30 July 2010

کتاب بیزاری۔۔۔۱

''سعودی عرب اور سوڈان۔۔۔دونوں ممالک میں تقریبا دس برس گذارے ہیں۔ رشتہ داروں ، ملنے والوں اور معاشرے کے عام افرادکے بارے میں میرا مشاہدہ ہے کہ مسلمانوں کو مطالعہ سے کوئی دلچسپی نہیں۔ سعودی عرب میں بک سٹور ڈھونڈے نہیں ملتا۔ جہاں جاؤ وہاں معقول کتابوں کا انتہائی فقدان ہے۔ بچوں کے لئے کچھ کتابیں ہیں یا اسلامی کتابیں۔ لائبریری ہو یا بک سٹور۔ کتاب کا تصور وہاں ان دو موضوعات تک محدود ہے۔ میں نے اپنے کسی ملنے والے کے ہاں ہوم لائبریری تو کُجا۔۔کتابوں سے بھری شیلف تک نہیں دیکھی۔ بس جو کچھ ہے وہ مذہب ہی پر ہے۔ سوڈان میں صورتحال اس سے بھی بدتر ہے۔ میرا خیال ہے کہ مسلمانوں کے ہاں ناصرف یہ کہ مطالعہ سے بیزاری پائی جاتی ہے بلکہ یہ صرف اپنے مذہب پر مبنی "علم" کو ہی "علم" سمجھتے ہیں۔۔۔''
یہ مشاہدات اور ان سے اخذ کردہ متنازعہ نتائج ہیں میری ایک واقف کار کے۔ جو مشرق وسطیٰ میں کچھ عرصہ قیام کر چکی ہیں۔ موصوفہ کی پوری کوشش تھی کہ مسلمانوں کی اس کتاب بیزاری کو کسی طرح جرنلائز کرکے جدید اسلامی تہذیب کو ایک نچلی تہذیب ثابت کیا جائے۔ اس سلسلے میں انھیں میری رائے درکار تھی۔ اب سعودی عرب اور سوڈانی معاشرے سے میری تو کوئی واقفیت نہیں۔ البتہ یہ انکشاف مجھ پر ضرور ہوا کہ وہ واقعی ہمارے بھائی بند ہیں۔ انھیں تو کسی طرح بات گھما پھرا کر ٹال دیا لیکن خود سوچتا رہا کہ اس مسئلے کی کیا وجوہات ہیں؟ اور یہ مسئلہ کتنا سنجیدہ ہے؟
جب میں پاکستان میں تھا تو اس وقت لگ بھگ تین سو صفحات پر مشتمل کتاب ڈھائی تین سور روپے میں مل جاتی تھی۔ ڈھائی تین سو روپے تو خاصی رقم تھی خاص طور پر ایک طالبعلم کے لئے۔ پھر اگر اتنے روپے ہوں بھی تو دل نہیں کرتا تھا کہ یہ سب محض ایک کتاب پر صرف کردیے جائیں۔ کہ تفریحی ترجیحات میں کتاب سب سے نیچے آتی تھی۔ پیسہ اڑانے ، تفریح کرنے ، لطف طبع اور وقت گزاری کے لئے اور بہت سی ترجیحات تھیں۔ پاکستان میں جب تک تھا۔ تمام تر مطالعہ اخبارات، ڈائجسٹ ، عامیانہ قسم کے جاسوسی ناولوں یا بہت ہوگیا۔۔۔ تو تارڑ اور یوسفی وغیرہ کی کتابیں مانگ تانگ کر پڑھ لیں۔ اور ہاں۔۔۔اچھا مسلمان بننے کے لئے اسلامی کتب بھی تو ہیں۔ باقی بچے دوسرے خشک موضوعات مثلاً سائنس ، فلسفہ ، سماج اور نفسیات وغیرہ تو اس بارے یہی فیصلہ نہ ہوسکا کہ یہ پڑھنا آیا تفریح ہے یا سزا۔

