1 September 2010

(۲) دل لگی

"اسلامی لباس" پر اپنا موقف میں پچھلی تحریر میں واضح کرچکا ہوں۔ اب دوستوں سے تھوڑی دل لگی کرتے ہیں۔

خوبصورت انداز تحریر رکھنے والے عزیز بلاگی دوست نے بلاشبہ خلوص نیت سے تحریر لکھی ہے۔ شائد وہ اس کے جواب میں ماشااللہ اور جزاک اللہ سننے کی خواہاں تھے۔۔۔ جو نہ کرکے میں نے کوتاہی کی۔ لیکن عزیز دوست سے دوستانہ التجا ہے کہ اگر وہ بیان کئے گئے اسلامی لباس اور اس کے سنت نبوی ہونے پر اتنا یقین اور ایمان رکھتے ہیں تو پھر کوتاہی کیسی؟ داڑھی بڑھائیے، تہمد باندھیے ، پگڑی باندھیے اور جامعہ کراچی کا ایک چکر لگائیے اور اپنے دفتر میں ایک دن گزارئیے۔ اپنی تصویر اور ویڈیو ضرور بنوائیے گا۔ میں بدلے یا کفارہ میں اس عید کے موقع پر آپ کو آپ کا من پسند تحفہ ارسال کروں گا۔

ایک اور قابل احترام بلاگر جو میرے جیسے نادانوں کی اصلاح کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے۔۔ ایک مذہبی موضوع پر مبنی پچھلی بحث میں مجھ مغرب زدہ شخص کو "تھالی کا بھینگن" اور "بے پیندے کا لوٹا" قرار دے چکے ہیں۔ افسوس کہ ان کی فہم دین سے ان کے اپنے فرزند مستفید نہیں ہورہے۔ اردو محفل موجود کچھ ہفتہ پہلے فرزند موصوف اپنے پروفائل میں لگے اوتار میں بالکل امریکی نظر آئے۔ ہیٹ پہنے۔۔۔ چشمہ لگائے۔۔اپنی بیگم اور میری قابل احترام بہن کے ساتھ جو بغیر آستینوں کی شرٹ میں ملبوس تھیں۔ میرے قابل احترام بھائی اور ان کی بیگم اپنے نک نیم بھی بالکل امریکیوں جیسے رکھتے ہیں۔ کاش وہ بلاگ پڑھتے تو معلوم ہوتا کہ امریکہ کتنا بڑا دارالکفر ہے۔ وہی دارالکفر جس کی وہ شہریت اختیار کرکے برسوں سے وہاں رہ رہے ہیں۔ قابل احترام بلاگر خود اپنی ایک تصویر میں واسکٹ میں ملبوس ہیں۔ اب پتا نہیں کہ واسکٹ اور شلوار قمیض رسول اللہﷺ اور صحابہ کا لباس ہے کہ برصغیر پاک و ہند کے لوگوں کا؟

اور میرے سب سے پیارے دوست ، جو انتہائی "ٹھنڈا مزاج" رکھتے ہیں۔ بلاگستان کے سب سے محب وطن بلاگر ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ جاپانی قانون کے مطابق وہ پاکستانی شہریت واپس کرچکے ہیں۔ پھر کیا ہوا؟ جب پردیس میں بیٹھ کر سیاست کی جاسکتی ہے تو تبصرہ کرنے میں کیا برائی ہے۔ ایک تبصرے میں وہ مجھے " مغرب کی طرف مائل" ہونے کا طعنہ دے رہے ہیں۔ ان سے صرف یہ کہنا تھا کہ میری جاپانی بھابھی اور جاپانی بھتیجے بھتیجیوں کو عید کی خوشیاں مبارک ہوں۔ اور میرے لئے دعا کریں کہ میں بھی غیر تہذیب کی طرف محض مائل ہونے کی بجائے گھٹ کر جھپی ڈال لوں۔

پتا نہیں کہ بعض لوگوں کو یہ ڈر کیوں ہے کہ اگر معاشرہ تھوڑا آزاد ہوگا تو مسلمان خواتین اسلام اور ایمان کو خیرآباد کہتے ہوئے اپنے پردے دوپٹے اتار پھینکیں گی اور گھر میں بوائے فرینڈ لے آئیں گی۔ بندہ پوچھے کیا آپ کو مسلمان خواتین پر اعتماد نہیں؟ آپ مسلمان ہیں تو کیا وہ مسلمان نہیں۔ خدا گواہ ہے کہ میں نے کنیڈا اور امریکہ کے آزاد ماحول میں جتنی مسلمان خواتین اسلام پر عمل پیرا اور پردے کا خیال رکھتے دیکھی ہیں اتنا پاکستان میں نہیں دیکھیں۔ ادھر اقامت کہی جاتی ہے تو یونیورسٹی کے کمرہ نماز میں تل دھرنے کو جگہ نہیں ہوتی۔ جبکہ گورنمنٹ کالج لاہور میں امام کے پچھے مقتدی ڈھونڈتے رہو۔

