17 September 2010

حیرت کدہ

لینرڈ سسکند ایک جگہ لکھتا ہے کہ اسے بچپن میں ایک سرکس میں کام کرنے کا تجربہ ہوا۔ جہاں اسے بحثیت رضاکار کچھ سامان منتقل کرنا پڑا۔ دوران کام جب اس نے ایک چھ فٹ جسامت کا بظاہر قویٰ ہیکل اور وزنی پتھر اٹھانے کی کوشش کی تو یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ پتھر یوں اٹھتا گیا کہ گویا کاغذ کا بنا ہو۔ ایک خاتون نے ایک بھاری بھرکم کرسی گھسیٹنے کی کوشش کی تو کرسی تیلیوں کا ایک ڈھیر ثابت ہوئی۔ دو نوجوان ایک چھوٹے سے سوٹ کیس کو ہلانے میں ناکام رہے۔تمام اشیاء بظاہر کچھ اور دیکھائی دیتی تھیں۔ ان خصوصیات کی حامل تھیں جو ہم روزمرہ کے مشاہدے اور تجربے سے فرض کرتے ہیں۔ تاہم رضاکاروں پر جب اصلیت کھلی تو انہیں حیرت کے لمحے سے گذرنا پڑا جو دیکھنے والوں اور خود رضاکاروں کے لئے محظوظ کن تھا۔

لینرڈ سسکند نے یہ مثال قارئین کو بلیک ہول کی حقیقت سمجھانے کی خاطر بیان کی۔ سسکند کا استدلال تھا کہ کائنات کے بنیادی اور ابدی حقائق اس وقت تک سمجھے اور ہضم نہیں کیے جا سکتے جب تک کہ آپ کامن پرسپشن (common perception) سے چھٹکارا پا کر اشیاء اور واقعات کی حقیقت کامن سینس (common sense) پر محمول نہ کریں۔ ایک ایسا مقام جہاں زمان و مکاں کے بظاہر بنیادی سمجھے جانے والے خواص یکسر تبدیل معلوم ہوں کی حقیقت سمجھنے کے لئے ضروری ہے کہ آپ پہلے سے متصور کامن پرسپشن پر مبنی خیالات اور "حقائق" کا ذہن سے صفایا کردیں۔ پھر ہی بذریعہ کامن سینس نئے حقائق جاننے کے قابل ہوسکیں گے۔ وجود کا حجم ہونا ، لمحات کا گذرنا ، مادے کا وزن رکھنا ، یہ اور ان جیسے کئی تصورات ہیں جسے ہم اپنی روزمرہ زندگی میں ان چیلنجڈ (unchallenged) تصور کرتے ہیں کہ ان کے برخلاف کبھی کوئی بات ہمارے مشاہدے میں نہیں آتی۔ لیکن یہ تصورات ہرگز کسی منطقی یا سائنسی استدلال پر پورا نہیں اترتے۔

