ِ بنیادی طور پر بلاگرز کی تین اقسام ہیں۔ پہلی وہ جو شاندار اور بامقصد لکھتے ہیں۔ دوسرے وہ جو بس اچھا لکھتے ہیں۔ اور تیسری قسم وہ ہے جو "لکھتے" ہیں اور ایسا "لکھتے" ہیں کہ قاری بے اختیار پکار اُٹھتا ہے کہ اللہ کی شان۔۔۔ یہ بھی لکھتے ہیں؟ یہ تیسری ہی دراصل وہ قسم ہے جس کو دیکھ کر ہم نے بھی لکھنا شروع کیا۔۔۔ کہ جو کچھ یہ لکھ رہے ہیں وہ تو ہم بھی لکھ سکتے ہیں۔
انگریزی بلاگستان میں لکھنے والوں کی تعداد لاکھوں میں ہے اور تمام بلاگستان کو آپ کُلی طور پر ان تین ہی اقسام میں تقسیم کر سکتے ہیں۔ پہلی قسم یعنی شاندار لکھنے والوں میں وہ تمام بہترین تحقیق سے لے کر بہترین تحریر تک لکھنے والے ہیں۔ ان لوگوں نے اپنا کوئی نہ کوئی مشن اپنا رکھا ہے۔ اور اس مقصد اورمشن کی خاطر اپنے بلاگ کے ذریعہ اچھی خاصی جان مار رہے ہیں۔ میں نے ان میں یونیورسٹیوں کے پروفیسر اور اعلٰی پائے کے محقق دیکھے ہیں۔ ایک بڑا مشہور بلاگ What's New کے نام سے میں کئی ماہ تک پڑھتا رہا ہوں۔ لکھنے والے یونیورسٹی آف کیلی فورنیا (لاس اینجلس) کے ریاضی کے مشہور پروفیسر ٹیرینس تاؤ ہیں جو ٢٠٠٦ میں ریا ضی کا "نوبل انعام" فیلڈز میڈل لے چکے ہیں۔ اپنے بلاگ کے ذریعہ دنیا بھر کے ریاضی کے طلبہ اور محققین کو اپنی تازہ ترین تحقیق اور ریاضی میں جدید اور پیچیدہ مسائل سے آگاہ رکھے ہوئے ہیں۔ اس قسم کے بلاگز کی اہمیت و افادیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ کیمبرج یونیورسٹی کے پرو فیسر ٹِم گاورز بذریعہ بلاگ ریاضی کی ایک پیچیدہ تحقیق مکمل کرچکے ہیں۔ (ریاضی کی زبان میں اسے Open Question Solve کرنا یا Theorem prove کرنا کہتے ہیں)۔مسئلہ اتنا پیچیدہ تھا کہ دو تٰین محققین کی متفقہ کوشش (Collaborative Research) کے ذریعہ بھی حل نہیں ہو پا رہا تھا۔ آخریہ خیال پیش کیا گیا کہ کیوں نہ اسے بلاگ کے ذریعہ دنیا بھر کے محققین کے سامنے رکھا جائے؟۔۔۔ تو بس جناب وہ مسئلہ جو ایک عشرہ سے حل طلب تھا صرف چار ماہ میں دنیا کے کئی ممالک سے تعلق رکھنے والے درجنوں طلبہ اور محققین کی متفقہ کاوشوں سے حل کر لیا گیا۔ یہ تجربہ اتنا کامیاب رہا کہ اسے پیشہ ورانہ بنیادوں پر باقاعدہ ایک منصوبے کی شکل دے دی گئی۔ اب حال یہ ہے کہ ایسے کئی بلاگ اور ہوسٹنگ سائٹس موجود ہیں جو کل وقتی اسی کام میں مصروف ہیں۔ ان میں جدت لا کر کئی فیچرز شامل کردیے گئے ہیں تاکہ متعلقہ کام میں سہولت رہے۔ ایک عام آدمی کے لئے ان تحقیقی بلاگز کو پڑھنا آسان نہیں۔۔۔عموماً پی ایچ ڈی کے طلبہ ہی اس سے زیادہ مستفید ہو سکتے ہیں۔ تاہم سائنس اور دوسرے کئی موضوعات پر ایسے انتہائی معلوماتی بلاگز بھی موجود ہیں جن کا مواد اتنا مشکل نہیں اور ایک عام قاری بھی سمجھ سکتا ہے۔لیکن شوق اور مستقل پڑھتے رہنا شرط ہے۔
دوسری قسم میں عام موضوعات اور حالات حاضرہ پر مبنی بلاگز ہیں۔ لکھنے والوں میں عام لوگ بھی ہیں اور صحافی بھی۔ کئی صحافی حضرات تو سنا ہے کہ نام بدل کر لکھ رہے ہیں کہ جو بات وہ اپنے نشریاتی ادارے پر نہیں کہہ سکتے۔۔۔اپنے بلاگ پر کھل کر کہہ ڈالیں۔ یہ رواج عموماً مغرب میں ذیادہ ہے۔ عام لوگوں میں بعض تو کمال کے لکھاری ہیں۔ ان کے لکھے ہوئے پر آدمی بے اختیار کہہ اٹھتا ہے کہ۔۔۔ سبحان اللہ!۔۔۔ کیا پوٹینشل ہے!۔ انگریزی بلاگستان میں ایک جہانزیب ڈار ہیں جو پینسلوانیہ، امریکہ سے مسلمانوں کے حالات پر اظہار خیال فرماتے ہیں۔ ان کی نثر تو اپنی جگہ۔۔۔شاعری بھی کمال کی ہے۔ ان کی لکھی گئی ایک نعت رسول محمدﷺ پڑھ کر اندازہ ہوا کہ شاعری انگریزی میں بھی خوب کی جاتی ہے۔ پڑھ کر دیکھئے۔۔اگر آبدیدہ نہ ہوں تو بتائیے۔ جبکہ اپنے اردو بلاگستان میں ایک صاحب ہیں جن کا نام لینا مناسب نہیں کہ خوشامد کا شائبہ ہوتا ہے۔ موصوف کمال کے مزاح نگار ہیں۔ تاہم نئے لکھنے والوں کو میری نصیحت ہے کہ پہلے مہینے عارضی طور پر ان کے بلاگ سے پرہیز کریں کہ ایک تو ان کا شاندار بلاگ دیکھ کر دل گھٹتا ہے اور دوسرا ان کی تحریر پڑھتے ہوئے آدمی تیزی سے انکا رنگ پکڑنے لگتا ہے۔ اور بندہ پھر خوامخواہ ان کی "ٹرموں" میں "چولیں" مارنے لگتا ہے۔۔۔ (تسی سمجھ تے گئے او)۔ کسی دل جلے نے نام صیغئہ راز رکھنے کی شرط پر بتایا ہے کہ یہ لکھتے وکھتے کچھ نہیں۔۔۔بس ایک میراثی جن کا سایہ ہے۔ واللہ علم باالصواب۔