مغرب کی آزادی میں کچھ عورتیں فاحشہ بن جاتی ہیں توکچھ پاکباز۔ مغرب کی عورت صرف فاحشہ ہی نہیں اس کے اور بھی کئی روپ ہیں۔ مغرب سب کو آزادی دے رہا ہے۔ باقی اسکے شہریوں پر منحصر ہے۔ لیکن کچھ لوگوں کو مغرب صرف ننگا ہی کیوں نظر آتا ہے۔ شائد کافر ننگا ہوتا ہے۔ اور منافق؟؟

نوٹ: اس تحریر میں کسی کی تضحیک کرنا مقصود نہیں۔ بلکہ ایک کھلا تضاد دکھانا ہے جو ہم میں انفرادی اور معاشرتی طور پر موجود ہے۔ یہ تضاد ہم سب میں ہے آپ میں بھی اور مجھ میں بھی۔ کسی کی دل آزاری ہوئی ہو تو معذرت خواہ ہوں۔

40 comments:

  1. یہ جو قابل احترام بزرگ بلاگر کے بارے میں آپ نے بات لکحی. یہ وہ بات ہے جو میں ہمیشہ کہتے کہتے رک جاتی تھی کہ نامناسب لگتا ہے کجہ کسی کے خاندان کو اس میں گھسیٹا جائے. لیکن میری یہ بات چاہے کسی کو جتنی بری لگے یہی وہ منافقت ہے جو اسلام کو ایک ایسا مذہب کا روپ دیتی ہے جسکا مذاق جو دل چاہے اڑائے.
    اس وقت وہ سارے بلاگرز جو بڑھ چڑھ کر اپنے آپکو مسلمان اور دوسروں غیر مسلم ثابت کرنے پہ تلے رہتے ہیں اگر انکی ذاتی زندگی دیکھی جائے تو اسی تضاد کا شکار ہوگی. کیا اسی کو اسپلٹ پرسنالٹی نہیں کہتے.
    میں الحمد للہ،
    :a: اس سے اپنے آپکو دور رکھنے کی ہر ممکن کوشش کرتی ہوں. خاصہ نقصان ہوتا ہے لیکن برانڈڈ ہونا بھی کوئ چیز ہوتی ہے. :f:

    ReplyDelete
  2. یار عثمان کیا بات ھے تمہاری بہت زبردست جارھے ھو- بہت شکریہ

    ReplyDelete
  3. آپکی تحریر کے بنیادی خیال سے متفق ہوں۔آپ مشاہدے کی قوت سے تجزیہ کرتے ہیں جو نہائت اہم ہے ۔بہتر ہوگا اگر ذاتیات سے بلند ہو کر طنزیہ لہجے کی بجائے تعمیری لہجے میں بات کی جائے۔

    میری رائے میں امریکہ کو عام مسلمان اور علماء دین دارلکفر نہیں سمجھتے۔ انہیں اگر اعتراض ہت تو مسلمان ممالک اور عوام کے بارے میں سوقیانہ پالسیز اختیار کرنے پہ پالسیسی سازوں اور امریکہ حکومت اور اداروں پہ ہے۔ جبکہ امریکی عوام کو وہ اپنا دشمن وغیرہ نہیں گردانتے۔

    ReplyDelete
  4. :-| معذرت بھائی آپ کیلئے بھیتیجے بھتیجیاں نہیں ہیں۔
    کہ اللہ میاں نے عطا ہی نہیں کیں۔شادی کے بیس سال بعد بھی۔
    لیکن مسلمانی کو سند دینے کیلئے دوسری شادی کا خیال نہیں آیا۔کہ پہلی والی کچھ زیادہ ہی اچھی لگتی ھے۔
    میں بھی اس تضاد کے خلاف ہوں۔
    لیکن اتنا اخلاقی طور سے گرنا بھی میرے خیال میں یہ مغربی معاشرہ بھی اچھا محسوس نہیں کرتا۔
    لیکن کرتا یہی کچھ ہے۔
    جو کچھ آپ نے بزرگ کی فیمیلی کیلئے لکھا۔
    ہمیں نہیں معلوم تھا کیا؟
    ہمیں بھی ان سے اختلاف ہے اور ہوتا رھے گا۔
    کشمیر کے اشیو پر ان کی پوسٹ پر میرا کبھی تبصرہ دیکھا؟
    بھائی میں نے ہوش کی آنکھیں اس مغربی معاشرے میں کھولی ہیں۔
    اگر ان کے اخلاق کا پیمانہ دیکھا جائے تو وہ ہمارے دین سے اتنا نہیں ٹکراتا۔
    لیکن ان میں بھی وہی تضاد ہوتا ھے جو ہم میں ھے۔
    تو جناب آپ کسی ایک ہی معاشرے کے اخلاق کا ہی احساس کر لیتے۔
    کسی دوسرے بلاگر کے ساتھ بھی میرا اختلاف اسی وقت ہوتا ھے۔جب وہ ذاتیات پر اتر آتے ہیں۔

    آپ سے مجھے ایسی امید نہیں تھی۔ :-| :(

    ReplyDelete
  5. جہاں تک بزرگ بلاگر کا تعلق ہے وہ اپنے جوابدہ خود ہیں لیکن جہاں تک میرا تعلق ہے تو میں وضاحت کرنا چاہوں گا کہ الحمد اللہ میری ڈاڑھی بھی ہے اور میں نیکر، جینس کی پینٹ اور اسکن فیٹنگ پینٹ بھی نہیں پہنتا. انگریزی لباس ضرور پہنتا ہوں مگر وہ جو جائز ہو یعنی جس سے جسمانی وضع قطع ظاہر نہ ہو. اکثر جمع اور عید پر سفید یا سیاہ عمامے کا بھی استعمال کرتا ہوں اور آفس میں بھی جو ایک ملٹی نیشنل کمپنی ہے سر پر اکثر ٹوپی ہی رہتی ہے.نیز میری والدہ اور ہمشیرہ بھی حجاب کرتی ہیں.