بنیادی طور پر کامن پرسپشن دو طریقوں سے پیدا ہوتی ہے۔ ایک حواس خمسہ سے جو آپ کو محدود مشاہدہ اور تجربہ فراہم کریں۔ دوسرا یہ کہ لوگوں (بشمول آپ) کے کچے خیالات جو ایک عرصہ تک آپ کے گردوپیش میں گردش کرنے کے سبب آپ کے ذہن میں بلا استدلال جم جائیں۔ یہ خیالات اگر ایک عرصہ تک ان چیلنجڈ رہیں تو آپ متعلقہ معاملے میں ریلم آف کامن پرسپشن (Realm of Common Perception) میں گھر جاتے ہیں۔دوسری طرف کامن سینس باوجود اس کے کہ ذہن کا ایک جزو لازمی ہے۔۔۔ ہر معاملے میں ہروقت ہر ذی روح کے استعمال میں نہیں۔ یہ ذہن کا جزو لازمی ہونے کے سبب عام دستیاب ضرور ہے۔ لیکن عام مستعمل نہیں۔ میں کامن سینس کو محض "عام" فہم تک محدود نہیں سمجھتا کہ جو ہر شخص ہر چھوٹے بڑے معاملے میں استعمال کرتا ہے۔ اس کا دائرہ کار کل محصول انسانی علم تک وسیع ہوسکتا ہے۔ ایک سائنسی تھیوری جو ایک غیر سائنس دان کو متعلقہ معاملے کی سمجھ نہ ہونے کے سبب ریلم آف کامن سینس (Realm of Common Sense) سے باہر معلوم ہوتی ہے۔ وہی سائنسی تھیوری ایک سائنسدان کو متعلقہ معاملے کی پوری طرح سمجھ ہونے کی بنا پر ریلم آف کامن سینس میں معلوم ہوتی ہے۔ وجہ اس کی یہی ہے سائنسدان کی فہم متعلقہ معاملے میں محض پرسپشن کی بجائے باقاعدہ کسی منطقی استدلال پر قائم ہے۔ یہاں ایک دلچسپ بات نوٹ کریں کہ غیر سائنسدان متعلقہ معاملے کو اپنے ریلم آف کامن سینس سے باہر ہونے کے سبب معاملے کی حقیقت کو لامحالہ کامن پرسپشن سے جانچنے کی کوشش کرے گا۔ اور یقناً اس معاملے میں حیرت کا شکار ہوگا کیونکہ متعلقہ معاملے کی حقیقت اس کی ریلم آف کامن پرسپشن میں بھی نہیں آتی۔

ادھر ایک سوال ہے۔ کیا حیرت ریلم آف کامن پرسپشن اور ریلم آف کامن سینس کے درمیان ایک عالم ہے؟ میری ناقص رائے میں شائد یہ اسی طرح ہے۔ آپ پرسپشن سے سینس کی طرف جب سفر کرتے ہیں تو حیرت کدے سے گذرتے ہیں۔ جب تک آپ دونوں میں سے کسی ایک بھی ریلم میں موجود رہیں۔۔حیرت وجود رکھتی ہے نہ آپ محسوس کرسکتے ہیں۔ اول الذکر میں تمام معاملات جوں کے توں ہے جیسا آپ نے تصور کررکھا ہے۔ جبکہ موخر الذکر میں کل معاملہ کلی طور پر استدلال کے تابع ہے۔ جب آپ کی پرسپشن ٹوٹتی ہے تو آپ کو حیرت ہوتی ہے۔ مزید آگے بڑھ کر اگر ریلم آف کامن سینس میں داخل ہوجائیں تو حیرت پھر غائب۔ وہاں ہر چیز منطقی ہے۔

کوئی بھی ذہن تمام وقت کلی طور پر ریلم آف کامن پرسپشن میں رہ سکتا ہے نہ ریلم آف کامن سینس میں۔ ذہن دونوں ریلم کی سپر پوزیشن (superposition) کی حالت میں ہے۔ اب یہ ایک فرد پر منحصر ہے کہ وہ کس لمحہ کسی معاملے میں کس ریلم پر ذیادہ انحصار کرتا ہے۔ مزید یہ بھی ممکن ہے کہ اگر آپ بذریعہ استدلال یعنی کامن سینس سے کوئی نتیجہ اخذ کریں تو حاصل کردہ نتیجہ تجزیہ کے بعد آپ کے کامن پرسپشن کا حصہ بن جائے کہ ایک عرصہ تک اس سے واسطہ پڑنے کے سبب اب آپ کو بار بار تجزیہ کرنے کی ضرورت نہیں اور آپ اسے من و عن تسلیم کررہے ہیں۔ اور مستقبل میں اگر کسی نئی حقیقت سے واسطہ پڑے تو یہ آپ کے انھیں پرانے تصورات کو چیلنج کرے جو دراصل آپ نے کامن سینس سے اخذ کئے تھے لیکن اب کامن پرسپشن کا حصہ ہیں۔ سائنس کی تاریخ میں بارہا ایسے موڑ آئے ہیں جب ماضی میں اخذ کردہ نتائج کامن پرسپشن کی صورت میں مستقبل میں دریافت ہونے والے نئے نتائج سے مزاحمت کرتے رہے۔ خود بلیک ہول کی تاریخ ۱۹۳۰ء سے لے کر ۱۹۶۰ء تک اس کی ایک نمایاں مثال ہے۔

