"اردو میڈیم ای اوئے۔۔۔"
تضحیک آمیز انداز میں بولا گیا یہ فقرہ یا طعنہ ہمیشہ میرا پیچھا کرتا رہا ہے۔ اگر آپ اردو روانی سے بولتے ہیں اور اس میں دوسری زبانوں بِالخصوص انگریزی کی زیادہ ملاوٹ نہیں کرتے۔۔۔اور اپنی عام بول چال میں اچھی اردو لغت کا استعمال باکثرت کرلیتے ہیں تو آپ کو یہ فقرہ یقیناً سننے کو ملے گا۔ اگر مخاطب الکلام زیادہ بے تکلف نہیں تو مسکرا کر کہہ دے گا کہ آپ کافی "سخت" اردو بولتے ہیں۔ یہاں تک کہ میں تو "ہندوستوڑہ" بھی کہلایا جا چکا ہوں۔ مطلب کہ کچھ ہو جائے۔۔۔یار لوگ اردو میں خوش کلامی کی تعریف کے بجائے تمسخر ہی اُڑائیں گے۔۔۔ کہ جیسے بڑی شرمندگی کا کام کیا ہو۔ اگر انگریزی کے چند فقرے گاہے بگاہے گفتگو میں جوڑنا جانتے ہیں تو آپ کے پاس اسٹائل ہے ورنہ آپ متوسط طبقے یعنی لوئر مڈل کلاس پینڈو ہیں۔۔۔انگریزی تو ایک طرف یہاں تو اردو میں پنجابی کی جوڑ توڑ بھی چلے گی۔ بشرطیکہ تمام گفتگو پنجابی میں نہ ہو۔
جب ایک عرصہ اردو میڈیم سرکاری سکولوں اور کالجوں میں گزارتے ہوئے گورنمٹ کالج لاہور پہنچے تو سب سے بڑا مسئلہ اسی اردو میڈیم لیبل سے جان چھڑانا تھا۔ کہ سفید شلوار قمیض زیبِ تن کئے مڈل کلاسئیے سے اردو ہی کی اُمید تھی۔۔۔لیکن لال کوٹ اور ٹائی والے سے کچھ "بہتری" کی توقع تھی۔ ادھر گورنمٹ کالج میں فضا ہی الگ۔ ہر چیز کو زبردستی انگریزی رنگ دیا گیا تھا۔ وہ چیزیں جن کو اردو میں بہتر طریقے سے پیش کیا جا سکتا تھا۔۔۔وہاں بھی جان بُوجھ کر انگریزی کی قلعی کی گئی تھی۔۔۔یا یوں کہہ لیجئے کہ اردو سے زیادتی کی گئی تھی۔ "سوری!۔۔۔میری اردو زیادہ اچھی نہیں"۔۔۔دوران گفتگو یہ فقرہ عام سننے کو ملتا تھا ۔ ایک دو فنکار انگریزی لہجے میں پنجابی مارنے کی کوشش کرتے تھے۔ مقصد ان کا یہ تاثر دینا تھا۔۔کہ صاحب۔۔۔ہم تو فرنگیوں کے نطفے سے ہیں۔۔۔یہ اردو، پنجابی تو آپ لعنتیوں میں آ کر سیکھی ہے۔ کمرہ جماعت میں میں عموماً تناؤ کا شکار رہتا تھا۔۔۔کہ سوال و جواب میں انگریزی کا استعمال قابلیت کی علامت تھی۔ غلط جواب انگریزی میں بھی کام دِکھا جاتا۔جبکہ اردو میں اختلاف کرنے سے قبل خیر منائیں۔ کئی ساتھیوں کو دیکھا۔۔۔