    میری تصاویر میں سے کئی ایک دو تین سال پرانی ہیں اسلئے اس میں آپکو ڈاڑھی نظر نہیں آئے گی اور ابھی بھی میری ڈاڑھی پورے چہرے پر نہیں. جامعہ کراچی میں سب مجھے اچھی طرح جانتے ہیں اسلئے جب میں مسنون لباس میں وہاں جاتا ہوں تب بھی کسی کو حیرت نہیں ہوتی. اسی طرح دفتر میں بھی مالکان میرا کام دیکھتے ہیں نا کہ میرا حلیہ، میرے کئی کولیگ تبلیغی جماعت میں ہیں اور وہ مکلمل مسنون لباس میں دفتر آتے ہیں اور غیر ملکیوں کے ساتھ میٹنگز بھی کرتے ہیں.

    بہت اچھی بات ہے کہ آپ دین کو تحقیق اور عقل کی بنیاد پر سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں اور آپ کو شاید یاد ہو کہ میں بھی عقل کو دین کی بنیاد سمجھتا ہون، البتہ قرآن و سنت کے واضع احکامات کے آگے اپنی نہیں چلاتا اور سر تسلیم خم کرلیتا ہوں. یقینا میں پوے کے پورے دین پر جیسا کہ حق ہے عمل نہیں کرتا لیکن اسکا مطلب یہ نہیں کہ میں جن چیزوں پر اپنی کمزوری کی وجہ سے عمل نہیں کرتا انہیں ضروریات دین سے نکالنا شروع کردوں اور دین کو اپنی پسند نا پسند کے تابع کرلوں.

    جہاں تک خوف کا تعلق ہے تو ہمیں خوف نہیں ہے یہ سب کچھ ہماری انکھوں کے سامنے ہورہا ہے. آزادی نے ہمارے معاشرے میں تباہی پھیلانا شروع کردی ہے. جس دیٹنگ کلچر سے ہم کچھ برس قبل بلکل ناآشنا تھے وہ اب بلکل ایک معمول کی چیز ہوچکی ہے.

    البتہ میں سمجھتا ہوں کہ معاشرے میں بحث کی آزادی ہونی چاہئے، اختلاف رائے نہ صرف کرنا چاہئے بلکہ اسے براداشت کرنے کی عادت بھی اپنانی چاہئے.

    ReplyDelete
  6. کامرانSeptember 01, 2010

    اگر داڑھی اور ٹوپی کا نام مسلمان ہے تو عیسائی پادری بھی آدھا مسلمان ہے۔
    لباس اور حليہ انسان کے کردار کا ثبوت سمجھ لينا مناسب بات نہيں۔ لباس اور حليہ ہزاروں سال پرانا رواج ہے۔ رواج کا تعلق موسم اور جغرافيائی حالات سے ہے ناکہ مذہب يا انسان کی اندرونی حالت سے ۔۔۔ شکريہ :roll: :roll:

    ReplyDelete
  7. میں یاسر سے متفق ہوں کہ ذاتیات پر بات نہیں ہونی چاہئے نہ ان لوگوں کی طرف سے جو میری طرح دین کہن کی بات کرتے ہیں اور نہ انکی طرف سے جو تجدد اور فکر نو کے حامی ہے اور نہ انکی طرف سے جو دین مخلاف ہیں. البتہ منافقت بھی نہیں ہونی چاہئے کیونکہ منافقت اور دو عملی زیادہ خطرناک چیز ہیں.

    ReplyDelete
  8. کاشف نصیر صاحب سے گزاش کی جاتی ایندہ جعلی تصویر کی جگہ اصلی تصویر لگائ جائے ۔۔۔۔۔۔ 8-O 8-O 8-O

    ReplyDelete
  9. محمد اشرف صاحب آپ جو کوئی بھی ہیں زرا وضاحت کیجئے کہ جعلی تصویر سے آپ کی کیا مراد ہے. دوسرے پر شک کرنے اور تہمت باندھنے کی عادت چھوڑ دیں.