ایک ایسا دلچسپ بلاگ بھی میری نظر سے گزرا ہے جس میں ایک پاکستانی محترمہ اپنے لیے رشتہ تلاش کر رہی ہیں۔ رشتہ کی تلاش میں پیش آنے والے معاشرتی وسماجی مسائل اور اس سلسلہ میں اُن کی ہفتہ بھر کی کاوش ان کا موضوع سخن ہے۔ اُن کے بلاگ پر لکھے گئے ان کے تجزیے، تجربات اور معاملہ فہمی دیکھ کر لگتا ہی نہیں کہ موصوفہ پچیس برس کی ایک دوشیزہ ہیں۔ اگر آپ کو بھی رشتہ تلاش کرنے کے سلسلے میں کوئی مشورہ درکار ہے۔۔۔یا آپ اگر یہ جاننا چاہتے ہیں کہ اس سلسلے میں کونسی سائٹ بہتر ہے، نیز اس سلسلے میں کن باتوں کا خیال رکھا جانا لازمی ہے۔۔۔تو اِن کا بلاگ پڑھنا مت بھولئے۔۔۔کافی افاقہ ہوگا۔
تیسری قسم جس میں میرے جیسےمسکین شامل ہیں۔۔۔صلاحیت نہ ہونے کے باوجود لکھے جارہے ہیں۔۔۔کہ کونسے پیسے لگتے ہیں؟ تاہم ان لوگوں کو ناکام نہ سمجھیں۔ آتا جاتا چاہے کچھ نہ ہو۔۔۔کچھ نہ کچھ نکال ہی لیتے ہیں۔ انگریزی کا ایک ایسا بلاگ میری نظر سے گزر چکا ہے جس میں ایک خاتون بستر پر گزری رات بھر کی کارگزاری صُبح اپنے بلاگ پر چٹخارے لے لے کر بیان کرتی ہیں۔ بلاگ پڑھنے کی بجائے "منظر" چلنے کا احساس ہوتا ہے۔ کچھ "ناامید" قارئین کا الزام ہے کہ یہ رات دو بجے کے بعد کیبل پر چلنے والی فلموں کے منظر ہی ہیں جنہیں اپنے نام سے بیان کر رہی ہے ورنہ روز روز ایسے کام کون کرتا ہے؟۔۔۔ قارئین کی تعداد درجنوں میں ہے۔ اگر آپ کو پڑھنے کا شوق ہے تو Erotica کے ٹیگ پر سرچ مار لیں۔ لیکن اتنے تردّد کی کیا ضرورت ہے؟۔۔۔فلم ہی دیکھ لیں۔ ویسے شروع شروع میں مجھے یہ خیال لپکا۔۔۔کہ کیوں نہ یہ ڈرامہ میں بھی اردو بلاگ پر شروع کردوں؟۔۔۔نہ کوئی محنت۔۔نہ سوچنے کا تردّد۔۔۔الفاظ کی تھوڑی بہت تبدیلی کے ساتھ ایک ہی کہانی رگڑتے جاؤ۔۔۔کہ "بنیادی کام" تو بہرحال ایک ہی ہے۔ لیکن پھر خیال آیا کہ اردو میں تو یار لوگوں نے مَنٹو کو نہیں بخشا۔۔۔یہ تو پھر کُھلی بے غیرتی ہے۔
ایک مرنجاں مرنج ایسے بھی تھے جو لکھ کر بس خود ہی پڑھتے تھے۔ دوسال کے عرصہ میں ان کے بلاگ پر وارد ہونےوالا میں واحد قاری تھا۔ ان کی تحریر دیکھ کر کہنا پڑا کہ۔۔صاحب۔۔یہی کچھ لکھنا ہے۔۔۔اور لکھ کر خود ہی پڑھنا ہے تو کمپیوٹر پر لکھنے کی کیا ضرورت ہے؟۔۔۔کاپی پر لکھ لیں۔
