سنا ہے کہ نشہ تو کسی نہ کسی طرح چھوٹ ہی جاتا ہے۔ لیکن اگر لت پرجائے۔۔اور لت بھی کسی حرام چیز کو تو وہ آسانی سے نہیں چھوٹتی۔ شطرنج اس سلسلے میں ایک عمدہ مثال ہے۔ اگرچہ کچھ یار لوگ تاش جیسے ڈب کھڑبے کھیل کو بھی اس درجہ بندی میں گردانتے ہیں لیکن میرے خیال سے تاش اول تو کوئی کھیل ہی نہیں۔ اور اگر ہے تو جُوا لگائے بغیر اس کا کوئی مزا نہیں۔ مطلب کہ حرام در حرام! شطرنج میں البتہ جوئے کی کوئی گنجائش نہیں۔ اور اگر کوئی جواء لگاتا ہے تو کھیلنے والوں میں سے ایک کی عقل اور دوسرے کی صلاحیتوں کو کوسنے دیں۔
ہمارے ہاں اگرچہ وقت فضول ضائع یعنی حرام کرنے کو تو بہت ہے۔ لیکن کسی معقول حرام چیز پر صرف کرنے کو نہیں۔ پیسے کے معاملے میں تاہم ایسی کوئی قدغن نہیں۔ اس لئے یہ کھیل پاکستان میں ہر گز فروغ نہیں پا سکا۔ لے دے کر پوری تاریخ میں ایک میر صاحب ہی بچے تھے۔ جن کی صلاحیتوں کا شطرنج کا شاہ کیوبن گرینڈ ماسٹر کاپابلانکا بھی معترف تھا۔ موصوف اب مرحوم ہو کر سرگودھا کی کسی قبر میں منکرنکیر کو حساب دے رہے ہیں۔ تاہم ان کی اس شاطرانہ لت میں اسلامی معاشرے کا کوئی قصور نہیں کہ مرحوم یہ لت ہندوستان سے لے کر آئے تھے۔ میرے جیسوں نے شطرنج کی یہ لت لڈو کھیلنے والوں سے پکڑی جو چیکر(ارے وہی بارہ گٹار) کو شطرنج کا نام دے کر دونوں کو بدنام کرتے تھے۔ ان زمانوں میں میری کھیل سے واقفیت یہ تھی کہ کیسلنگ کرتے وقت فرضی کی بجائے فیلے کا استعمال کرتا تھا۔ جبکہ پیادہ میرا اپنی مرضی سے چلتا اور وقت پڑنے پر الٹے قدموں گھر کو دوڑتا تھا۔ شطرنج کے اصولوں اور چالوں سے صحیح معنوں میں واقفیت تب ہوئی جب انٹرنیٹ کی سہولت میسر ہوئی اور کافروں سے تبادلہ خیال ہوا۔ میری رائے میں پاکستان جیسے وسائل سے عاری ملک میں وقت گزاری اور دماغی ورزش کے لئے یہ ایک بہترین کھیل ہے۔ نہ کوئی پیسہ درکار ہے ، نہ وقت کی تخصیص کا جھنجھٹ۔۔کسی بھی وقت کسی کے بھی سامنے بساط جمائیے اور شروع ہوجائیے۔
پاکستان کے برعکس یہ کھیل ہمسایہ ممالک بھارت اور ایران میں کافی مقبول ہے۔ جبکہ کچھ برادر اسلامی عرب ممالک غیراسلامی ہو کر چیمپئن شپ مقابلے بھی کرواتے رہے ہیں۔ بھارت جو کہ شطرنج کی جائے پیدائش ہے۔۔ وہاں یہ کھیل جنوبی علاقوں میں ذیادہ مقبول ہے یا یوں کہہ لیجئے کہ جنوبی ہندوستان خصوصاً تامل ناڈو کے شاطر ہی ہندوستان کو شطرنج کی دنیا میں زندہ رکھے ہوئے ہیں۔ موجودہ عالمی چیمپئین وشواناتھن آنند جبکہ خواتین میں کونیرو ہمپی کا شطرنج کے عالمی ادارے کی سہ ماہی فہرستوں میں ٹاپ ٹین آنا معمول ہے اور دونوں اپنے وقت کے عظیم ترین شاطر گردانے جاتے ہیں۔ ایک زمانے میں روسی یا سوویت شاطروں کا ہی ڈنکا بجتا تھا۔ بیسویں صدی میں الیگزینڈر الخائن سے لے کر ولادمیر کرامنک تک سوائے بوبی فشر کے اور کوئی شاطر صحیح معنوں میں سوویت طاقت کو چیلنج نہ کر سکا۔ تقریباً اَسی سال تک روسی راج کرتے رہے۔ ان میں روسی شاطر گیری کسپروو سب سے نمایاں ہیں۔ جنہیں عموماً شطرنج سے ناواقف لوگ بھی سپر کمپیوٹر ڈیپ بلو سے ۱۹۹۷ء میں ہونے والے مقابلے کے حوالے سے جانتے ہوں گے۔ یہ پہلا موقع تھا جب انسان نے شطرنج کے کھیل میں کمپیوٹر کے آگے ہتھیار ڈال دیے۔ اس کے مثبت اور منفی دونوں پہلو وقت کے ساتھ واضح ہوئے۔ فوائد تو کمپیوٹر ٹیکنالوجی میں ایک جدت کی صورت میں سامنے آیا ہی۔ ساتھ ہی ساتھ شطرنج کی پیچیدہ چالوں بالخصوص ابتدائی حصہ کو پوری طرح جانچنے اور تجزیہ کرنے میں بہت مدد ملی ہے۔منفی پہلو میں کھیل میں بے ایمانی کے امکانات کچھ بڑھ گئے ہیں۔ خاص طور پر انٹر نیٹ پر کھیلی جانے والی مراسلاتی شطرنج کے بارے میں تو کبھی بھی وثوق سے نہیں کہا جاسکتا کہ آیا آپ کا مقابلہ دوسری طرف بیٹھے انسان سے ہے یا مشین سے جس کا سہارا لے کر آپ کا مخالف مقابلے میں روندی مار رہا ہے۔
گیری کیسپروو جن کا ذکر اوپر گذر چکا ہے۔۔۔شطرنج کی دنیا میں سب سے ذیادہ ریٹنگ کا ریکارڈ رکھتے ہیں۔ جو انھوں نے جولائی ۱۹۹۹ء میں ۲۸۵۱ ای ایل او پوائنٹس بنا کر قائم کیا۔ اس ریکارڈ کے قریب حال ہی میں ایک انیس سالہ نارویجیئن شاطر مگنس کارلسن پہنچا ہے۔ جو ۲۸۲۶ پوائنٹس کے ساتھ اس ماہ کی ریٹنگ فہرست میں دوسرے نمبر پر ہیں۔ جب میری عمر انیس سال تھی تو میری ریٹنگ اس سے آدھی بھی نہ تھی۔ بمشکل روئے لوپیز سے کھیل کا آغاز کرتا تھا۔ بہت بعد میں جاکر کنگز انڈین ڈیفنس سیکھا لیکن کچھ اچھے کھلاڑیوں سے پٹنے کا ایسا سلسلہ شروع ہوا کہ سب چھوڑ کر سیسیلین ڈیفینس پر ہاتھ چلانا شروع کردیے جو اگرچہ آسان تو نہ تھی لیکن اس میں تغیر کافی تھا اور مجھ جیسے درجہ چہارم کے کھلاڑیوں کو کچھ دیر ٹھہرنے کا موقع دیتی تھی۔
شطرنج اور اسلام:
پاکستانی معاشرے میں جہاں تک میرا تجربہ اور مشاہدہ ہے اس کھیل کی ہمیشہ حوصلہ شکنی کی جاتی ہے۔ وجہ اس کی عموما یہ گنوائی جاتی ہے کہ اسلام میں حرام ہے۔ جبکہ اس بحث کا منبع ترمذی کی ایک حدیث کو مانا گیا ہے جس میں کسی "نرد شیر" کے کھیل سے ممانعت کا ذکر ہے۔ جو بہرحال شطرنج ہرگز نہیں کہ شطرنج تو اس دور میں جزیرۃ العرب میں متعارف ہی نہ تھی۔ بلکہ یہ کھیل نبی کریمﷺ کی وفات کے بعد عربوں کے ایران فتح کرنے کے بعد پھیلا۔ نرد شیر کا کھیل بیک گیمن کی قدیمی شکل تھی۔ جو کہ لڈو یا تاش کی طرح امکانات کا کھیل یعنی گیم آف چانس ہے۔ گیم آف چانس میں چونکہ آنے والا لمحہ ہمیشہ نامعلوم ہوتا ہے تو بس جوئے کے لئے بہترین موقع فراہم کرتا ہے۔ جبکہ اس کے برخلاف شطرنج ایک منصوبہ بندی سے کھیلا جانے والے کھیل ہے جس میں نامعلوم امکانات کی کوئی گنجائش نہیں۔ غلطی تمام تر کھلاڑی کی صلاحیت اور چال صحیح طور پر چل نہ سکنے کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے۔ یعنی گیم آف چانس کے برعکس شطرنج کا کھیل فطری طور پر جوئے کی حوصلہ شکنی کرتا ہے۔
دوسری طرف اس بات سے شائد ہی کوئی انکار کرے کہ یہ دماغی کھیل ذہن کو چالاک یا تیز کرتا ہے۔ ہر دور میں اس کا یہ مثبت ترین پہلو تسلیم کیا گیا ہے۔ کئی ممالک میں تو اسکول کے بچوں کو ذہنی طور پر چست کرنے کے لئے شطرنج کا اسکول کی سطح پر خاص اہتمام کیا جاتا ہے۔ کچھ اسلامی ممالک بشمول ایران اور سینٹرل ایشیا میں اسے خاصی مقبولیت حاصل ہے اور مذہبی حلقوں کی طرف سے بھی کبھی کوئی خاص مخالفت نہیں کی گئی۔ واحد دلیل جو اس کی مخالفت میں لائی جا سکتی ہے وہ غالبا کھیل کا عادی ہوکر وقت کا ضیاع کرنا ہے۔ لیکن میرے خیال سے یہ دلیل تقریبا ہردوسرے کھیل بشمول کرکٹ کے متعلق لائی جاسکتی ہے۔ کھیل بذات خود لغویات کی طرف بہرحال مائل نہیں کرتا۔
کچھ مفید لنک:
ابھی کچھ عرصہ پہلے ایک ایرانی اور عربی اس بات پر بحث کر رہے تھے کہ شطرنج کے کھیل کے آغاز ان کے علاقوں سے ہوا تھا اور دونوں کا ایک ہی نکتہ نظر تھا کہ Checkmate ایرانی کے مطابق "شہ مات" فارسی کا بگاڑ ہے جبکہ عربی کے مطابق "شیخ میت" مطلب کنگ از ڈیڈ کا بگاڑ ہے ۔
ReplyDeleteعثمان صاحب - حجاب نے آپکا ڈر ختم کردیا ھے -اسی طرح آپنے مجھے تنقید کی اجازت دے کر میری جھجک بھی ختم کردی ھے -آپ میرے محسن ھیں آپکا احسان ھے کہ میرا فونٹ جمیل نوری نستعلیق ھوگیا - اسی طرح میں بلال اور یا سر عمران کا بھی احسان مند ھوں - جھاں تک میرے تبصرہ کا تعلق وہ میں اپنے ذھن کے مطابق بے لاگ کروں گا-امید ھے کہ آپ لوگ میری تنقید کو احسان فراموشی نہیں سمجھیں گے - نیٹ پر آیا آپکا بلاگ کھولا کوئی تبصرہ نہیں آیا تھا - تبصرہ کرنے ہی والا تھا کہ خیال آیا - پہلا تبصرہ تنقیدی ھو برا شگون ھے - یہ سوچ کر انتظار کرنے لگا - میرے خیال میں انسان کتنی ھی ترقی کرلے توھم پرستی