    ReplyDelete
  10. پاکستان کی کافی ساری مسلمان خواتین خوراک کے حصول کے لئے ٹرکوں کے پیچھے بغیر کسی حجاب کے صرف پتلے سے دوپٹوں میں دوڑیں لگارہی ہیں۔ سروں پر راشن ڈھو رہی ہیں اور کھلے میدانوں میں رفع حاجت کررہی ہیں۔

    میرے خیال میں یہ سب پیٹ بھروں کی باتیں ہیں۔

    ReplyDelete
  11. نجیب الرحمٰنSeptember 02, 2010

    عثمان صاحب بات ھے سچ مگر ھے بدنامی کی۔۔

    جی میں آپ کی بات سے سو فیصد متفق ھو ،،
    یہ منافقت ہی کا نتجہ ھے جو ہمارے ملک گھڈا لالین لگ گیاھے، امریکہ کےبارے زیادہ معلومات نہیں لیکن جاپان والی بات درست ھے جاپانی قانون کے مطابق اگر جاپانی شہریت لیتے ھے تو پاکستانی شہریت واپس کرنا ہوتی ھے ، میرے اپنے بھائ بھی جی جاپان میں ھوتے ہیں اور جاپانی شہریت رکھتے ھے ۔ اکثر بھائ کو فون اور پاکستانیوں کی کی محفل میں غدار و وطن فروش جیسے الفاظ سُنا پڑھتے ھے ۔۔۔۔ :roll:

    ReplyDelete
  12. عثمان - کیابات ھے انسانی جذبات کی - بلاگ کی تحریر چڑھتا ھوا دریا - نوٹ -کی تحریراُترتا ھوا دریا - اسی کو انسان کہتے ہیں نا ؟ بہت شکریہ

    ReplyDelete
  13. عنیقہ ناز : بہت شکریہ!

    جاوید گوندل صاحب : تحریر لکھتے وقت حتی الامکان احتیاط اور احترام سے کام لیا گیا ہے. یہ تحریر جس قسم کے تبصروں اور تحاریر کے جواب میں لکھی گئی ہے وہ آپ پڑھ ہی چکے ہوں گے.
    میں تو ایک ایسے عالم سے بھی وقف ہوں جو امریکہ میں ہوتے ہوئے امریکہ کو دارالحرب قرارد دیتے ہیں. اس ضمن میں دین سے کچھ چھوٹ کے خواہاں ہے.

    یاسر : تحریر میں کوئی لغو بات نہیں ہے. اگر ہے تو نشاندہی کردیجئے. تضاد بے شک ہرجگہ ہے. لیکن آدمی اصلاح کا آغاز اپنے آپ سے اور پھر اپنے اردگرد کے افراد سے شروع کرتا ہے
    یہ سن کر افسوس ہوا کہ میرے کوئی جاپانی بھتیجے بھتیجیاں نہیں ہیں. اللہ آپ اور بھابھی کو ڈھیروں خوشیاں دے. آمین!

    کاشف : یہ سن کر خوشی ہوئی کہ آپ فہم و فراست سے دین پر عمل پیرا ہیں. پاکستانی معاشرے کی تباہی کی وجہ ڈیٹنگ کلچر نہیں بلکہ اس کی کچھ دوسری سماجی ، معاشرتی اور سیاسی وجوہات ہیں. اتنی بڑی وجوہات کو نظر انداز کرکے محض ایک چھوٹی سی بات تباہی کی بنیاد بنانا کوئی دانشمندی نہیں.

    کامران : خوش آمدید!

    محمد اشرف : براہ کرم آداب گفتگو ملحوظ خاطر رکھیے.

    نعمان : میں آپ کی بات سے متفق ہوں. پردہ میرے نزدیک کوئی پرائمری چیز نہیں۔۔۔بہت سی دوسری باتیں ذیادہ ضروری ہیں۔ تاہم موضوع اور مقصد تحریر کی وجہ سے تحریر کو آؤٹ آف فوکس نہیں کرنا چاہتا تھا۔ اس لئے بات محدود رکھی۔ جن باتوں کی آپ نے نشاندہی کی ہے موقع ملا تو اس پر تفصیلی مضمون لکھوں گا۔ انشااللہ!

    نجیب الراحٰمن : خوش آمدید!۔۔آپ کے بھائی صاحب سے ہمدردی ہے۔

    md صاحب: بہت شکریہ!

    ReplyDelete
  14. نعمان، پاکستان میں مسلمان خواتین کی اکثریت کھلے میدانوں میں رفع حاجت کرتی ہے. جنگلوں میں راہ چلتے بچے پیدا کرتی ہے. ایک ہی کمرے میں اپنے بچوں، شوہر اور دیگر دس رشتے داروں کے ساتھ زندگی گذارتی ہے. اور ہماری مڈل کلاس کے بزعم خود دین دار لوگ ملک میں ڈش اور مغربی کلچرسے پھیلنے والی برائ کی باتیں کرتے ہیں. بے حیائ اور فحاشی کے عذاب لاتے ہیں. یہ وہی انداز ہے جو فرانس کی ملکہ نے کہا تھا کہ روٹی نہیں ہے تو کیک کیوں نہیں کھاتے.
    یہ سب پیٹ بھروں کی باتیں ہیں. لیکن انکی ڈھٹائ بھی ہے کہ وہ اس ملک میں پیدا ہوتے ہیں بڑے ہوتے ہیں. مگر منتخب یاد داشت اور منتخب مشاہدے کے ساتھ. اس میں موجود دیگر لوگوں کے متعلق نہیں جانتے کہ وہ کس طرح زندگی گذارتے ہیں. انکا مسئلہ یہ ہے کہ میرا یا پاکستان کی کوئ ماڈل گرل کس طرح کی زندگی گذارتی ہے. ٹرکوں کے پیچھے کھانے کے لئے دوڑنے والی بے کشش بھوکی عورت سے انہیں کیا دلچسپی.