ایک چوتھی قسم جو میں نے حال ہی میں دریافت کی ہے۔۔۔معدودے چند افراد پر مشتمل ہے۔ یہ لوگ لکھ رہے ہیں۔۔۔نہ "لکھ" رہے ہیں۔۔۔بس چھاپ رہے ہیں۔۔۔اور بڑی ڈھٹائی سے دھڑا دھڑ چھاپ رہے ہیں۔ ان کی پوسٹ پڑھ کر بندہ سوچ میں پڑ جاتا ہے کہ خبر تو پڑھ لی۔۔۔لیکن ان کی اپنی خیال آرائی کہاں ہے؟۔ ویسے ان کے چھاپنے سے مجھے تو کوئی تکلیف نہیں لیکن ایک مشورہ ہے۔۔۔کہ صاحب۔۔۔اتنے تردّد کی کیا ضرورت ہے؟۔۔۔لنک ہی مہیا کردیں۔ہم خود ہی پڑھ لیں گے۔
یہ تو تھی میری اب تک کی بکواس۔۔۔۔اردو بلاگستان پر زیادہ خیال آرائی نہیں کی کہ ایک تو خود جُمعہ جُمعہ آٹھ دن ہوئے لکھنا ، پڑھنا شروع کیا ہے۔ اور دوسرا سینئر بلاگرز سے پنگے لیتے ویسے ہی کچھ ڈر لگتا ہے کہ لینے کے دینے نہ پڑ جائیں۔ ویسے ایک بات مجھے سمجھ نہیں آئی۔ میں تو چار دن بمشکل ایک پوسٹ ہی لکھ پاتا ہوں۔۔۔اور کچھ یار لوگ ہیں کہ ایک دن میں چار چار پوسٹیں لکھ رہے ہیں۔ اُدھر پاکستان میں سُنا ہے کہ سولہ سولہ گھنٹے بتی نہیں آتی۔۔۔تو یہ کمپیوٹر اُنھوں نے کیا گیس پر کروا رکھا ہے؟۔ چلتے چلتے بلال صاحب کے جادوئی کتابچے کا تذکرہ ضروری ہے۔۔کہ اگر یہ نہ ہوتا تو میں ابھی تک رومن اردو میں چیٹنگ میں ہی مصروف ہوتا۔ ویسے میری تحریر اسی قابل ہے۔
نوٹ:- اس پوسٹ میں میں نے حتیٰ المکان لکھنے والوں کی تعریف کی ہے۔ کسی کی دل آزاری میرا مقصد نہیں نہ ہی میری کوئی اوقات ہے۔ اگر کوئی اچھی چیز ملے تو اسے "چھاپنے" میں کوئی حرج نہیں۔ صرف اتنی گزارش تھی کہ اگر لکھنے والے کا اپنا تبصرہ بھی شامل ہو تو کیا ہی بات ہے۔ میرے الفاظ کو ہلکا پھلکا مذاق ہی سمجھا جائے۔ باقی اس اردو بلاگستان کی رونقیں آپ ہی کے دم سے ہیں۔
un mohtarma k blog ka link tu den jo rishtay ki talash may hain ??
ReplyDeleteاس بلاگ کا لنک میں نے اس لئے نہیں دیا کہ کچھ شر پسند افراد شرارت کر سکتے ہیں۔ تاہم اگر وہ خاتون اجازت دیں تو میں آپ کو لنک بھیج دوں گا۔
ReplyDeleteدو باتوں کی وضاحت کریں۔میں کونسی قسم کا بلاگر ھوں۔اور ملتجانہ التماس ھے۔رشتے کی تلاش والی ۲۵سالہ دوشیزہ کے بلاگ کا لنک دے دیں۔
ReplyDeleteسرجی!۔۔۔آپ دوسری کیٹیگری میں ہیں۔۔۔کہ جو لکھتے ہیں اپنا لکھتے ہیں۔۔۔اور اچھا لکھتے ہیں۔
ReplyDeleteباقی ان خاتون کو میل بھیج دی گئی ہے۔۔دیکھئے کیا جواب آتا ہے۔ ویسے آپ اپنے لئے کوئی جاپانی گُڑیا کیوں نہیں ڈھونڈ لیتے؟
