئے جاتی تھی کہ تصویر کھینچوانے والے انکلوں اور آنٹیوں کی شیم شیم کیوں ہو رہی ہے؟ غیر پپو بڑے بچے یہ تصویریں اپنے جیبوں میں جنتریوں کے ساتھ رکھتے۔ تاکہ کلام اللہ کا رٹا لگاتے وقت دوہرا ثواب ملے۔


اگر آپ تھوڑے کھاتے پیتے خاندان سے تعلق رکھنے والے پپو بچے ہیں تو آپ کی ماما بابا جی گھر میں ہی لگوادیں گی۔ میرے ایک اور دوست جو ابھی بھی پپو بچے ہی ہیں۔۔۔اپنی آپ بیتی سناتے ہوئے فرماتے ہیں کہ ایک بابا جی شام کو گھر تشریف لاتے۔ روشنی میں اُسے اسلام پڑھاتے اور جب بتی چلی جاتی تو شفقت سے فرماتے۔۔۔"اسے پکڑو!"۔

پپو بچوں کے ساتھ ہونے والے واقعات صرف مسجد اور مدرسوں تک ہی محدود نہیں۔۔۔گلہ یہ ہے کہ جہاں نہیں ہونا چاہیے وہاں سب سے زیادہ ہوتا ہے۔ سکولوں میں پپو بچوں پر بیتی کی ایک مختصر جھلک آپ میرے پچھلی تحریر "فوجی" میں پڑھ آئے ہیں۔ باقی رہا یہ مؤا کافر مغرب تو ان کافروں نے غالباً 'چسکے" لینے کے لئے گندے گندے الفاظ ایجاد کر رکھے ہیں جیسا کہ Pedophilia, Sexual Harassment, Bullying وغیرہ وغیرہ۔ اردو چونکہ پاک وطن کی زبان ہے اس لئے ہم نے ان میں ان گندے گندے لفظوں کو گھسیڑنے کی ٹینشین نائیں لی۔۔۔اور صرف "بدفعلی" کہنے سے کام چلاتے ہیں۔ موئے کافر اپنے چرچ والے بابا جی کو بجائے یہ کہ کوڈا کر کے لتر شریف کرائیں۔۔۔اسے قانون کے حوالے کردیتے ہیں۔ قانون بھی ایسا اندھا ہے کہ پیو بچوں کو ہرجانے کی مد میں پیسے دیتا ہے۔ بندہ پوچھے جب کام اپنی مرجی سے کیا ہی نہیں تو پیسے کاہے کے؟۔۔۔ہیں جی؟

نوٹ:-  اگر آپ پپو بچوں پر بیتی سے انکار کرتے ہیں تو آپ خود ایک "بابا" ہیں۔

16 comments:

  1. اوہو ہو ہو۔۔۔۔ یار یہ کیا لکھ مارا۔۔۔ لگتا ہے ہفتہ فحاشی شروع ہو گیا ہے!
    اوپر سے ساتھ میں نوٹ لگا کر "بلیک میل" بھی کرتے ہو۔۔۔۔ ویسے تو یہ نہ ماننے کی کوئی وجہ ہی نہیں ہے۔۔۔ عجیب بات ہے پتا سب کو ہے لیکن پھر بھی سب ایسے ہی چل رہا ہے۔ ہمارے معاشرے کے 75 فیصد مرد حضرات پیڈوفائل یا "بچے باز" (کون کہتا ہے اسکی اردو نہیں ہے!) ہوتے ہیں۔۔۔۔ مکمل نہیں تو نوجوانی میں یا لڑکپن میں تو ہوتے ہی ہیں۔ نئے نئے رویوں کو جنم دیتے ہیں۔ اس معاشرے میں جہاں ایسے کاموں کی نفی مسلسل کی جاتی ہے کہ یہ تو ہوتے ہی نہیں یا کبوتر کی طرح آنکھیں بند کر لی جاتی ہیں وہاں ان کا شکار ہونے والے پپوؤں کے پاس کیا رہ جاتا کرنے کیلئے، کس سے وہ انصاف مانگتے ہیں، کسی کو بتا تو سکتے نہیں لہٰذا وہ خود اپنا "بدلہ" لیتے ہیں جب وہ غیر پپو ہو جاتے ہیں۔۔۔اور اس طرح یہ کہانی چلتی ہی رہتی ہے۔ اب تو لکھنا ہی پڑے گا۔

    ReplyDelete
  2. ہیلو۔ہائے۔اےاواےJune 16, 2010

    آپنے پپو اور بابے کو انکی ایج کے حساب سے کچھ مخصوص ڈومینز میں ہی کلاسیفائی کیا ہے ۔ پپو یا بابا "میوچلی اکسکلوسیو سٹیٹس ایٹ اے گیون مومنٹ" ہیں ۔ نہ تو کسی پپو نے ہمیشہ ہی پپو بنا رہنا ہے اور نہ ہی کوئی پیدائشی بابا کبھی پپو نہ بنا ہو ۔

    ReplyDelete
  3. پپو بچے کودیکھ کر سب دانت کیوں نکالتے ہیں۔ایک چیز ہم نے بھی دیکھی تھی کہ بعض بڑوں کو بچے کے ساتھ زیادتی کا معلوم بھی ھو تا تھا تو وہ خاموشی اختیار کر لیتے تھے۔یا جس معصوم بچے کے ساتھ زیادتی ھوتی تھی اس سے کراہت کی جاتی تھی۔ہمارے معاشرے میں مظلوم کی مدد کے بجائے دوسرے بھی مزے لینے کو تیار ھو جاتے ہیں۔