نوٹ: خود کلامی کو ہم کلامی سے ہمکنار کرنا آسان نہیں کہ اس کے لئے انشاء و تصنیف کی جو نزاکتیں درکار ہیں وہ مجھ میں محدود ہیں۔نیز انگریزی اصطلاحات بنسبت اردو کے اپنے اندر وسیع معنی رکھتی ہیں اس لئے ان کا استعمال ناگزیر ہے۔ عین ممکن ہے کہ کامن پرسپشن اور کامن سینس کا یہ گورکھ دھندہ آپ کو نان سینس معلوم ہورہا ہو۔ لہذا بلاجھجھک سوال پوچھ کر اپنی اور میری سینس میں اضافہ فرمائیے۔

28 comments:

  1. اوہو تو آپ نے تراجم یہاں کے لئے طلب فرمائے تھے. خیر جس سیاق و سباق میں unchallenged لفظ یہاں مستعمل ہے اس کے لحاظ سے اس کا اردو متبادل "غیر متنازعہ" ہو سکتا ہے.

    ReplyDelete
  2. میرے خیال میں تو انسان بذات خود ون وے اپریسیئیشن کے طلبگار ہوا کرتے ہیں ۔ جس طریقے کی اپریسیئیشن دوسرے انسانوں کیلئے رکھ چھوڑتے ہیں اسی قسم کے انسانوں کے حلقوں میں ضم ہو جایا کرتے ہیں ۔ یہی بات مختلف نفسیاتی بیماریوں کو جنم دیتی ہیں جنکے مختلف علاقوں میں مختلف نام اور ٹریٹمنٹس کے مختلف طریقے ہیں ۔
    ویسے آپ نے جو تھیوری بیان کی ہے اس میں آپنے اپنے لئے گنجائش رکھ لی تھی کیا ۔

    ReplyDelete
  3. تحریر دلچسپ ہے۔
    کامن پرسپشن کچھ جگہوں پر فائدہ مند بھی ثابت ہوتا ہے لیکن اکثر جگہوں اسکے مضر اثرات سامنے آتے ہیں۔ لوگ حقیقت جاننے کی آزادانہ کوششوں کے بجائے پہلے سے مروجہ خیالات میں الجھے رہتے ہیں۔ کم از کم میں اس بات کا حامی ہوں کہ سائنس، عمرانیات، تاریخ، اور مذہب سمیت تمام شعبوں میں تحقیق کے لئے کامن پرسپشن سے جان چھڑانا ضروری ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ پہلے سے مروجہ اصول اور تحقیقی کاموں سے افادہ حاصل نہ کیا جائے۔
    واقعی ترجمہ ایک بہت مشکل کام ہے اور اصطلاحات کا ترجمہ تو نہ کیا جانا زیادہ بہتر رہتا ہے۔

    ReplyDelete
  4. آپ نے کامن پرسیپشن اورکامن سینس کے حوالے سے بہت اچھا بلاگ بنایا ہے - بہت شُکریہ

    ReplyDelete
  5. تحریر موضوع اور وضاحت دونوں کے لحاظ سے عمدہ ہے۔ اس پہ مذید بحث ہونی چاہئیے۔ ذہنوں میں تقدس کے بنے بنائے بُت جب ٹوٹتے ہیں تو وہی حال ہوتا جو ہم پاکستانی قوم کا ہوتا ہے کہ جنہیں ناخدا سمجھتے آئے ہیں وہی راہذن ثابت ہوتے ہیں۔ :)