کہ وہ اردو کا کوئی لفظ جان بُوجھ کر غلط بولتے پھر فوراً ہی اس کا انگریزی میں متبادل بول کر "انگلش میڈیم" ہونے کا تاثر دیتے تھے۔ ایک دفعہ تو انگریزی کا ایک لفظ صحیح طور پرسمجھ نہ سکنے پر کافی خفت اُٹھانا پڑی۔ ناگواری سے پوچھا گیا کہ کہاں سے آئے ہو؟۔۔۔گھگیاتے ہوئے عرض کی۔۔۔کہ صاحب۔۔۔لاہور ہی کا پینڈو ہوں۔ بس تربیت میں انگریزی کی ٹانگ توڑنے کی بجائے اردو سکھانے پر زور دیا گیا ہے۔۔۔ اور کوئی قصور نہیں۔ باقی ادھر تک پہنچ ہی گئے ہیں۔۔۔اردو سے بھی جان چھڑا لیں گے۔
نئے ہم جماعت ہر دم انگریزی دانی سے چپکے رہتے۔ تعارف یا بات کا آغاز انگریزی میں کیا جاتا۔۔۔پھر اردو انگریزی کی ٹانگ توڑنے کا عمل شروع ہو جاتا۔ صاف اردو بولنے پر تبھی آتے جب تک مخاطب پہل نہ کرے۔ جس کی نوبت محال تھی۔ اردو تو چھوڑیے۔۔۔لاہور کے گردو نواح کے دیہات سے آئے لڑکے کہ جن کے پاس کھڑے ہو کر شک ہوتا تھا کہ مجیں دھو کر آئے ہیں۔۔۔ وہ تو پنجابی الفاظ سُن کر بھی حیران ہونے کی کوشش کرتے کہ یہ آپ نے کیا بولا؟۔۔۔ہمارے ہاں تو یہ نہیں چلتا۔ وہ بیچارے لاج رکھنے کے چکر میں پنجابی سے جان چُھڑانے کی کوشش میں لگے رہتے۔ یعنی جو انگریزی میں جتنا کمزور اور اپنی مادری زبانوں سے جتنا قریب تھا وہ اتنا ہی دباؤ کا شکار تھا۔ عجیب مصنوعی سا ماحول تھا۔
اردو کو رگیدنے کا یہ عمل میں نے نوے کی دہائی کے وسط سے دیکھنا شروع کیا۔ این ٹی ایم پر نادیہ خان نئی آئی تھیں۔ مجھے یاد ہے کہ یار لوگ اس بات کو کافی دلچسپ محسوس کرتے کہ میزبان پاکستانی ہیں۔۔۔لیکن اردو پر دسترس تو درکنار عام بول چال کے الفاظ بھی صحیح ادا نہیں کر پاتیں۔ اُن کی اِن حرکات کو معصومیت اور اسٹائل گردانا جاتا۔۔۔جبکہ انگریزی بولنے کے ناطے۔۔۔ماڈرن ہونے کی دھاک الگ۔ اس عجیب نمونے کی مثال دنیا میں شائد ہی کہیں ملے۔۔۔کہ مہذب معاشروں میں زبان پر دسترس ذرائع ابلاغ پر آنے کے لئے بنیادی شرط ہے۔ لیکن جہاں ایک راہبر کے گن اس بات پر گائے جاتے رہے ہوں کہ وہ انگریزی اُردو سے اچھا بولتی ہٰیں۔۔۔تو وہاں سب چلتا ہے۔ حالات بگڑتے یہاں تک دیکھے۔۔۔ کہ ایک میزبان کو تمام پروگرام آدھا اردو انگریزی ٹانگ توڑ شکل میں اور باقی آدھا انگریزی میں کرتے دیکھا۔ منطق شائد یہ دی جاتی۔۔۔ کہ چونکہ لندن سے نشر ہو رہا ہے۔۔۔اس لئے دونوں طرف کھل کر ٹانگ چلائیں۔۔۔۔باوجود اس کے کہ پروگرام کلی طور پر اردو سمجھنے والے ناظرین ہی کے لئے تھا۔