جو حاضر ھے بڑی تگڑی ھے۔دوسری جاپانی نہیں کوئی اپنی اپنی چلےگی
ReplyDeleteدیکھ لیں۔۔۔آپ کی جاپانی بیگم کو پتا چل گیا تو آپ تو گئے کام سے۔
ReplyDeleteap un blogger se poch k mujhay link email kar den thnx
ReplyDeleteان محترمہ کو ای میل بھیج دی گئی ہے۔ جواب ملنے میں چند دن لگ سکتے ہیں۔ اگر انھوں نے اجازت دی تو میں لنک پوسٹ میں ہی لگا دوں گا۔ ورنہ اگر آپ بھی ایک خاتون ہیں تو میں ان کی بلااجازت ہی لنک بتانے کو تیار ہوں۔ لیکن مجھے کس طرح یقین آئے کہ آپ ایک خاتون ہیں؟
ReplyDeleteیار بھائی نی مجھے لنک سینڈ کر دے
ReplyDeleteقسم سے فیس بک والوں سے پوچھ میں کتنا سرگرمہوں رشتے کی تلاش میں۔ چھ سو اٹھاٹھ زنانہ آئی ڈیز ایڈ کر لیں میں نے اسی چکر میں پر ساریوں نے پنج پنج ہزار بندے پھنسائے ہوئے تھے۔ اس کے باوجوس مین روز ضرورت رشتہ کا اشتہار اپنی وال پہ چسپاں کرتا ہوں
تو کہے تو میں تین گواہ لانے کو بھی تیار ہوں
اور اب کمنٹ
تحریر بہت عمدہ اور جاندار ہے
شرطیہ کہتا ہوں لکھتے رہے تو لازمی بہت اچھے اردو بلاگر ہو گے
اردو بلاگنگ کو ویسے بھی اچھے بلاگروں کی اشد ضرورت ہے
اور ہاں۔۔۔
ReplyDeleteتحریر پسند کرنے کا شکریہ!
لو اُستاد!۔۔
ReplyDeleteکیا یاد کرو گے۔ لنک لگا دیا ہے میں نے۔ ویسے ایک دو باتوں کا خیال رکھئے۔۔۔
وہ محترمہ اردو صیح پڑھنا نہیں جانتی۔۔۔اور خیر سے ڈاکٹر بھی ہیں۔۔۔۔اوپر سے بلاگ بھی انگریزی میں ہے۔۔۔کافی مذہبی ہیں۔۔اور بندہ بھی انھیں نمازی پرہیزگار ہی چاہئے۔
مطلب کے ہتھ ہولا رکھئے گا۔۔۔اور اپنی انگریزی دانی کی مشق کر کے جائیے۔۔۔
ایک اور بات۔۔۔جاتے ہی بلاگ پر لین نہ کرا دیجئے۔۔بلاگ صرف مشورہ جات ہی کے لئے ہے۔۔۔رشتہ کے لئے خواہش مند حضرات شریفوں کی طرح آن لائین سائٹس سے ہی رجوع کریں۔۔۔لیکن اپنے بلاگ پر وہ اپنی آن لائن سائٹ بتلانے سے بھی انکاری ہیں۔۔
مطلب کے آپ کی دال نہیں گلنے کی۔۔۔واپس فیس بُک سے ہی رجوع کریں۔
اس تحریر کو پڑھ کر لگتا ہے کہ اس بلاگ پہ اچھی تحریریں پڑھنے کو ملتی رہیں گی انشاء اللہ
ReplyDeleteکہاں لگا دیا لنک؟
ReplyDeleteکہیں اپنے کمرے کی دیوار پہ ہی تو نی پیسٹ دیا
یعنے کلم کلے
شکریہ!