یہاں ذرا ہر خواندہ شخص اپنے آپ سے اس بارے میں کچھ سوال کرے۔

آخری دفعہ کوئی کتاب کب پڑھی تھی؟

کونسی؟۔۔کس موضوع پر؟

آخری دفعہ کتاب کب خریدی؟ ۔۔۔

نصابی کتب کے علاوہ کوئی اور کتاب کبھی خریدنے کا اتفاق ہوا؟۔

کالج یونیورسٹی کے کاموں سے ہٹ کر کبھی لائبریری کا منہ دیکھا؟


معدودے چند فیصد افراد ( یہ چند فیصد بھی رعایتاً کہہ رہا ہوں) کے سوا اکثریت کی حالت میرے مماثل ہوگی۔ پروفیسر پرویز ہود بھائی نے اپنے ایک کالم بڑے چشم کشا حقائق بیان کیے تھے۔ انھوں نے اسی سے ملتے جلتے سوالات قائد اعظم یونیورسٹی میں ایم ایس سی فزکس میں داخلے کے خواہش مند طلبہ کے سامنے رکھے۔ ہود بھائی کا بیان تھا کہ بہت بڑی اکثریت ڈائجسٹ ، جاسوسی ادب، عامیانہ عشقیہ ناول اور مذہب پر مبنی کتب سے ہی شغف رکھتی تھی۔ نا کبھی کسی کو نصابی سرگرمیوں سے ہٹ کر لائبریری کا منہ دیکھنے کا اتفاق ہوا۔ نا کبھی رقم خرچ کرکے کسی سنجیدہ موضوع پر کوئی سنجیدہ کتاب خریدی یا پڑھی۔ اکثریت مذہبی کتب کو ہی ترجیح دینے اور پسندیدہ کتب کہنے پر مائل تھی۔ حتیٰ کہ جس مضمون میں ایم ایس سی کے خواہشمند تھے۔ اس پر بھی کبھی نصابی کتب سے ہٹ کر کچھ نہ پڑھا تھا۔ پاکستان کے ایک اعلیٰ ترین تعلیمی ادارے کے طلبہ کی یہ حالت بڑے تاریک معاشرتی پہلو بے نقاب کرتی ہے۔
پاکستان کی ساٹھ سے ستر فیصد آبادی ناخواندہ افراد پر مشتمل ہے۔ یہ لوگ تو یوں گئے۔ باقی رہے تیس سے چالیس فیصد خواندہ۔ اس خواندہ آبادی پر بھی ناخواندہ کلچر کی چھاپ ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ جسطرح اگر اکثریتی آبادی خواندہ ہو تو وہ ''Culture of Literacy" پیدا کرتی ہے اسی طرح گر اکثریتی آبادی ناخواندہ ہو تو وہ مجموعی طور پر "Culture of Illiteracy'' پیدا کرتی ہے۔ مطالعہ سے بیزاری کا کُھرا بھی شائد یہیں جا نکلتا ہے۔ خواندہ آبادی میں ناخواندگی کے کلچر کی ایک سے زائد وجوہات ہیں۔ نظام تعلیم ان میں شائد سرفہرست ہے۔ اس نظام تعلیم میں سوچ اور تحقیق کا انتہائی فقدان ہے۔ تمام تر توجہ صرف نصابی کتب تک ہی محدود ہے۔ مطالعہ برائے مطالعہ اور علم برائے علم کا کوئی تصور نہیں۔ تعلیمی اداروں میں پڑھائی امتحانی نقطہ نظر سے پڑھائی جاتی ہے اور پڑھی جاتی ہے۔ اس سے آپ دیے گئے مواد سے تو واقفیت حاصل کرلیتے ہیں۔ لیکن خود سے جاننے کی کوئی صلاحیت باقی نہیں رہتی۔ آپ کو ایک چیز دی گئی۔ آپ نے پڑھا۔ اور من و عن تسلیم کرلیا۔ کیا؟ کیوں؟ کیسے؟ یہ سوال وجود نہیں رکھتے۔ گورنمٹ کالج لاہور۔۔۔لاہور کا بہترین سرکاری کالج۔۔۔ جہاں پڑھنے کا میرا ذاتی تجربہ ہے۔ وہاں کی پتلی حالت کا تو میں خود شاہد ہوں۔
سمیسٹر کے آغاز میں آپ کو حوالہ کے لئے تین چار کتب بتائی جاتیں۔ لیکن عملی طور پر ان میں سے صرف ایک دیسی کتاب کا انتخاب کرکے تمام تر کام اسی سے کروایا جاتا۔ ہر بندے کو پتا ہوتا کہ جو کچھ کورس ورک دیا جائے گا۔ اور جو کچھ امتحان میں آنا ہے۔ اس تمام کی ضرورت بڑی حد تک یہ ایک کتاب ہی پورا کرے گی۔ لائبریری اور انٹرنیٹ سے کچھ مواد ازراہ تکلف بتا دیا جاتا۔ لیکن عملی طور پر اسے پڑھنے کی کوئی ترغیب تھی نہ ضرورت۔ کسی نے اپنے شوق کی خاطر اِدھر اُدھر منہ ماری کرلی تو کرلی۔ ورنہ کوئی ٹینشن نہیں۔ گویا امتحان میں کیا آنا ہے۔ اور اسائنمنٹس میں کن چیزوں کی ضرورت ہے۔اپنی توجہ بس یہیں تک ہے۔ اس نادر نظام سے کچھ دلچسپ شاخسانے برآمد ہوئے۔ کالج میں تین لائبریریاں تھیں۔ ان تمام لائبریریوں میں مقبولیت کا مرکز تین چار چیزیں ہی تھیں۔ کمپیوٹر ، اخبارات ، اردو ادب اور اسلامی کتابیں۔ دوسرے شعبہ جات میں موجود کتابوں کی گردش بہت کم تھی۔ اگر کوئی کتاب وزنی ہے۔ تو اس کے صفحات آپ کو جڑے ہوئے اور چپکے ہوئے ملیں گے۔ مطلب کہ لوگ وزن دیکھ کر ہی نہ پڑھنے کا فیصلہ کرتے تھے۔ مجھے یاد ہے کہ کچھ ہم جماعتوں کے ساتھ میری شرط تھی کہ کون ایسی کتاب اٹھا کر لائے گا جسے ایشو کیے ایک لمبا عرصہ گزر چکا ہوگا۔ اس عرصے میں جن ساتھی نے یہ دلچسپ ریکارڈ قائم کیا وہ فاتحانہ انداز میں ایک ایسی کتاب لے کر آئے تھے جسے آخری دفعہ جاری ہوئے چوبیس سال گذر چکے تھے۔ کتاب کے نئے ایڈیشن موجود تھے جو حسب توقع چپکے ہوئے صفحات کے ساتھ تھے۔ کتاب اگرچہ اپنے شعبہ میں مستند تھی۔ ایم فل کے طلبہ کی حالت نسبتاً بہتر تھی۔ اگرچہ تحقیق رسائل سے ان کی واقفیت ہماری ریفرنس کتب سے شغف کے مماثل ہی تھی۔ ان کی دگرگوں حالت کا اندازہ تو خیر مجھے باہر آکر ہی ہوا۔۔۔ (جاری ہے)