اپنی مادری زبان پنجابی بولنے پر تو ویسے ہی منع کیا جاتا۔۔۔کہ گندے بچے بولتے ہیں۔ انگریزی اردو ٹانگ توڑ کی رِیت میں اردو بھی جاتی رہی۔اس پراگندہ ماحول میں اپنی زبان میں کچھ کرنے کی خواہش دباتے ہی رہے۔ باقی رہی انگریزی۔۔۔ تو جب تک پاکستان میں رہے کبھی نہ آئی۔۔۔کہ زبانیں۔۔۔۔ان کا حق ادا کرنے سے سیکھی جاتی ہیں۔۔۔ٹانگیں توڑنے سے نہیں۔
صاف اور خوبصورت اردو سننے کی اُمید تو اب کسی دیسی سے رکھنا عبث ہے۔ یہ کام بھی اب شائد کسی پردیسی ہی کو کرنا پڑے۔ اردو سُنئے۔۔۔جان ہینسن کی زبان سے:-
شاعری سے میرا لگاؤ تو" بُنین میری پیندی نئیں " تک ہی محدود ہے۔۔۔جسے میں ایک عرصہ تک فیض کا کلام سمجھتا رہا۔ لیکن بہرحال جانے سے پہلے ایک پھُسپھسا سا شعر۔۔۔ جو کسی بھلے یا بُرے وقت تراشا گیا تھا۔ جیسی میری تحریر۔۔۔ ویسا میرا شعر۔۔
؎ اردو
مرا چہرہ ہے
اِس کا ترک ایسا
جیسے مرا چہرہ نوچ لیا
یہ شعر حضرت امام دین گجراتی رحمتہ اللہ علیہ کے ایک معتقد کے گوش گزار کیا گیا۔ سننے والے نے سنا۔۔۔کچھ سوچا۔۔۔سر کُھجایا۔۔۔اور پھر فرمایا کہ چہرہ تو میرا اپنا ہے۔۔۔اس کا میں جو جی چاہےکروں۔۔۔البتہ اردو کی لینے سے پرہیز کروں۔
نوٹ:-
۱) آخری جملے میں ایک "فحش" لفظ جو میرے لئے بہرحال فحش نہیں ہے۔۔۔ناگواری سے بچنے کے لئے حذف کیا گیا ہے۔
۲) امام دین گجراتی پنجابی کے ایک "عظیم" شاعر تھے۔
بھئی لطف آ گیا یہ تحریر پڑھ کر۔ بالکل صحیح نقشہ بیان کیا ہے کہ اردو کے ساتھ کیا ہوتا ہے کالجوں میں اور ٹیوی شوز میں۔
ReplyDeleteآپکے بلاگ اور اس سے مطعلقہ کلپ میں بہت ہم آہنگی ہے ۔ کاش کے اور لوگ بھی ایسے ہی سوچ رکھتے ۔
ReplyDeleteتسی بندے بڑے فنکار ھو جی۔
ReplyDelete90 کی دہائی میں حالات یقینا تبدیل ہوتے چلے گئے ۔ اردو میں انگریزی کا تڑکا لگنا شروع ہوا ۔ 70 کی دہائی میں یہی تڑکا پنجابی میں اردو لگانے سے شروع ہوا ایلیٹ کلاس نے ہمیشہ اپنی برتری کو زبان کی تبدیلی سے برتر رکھنے کی کوشش کی ۔ جب کبھی گاؤں میں جاتا ہوں تو دادیوں نانیوں کو بچوں سے گلابی اردو میں بات کرتے ہوئے ہنسی ضرور آتی ہے کہ کیا وخت پڑا ہے انہیں ۔ ہمارے معاشرہ میں زبان ہی ایک ایسا پیمانہ رہ گیا ہے انسان کی شخصیت کو جاننے کا ۔ زبان کی احساس کمتری سے لائق نالائیقی میں چلے گئے ۔ ایک بات ضرور سوچتا ہوں کہ دیہاتوں میں انگلش جب کبھی شروع ہو گی تو پھر یہ ایلیٹ کلاس کون سی زبان نئی نکال کر لائے گی ۔ اپنی برتری برقرار رکھنے کے لئے ۔
ReplyDeleteان سب باتوں کے باوجود بھی اردو زندہ ہے اس کا ثبوت یہ اردو بلاگز بھی ہیں ۔۔ اردو کو زندہ رکھنے والے نئی نسل میں بھی موجود ہیں ۔۔
ReplyDeleteہمارے ایک سر ہیں جو ۔۔ اگر اردو میں کوئی بات سمجھائیں تو ٹوٹل اردو اور انگلش میں بولیں تو فل انگلش ۔۔ اسٹوڈنٹس کو بھی ٹوک دیتے ہیں کہ یا تو اردو بولو یا انگلش مکس پلیٹ مجھے نہیں چاہیئے ۔۔ :smile: ان کی یہ بات مجھے بہت اچھی لگتی تھی ۔۔
يہ نمونہ کس کو کہا ہے ناديہ خان کو
ReplyDeleteجن کو سلام
جن کو نہيں جان کو جان بہت خوبصورت انسان ہے دل کا بھی اور شکل کا بھی
ReplyDeleteآؤں یہ حضرت امام دین گجراتی رحمتہ اللہ علیہ کؤن ھے
ReplyDeleteبھا ئ جی کؤئ مجھے پنجابی بلاگرز کی سائیٹ بتاےء گا
ReplyDeleteظالم، مجھے نادیہ خان کیوں یاد کروا دی؟
ReplyDeleteوہ بھول گئی ہے تو مجھے بھی بھول جانے دو
میرا پہلی کمپنی کا پراجیکٹ منیجر مجھے کہتا تھا
بولا کرو کانفیڈینس آئے گا لیکن "صرف انگریزی"
اور مجھے چپ رہنا پڑتا تھا
ساری مستی احساس کمتری کی ہے
ذہنی غلام ہیں ہم
جہاں ہمارے حکمران جا کے ملکہ کے گٹوں کو ہاتھ لگا کے کہتے ہیں
میں تو کل بھی تیرا غلام تھا آج بھی تیرا غلام ہوں
وہاں نارمل بات ہے یار
تو زیادہ ہی ٹچی نہیں ہے؟
ہائے نادیہ خان! تینوں اللہ پچھے
تیری باتوں سے لگتا ہے تو بھی اسی کی دہائی کی پروڈکشن ہے۔ فیر تو سیم ٹو سیم کلب جی :) ۔
ReplyDeleteہیلو ہائے اوئے: جو لوگ اسطرح سوچتے ہیں وہ اردو بلاگستان میں آجاتے ہیں۔
ReplyDeleteیاسر: میں نے ابھی تک آپ کے ساتھ کوئی فنکاری لگائی نہیں۔۔۔لیکن آگے آگے دیکھئے۔۔۔ہوتا ہے کیا!
محمودالحق: خوش آمدید!۔۔۔اردو کی واٹ ستر کی دہائی سے لگ رہی ہے ۔۔۔یہ بتانے کا شکریہ۔۔آپ کے سوال پر غور کروں گا۔
فکر پاکستان: فکراردو کو میرا سلام کہیے!