ReplyDeleteچوتھے پیرا گراف کو غور سے پڑھو استاد۔۔۔لفظ "بلاگ" چمک رہا ہے۔۔۔مطلب کے لنک کی صورت میں ہے۔
ReplyDeleteالسلام علیکم
ReplyDeleteسیر حاصل تجزیہ کیا ہے بلاگنگ پہ۔۔۔۔۔ اس میں اردو بلاگنگ ذرا کم ہے۔۔اگر ہوتی تو تجزیہ ذرا "اور" طرح کا ہوتا۔۔۔ کیونکہ آجکل ذرا "ڈیفرنٹ" ٹرینڈ چل رہا ہے بلاگستان میں!۔
یار تو نے کہا تھا پچیس سالہ
ReplyDeleteوہ تو بیس سالہ ہے
ایسے معاملوں میں ، عمروں کے حساب میں گڑ بڑ اچھی بات نہیں
جمعہ جمعہ آٹھ دن اور گذار لیں پھر اردو بلاگنگ پر لکھنا ۔۔ وہ زیادہ مزے کا ہوگا ۔۔ :razz:
ReplyDelete20 something لکھا ہے۔ مطلب کہ بیس سے اوپر۔ پھر بیس برس کی ڈاکٹر کس نے دیکھی ہے؟
ReplyDeleteعین لام میم، فکر پاکستان۔۔۔
ReplyDeleteاردو بلاگروں پر تجزیہ کرنا خطرے سے خالی نہیں۔ ویسے بھی میں نیا آدمی ہوں۔ ہاں سال بعد سوچوں گا بشرطیکہ یہ بلاگ قائم رہا۔
وہ کہتے ہیں جی کہ پوت کے پاوں پالنے میں ہی نظر آجاتے ہیں
ReplyDeleteاچھا لکھا ہے
بہت اچھا لکھا ہے
ڈفر کا لنک دینے میں کیا خرابی تھی؟
مطلب وہ مراثی جن والا بلاگر
:grin:
حوصلہ افزائی کا شکریہ
ReplyDeleteڈفر کے لنک کی ضرورت اس لئے نہیں تھی کہ۔ ۔ ۔ ۔ بندہ نیا ہو یا پُرانا۔ ۔ ۔ ہر ایک کو پتا ہے کہ اردو بلاگستان چولیں کون مارتا ہے :biggrin:
ویسے اس میراثی جن کو قابو کرنے کے لئے چلہ میں نے شروع کر دیا ہے۔
سلام صاب
ReplyDeleteدو باتوں کی سمجھ نہیں آئی مراثی جن کا سایہ؟ میں تو اس کو خود مراثی ہی سمجھتا تھا۔ دوسری بات بیس سال کی کونسی ڈاکٹر ہوتی ہے؟ یہ ڈفر بازی لے گیا نہیں تو میرا اور اس کا غم سیم ہی ہے۔
پیشن گوئی کرتا ہوں مراثی جن کا سایہ اس بلاگ پر آنے ہی والا ہے۔
بدتميز کی پيشگوئی کے بعد تبصرہ کرتے ہوئے ڈر لگ رہا ہے کہ مراثی جن مجھے نہ سمجھ ليا جائے ، رات کے بارہ بجنے کو ہيں (ارے ڈريں نہيں ميں ان خاتون کی طرح کاروائی بيان نہيں کرنے جا رہي) بارہ بجے تبصرہ کر رہی ہوں اندازہ کر ليں آپ نے کتنا اچھا لکھا ہو گا چليں خوب جمے کی جب مل بيٹھيں گے ديوانے دو ايک آپ اور دوسرا آپ نے خود تلاش کرنا ہے
ReplyDeleteبد تمیز!۔۔۔۔۔وعلیکم سلام!
ReplyDeleteبات یہ ہے کہ جن ہے اور جسم ہے۔ ۔ ۔ ۔ ڈفر بیچ میں سے غائب ہے۔ ۔ ۔ ۔ وہ Zombie کے متعلق تو آپ نے سنا ہی ہو گا۔
ڈاکٹر 20 سمتھنگ بتاتی ہیں۔ ۔ ۔ باقی خواتین کی عمر تو آپ جانتے ہیں پچیس سے اوپر نہیں ہوتی۔
اسماء۔ ۔ ۔ آپ کے تبصرے کافی بے باک ہیں۔ ۔ ۔ ۔ آپ بیان نہیں بھی کرتی پھر بھی بہت کچھ کہہ ڈالتی ہیں۔ آپ کی تحریریں بہت سحر انگیز ہیں۔ ۔ ۔ ایسے ہی لکھتی رہیں۔
دیوانی ڈھونڈنے کی تیاریا ں عروج پر ہیں۔
بلاگ پر خوش آمدید۔ ۔ ۔ ۔ اور حوصلہ افزائی کا بہت شکریہ!