    ReplyDelete
  6. اس پوسٹ پر تبصرہ کرنے کے لیے پھر حاضر ہوں گی ۔ کیونکہ جب تک دماغ ایک جگہ سیٹ ہو گا تو کچھ کہا بھی جائے گا ۔۔۔۔ جب دماغ بہت سے کاموں مین الجھا ہوا ہو ۔۔ ۔۔۔ تو کامن سینس یہ جا وہ جا ۔۔۔۔۔ویسے ہماری قوم میں کامن سینس کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا ہے ۔۔۔۔۔خاص کر ہمارے لیڈران میں

    ReplyDelete
  7. تین دفعہ پڑھ کر سمجھ آیا کہ کامن سنس کیا ھے۔

    نہایت عمدہ تحریر ھے۔میری معلومات میں اضافہ ہوا۔

    ReplyDelete
  8. میں اس میں اپنا ذاتی تجربہ ڈالنا چاہونگی حیرت کے حوالے سے.
    بحیثیت ایک مسلمان ہمیں پیداءیش کے وقت سے ہی یہ بتایا جاتا ہے کہ تمام کائینات خدا کی صناعی کا شاہکار ہے. وہ عظیم خالق ہے. اللہ نے اس دنیا میں اتنا تنوع پیدا کیا. اسکی مرضی کے بغیر کوئ چیز ادھر سے ادھر نہیں ہو سکتی. اس طرح سے ہم خدا کے سامنے اپنے عجز کا اظہار کرتے ہیں اور اسکی بڑائ اور صناعی کو تسلیم کرتے ہیں. تمام مسلمان اس چیز کو اسی طرح لیتے ہیں. میں بھی یونہی لیتی تھی. یہ گلاب کا پحول خدا نے ایسے ہی بنایا ہے، کوئل کو اسی نے کوکنا سکھایا، جگنو کو چمک دی تاروں کو ضیاء، سمندروں کو سکوں دیا اور دریا کو روانی. دوسری طرف اوروں کا نہیں معلوم سائینس کا طالب علم ہونے کے ناطے سائینسی نظریات بھی اسی طرح سے پڑھائے جاتے رہے. بائیو کیمسٹری، مائیکرو بیالوجی اور کیمسٹری میرے خاص مضامین تھے. یہ سب مضامین حیاتیات سے خاصے قریب ہیں. یوں میں نے وہ تمام نظریات پڑھ ڈالے جو کائینات میں حیاتیات کے آغاز اور انکی بقاء سے جڑے ہیں. کائینات میں سائینسی نظر سے اتنا تنوع کیسے ممکن ہوا، یہ رنگا رنگی کیسے نمودار ہوئ اور اس جیسے دیگر سوال جنہیں ہمیں خوب اچھی طرح بیان کرنا آتا تھا.
    اب یہ بات دھیان میں رکھیں کہ ایک طرف تو میں ایک ہی چیز کے متعلق مذہبی نکتہ ء نظر سے راسخ کر دی گئ ہوں دوسری طرف انکی سائینسی توجیہات کو بھی خوب اچھی طرح جانتی ہوں. لیکن ایکدن جب میں اپنے گھر کے لان میں آرام سے بیٹھی آسمان پہ اڑتے پرندوں کو تک رہی تھی کہ اچانک مجھے احساس ہوا کہ دنیا میں اتنی رنگا رنگی کیسے وجود میں آ گئ؟ یا حیرت ایسا کیسے ہو گیا؟ حیرت ایک سنسناہٹ کی طرح لہو میں دوڑنے لگی.
    اس دن مجھے لگا کہ حیرت کدے کا در کیسے کھلتا ہے. حیرت کدے کا در ایسے کھلتا ہے کہ جب آپکے اندر کی اپنی آنکھ آپ پہ آشکار ہو جاتی ہے. سب چیزیں اسی طرح موجود تھیں جیسی ہمیشہ سے تھیں. کوئ بڑا واقعہ رونما نہیں ہوا تھا. لیکن صرف ایک بات الگ تھی اور وہ یہ کہ مین نے دنیا کو ان تمام نظریات سے علیحدہ ہو کر دیکھا جو اس وقت تک میرے اندروراثت، ماحول اور علم نے دئیے تھے.
    ایسے عالم حیرت سے گذرنا، دنیا کی شاید سب سے پر لطف چیز ہے. یہ وہ حیرت ہے جو انسان کو اپنا اعتماد دیتی ہے، بے خوف بناتی ہے. اسے تعریف کرنا سکھاتی ہے اور چیزوں کی اصل اہمیت اور قدر سے واقف کراتی ہے. یہ وہ حیرت ہے جو سکوت لالہ سے گویائ سکھاتی ہے اور ذرے کو چیرے بغیر اسکی طاقت.
    بچوں کی حیرت اس سلسلے میں مثالی ہے.