    ReplyDelete
  4. عین لام میم: 75 فیصید کچھ زیادہ ہی ہے۔ تھوڑا کم کر لیں۔ ویسے لگتا ہے کہ پپو بچوں کی سٹوریاں آپ کے پاس بھی بہت ہی۔ کچھ بتائیے نا۔

    ہیلو ۔ ہائے ۔ اےاواے: پپو بچوں کے بارے میں آپ کا فلسفہ کافی وسیع معلوم ہوتا ہے۔ کہیں آپ بھی پپو بچہ تو نہیں رہ چکے؟ اور یہ آپ اپنا اصل نام کیوں نہیں استعمال کرتے۔ پردہ نشینی کیسی؟

    جاپانی: بس سر جی۔ یہی تو سارا سیاپا ہے۔ جرم کی سزا تو تب ہو جب کوئی جرم کی حقیقت کو مانے ۔

    ReplyDelete
  5. ہیلو۔ہائے۔اےاواےJune 16, 2010

    آپکی ہی بات کو کونسیوم اور بی کونسیومڈ کے کانٹکسٹ میں سیکنڈ کیا تھا ۔جب تک انسان کسی دوسرے کے اندر کا حال جاننے کا شوق رکھتا ہے اسے دوسرے کی شناخت سے غرض رہتی ہے ۔سیکھنا تو خود ہی ہوتا ہے جسکی بھی انگلی پکڑ کر سیکھیں گے نہ چاہتے ہوئے بھی اسی کے گن گائینگے ۔

    ReplyDelete
  6. چلیں مان لیتا ہوں کہ 70 فیصد نہیں ہیں... تھوڑا جوش میں مبالغہ کر گیا ہوں گا... ؛)
    پپو بچوں کی بھی ہیں اور آپ کے ان بابوں کی بھی...خاصے نوجوان بابوں کی..!

    ReplyDelete
  7. بلاگستان میں رنگ برنگی کافی سارے بلاگ پڑھے ہیں "فوجی اورپپو بچے"نئے رنگ کا اضافہ ھے گو اور بلاگر بھی لکھنا چاھتے ھوں-مگر ڈرتے ھوںکہ امیج خراب نہ ھوجائے -آپ نے رسک لیا ھے-میں عموما"خط میں دعایا اور احترامی جملے لکھنے کا عادی ھوں لیکن اب مُجھے ایسا محسوس ھوتا ھے کہ یہ جملے اتنے زیادہ" مس یوز" ھوۓ ھیں کہ شاید اب انکے معنی بدل گئے ھیں-میں نے بلاگ قرآن اور انسان سے لفظ الہامی ھٹا دیا کہ شاید اُسکی وجہ سے وحی کا تصور اُبھرتا ھو اُسکی جگہ وجدانی ڈالدیا ھے -شکریہ-

    ReplyDelete
  8. عثمان میں نستعلیق فونٹ ہی استعمال کر رہا تھا۔جس کا مجھے آپ کے شور مچانے کے بعد علم ھوا ہی ہی ہی ہی ۔۔۔۔html کوڈ لکھنے کا تو آپ نے کہہ دیا لیکن کس سٹیٹمنٹ کی جگہ میں انداراج کروں؟ چنے چبائے کافی عرصہ ھو گیا ھے۔دانت ذرا نازک اندام ہیں ۔

    ReplyDelete
  9. اپ اپنے بار ے مین تو کئچھ بتاے اپ تو ابھی بھیی پپو ہی ھین۔

    ReplyDelete
  10. زبردست تحریر ہے جناب
    اب یہ بتائیں کہ آپ کے ساتھ کیا واقعہ پیش آیا تھا

    ReplyDelete
  11. ہیلو۔ہائے۔اےاواے: جناب۔۔۔۔بات بجا ہے۔
    عین لام میم: بس تو پھر ہوجئے کچھ چٹ پٹا!
    MD: جناب۔۔۔ہر ایک کا اپنا انداز بیان ہے۔ میرا خیال ہے سماج میں موجود ہر قسم کی اچھائیوں اور برائیوں کو سامنے لانا چاہیئے۔ چھپانے سے بات نہیں بنتی۔
    یاسرِ: دانت ہیں بھی کہ نہیں۔ ویسے کوئی جاپانی دوا آزمائیے۔ کیا معلوم دودھ کے دانت پھر سے نکل آئیں۔
    lovely: ہو سکتا ہے کہ میں اب بھی پپو ہی ہوں۔ یہ بات تو دیکھنے والے ہی بتا سکتے ہیں۔
    BILLU: بلاگ پر خوش آمدید۔ اب راز کی باتیں تو بتائی نہیں جاسکتی۔ آپ کیوں‌ پکڑوانا چاہتے ہیں؟

    ReplyDelete
  12. ہفتہ فحاشی ميری غير موجودگی ميں کيسے منا ليا آپ لوگوں نے ، ميں نے بھی بھر پور حصہ ڈالنا تھا

    ReplyDelete
  13. ان میں سے ذاتی واقعت الگ کر کے مجھے فورا سے پہلے میسج بھیجا جائے

    ReplyDelete
  14. شکر ہے میں پپو بچہ اور غیر پپو بڑا بچہ کبھی نہیں رہا
    بابا میں ہوا نہیں اور مجھے پپو بچے کا بھی پتا ہے
    اچھا چل ساری باتیں چھوڑ
    چرچ والے بابے کا ذکر کر
    تو نے وہاں جا کے وہاں کے بابے بھی خراب کرنے شروع کر دیے
    ویری بیڈ

    ReplyDelete
  15. میں تو سوچ رہا ہوں کہ چرچ والے بابے کی با تصویر پوسٹ شائع کردوں۔

    ReplyDelete