    ReplyDelete
  15. واہ بھائی یہ تو میلہ میلہ ہو گیا یہاں پر :a:
    لگتا ھے سب کے دل کی بات کردی۔
    عثمان آپ کو ذاتیات والی بات نظر نہیں آئی؟
    بزرگ بلاگر سے میری کوئی رشتہ داری نہیں ھے۔نہ ہی میں ان کی تمام تحریروں سے متفق ہوتا ہوں۔
    اس لئے ان کے بلاگ پر میرا تبصرہ بھی کم ہوتا ھے۔
    لیکن میرا جو طبقہ وہ پاکستان میں مڈل نہیں کئر طبقہ یعنی غریب غربا کا۔اس لوئر طبقے میں کچھ بڑوں کا خیال کیا جاتا ھے۔عزت کی جاتی ھے۔
    اگر ان بزرگ بلاگر کے بچے آپ یا میری طرح آزاد خیال ہیں اور لباس میں احتیاط نہیں کرتے۔تو ہمیں کوئی حق نہیں کہ اسے وجہ بنا کر ان کی تذلیل کی جائے۔ ان کی تحریروں پر تنقید کریں۔ہو سکے تو احسن طریقے سے اخلاقیات کا خیال رکھ کر۔
    میرے خیال میں میں جاپان کی شہریت لینے والے ابتدائی لوگوں میں سے ہوں۔اور الحمد اللہ مجھے آج تک کسی نے غدار نہیں کہا۔
    عرف عام میں برے سے برے شخص نے بھی میری عزت کی ھے۔اور کرتے ہیں۔زیادہ یہاں کے مقامی پاکستانی مجھ سے عمر میں بھی بڑ

    ReplyDelete
  16. تو عنیقہ جی آپ نے اس معاشرے جاہلوں اور جرائم پیشہ لوگوں کے کیلئے کیا کیا؟
    ایسا کریں ان جاہلوں کو اس سیلابی عذاب کے دوران کوئی کیمائی دوا ڈال کر صفایا کردیں۔
    پاکستان میں آپ کی زندگی آسان ہو جائے گی۔

    ReplyDelete
  17. پولائٹسٹ آبجیکٹیو سبجیکٹیویٹی سے بھی کچھ ایسا ہی حاصل ہوتا ہے جی ۔

    ReplyDelete
  18. یاسر : آپ کتنے سالوں انٹرنیٹ استعمال کررہے ہیں؟؟ کیا آپ کو اب تک یہ سمجھ نہیں آیا کہ انٹرینٹ کی دنیا میں اس طرح مامے چاچوں کی رشتہ داریاں نہیں ہوتیں؟ اس بلاگستان میں کوئی شخص مقدس گائے نہیں ہے. جو شخص بحث میں چھلانگ لگا کر دوسروں پر بے لاگ تنقید کرتا ہے وہ پھر آگے سے یہ نہیں کہ سکتا کہ نہ نہ۔۔۔ میرے خلاف کوئی بات نہیں کہ میں تم سے بڑا ہوں۔
    آپ مجھ سے کم از کم دس سال بڑے ہوں گے۔ تو کیا میں اب ہربات کے جواب میں آپ کا ادب کرنے بیٹھ جاؤں کہ نہ بھی۔۔۔یہ تو میرے بڑے بھائی کی عمر کے ہیں۔ انٹرنیٹ پر بحث دو شریک بحث کے درمیان ہوتی ہے۔ بڑے چھوٹے کے درمیان نہیں۔ اور ویسے اگر کوئی بڑا غلطی پر ہو تو کیا دوران بحث اس سے اختلاف ناجائز ہے؟
    آپ ذاتیات کی بات کررہے ہیں؟ آپ کو یہ نظر نہیں آرہا کہ مجھے "تھالی کا بھینگن" اور بے پیندے کا لوٹا" کہا جاتا رہا ہے؟ اور کچھ دوسری پوسٹوں میں کیسے بالواسطہ طنز کے تیر برسائے گئے ہیں؟
    آپ اپنی بات کریں اگر آپ کو اپنا ذکر میری پوسٹ میں برا لگا ہے تو ٹھیس پہنچنے پر میں معذرت خواہ ہوں۔ لیکن کہی گئی باتیں غلط نہیں ہیں۔میں نے اس پوسٹ میں جتنی بھی جوابی تنقید کی ہے انتہائی پیار اور مکمل احترام کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے کی ہے۔ آپ اور مجھ سے کیا چاہتے ہیں؟ خدارا کچھ تو انصاف سے کام لیں۔

    ReplyDelete
  19. اسلام کا کلچر یقینا ایک رویے کو فروغ دیتا ہے جس میں عفت، حیا اور متانت غالب رہتے ہیں۔ لیکن سڑکوں پر ہاٖ ہاٖ کرتے، خون کا مطالبہ کرتے، اپنے سے اختلاف راٖ رکھنے والوں کو گالیاں دیتے، جھنڈوں پتلوں کو آگ لگاتے باریش مسنون عمامے اور پاجامے پہنے لوگوں میں عفت، حیا اور متانت کہاں نظر آتی ہے؟