    ReplyDelete
  9. عنیقہ ناز :
    " جب آپکے اندر کی اپنی آنکھ آپ پہ آشکار ہوجاتی ہے۔" :d:
    ہممم۔۔۔۔ میرا سوال یہ ہے کہ اس اصطلاح کی تعریف اور تشریح کون متعین کرے گا؟
    تسلیم بذریعہ استدلال اور یقین بذریعہ استدلال کے فرق کے بارے میں کیا خیال ہے؟
    سمجھ کر تسلیم کرلینا الگ بات ہے۔ جبکہ سمجھ کر یقین ہوکر ایمان لے آنا اس سے اگلا مرحلہ ہے۔ آپ نے مذہب اور سائنس پڑھی ، سمجھا اور تسلیم کیا۔ پہلے سے تسلیم شدہ باتوں پر یقین ہونے کا مرحلہ بعد میں آیا۔ پہلے مرحلے میں سینس نسبتاً کم اور پرسپشن کا عمل دخل نسبتاً ذیادہ تھا۔
    You perceived it the way it was presented to you. But then you got sense of what you had perceived earlier.
    یعنی آپ پرسپشن سے سینس کے ریلم میں داخل ہوگئیں۔ یہ بھی ممکن ہے کہ اب جو کچھ سینس میں حاصل کیا ہو وہ پرسپشن کا حصہ بن گیا۔ پرسپشن develop ہوگئی۔
    ہوسکتا ہے اس پر آپ کی رائے مختلف ہو۔ میری تخیل کی پرواز تو یہیں تک پہنچ پائی ہے۔ :k:
    فی الحال اپنی حیرت کی حقیقت سمجھنے کے چکروں میں ہوں۔ بچوں کی طرف بعد میں آؤں گا۔ :-D

    ReplyDelete
  10. اور مجھے یہ بات حیرت میں ڈال رہی ہے کہ اگلا قدم کیا ہو گا ،۔ بہت ہی خوب صورت بحث چل رہی ہے ۔۔ عنیقہ نے اتنے خوب صورت اور اسان الفاظ میں حیرت کدہ پر روشنی ڈالی ۔۔

    ReplyDelete
  11. ہممم۔۔۔میں سمجھ گیا۔ تانیہ جی یہ کہنا چا رہی ہیں کہ عثمان کی تو ساری پوسٹ ہی گڑبڑ گھوٹالا ہے۔ :cry:

    ReplyDelete
  12. معاف کیجئے، اگر اس کا اردو میں ترجمہ کر دیں تو نوازش ہو گی.

    ReplyDelete
  13. عباسی صاحب۔۔۔
    آپ ہی کے لئے تو پشتو میں لکھنے کے اتنے جتن کئے ہیں۔ :q:

    ReplyDelete
  14. آپکو کیسے محسوس ہوا ہمیں کوئی ناراضگی ہوگي ۔ اردو، انگریجی اور پنجابی کے الفاظ کے استعمال سے شائد تاثر تبدیل ہو جاتا ہو ۔ کوشش کرتے ہیں کے آئندہ سے سمائیلیز بھی استعمال کریں ۔
    حیرت کدہ سے باہر نکلنے یا حیرت کدہ کے اندر گھسنے کیلئے تو اسمارین ٹیبلیٹس سے لیکر اینیمل فیئر تک پڑھنا پڑتا ہے جی ۔ یہ کام اپنی والی میں کو ڈراپ کرنے سے بھی کسی حد تک ہو جاتا ہے ۔ اپنی والی میں کا علاج کرنے کیلئے عمل کرنے کی ضرورت ہوتی ہے، بہت زیادہ پڑھنے یا بہت زیادہ سوچنے کی نہیں ۔