15 comments:

  1. مجھے فلسفہ اور نفسیات سے دلچسپی ہے اس لئے اسی موضوع پراردو کی کتابیں خریدیں تھیں.وہ بھی تین سال پہلے لیکن تین چار سو روپے کی نہیں تھیں.آجکل جاپانی میں جاپان کے سیلز ٹیکس میں اضافہ کی وجوہات کے متعلق موضوع کی کتاب پڑھ رہا ہوں. :-?
    خشک موضوع کی کتابیں ہی زیادہ پڑھتا ہوں........یعنی آپ کی بات ٹھیک ہی ھے :oops: :oops: :oops:

    ReplyDelete
  2. بالکل صحیح جانب اشارہ کیا ہے آپ نے، "کتاب اور علم دوستی" ہمارے معاشروں سے ختم ہوتی جا رہی ہے جس کی وجہ سے ہمارے درمیان "انسان دشمنی" در آئی ہے۔ حافظِ شیراز نے کہا تھا

    دریں زمانہ رفیقے کہ خالی از خلل است
    صراحیِ مئے ناب و سفینۂ غزل است

    کہ اس زمانے میں اگر کوئی بے ضرر ساتھی ہے تو وہ صرف خالص شراب اور غزلوں کی کتاب ہے۔

    جہاں تک ذاتی معلومات کا آپ نے پوچھا، اللہ جنت نصیب کرے، والدِ مرحوم یاد آ گئے، بیس سال قبل میرا ایف ایس سی کا زمانہ تھا، رات کے دو تین بجے والد صاحب کسی کام سے اٹھے، میرے کمرے کی بتی جلتی ہوئی دیکھی تو آ گئے، میرے ہاتھ میں منٹو کی کوئی کتاب تھی اور بستر پر ادھر ادھر ایسی ہی کتابیں بکھری ہوئی تھیں، کہنے لگے، "اوئے شرم کر، اے کی کنجر خانہ کھولیا ای۔"

    تازہ ترین حادثہ کوئی دس دن قبل پیش آیا، میری بیوی نے بہت اصرار اور تکرار کے بعد مجھے بازار بھیجا کہ ایک پیڈسٹل فین لے کر آؤں، راستے میں کتابوں کی ایک سیل لگی ہوئی نظر آئی اور میں دس بارہ کتابیں اٹھا کر واپس آ گیا۔ اسکے بعد کے حالات و واقعات کے بارے میں راوی کو کچھ شبہ سا ہے کہ کیا ہوا تھا :)