    ReplyDelete
  20. عثمان کیا لفظوں کے چھکّے مارے ہیں اچھا انداز ہے کچھ برہم کچھ دل جلا کچھ غصّہ کچھ ادب کا مکسچر ۔۔

    ReplyDelete
  21. میرے خیال سے باوجود اس کے کہ تم جس بھی معاشرے یا تہذیب کو درست سمجھتے ہو یا جس کو بھی غلط تم نے اس پوسٹ میں وہی غلطی کی ہے جس کے تم خلاف ہو. قریش مکہ کا بھی یہی استدلال تھا کہ پہلے اپنے عزیزو اقارب کو دیکھو. کیا یہ جہالت کی سب سے بڑی نشانی نہیں؟ ذاتی طور پر میں میرا پاکستان کی پوسٹس سے سخت اور اجمل صاحب کی پوسٹس سے جزوی اختلاف رکھتا ہوں مگر وہ تو میں عینقہ اور نہ مان سے بھی رکھتا ہوں. کہتے ہیں چاند کی طرف منہ کر کے تھوکنے کا فائدہ نہیں ہوتا. جیسے میرے خیال سے اجمل صاحب کا تمہاری ہریل طوطوں والی پوسٹ پر تبصرہ زیادتی ہے. مگر کیا اس کا مطلب ہے میں ان کی ہر بات غلط مانوں؟ وہ کچھ درست باتیں بھی کرتے ہونگے. کینیڈا کا مشاہدہ اچھی چیز ہے مگر اول وہاں اتنا تنوع نہیں دوئم اس پاکستان والی عینک سے چھٹکارا پاؤ

    ReplyDelete
  22. واقعی بھائی آپ کی بات ٹھیک ھے۔سو فیصد متفق ہوں۔
    انٹر نیٹ کی دنیا میں کوئی ماما چا چا نہیں بنایاجاتا۔خوامخواہ میں تکلف کر نا پڑ جاتا۔
    نہ باجی آنٹی بنائی جاتی ھے نہ بہن نہ ماموں بنا جاتا ھے۔
    استادی شاگردی بھی نہیں ہوتی۔

    بس ٹھڑک پوری کرنا ہوتا ھے۔ :lol: :lol: :lol:
    ٹھرک تو بھائی میں جاپانی کے بلاگ کے ذریعے پوری کر لیتا ہوں۔
    جب تک کسی سے تیزابی و کیمیائی انداز میں اختلاف نہ کروں کوئی الٹا سیدھا نہیں کہتا۔
    اگر اہل علم ہونے کا دعوی ہو تو اختلاف بھی احسن طریقے سے کیا جاسکتا ھے۔

    نوٹ: اس تبصرہ میں کسی کی تضحیک کرنا مقصود نہیں۔ بلکہ ایک کھلا تضاد دکھانا ہے جو ہم میں انفرادی اور معاشرتی طور پر موجود ہے۔ یہ تضاد ہم سب میں ہے آپ میں بھی اور مجھ میں بھی۔ کسی کی دل آزاری ہوئی ہو تو معذرت خواہ ہوں۔

    ReplyDelete
  23. واقعی بھائی آپ کی بات ٹھیک ھے۔سو فیصد متفق ہوں۔
    انٹر نیٹ کی دنیا میں کوئی ماما چا چا نہیں بنایاجاتا۔خوامخواہ میں تکلف کر نا پڑ جاتا۔
    نہ باجی آنٹی بنائی جاتی ھے نہ بہن نہ ماموں بنا جاتا ھے۔
    استادی شاگردی بھی نہیں ہوتی۔

    بس ٹھرک پوری کرنا ہوتا ھے۔ :lol: :lol: :lol:
    ٹھرک تو بھائی میں جاپانی کے بلاگ کے ذریعے پوری کر لیتا ہوں۔
    جب تک کسی سے تیزابی و کیمیائی انداز میں اختلاف نہ کروں کوئی الٹا سیدھا نہیں کہتا۔
    اگر اہل علم ہونے کا دعوی ہو تو اختلاف بھی احسن طریقے سے کیا جاسکتا ھے۔

    نوٹ: اس تبصرہ میں کسی کی تضحیک کرنا مقصود نہیں۔ بلکہ ایک کھلا تضاد دکھانا ہے جو ہم میں انفرادی اور معاشرتی طور پر موجود ہے۔ یہ تضاد ہم سب میں ہے آپ میں بھی اور مجھ میں بھی۔ کسی کی دل آزاری ہوئی ہو تو معذرت خواہ ہوں۔

    ReplyDelete
  24. ہماری مڈل کلاس کے بزعم خود دین دار لوگ ملک میں ڈش اور مغربی کلچرسے پھیلنے والی برائ کی باتیں کرتے ہیں۔۔