گالی صرف پنجابی میں نہیں اور بھی زابانوں میں ھے بلکہ پورئ کلیکشن مؤجؤد ھے ، پتا نہیں جی آپ کون سی ذبان سمجتے ھیں،
ReplyDeleteاگے آپ خود سیانے ہیں۔۔۔
بھائی آپ سب کو رکھو ایک طرف اور مجھے ان بلاگر کا پتا بتاو جو دراصل صحافی ہیں لیکن بلاگ دوسرے ناموں سے لکھتے ہیں۔ مجھے بڑا شوق ہے ایسے چار سو بیسیوں سے ملنے کا :)
ReplyDeleteیہ خود ہی ہے یار
ReplyDeleteمایہ ناز صحافی ہے یہ
نی جی ٹینشن کیسی؟
ReplyDeleteریل گاڑی کی سیٹ تھوڑا ہی ہے کہ جو پہلے آ گیا ملک لے گا؟
ٹرائی کرتے ہیں
میری کامیابی کے چانس تو نہیں
پر ہار کے تجھے جتوا دوں گا :D ۔
یار ڈفر
ReplyDeleteپہلے تو تم نے میری اُردو خراب کی۔
اور اب میرے پول کھول کر بلاگنگ کیریر خراب کرنا چاہتے ہو۔
اس جن کا کچھ کرنا پڑے گا۔ تبلے کی تھاپ پر چلہ میں نے شروع کردیا ہے۔
ھاھاھاھا
ReplyDeleteیک لاتی چلہ کرنا پڑے گا
نہیں تو اثر الٹا بھی ہو سکتا ہے
نوٹ: "یک" اردو والا یک ہے پنجانی والا نہیں
بے فکر رہ۔۔۔
ReplyDeleteمیرے بلاگ پر یکی بھی چلے گی۔
جناب عثمان صاحب ماشا اللہ بھت اچھا لکھا ھے مضمون میں روانی ھے
ReplyDeleteلکھنے کا ڈھنگ آتا ھے آپ نے نوٹ بھی اچھا لکھا ھے آپ نے بلاگروں
کی اقسام گنا دیں اگر ھم کائنات کی تمام چیزوں پر نظر ڈالیں
تو ھم تمام چیزوں میں اقسام پا تے ھیں خراب لکھا بلاگ اچھے بلاگ
کی شناخت ھے - ھم جب کوئ بات کرتے ھیں تو ھمارے دماغ میں
ایک مخصوص معنی ھوتے لیکن اُس بات میں دوسرے معنی بھی پوشیدہ
ھوتے ھیں جسے دوسرے لوگ بتاتے ھیں اب آپکے اس بلاگ میں یہ بات
ھے کہ تمام بلا گروں کے بلاگ پڑھ کر اُن بلاگرں کو بتائں گے کہ
انکا بلاگ کس قسم کے زمرہ میں آتا ھے- جو بولے وہی دروازہ کھولے
آپ کا کیا خیال ھے؟ایم۔بلال کا میں بھی شکر گذار ھوں کہ میں
بھی انٹ شنٹ لکھ پا رھا ھوں میں نے بھی بلاگ لکھا ھے برائے
بھربانی پڑھ کر بتائں کہ کس زمرہ میں آتا ھے-نوازش ھوگی شکریہ
ہ
اردو والی یا انگریزی والی؟
ReplyDelete[...] تھیں۔ جب بلاگر اعظم نے اردو بلاگستان والوں کو اپنے بلاگی مشاہدے سے روشناس کروایا تھا۔ وہیں کہیں میں نے ایک دوشیزہ کا [...]
ReplyDeleteمناسب تجزیہ ہے
ReplyDelete