    ReplyDelete
  3. بھائی آپ کی بات بالکل ٹھیک ہے ۔ لیکن ہمارے ملکی حالات آپ کے سامنے ہیں لوگوں کی روزی روٹی پوری نہیں ہوتی تو ایسے میں وہ کتابوں میں کیا دل چسپی لے گے۔ آپ کسی کسے پوچھ کر دیکھ لیں وہ یہی کہے گا کہ کیا کتابوں سے پیٹ بھر جائے گا

    ReplyDelete
  4. جب سے انٹرنیٹ آیا ہے ہمارے ہاں بہت سی لائبریریاں ختم ہو گئی ہیں. مطالعہ ختم ہو کررہ گیا ہے خود میری پوری زندگی کتابیں پڑھتے پڑھتے گزری ہے لیکن جب سے اس نئی لت لگی ہے مطالعہ ختم ہو کر رہ گیا ہے. ہاں البتہ بجلی جب چلی جائے تو کوئی نہ کوئی کتاب اٹھا کر ورک گرانی ضرور شروع کردیتا ہوں.

    ReplyDelete
  5. آپ کی بات سولہ آنے درست ہے، پاکستان اور مسلم دنیا کا مسئلہ خاندگی ہی نہیں میعاری تعلیم بھی ہے. ہمارے یہاں اسکوں اور گھروں میں کتب بینی کا کوئی تصور نہیں. زیادہ تر اسکولون میں امتحانات سے پہلے اساتزہ اہم سوالات اور انکے جوابات لکھوا دیتے ہیں پھر کس کو ضرورت پڑی ہے کوئی دوسری کتاب پڑھنے کی.

    اردو زبان تر کتابیں مذہبی لڑیچر، عشقیہ افسانے، شاعری ناول اور اسی طرح کی چیزوں پر مشعمل ہیں. تحقیقی، سائنسی اور دیگر مضامین اردو کا دامن تاحل خالی ہے. جب کہ ہمارے خواندہ لوگ انگریزی بول اور سمجھ تو لیتے ہیں لیکن انکی اکثریت انگزیزی نہیں پڑھتی اور مصیبت یہ ہے کہ وہ موضوعات جو آپ پڑھانا چاہتے ہیں زیادہ تر انگریزی اور غیر اردو زبابوں میں ہے.

    ویسے مذہبی کتابیں پڑھنے کا اگر واقعی رواج ہے تو یہ بہت اچھی بات ہے کہ لوگ مذہب جس کا تعلق میرے نذدیق خالص عقل سے ہے سوچنے اور سمجھنے کی کوشش تو کریں وگر نہ ہم نے مذہب کو خالص جزباتی مسئلہ بنادیا. ویسے سچائی یہ ہے کہ ہمارے یہاں مذہبی کتابیں پڑھنے کا رجہان بھی اتنا نہیں جتنا ہونا چاہئے. آپ کسی بھی معقول شخص سے پوچھ لے بھیا کیا کبھی قرآن کریم کی تفسیر اور براہ راست حدیث کی کتاب پڑھی ہے تو غالب ترین اکثریت کا جواب نفی میں پوگا. لوگ مذہب کے نام صرف فقہ اور مسلک کی کتابیں پڑھتے ہیں جس میں پکا پکایا اسلام پہلے سے موجود ہوتا. سوچنے سمجھنے اور سوال کرنے کی کوئی رعایت نہیں ہوتی. اسی طرح بہت کم لوگ درس قرآن اور درس حدیث کے پروگرام میں شریک ہوتے ہیں، زیادہ تر صرف وعظ پر قناعت لرلیتے ہیں.