    بس چڑھ گئیں آستینیں دینداروں کے خلاف۔
    ہم تو پہلے ہی عرض کر چکے ہیں کہ اگر ذکر گامے کے گونگلوؤں(شلجم) کا ہی کیوں نہ مگر پھر بھی کچھ لوگوں کو اسلام۔ دینداروں ، مسلمانوں سے تکیلف پہنچنا شروع ہوجاتے ہے۔ جب انھیں حقائق کا ائینہ دکھا جائے تو اسلام کی اپنے طرح کی ایک نئی سی تشریح کرنا شروع کر دیتے ہیں ۔ جس میں صرف اپنے اور اپنی طرح کے مسکین سوچ لوگوں کا ہر فائدہ ہو اور اختلاف رکھنے والوں پہ گندھک انڈیلنا فرض منصبی سمجھتے ہیں۔ دوسروں کو نصیت اور خود میاں فصیحت کا کوئی موقع ضائع نہیں جانے دیتے۔ آخر مشن ہے نا؟۔

    بندے کو اپنی منجی دے تھلے بھی ڈانگ پھیرنی چاہئیے۔

    ReplyDelete
  25. یاسر۔۔۔
    آپ اپنے الفاظ پر اس وقت نظر دوڑایا کریں جب اپنے سیاسی اور مذہبی مخالفین کو شرمناک القابات سے نوازتے ہیں۔ آپ کو اپنے من پسند افراد کی وکالت کا شوق ہے۔ لیکن جب آپ کے بلاگ پر میرے خلاف فقرے کسے جارے ہوتے ہیں تو آپ اس وقت چسکے لے رہے ہوتے ہیں۔ کیا یہ کھلا تضاد نئیں اے؟ جب کسی دوسرے نے خاموشی توڑ کر جواب دیا تو غصہ کیوں آگیا؟؟
    مجھے اہل علم ہونے کا کوئی دعویٰ نہیں ہے۔ اور اپنے تضاد کا اعتراف میں اس پوسٹ ہی میں کرچکا ہوں۔

    ReplyDelete
  26. کینڈا میں پاکستان سے کہیں ذیادہ تنوع اور تغیر ہے۔ پاکستانی عنیک سے جان چھڑا کر ہی کئی رخ دیکھنے میں کامیاب ہوا ہوں۔
    مجھے علمیت کا کوئی دعویٰ نہیں ہے۔ اور اپنے تضاد کا اعتراف میں نے اپنی ہم پوسٹ میں کیا ہے۔ اپنے من پسند افراد پر بھی کبھی کبھی تنقید کرلیا کریں۔ آپ مجھے اپنی ایک دو پوسٹ میں تضحیک کانشانہ بنا چکے ہیں کیا میں نے کبھی پلٹ کر جواب دیا؟
    میں نے اس پوسٹ میں مکمل احترام اور پیار سے کام لیا ہے۔ آپ اور کیا چاہتے ہیں؟ جو لوگ دوسروں پر تنقید کرنے میں پہل کرتے ہیں وہ یہ تو دیکھیں کہ ان پر بھی تنقید کی جاسکتی ہے۔

    ReplyDelete
  27. یاسر۔۔۔
    آپ اپنے الفاظ پر اس وقت نظر دوڑایا کریں جب اپنے سیاسی اور مذہبی مخالفین کو شرمناک القابات سے نوازتے ہیں۔ آپ کو اپنے من پسند افراد کی وکالت کا شوق ہے۔ لیکن جب آپ کے بلاگ پر میرے خلاف فقرے کسے جارے ہوتے ہیں تو آپ اس وقت چسکے لے رہے ہوتے ہیں۔ کیا یہ کھلا تضاد نئیں اے؟ جب کسی دوسرے نے خاموشی توڑ کر جواب دیا تو غصہ کیوں آگیا؟؟ :f: :f:
    مجھے اہل علم ہونے کا کوئی دعویٰ نہیں ہے۔ اور اپنے تضاد کا اعتراف میں اس پوسٹ ہی میں کرچکا ہوں۔

    ReplyDelete
  28. جاوید ۔ معاشرے میں مذہبی منافقیں پر تنقید اسلام بیزاری یا اسلام دشمنی نہیں۔ پاکستان کے نام نہاد مذہب پسند منافقت کے اس درجے کو پہنچے ہوئے ہیں کہ ان کے شر سے اللہ ہی بچائے۔ اپنے لئے کچھ اور اور دوسروں کے لئے کچھ اور۔

    ReplyDelete
  29. جاوید گوندل صاحب۔۔۔
    جن باتوں کا طعنہ آپ دوسروں کو دے رہے ہیں وہ لفظ بہ لفظ آپ اور آپ کے ہم خیالوں پر بھی اتنا ہی صادر آتی ہیں۔ یقین نہ آئے تو تحریر دوبارہ پڑھ لیں۔ :wink:
    واقعی بندے کو اپنی منجی تھلے ڈانگ ضرور پھیرنی چاہیے!