    ReplyDelete
  15. عثمان میں یہ ہمت ہے کہ میں کچھ کہہ سکوں ۔۔ آپ نے یہ سوچا بھی کیسے؟

    ReplyDelete
  16. یہ جو آپ نے تسلیم بذریعہ استدلال اور یقین بذریعہ استدلال کی اصطلاحات استعمال کی ہیں اس سے مجھے قرآن کی زبان میں میں یقین کے درجے یاد آگئے۔ چونکہ کائینات بقول اقبال مسلسل کن فیکن کے نعرے میں رقصاں ہے تو حیرت کدے کا تسلسل بھی اپنی جگہ موجود ہے۔ ہم جیسے ہی ایک پرسیپشن کو یقین بذریعہ استدلال کے درجے پہ لے جاتے ہیں دوسرا پرسیپشن حاضر ہو جاتا ہے۔
    سائینس اور روحانیات دونوں ایک نکتے پہ تو متفق ہیں اور وہ یہ کہ یہ تمام عالم رنگ و بو احساسات کا مجموعہ ہے۔ ہو سکتا ہے کہ دراصل ہم جسے بہت کچھ سمجھتے ہوں وہ احساس سے زیادہ کچھ نہ ہو۔ اس لئے ہم میں سے ہر ایک کو ایک مختلف دنیا نظر آتی ہے۔ استدلال کے ذریعے ہم انسانی حواسوں کی سطح پہ ایک یکسانیت یا ہمواریت حاصل کرنے کی کوشش تو کرتے ہیں مگر یہ ہمیشہ حاصل ہو نہیں پاتا۔
    اسکی ایک آسان سی مثال یہ ہے کہ کسی عمل کے ذریعے اگر ہماری سونگھنے کی حس متائثر ہو جائے تو ہم چیزوں کی بو نہیں محسوس کر پاتے۔ یعنی دماغ جس طرح چیزوں کو ہمارے سامنے پیش کر رہا ہے ہم اسے اسی طرح محسوس کرتے ہیں۔ اگر ہمارا سونگھنے کا مرکز صحیح کام نہیں کر رہا تو ہمیں ایک بد بودار چیز کی بد بو محسوس نہیں ہوتی۔ ہمارے ذہن سے باہر اصل دنیا ہے کہ نہیں اور اگر ہے تو کیا ویسی ہی ہے جیسا کہ ہمارے حواس یا ہمارا ذہن اسے بتاتا ہے۔ یہ سب جاننے کے لئے ملتے ہیں ایک بریک کے بعد۔

    ReplyDelete
  17. بلاگر اعظم حیران ہے کہ یہ حیرت کدہ تو بہت حیران کن ہوتا جارہا ہے۔ :d: :r: 8-O
    بلاگراعظم چونکہ ہونہار شاگرد اعظم بھی ہے اس لئے اسے استانی جی کی دی ہوئی نئی اسائنمنٹ پر سوچنے کے لئے مزید وقت درکار ہے۔ :k:

    ReplyDelete
  18. ایک منٹ۔۔۔۔
    بالفرض دنیا کے تمام انسان ختم ہوجائیں۔ پھر بھی کائنات کے فطری قوانین ، طبعی خواص ، اصول منطق وغیرہ اپنے جگہ جوں کے توں رہیں گے۔ استدلال پر تو کوئی اثر نہ پڑا۔ پرسپشن ہو نہ ہو۔ :d:

    ReplyDelete
  19. اس مرحلے پہ میں بھی ایک شاگرد ہوں. اگر تمام انسان ختم ہو جائیں تو استدلال بھی ختم ہو جائے گا. کائنات کے فطری قوانین، طبعی خواص اصول اور منطق کو استدلال کی ضرورت نہیں. وہ اسکے بغیر بھی کام کر سکتے ہیں. استدلال، تفکر کی ضرورت ہے. ہم جنہیں فطری قوانین کہتے ہیں وہ ہمارے حواسوں کی دنیا ہے. اب خورد بین کی ایجاد سے پہلے بھی جراثیم موجود تھے مگر انکے لئے کوئ استدلال موجود نہ تھا. استدلال سے اگر آپکی مراد کائینات کے اندر جاری وہ بنیادی اصول ہیں جن تک ابھی انسان کی مکمل رسائ نہیں کہ ایسا ہونے کی صورت میں وہ کل علم کا مالک ہو جائے گا تو وہ علوم ابھی ہماری دسترس سے باہر ہیں. لیکن چونکہ خدا بار بار انسان کو تفکر کی دعوت دیتا ہےتو یوں لگتا ہے کہ وہ چاہتا ہے کہ ہم اس کائینات کے تخلیق کار کی صناعی کو جانیں پرکھیں اور پھر عش عش کریں کہ واہ مالک کیا چیز بنائ ہے. اس سے اس نکتہ ء نظر کی تصدیق نہیں ہو پاتی جو اس بات پہ مصر ہیں کہ بس ایمان لے آئو. میرا خیال ہے کہ جس طرح کسی جوہری کو اس شخص سے داد پا کر زیادہ خوشی ہوتی ہے جو اسکے فن کی نزاکتیں جانتا ہے اور پھر اس فن پارے کو سراہتا ہے اسی طرح خدا بھی ہم سے یہ چاہتا ہے کہ ہم ساری تعریفیں تیرے لئے ہیں کہنے سے پہلے دل سے اس چیز کو تسلیم کر لیں کہ واقعی ایسا ہے. اور اسے تسلیم کرنے سے پہلے یقین کے اس درجے سے گذریں جو ہمارے ادراک اور مشاہدے سے مل کر تشکیل پاتا ہے.
    تھک گئے. کیا حیرت کدے میں تھکن ہوتی ہے.

    ReplyDelete
  20. اقبال صاحب کی خودی ہو یا نتشے صاحب کا نہلزم، بہت ہی عرسے سے مختلف ناموں سے چلے آ رہے ہیں ۔ اس قسم کے ایکپیرئنسز سے گزرنے والوں نے باتیں تو بہت اچھی کیں ہیں مگر اپنی ہی میں کا شکار بھی ہوتے ہوئے دیکھے گئے ہیں جی ۔ سائنس کا کام تو جی تسخیر کائینات ہے مگر پھر بھی نا جانے کیوں لوگ اسکی مدد بڑے سے بڑے اور چھوٹے سے چھوٹے کی تلاش میں جان مارے چلے جا رہے ہیں ۔ شائد کہ چھوٹے سے چھوٹے پتھر نے بڑے سے بڑے پھر کو اٹھا کر دکھانا ہے ۔ اسی حقیقت کو کسی اور اینگل سے دیکھیں تو پتا لگے گا کہ چھوٹے سے چھوٹے پتھر تو بڑے سے بڑے پھر کے اوپر پڑا ہوا ہے ۔

    ReplyDelete
  21. تھکا نہیں چکرایا ہوں۔ حیرت کدے میں چکر تو آتے ہی ہیں۔ :-D
    ہاں انسان ختم ہونے پر استدلال ختم ہوجانا بھی درست معلوم ہوتا ہے۔ یہ بات بھی درست ہے کہ فطرت کے "بنیادی قوانین" دریافت کرنا شائد ناممکن ہے۔ عین ممکن ہے کہ یہ "بنیادی قوانین" وجود ہی نہ رکھتے ہوں۔ ہم نے کچھ قوانین (Set of Laws) دریافت کئے۔۔۔۔پھر پتا لگے کہ نہیں یہ بنیادی نہیں بلکہ ان کے پیچھے کچھ مزید قوانین اور توجیہات چھُپی ہوئی ہیں۔ اور ممکن ہے کہ یہ سلسلہ لامحدود ہو۔ تو پھر "کسی بنیادی قانون" کا سوال ہی ختم ہوگیا۔ یہ تو "Infinite Set of Laws" ہوگئے۔
    آپ نے خدا کی چاہت کی بات کی ہے۔ تو چاہت تو اسے ہوتی ہے جسے طلب ہو۔ خدا کو طلب کیسی؟
    :d:

    ReplyDelete
  22. کیا مطلب ہے بھئی آپکا ۔ سائنس سائنس بھی ہو اور سوشل سائنس بھی ہو ۔ سائنس نے کبھی سوشل ہونا ہے بھلا کیا ؟

    ReplyDelete
  23. بازیچہء اطفال ہے دنیا میرے آگے
    ہوتا ہے شب و روز تماشہ میرے آگے
    یہ پہلا شعر تو مجھے لگتا ہے خدا نے کہلوایا ہے غالب سے. بنیاد پرست اس پہ فتوی دینے بیٹھ جائیں. اچھا ہے اس بہانے مصروف رہیں گے. اور میں جہاں مصروف ہوں وہاں رہونگی. میرے ڈپارٹمنٹ کے فوٹو اسٹیٹ والے نے ایک حدیث قدسی کی بڑی سی کاپی لگائ ہوئ تھی اسکا عنوان تھا خدا کی چاہت. مجھے اسکی اصلیت کا پتہ نہیں. بہت ساری چاہتوں کے تذکرے کے بعد ختم اس طرح ہوتی تھی ہوتا وہی ہے جو خدا کی چاہت ہے. اس غزل میں مزے کے اشعار ہیں دو اور حاضر ہیں.
    جز نام، نہیں صورت حال مجھے منظور
    جز وہم نہیں، ہستی اشیاء مرے آگے
    سچ کہتے ہو، خود بیںو خود آرا ہوں، نہ کیوں ہوں؟
    بیٹھا ہے بت آئینہ سیما مرے آگے

    ReplyDelete
  24. آپ نے جس حدیث قدسی کا ذکر کیا ہے وہ کچھ اسطرح ہے:
    "اے ابنِ آدم! ایک میر ی چا ہت ہے اور ایک تیری چاہت ہے، ہوگا وہی جو میری چاہت ہے۔ پس اگر تُو نے سپُرد کر دیا اپنے کو اُس کے جو میری چاہت ہے تو وُہ بھی میں تُجھے دُوں گا جو تیری چاہت ہے۔ اگر تُو نے مخالفت کی اُس کی جو میری چاہت ہے، تو میں تھکا دُوں گا تُجھ کو اُس میں جو تیری چاہت ہے۔ ہوگا پھر وُہی جو میری چاہت ہے۔"

    خدا، اس کی صفات اور اس کی تخلیق پر غور کر کے کسی آخری نتیجہ پر پہنچنا ممکن ہے نہ یہ مقصود ہے۔ ہاں البتہ سمجھنے اور حیرت زدہ ہونے کا عمل جاری رہتا ہے۔ :d:

    ReplyDelete
  25. کسی دیوتا کی ایکسپٹنس تو اس دیوتا کے فالورز سے اپنے اخلاقیات کی سر ٹیفیکیشن کرانے میں شمار ہوتی ہے ۔ اس دنیاوی زندگی میں کسی حد تک بہتر اور مطمعن طریقے سے زندگی گزارنے کے لئے اس بات کی افادیت کا انکار کرنا مشکل ہو جاتا ہے نا ۔

    ReplyDelete
  26. یار سنکی بھائی۔۔۔۔
    آپ کے تبصرے جب سمجھ آئیں گے تبھی تسلی بخش جواب دے سکوں گا نا۔۔۔
    :-?

    ReplyDelete
  27. خواجہ طلحہSeptember 23, 2010

    بہت شکریہ بھائی.

    ReplyDelete
  28. پتہ نہیں کیا لکھا ہے بھئی لیکن معلوم ہوتا ہے کہ علم الیقین، عین الیقین اور حق الیقین کے معانی اور معارف بھی یہاں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔

    ReplyDelete