    ReplyDelete
  6. بی ایس سی میں میرے مضامین مائیکرو بیالوجی، بائیو کیمسٹری اور کیمسٹری تھے. دو سال یہ پڑھنا پڑے پھر صرف کیمسٹری پڑھی. لیکن اسکے بعد بھی میں نے انہیں پڑھنا نہیں چھوڑا. پی ایچ ڈی کے دوران بہت کچھ کیمسٹری سے الگ ہو کر بھی پڑھنا پڑتا ہے. جس ادارے سے پی ایچ ڈی کیا. وہاں ایک خاصی بڑی لائبریری ہے. جہاں دنیا بھر کے اہم سائینسی جرنلز کی ایک بڑی تعداد آتی ہے. جب تک میں وہاں تھی یہ تعداد ایک سو تیس کے قریب تھی. سائینسی جرنلز میں بالکل ھالیہ تھقیقات پہ نتائیج ہوتے ہیں. جب تک میں وہاں تھی تقریبآ ہر کتاب پہ سے ایک دفعہ ضرور گذری. اسکے علاوہ ہماری تحقیق کے مطالبات ایسے تھے کہ دنیا بھر کے اولین سائینسی جرنلز کو پڑھنا لازمی ہوتا تھا. تو اس دوران متعدد مضامین سے جو کیمسٹری سے الگ ہیں ان سے مڈبھیڑ ہوئ. انٹر نیٹ نے زندگی آسان کی. جہاں کوئ نئ اصطلاح دیکھی. فورآ سرچ کر ڈالی کیا بلا ہے.
    خود میرے اپنے گھر میں ایک لائبریری موجود ہے. جہاں اردو اور انگریزی میں خاصی کتابیں موجود ہیں. اتنی ہیں کہ میں متعدد بار انہیں مختلف عنوان کے تحت کٹیگرائز کرنے کا پروگرام بنا چکی ہوں تاکہ کتابیں ڈھونڈھنے میں آسانی رہے اور ایک کتاب دوبارہ نہ خریدی جائے. اس میں تاریخ سے لیکر جغرافیہ، سیاست ، سائینس اور ادب سمیت نفسیات بھی شامل ہے. جس میں ہر گذرتے دن کے ساتھ اتنا اضافہ ہو رہا ہے کہ میں گھر میں کہہ رہی تھی کہ کچھ کتابیں کسی لائبریری کو تحفے میں دے دی جائیں کہ رکھنے کے لئے جگہ ہی نہیں. آج ہی میں نے تین کتابیں خریدی ہیں. دو انگلش کلاسک کی اور ایک سرسید احمد خان پہ.
    پچھلے مہینے چار کتابیں لی تھیں. جس میں سے دو مودودی صاھب کی تقاریر کا مجموعہ ہیں اور ایک انکے حالات زندگی.
    ابھی حال ہی میں ایک کتاب دوبارہ پڑھی جسکا نام ہے جہاں عورتوں کے لئے ڈاکٹر نہ ہو. یہ دو جلدوں پہ مشتمل ہے. پاکستان نیشنل فورم آن ویمینز ہیلتھ کے زیر اہتمام شائع ہوئ. اتنی اچھی ہے کہ جس طرح کسی زمانے میں خواتین کو جہیز میں بہشتی زیور دیا جاتا تھا. میرا خیال ہے اب اسے دینا چاہئیے.

    ReplyDelete
  7. کتب بینی کا شوق صحت مند معاشرہ میں بہت اہم کردار ادا کرتا ہے. لیکن چونکہ ہمارا معاشرہ صحت مند ہے نہ اسے بنانے کی خواہش لہٰذا کتابوں کے شوق کی جگہ اب کھیلوں، کارٹونوں اور فلموں کے شوق نے لے لی ہے. کہنے کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ باقی تمام مشاغل کو ترک کردیا جائے، لیکن کیا ہی اچھا ہو کہ انسان کی بہترین دوست کتاب کو ان تمام چیزوں پر فوقیت دی جائے جو وقت اور صلاحیتوں کے زیاں کا باعث ہیں.

    گذشتہ کئی ہفتوں سے روزنامہ جنگ کے سنڈے میگزین میں لائبریریوں کی حالت زار پر مضامین شائع ہورہے ہیں. اور افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ اچھی اچھی کتابیں پڑھنے والے کی راہ تکتے تکتے دیمک زدہ ہوجاتی ہیں :-? .