اور تعصب سے کبھی چھٹکا را نھیں پائے گا - اسکی موجودہ مثال فٹبال اور اکٹوپس ھے بلاگستان میں نے دیکھا ھے ایک دو کو چھوڑ کر باقی سب دوستیاں نبھارھے ھیں حالانکہ آپ نے" تکلفات "میں اسکی نشان دھی کی تھی - میرے خیال میں دوستیاں والے تبصروں سے "بلاگ" کو بہت نقصان پہنچ رھا ھے -اگر آپ سمجھ تے ھیں کہ آپ اس پر صحیح تبصرہ نہیں کرسکتے ھیں تو تبصرہ نہ کریں - جیسے میں نے آپکے سابقہ بلاگ پر کوئی تبصرہ نہیں کیا تھا- لائٹ آف ھونے والی ھے باقی لائٹ آن ھونے کے بعد
ReplyDeleteشطرنج کے بارے میں تو میں کچھ نہیں کہہ سکتا کہ کبھی اتفاق نہیں ہوا کھیلنے یا تفصیل سے دیکھنے کا بھی۔ ہاں سنا بہت ہے اس کے بارے میں، اور سن کر اتنا تو پتا ہے کہ دماغی اور انتہائی سوچ بچار والا کھیل ہے۔ ایک دفعہ سیکھنے کا شوق چرایا تھا لیکن عمل درآمد نہیں ہو سکا۔
ReplyDeleteجہاں تک بات ہے حرام و حلال کی تو اس بارے میں تحریر کے دوسرے حصے سے اتفاق کرتا ہوں کہ آپ کی بات پڑھ کر تو اسکے حرام ہونے کی کوئی وجہ نظر نہیں اتی۔
اور چونکہ اس کھیل کی شروعات اسی مٹی سے ہوئی ہے تو کم از کم ثقافتی اعتبار سے ہی سہی اس کھیل کی ترویج و ترقی ہونی چائیے ۔۔۔۔۔۔ اور کچھ نہیں ’قیمتی وقت‘ ہی ذرا صحیح طرح ضائع کر لیں۔۔
معلومات میں اضافے کا شکریہ۔
میرے دماغ میں تھا کہ آپ کی طرف سے کوئی اچھا سا بلاگ آنے کو ھے -جب آیا تو اس کھیل پر آیا جو پاکستان میں متروک نہیں ھوا تو ھونے والا ھوگا- آپ نے لکھا ھے "کسی بھی وقت کسی کے بھی سامنے بساط جمائیے اور شروع ھوجائیے" کیا یہ جملے اس سینس کو نھیں اُبھار رھے ھیں کہ جیسے اس کھیل کو ھر کوئی جانتاھے- جبکہ آپ خود کہ رھے کہ اس کھیل کے جاننے والے ختم ھوگئے ھیں - اس میں شک نہیں کہ یہ کھیل ذھن کو جلا بخشتاھے - آپنے اس کھیل پر جسطرح جامع بلاگ بنایا ھے - وہُ قابل داد ھے - شُکریہ
ReplyDeleteہمیں بھی اس کی لت ایک سعودیہ پلٹ دوست نے ڈالی۔ پھر کچھ عرصہ وقفے کے بعد یاہو پر کھیلنے لگے۔ وہاں بہت وقت ضائع کیا۔ تنگ آکر کھیلنا چھوڑ دیا۔ آج کل یاہو پر کھیلتے ہیں مگر خال خال ہی۔ کھیل اچھا ہے مگر انٹرنیٹ پر کھیلتے ہوئے تنہائی کا احساس بہت ہوتا ہے جبکہ کسی دوست کیساتھ کھیلنے میں زیادہ مزہ آتا ہے۔
ReplyDeleteیار تمہارا پڑھ کر حیرانی ہوئی کہ تمکو شطرنچ نہیں آتی۔
ReplyDeleteشطرنج کے کھیل اور سیاست کے کھیل میں بہت مشابہت ہے، اس مشابہت پر بھی ایک پوسٹ ہوجائے۔