پھپے کٹنی: چہرہ تو نادیہ خان کا خوبصورت ہے۔۔۔دل کا معلوم نہیں۔۔۔وہ میرا فون ہی نہیں اُٹھاتیں۔
میرا پاکی لینڈ: امام دین گجراتی ایک "عظیم شاعر" تھے۔ ان کی شاعری لُک ُچھپ کر پڑھنے والی تھی۔
ڈفر: یار کتنی زنانیوں کے پیچھے پڑا ہے؟۔۔۔نادیہ خان کو چھوڑ دے۔۔وہ میری ہے۔
میں اپنے امی ابو کی پروڈکشن ہوں۔ ماڈل البتہ اسی کی دہائی کا ہے۔
تیری کیسے ہے؟
ReplyDeleteتو نو پیٹنٹ لیا ہوا ہے اس کا؟
میری "پرانی" سلام دعا ہے ;) ۔
آپکے دھتکارنے کی بھی جتنی تعریف کی جائے کم ہی پڑجائے گی ۔
ReplyDelete"ہیلو ہائے اوئے: جو لوگ اسطرح سوچتے ہیں وہ اردو بلاگستان میں آجاتے ہیں۔ "
فرشی سلام کے ساتھ ۔
اب یہ بھی درست ہی کہا ہوگا آپنے ۔
آپ کچھ غلط سمجھے۔ یا میں ہی صحیح سمجھا نہیں پایا۔
ReplyDeleteمیرا کہنے کا مطلب صرف اتنا تھا۔ ۔ ۔ کہ جو اردو سے دلچسپی رکھتے ہیں وہ اس کی قدر کرتے ہوئے۔ ۔ ۔ لکھنے پڑھنے کی طرف آ ہی جاتے ہیں۔
تیری صرف سلام دعا ہے۔ ۔ ۔
ReplyDeleteاپُن نے تو کام۔ ۔ ۔ ۔
میرے ایک جاننے والے ہیں
ReplyDeleteبہت عمدہ انسان
بات کریں گے ایسے
ایکچوئلی میں ذرا موسق سے آیا ہوں پرے کرکے
میرا سن مجھے بودر کرنے لگا کہ پاپا آئی وانٹ کو گو آن کارنش۔۔۔
آپ سنائیں ہاو از لائف۔۔۔ گڈ۔۔۔ می گڈ ٓلسو۔۔۔
ہم کون ہوتے ہیں اعتراض کرنے یا برا سمجھنے والے یہ تو دانا لوگوں کے ہی کہنے اور سمجھنے کی باتیں ہے ۔
ReplyDeleteبس ایک معمولی سی کمپلین تھی کہ تین سلاموں میں سے اےاواے کو ہی اوئے بنا دیا ۔اور اب شائد فرشی سلام ہی بچا تھا انٹری کیلئے ۔"ہیلو۔ہائے۔اےاواے اوئے" کہا ہوتا تو یہ معمولی سی کمپلین بھی نہ کرتے ۔
جعفر: پاکستان میں آجکل جو زبان رائج ہے۔ ۔ ۔اسے اردو، انگریزی یا پنجابی کے بجائے کوئی نیا ہی نام دینا پڑے گا۔ "ارنگجابی" کے متعلق کیا خیال ہے؟
ReplyDeleteہیلو ۔ ہائے ۔ اےاواے: نام کی تصیح اور جملے کی وضاحت کر دی گئی ہے۔ باقی آپ کی خفگی کی وجہ میں جان نہیں پایا۔ لیکن خیر اسی نوک جھونک کے دم سے بلاگستان کی رونق ہے۔
کچھ سنسکرت ٹائپ کا نام ہوگیا یہ ارنگجابی؟
ReplyDeleteبہرحال ہمارے یہ دوست یواےای میں مقیم ہیں۔۔۔
پنجابی کا کابرستان بلوچستان بلوچستان
ReplyDeleteآزاد بلؤچستآن
یہ تبصرہ میں حذف نہیں کر رہا۔ صرف اس لئے کہ سند رہے اور دوسرں کو پتا چل سکے کہ اس بلاگستان میں کیسے کیسے لوگ ہیں۔
ReplyDeleteلگے رہیے!
[...] جائیں تو پھر بات کی تحقیق کون کرتا پھرے گا۔ اس کی مثال مندرجہ ذیل بلاگ پر دیکھی جا سکتی ہے۔ شعیب صفدر کی تصویر اور بلاگ [...]