    ReplyDelete
  8. سکول یا کالج مین تو کتاب بینی کا صرف اس مضمون کی حد تک پتا ہوتا ہے جو امتحان میں پکے ’گیس‘ کے ساتھ آنا ہوتا ہے.
    پڑھنے کا شوق مجھے شروع سے ہی تھا ، اس کی وجہ بھی کبھی سمجھ نہ آئی کہ گھر میں ایسا کوئی رجحان نہیں تھا. کونوں کھدروں میں سے کتابیں نکال کر پڑھ لیا کرتا تھا. ایک لمبا عرصہ تو میں اپنے چچا سے ردی میں آنے والے انگریزی اور اردو اخبارات کے میگزین لیا کرتا تھا پڑھنے کیلئے جس کے وہ لفافے بنایا کرتے تھے. خیر یہ تو گئے زمانے کی باتیں ہیں. ایسا نہیں تھا کہ کتاب خریدنے کی حیثیت نہ تھی بلکہ اس کا کوئی تصور نہیں تھا ذہن میں کہ دوکانوں پہ لگی کتابیں لوگ واقعی خریدتے بھی ہیں. بچپن کی یاد ایک تعلیم و تربیت اور دوسری بڑے بھائی کے جاسوسی عمران سیریز ٹائپ ہیں(وہ میں بہت کم ہی پڑھ پاتا تھا پورا کہ بھائی ختم کرتے ہی واپس کر آیا کرتا تھا لائبریری کو)
    گورنمنٹ کالج کا ذکر کیا آپ نے تو میری طبیعت میں وہاں آ کر ہی اصل میں کتاب بینی کا صحیح معنوں میں شوق پیدا ہوا تھا. میں لاہور میں ہر اتوار باقاعدگی سے انارکلی کے پاس اور نیلا گنبد میں فٹ پاتھوں پہ لگی کتابیں سارا سارا دن دیکھا کرتا تھا، اور سستی سستی ڈھونڈ ڈھانڈ کر خرید بھی لیتا تھا. ظاہر ہے موضوعات محدود تھے، مجھے تو وہ فٹپاتھ بھی سمندر لگا کرتے تھے کتب کا. اور مین اکثر یہی خواہش کرتا تھا کہ بس یہ ساری کتابیں ککسی طرح میرے پاس آ جائیں، حالانکہ ان مین اکثر میرے مطلب کی بالکل نہیں ہوتی تھیں.
    میرا ’سنہرا‘ مطالعاتی دور گورنمنٹ کالج لاہور کا زمانہ ہی ہے. آپکی اس تحریر سے مین نوسٹیلجیا کا شکار ہو رہا ہوں..... آتا ہے یاد مجھ کو گزرا ہوا زمانہ!!

    ReplyDelete
  9. عثمانJuly 30, 2010

    یاسر جاپانی : اردو کی کتابیں آپ نے جاپان میں خریدی تھیں؟ بڑے خوش نصیب ہیں. :a: مجھے تو اردو کی کتاب خریدنی ہو تو کسی رشتہ دار کی منتیں کرنی پڑتی ہیں کہ واپس آؤ تو کچھ لیتے آؤ. :g:

    محمد وارث : خوش آمدید! تجربہ آپ نے خوب بیان کیا ہے. :-P کچھ یہی حالت ہمارے ہاں بھی ہے. والدہ صاحبہ کتابیں سٹور روم سے باہر رکھنا پسند نہیں کرتیں. کہ "کاٹھ کباڑ" کی جگہ وہی ہے. :(

    عدنان : ہمارے ملک میں کھانے پینے پر جتنا مال اڑیا جاتا ہے شائد اس سے آپ واقف نہیں. پاکستان میں سگریٹ اور چائے پر کتنا خرچہ کیا جاتا ہے. ذرا غور کیجئے. :?:

    شازل : لائبریریاں تو پہلے بھی بہت کم تھیں. انٹرنیٹ تو شائد ایک بہانہ ہے. انٹرنیٹ کتاب کا متبادل کبھی نہیں ہوسکتا. :f:

    کاشف نصیر: آپ کی بات درست ہے. معیاری کتاب اب انگریزی اور دوسری زبانوں میں ہی ہے. اردو صرف ادب تک ہی محدود ہو چکی ہے. ظاہر ہے جہاں مطالعہ کا شوق نہ ہو وہاں تحقیق کا شوق بھی جنم نہیں لیتا. :s:

    عنیقہ ناز : پیشہ وارانہ تحقیق کی دنیا تو ایک الگ ہی دنیا ہے. "گرما گرم" اور تازہ تحقیقی مواد کی ایک ہلکی سی جھلک میں نے بھی دیکھ رکھی ہے. :-P آپ کا شمار تو خیر پاکستان کی اعشاریہ ایک فیصد خواتین میں ہی کیا جاسکتا ہے. ورنہ پاک وطن میں خواتین کے فرائض و ذمہ داری گھرداری تک ہی محدود ہیں. :d: جہاں تک بہشتی زیور کا تعلق ہے تو میرے نزدیک اس سے خطرناک کتاب اور کوئی نہیں. لیکن اس پر بات پھر کبھی سہی. :-x