ReplyDeleteشطرنج کا کھیل تو مجھے بھی بہت پسند تھا ۔ اور جب کبھی کوئی پارٹنر نہیں ملتا تھا تو کام سے گھر میں آتے جاتے اپنے ساتھ ہی بازی لگا لیا کرتا تھا ۔ یعنی ایک دفعہ اپنی طرف سے اور پھر کسی کام سے فارغ ہو کر اپنے مخالف کی طرف سے چال چل دیا کرتا تھا ۔ مگر یہ کھیل بھی وقت ضائع کرنے کا آسان نسخہ ہے ۔ چھوٹی سے چھوٹی بازی بھی اڑھائی گھنٹوں میں کیا ختم ہوتی ہو گی ۔ پھر چھوڑ دیا کہ اب ہر روز اتنا وقت کون برباد کرے ۔
ReplyDeleteبہت خوب لکھا ھے آپ نے، مجھے اتفاق ھے آپکی اس بات سے کے اسلام میں اس طرح کی کوئی منادی نہیں ھے،
ReplyDeleteمیں تو کمپیوٹر سے کھیلتا ھوں۔واقعی دماغ کو تھکا دینے والی گیم ھے۔لیکن وقت گذرنے کا احساس نہیں ھوتا اس لئے اب کبھی کھبار ھی کھیلتا ھوں۔
ReplyDeleteمیں آپ سے اس بارے میں متفق ہوں کہ شطرنج ذہنی صلاحیتوں کو نکھارنے کا بہت اچھا ذریعہ ہے۔ اس میںن وقت ضا ئع کرنے کا آپشن آپشنل ہے۔ آپ چاہیں تو شطرنج کی ایک گیم ایک ہفتے میں ختم ہو۔ اور چاہیں تو کُل دورانیہ 5 منٹ رکھ دیں۔ یہ تو کحیلنے والوں پہ منحصر ہے۔ میں نے چیس ماسٹر اور یاہو میں پانچ یا دس منٹ دورانیے کی گیمیں کھیلیں۔ جو کہ کافی مشکل ہوتا ہے۔ آپ کو بہت کم وقت میں مخالف کی چال سمجھنی، اپنا دفاع کرنا اور پھر متوقع چالوں اور ان کا توڑ بھی ذہن میں رکھنا ہوتا ہے۔
ReplyDeleteگو کہ شطرنج اور بہت سی چیزوں کی طرح میری مصروفیات کے سرد خانے میں پری ہوئی ہے، اور مجھے اس کو دوبارہ چکھنے کا موقع نہیں مل پا رہا، مگر کبھی کبھی اخبار میں شائع ہونے والے ٹکڑے حل کرنے کی کوش ضرور کرتا ہوں۔
آپکا بلاگ شاید سیارہ پر رجسٹر نہیں ورنہ حاضری ضرور دیتا
ReplyDeleteآپ کے بلاگ کو بک مارک کردیا ہے امید ہے کہ اب ملاقات رہے گی۔
جہانزیب : میرے خیال میں ایرانی کی بات میں وزن ہے۔
ReplyDeleteعین لام میم : یا میں تو کہتا ہوںکی شطرنج ضرور سیکھو۔ بہت مزے کا کھیل ہے۔
ایم ڈی : کہنے کا مطلب یہ ہے کہ اس کھیل کو کھیلنے کے لئے کوئی بہت لمبا چوڑا انتظام نہیںکرنا پڑتا۔ جسے نہیں بھی آتا اسے بھی تھوڑی ہی وقت میں بنیادی اصول سیکھائے جا سکتے ہیں۔
میرا پاکستان: یاہو پر میں بھی بہت کھیلتا رہا ہوں۔ پھر یاہو چھوڑ کر دوسری پروفیشنل سائٹس پر چلا گیا۔ وہاں کھیل بھی بہتر تھا اور کھلاڑی بھی۔
کاشف : یار۔۔۔سیاست کے کھلاڑی تو آپ ہیں۔ سیاست کی چالوں کے بارے میں آپ ہی کچھ بتائیے۔
محمد ریاض شاہد : وقت بچنا یا ضائع کرنا تو آپ کے ہاتھ میں ہے۔ چاہیں تو ایک بازی کو طوالت دے لیں۔ یا جلد ختم کر لیں۔
fikerpakistan: شکریہ!