    ReplyDelete
  30. میرا مطلب امریکہ کے مقابلے تھا اور پاکستان کی عینک سے جان چھڑانے سے مراد تھی کہ نہ تین میں ہو نہ تیرہ میں۔ تم بتاو کینیڈا میں تم نے کہا دیکھا کہ کسی کو اس کی بات کے جواب میں اس کے کسی فرد کے حوالے سے سوال جواب کیا گیا ہو؟
    اپنے من پسند والی بات تم سنیجدگی سے کہہ رہے ہو؟ اسی تبصرے میں میں نے اپنے اس خود ساختہ ملزم من پسند کے تبصرے بارے نا پسندیدگی کا اظہار نہیں کیا؟ بڑے ہو جاو جلدی سے۔
    اجمل صاحب کو ان کے حوالے سے ٹریٹ کرو اور ان کے جس صاحبزادے کی بات کر رہے ہو کیا پتہ وہ تمہارا ہم خیال ہو یا اس کے پاس تم سے بہتر علم و عمل ہو۔
    نہیں تم پلٹ کر جواب دے نہیں سکے مگر تمہارے کچھ تبصرے میں ادھر ادھر پڑھتا رہا تھا۔ اور تمہاری اطلاع کے لئے ایک دفعہ پھر عرض ہے کہ میں نے تمہارے بارے اپنے ایک عزیز دوست کے الفاظ کوٹ کئے تھے اس کو آئینہ دیکھانے کے لئے۔
    یار تنقید تو ہم دونوں کے والدین بھی کرتے ہیں فیر ان کو بھی لمے پا لیں؟ اور جہاں ایک من پسند نعرہ کہ اردو بلاگستان میں کوئی رشتہ نہِں سب برابر وہاں تم ماموں بن رہے ہو لہذا نہیں رے ماموں ایسا ہے نہیں ایسا تیرے کو لگ رے لا ہے۔

    ReplyDelete
  31. فہم دین لکھنے کے بعد یہ تحریر دودھ میں مینگنیوں کی طرح محسوس ہوئی ہے۔

    ReplyDelete
  32. :e: ارے بھائی
    آپ تو غصہ کر گئے۔
    دل لگی کی لگی میں ایسا ہوتا ہی ھے۔
    چلیں راضی ہوجاتے ہیں۔پھر شیرو شکر :e: :e: ء

    ReplyDelete
  33. شکریہ! :)

    ReplyDelete
  34. یاسر خوامخوا بھائی کا شروع کا تبصرہ چڑھتا ہوا دریا آخری تبصرہ اترتا ہوا دریا - اسی کو انسان کہتے ہیں نا ؟ یہ میری دلگی پڑھنے کا شکریہ

    ReplyDelete
  35. نعمان صاحب!
    طعنہ نہیں ۔ اس رویے کی نشاندہی کی ہے جو بے جاطور پہ وہ عام مسلمان سے روا رکھتی ہیں۔ عموماََ یہ دیکھا گیا ہے جو مسلمانوں پہ شدو مد سے انھیں منافق اور پتہ نہیں کیا کیا کہہ کر مخاطب کرتے ہیں ، ایسے لوگ عملا عمل میں صفر ہوتے ہیں۔ اور صرف اپنے مادی فائدے سوچتے ہیں۔ اسلئیے ایسے لوگ جب خود سے ماسوائے طعن و تشنیع کے کسی کے لئیے ایثار نہیں کرتے تو انھں دوسروں پہ بے جا تنقید کا حق بھی نہیں پہنچتا۔

    ویسے بھی انکی ۔۔ روشن خیالی۔۔ اب سبھی جان گئے ہیں اس لئیے عام مسلمان کا پیچھا چھوڑ دیں۔ ورنہ اےنے بلند باگ دعووے اور آدرش جھوٹ کا پلندہ جانے جاتے ہیں۔

    ReplyDelete
  36. واقعی بندے کو اپنی منجی تھلے ڈانگ ضرور پھیرنی چاہیے!

    حضور! آپ بات کی تہہ تک نہیں گئے۔
    ان کے بقول نوے فیصد پاکستان تو ٹہرا ۔۔ تنگ نظر اور منافق۔۔۔ جبکہ باقی کچھ فیصد جو پیٹی برادران روشن خیال ہیں جن کا کوئی ایک کارنامہ جس سے دوسروں کے ساتھ ایثار اور قربانی سے متعلق ہو نہیں ہے ۔ تو ایسے میں ہر وقت کی ہا ہا کار اور بغیر کسی وجہ کے پاکستانی عام مسلمان کو روشن خیالی کا درس دینا کیا معانی رکھتا ہے اسلئیے کہا تھا،،،
    بندے کو اپنی منجی تھلے ڈانگ ضرور پھیرنی چاہیے!

    ReplyDelete
  37. کاشف بھائی اشرف بھائی پر شک نہ کریں وہ تہمت نہیں باندھ رہے میں سمجھتی ہوں وہ صرف مزاحاً عرض کیا ہے

    ReplyDelete
  38. ریحان

    باہر کی ہوا عجب تیور بدلتی ہے نا

    آپ کی دیگر تحاریر اور تبصرات پڑھ کر بس یہی لکھنا چاہتا ہو

    “ جنا کر دانے ، انا دے کملے وی سیانے “

    ReplyDelete
  39. He notes that "I believe this is a lady so badly seeking to" retailer man's feelings. "Deny the truth that the stops." I think that is correct.

    ReplyDelete