    محمد اسد : سنڈے میگزین کے آرٹیکلز کی طرف توجہ دلانے کا بہت شکریہ. :-D

    عین لام میم : گورنمنٹ کالج کے باہر فٹ پاتھ پر لگی پرانی کتابیں مجھے بھی یاد ہیں. لیکن کوئی اچھی کتاب وہاں ڈھونڈنا مشکل تھا. ذیادہ تر اِدھر اُدھر کی فضولیات ہی تھیں. لیکن اُس وقت میری استبداد بھی اتنی ہی تھی. :d:

    ReplyDelete
  10. میں نے اپنے بلاگ کی شروعات ہی ان الفاظ سے کی تھی ۔۔۔۔
    ×××
    انٹرنیٹ براؤزنگ کے رحجان میں اضافہ کی بدولت لگتا ہے لوگوں کے مطالعۂ کتب میں کافی کمی آ گئی ہے ، بڑی مشکل سے لوگوں کے ہاتھوں میں کوئی کتاب نظر آتی ہے۔ ورنہ تو یہ آئی پوڈ / بلیک بیری کا زمانہ ہے۔
    پہلے ہی ہمارے عام اردو قاری کی علمی و ادبی استعداد اتنی نہیں جتنی مغربی ممالک کے دیگر زبانوں کے قارئین کی ہوتی ہے اسی سبب ہمارے ہاں تفریحی اور سستے ادب میں پناہ لیا جاتا ہے ۔۔۔۔ پناہ لینے کا وہ دَور بھی غنیمت تھا کہ ادب کے کسی درجے میں ہی سہی ، لوگ زبانِ اُردو سے جڑے رہے ، مگر اب ۔۔۔۔۔ ؟
    ×××
    اصل چیز مطالعہ ہے ، کتاب چاہے وہ کاغذ کی ہو یا الکترانک (پ ڈ ف) ۔۔۔ یہ تو ذریعہ ہیں۔ لوگوں کو پہلے مطالعے کی جانب توجہ دلانے کی ضرورت ہے۔ پہلے پہل انٹرنیٹ پر کچھ “سنجیدہ مطالعہ“ کریں تو پھر کاغذ والی کتاب کی طرف بھی لوگ ضرور متوجہ ہو جائیں گے۔
    مگر “سنجیدہ مطالعہ“ کرے کون ؟
    حالانکہ علم کے حصول کی جانب کسی بھی مذہب نے روک نہیں لگائی۔ ہمارے ہاں کے کچھ متشدد ہیں جو علم کو “علمِ دین“ تک محدود رکھنا چاہتے ہیں۔ حالانکہ یہ ترجیح کی بات ہے۔ ورنہ دین کے علم کو جدید ترین ٹکنالوجی کے ذریعہ تیز ترین رفتار سے دنیا کے کونے کونے میں اگر پہنچانا ہو تو کیا مسلمانوں کو بھی جدید ٹکنالوجی سے لیس ہونا نہیں پڑے گا؟

    موضوع بہت وسیع ہے۔ ہر سنجیدہ بلاگر کو اس پر ضرور خامہ فرسائی کرنا چاہئے۔ میں بھی ان شاءاللہ کوشش کروں گا کچھ لکھنے کی۔
    آپ کا شکریہ کہ آپ نے ایک مفید موضوع کی سمت رہنمائی کی۔ جزاک اللہ خیرا

    ReplyDelete
  11. عثمان میرا بھی یہی حال کسی سے منگوا لیتا ہو یا جب جاوں تو واپسی پر بکسہ کتا بوں سے بھر کر لے آتا ہوں۔ ائیر پورٹ پر خوب خواری ہو تی ھے :a: :a: :a:

    ReplyDelete
  12. طالوتAugust 01, 2010

    سوڈان کا تو پتا نہیں سعودی عرب میں حالات اب بھی ویسے ہی ہیں ۔ کروڑوں ریال نئے تعلیمی اداروں پر خرچ کئے جا رہے ہیں مگر سارا زور عمارت اور اس کی آرائش و سہولیات پر ہے ۔تعلیم کا کیا پوچھنا ۔ اور کوئی عوامی لائبریری نظر نہیں آتی ، کوئی کتب میلہ نہیں ۔ یہاں لاکھوں کی تعداد میں غیر سعودیوں کی تو بات ہی نہ کریں ۔

    مسلم ممالک جب تک اپنے نظام تعلیم میں بنیادی تبدیلیاں پیدا نہیں کرتے اور مطالعے کی اہمیت و افادیت کو اجاگر کرنے کے ساتھ ساتھ کتب کی رسائی آسان تر نہیں بتاتے اس وقت تک دیگر ملکوں یا قوموں کو پیچھے چھوڑنا تو دور برابری بھی نہیں کر سکتے ۔