جاپانی : کمپیوٹر کو مات دی کہ نہیں؟
منیر عباسی : بلاگ پر خوش آمدید
شازل : میرے بلاگ کو ابھی دو ماہ نہیں ہوئے۔ جبکہ اردو سیارہ والوں کی شرط ہے کہ دو ماہ مکمل ہوں پھر ہی درخوست دی جا سکتی ہے۔
ایم ڈی صاحب ۔۔۔۔
ReplyDeleteآپ کھل کر تنقید کیجئے۔ میںہرگز برا نہیں مناتا۔ لیکن آپ کیا اور کس بات پر تنقید کرنا چا رہیے ہیں؟ میں سمجھ نہیں پایا۔
میری ونڈو میں بھی یہ گیم موجود ہے لیکن میں لیول ۱ سے آگے نہیں بڑھ سکا۔ لیول ۲ یا زیادہ پر کمپیوٹر بہت تیز ہو جاتا ہے اور فوراً چیک میٹ لگا دیتا ہے :(
ReplyDeleteعثمان – میرا کمپیوٹر خراب ھوگیا تھا اسلئے جواب میں دیر ھوگئی – میرے کہنے کا مقصد یہ تھا کہ آج کی دنُیا میں مو ضوع کی کیا کمی ھے جو آپ نے ایک مرتے ھوئے کھیل پر اپنے دماغ کی قیمتی انرجی ضائع کی – ضائع ان معنوں میں اردو سمجھنے والوں میں بہت ھی کم لوگ ہونگے جو اس کھیل کو جانتے ہوںگے اس سے یہ نہ سمجھنا کہ- آپ کو جو لکھنے کی آزادی ھے اس پر کسی قسم کا اعتراض کرنا ھے -جس طرح مجھے بھی آزادی ھے کہ میں کسی بھی بلاگ پر بے لاگ تبصرہ کروں – اسی طرح ہر شخص کو آزادی ھے جسکو وہ بھتر سمجھتا ھے اس پر لکھے – بالکل اسی طرح تبصرہ کرنے والے کوبھی آزادی ھے جو وہ بھتر سمجھتا ھے تبصرہ کرے – خدا کرے کہ میں اپنی بات سمجھا نے میں کامیاب ہوجاؤں - اسلیئے کہ انیقہ نے بھی میرے عتراض کو غلط معنی میں لیا تھا – اعتراض یا تنقعد کا مقصد یہ ھوتا ھے کہ ہو سکتا بلاگ لکھنے والے سے وہ پہلو پوشیدہ ھو جو کہ تبصرہ کرنے والے نے اُٹھایا ھے – آپ نے کائنات کی پہلی تصویر پر جو صحیح اعتراض کیا وہ جمیل اختر صاحب نے -وی ۔او۔ اے پر چھاپی تھی اور میں نے اُنہیں -ای -میل کے زریعے غلطی کی نشان دہی کی تھی جو ابھی تک صحیح نہیں ھوئی ھے آپکو شاید یاد ھوگا میں نے اپنے بلاگ “حمد” میں سنگولیرٹی کا ذکر کیا تھا - اب اجازت دیں-اللہ حافظ
ReplyDeleteشطرنج واقعی بادشاہوں والا کھیل ہے۔ میں نے دیکھا ہے کہ کلاس کے ہوشیار بچے شطرنج کی طرف جھکاؤ رکھتے تھے جبکہ کند ذہن لوڈو شوڈو ہی سے کام چلا لیتے تھے :)
ReplyDeleteمیں نے چھٹی ساتویں سے لے کر میٹرک تک محلے کے لڑکوں کے ساتھ خوب شطرنج کھیلا۔ دو مہینے کی چھٹیوں میں تو روزانہ کا معمول تھا کہ ہم صبح صبح کسی ایک کے گھر پر جمع ہوتے اور پھر ظہر تک شطرنج کی بازیاں چلتیں۔ خوب مزا آتا تھا۔ بس پھر کالج کے ساتھ ہی مصروفیات زیادہ ہو گئیں اور یہ کھیل ہاتھ سے چھوٹ گیا۔ اب بھی کبھی اگر وہی دوست ملیں اور دوبارہ مل بیٹھیں تو شاید ہم ایک مرتبہ پھر شطرنج کی بازی لگا لیں :)
ایم ڈی صاحب... بے لاگ تنقید کریں. بحث اور تنقید ہی کے لئے تو آراء کا سیکشن ہے. شطرنج کے متعلق ایک تو اس لئے لکھا ہے کہ جو میرا شوق ہے اسی کا ذکر کروں گا نا. دوسرا یہ کہ میں نے سوچا کہ بلاگ پر ہر قسم کے موضوعات پر لکھنا چاہیے.
ReplyDeleteابو شامل.....بلاگ پر خوش آمدید!