    ویسے مطالعے کا تو مجھے بھی شوق ہے ، میٹرک تک کتب یا رسائل خریدنا مشکل تھا مگر اپنے اسکول کی لائبریری کے نونہال، تعلیم تربیت نئے پرانے سارے چند ہفتوں میں پڑھ ڈالے تھے باقی اکثر کتابیں یا تو اپنے لیول سے اوپر کی تھیں یا پھر اس قدر قدیم کے ہاتھ لگتے ہی جھڑنے لگیں اسلئے ہماری لائبریرین انھیں صرف دیکھنے کی اجازت دیتی تھیں وہ بھی شیشے کے پار۔ کالج کا زمانہ زندہ باد مردہ کے نعرے لگاتے گزر گیا اب پھر سے یہ شوق جوان ہوا ہے اور کوشش رہتی ہے کہ اچھی کتب مطالعے میں رہیں اور وہ یا جو انٹر نیٹ پر مل جائیں یا چھٹی پر پاکستان میں دستیاب ہو جائیں۔
    وسلام

    ReplyDelete
  13. عثمانAugust 01, 2010

    بازوق : خوش آمدید! شکریہ اپنے مشاہدات بیان کرنے کا. بات ٹھیک ہے. کتاب ہو یا انٹرنیٹ. مطالعہ کا شوق اور ذوق ہونا چاہیے. :-P

    یاسر : پاکستانی ہوں. اور ائرپورٹ پر خواری نہ ہو. یہ ہوسکتا ہے بھلا؟ :-|

    طالوت : بس یوں سمجھ لیں کہ جو جتنا "مسلمان" ملک ہے. اتنا ہی ان سجنیدہ کاموں سے بیزار ہے.
    تعلیم و تربیت میں بھی پڑھتا رہا ہوں. اور کالج کے زمانے کا بھی آپ نے خوب کہا. واقعی. جو زمانہ تعلیم اور مطالعہ کا شوق اور تحقیق کا تجسس پیدا کرنے کا ہوتا ہے. وہ ہمارے ہاں نعرہ بازی میں صرف کیا جاتا ہے. :(

    ReplyDelete
  14. السلام علیکم ورحمۃ وبرکاتہ،
    واقعی یہ بات توشدت سےمحسوس کی جارہی ہےکہ کتاب پڑھنےکارحجان جوکہ پہلےبھی کم تھاانتہائی کم ہوگیاہے۔اورجب بچپن تھاتوکہانیوں کی کتابیں ،عمروعیار،ٹارزن،تعلیم وتربیت،ہمدردنونہال، وغیرہ زیرمطا‏ئعہ تھیں جب کچھ بڑھےہوئےتوکتابوں کاشوق چلتارہا۔اورکافی کتابیں خریدیں بھی جن کی فہرست تویادنہیں کیونکہ جب سےسعودی عرب آئےہیں تویہی کےہوکررہ گئےباقی کتابیں پاکستان میں ہی رہ گئي۔
    اوریہ بات کہ سعودی عرب میں الحمداللہ مدینہ منورہ میں رہتاہوں یہاں پرایک لائبریری مسجد نبوی کی ہےجہان پرانگلش اوراردوکی کتابیں بہت کم ہیں لیکن عربی کی بہت زیادہ تقریباشایدایک لاکھ سےبھی اوپرکتابیں ہیں جس میں تاریخ،سیاست،تقریبا ہرموضوع پرکتاب پڑی ہوئي ہے۔ اورکوشش ہوتی ہےکہ جمعہ کےدن چھٹی والےدن وہاں جائیں اورکتابوں سےشغف جاری رکھیں۔یہاں پربھی زیادہ کتابیں جواردومیں ہیں مذہب کےمتعلق ہی ہیں۔باقی لائبریری میں خاصہ رش ہوتاہے۔اللہ تعالی ہم کوعلم حاصل کی توفیق عطاء فرمائے۔ آمین ثم آمین

    والسلام
    جاویداقبال

    ReplyDelete
  15. عثمان آپ نے اب تک اپنے بلاگ رول میں ہمارا ربط تبدیل نہیں کیا. فوری طور پر تبدیل کرلیں لیں ورنہ یم ایک احتجاجی بلاگ لکھیں گے، اردو بلاگز اور اردو کے سب رنگ والوں نے بھی اب تک ہمارے مکان کا ربط درست نہیں کیا ہے.

    ReplyDelete