ReplyDeleteخوبصورت تحریر ہے مزہ آیا
ReplyDeleteعثمان پرائے مہربانی ان صاحب کا IP ایڈریس مجھے دینا جنہوں نے میری تصویر استعمال کر کے تبصرہ کیا ہے ساتھ میں اگر اُس نے میرا ای میل بھی استعمال کیا ہے تو اُسے تبصرہ میں سے میرا ای میل اور میرے بلاگ کا ایڈریس مٹا دینا تا کہ میری تصویر بھی ہٹ جائے۔
ReplyDeleteتفصیلات میں نے آپ کو میل کر دی ہیں۔
ReplyDeleteالسلام علیکم
ReplyDeleteبہت عمدہ تحریر ہے۔۔۔۔ واقعی ہر جگہ ایسا ہی رویہ ہے اردو کیلئے یا پنجابی کیلئے۔۔ میرا دماغ بھی شروع سے ہی انہی خیالات کا مسکن بنا رہا ہے کہ ایسا کیوں ہوتا ہے۔۔اور ہمیشہ میں نے اس رویے کی نشاندہی ضرور کی ہے۔ بلاگنگ کا آغاز بھی اسی طرح کے جذبات سے کیا تھا اور اب بھی جذبات قائم ہیں۔ :)
یہ جان کر بھی خوشی ہوئی کہ آپ اپنے "راوین بھائی" ہیں۔۔ بلاگنگ کے شروع کی تحاریر میں میں نے بھی ان رویوں کا رونا بہت رویا ہے۔۔۔
یہ سب اب بھی ایسے ہی ہے مثلاً اسی سے اندازہ لگا لیں کہ میرے بلاگ کے قارئین میں ایک دو قریبی دوستوں کے علاوہ کوئی بھی سکول، کالج یا یونیورسٹی کا دوست /ساتھی نہیں ہے۔۔ کیونکہ ان کے پاس بھی اردو سائٹیں پڑھنے کا کوئی وقت نہیں ہے اور نہ ہی ضرورت، ان کے تئیں!
خیر۔۔۔ بات لمبی ہو رہی ہے۔۔۔
اس کے علاوہ جو "سپیمی" تبصرہ کیا گیا ہے شعیب ساحب کی تصویر اور ای میل وغیرہ استعمال کرکے۔۔میں بھی اسکی مذمت کرتا ہوں۔ :(
ہاں! یاد آیا۔۔ آپ اپنا بلاگ کسی ایگریگیٹر میں رجسٹر کروائیں۔۔۔ مجھ جیسے لوگ جو ماورائی یا کوئی اور فیڈر استعمال کرکے پوسٹیں پڑھتے ہیں، انہیں بھی پتا چلے کہ آپ کیا فرما رہے ہیں۔ :)
ReplyDeleteممکن ہے یہ صاحب کہیں اور ہی سے تعلق رکھتے ہوں۔ بلوچوں کو بدنام کرنے کے لیے ان کا نام استعمال کررہے ہوں جیسے ای میل اور بلاگ ایڈریس جھوٹا لکھا۔ لہٰذا ایسے لوگوں سے کسی قوم کی پہچان نہ ہی بنائیں تو اچھا ہے۔
ReplyDeleteآپ کی بات بجا ہے۔ فوری طور پر کوئی تاثر قائم نہیںکرنا چاہییے۔ میں نے تصیح کرلی ہے۔
ReplyDeleteریاض شاہد: بہت شکریہ!
ReplyDeleteعین لام میم: اولڈ راوین کو مل کر خوشی ہوئی۔ آپ اردو سائٹس کی بات کرتے ہیں۔ لوگوں کے پاس تو کچھ بھی کام کا پڑھنے کو ٹائم نہیں۔ فیس بک اور دوسری چیزوں پر ٹائم زیادہ ضائع کرتے ہیں اور اچھی چیزوں پر کم۔
بلاگر ایگریگیٹر پر رجسٹر کروانے کے لیے ضروری ہے کہ بلاگ کم از کم ایک دو ماہ پرانا ہو۔ جبکہ مجھے لکھتے ہوئے صرف دو تین ہفتے ہی ہوئے ہیں۔ تاہم اگر آپ ایسے کسی ایگریگیٹر سے واقف ہیں جو مجھے فوراً رجسٹر کرلے تو مجھے ضرور بتایئے گا۔
شکریہ!
ReplyDeleteزبان اردو کے اگر یہی حالات رہے تو خالص اردو اخبارات اور بلاگستان تک ہی محدود ہوجائے گی۔
احساسِ کمتری جس کے ذہن پر سوار ہو جائے اُسے اپنی ہر چيز کمتر نظر آتی ہے ۔ ابتداء وہ اپنی بولی يعنی زبان سے کتا ہے کہ اس ميں پيوند لگانے شروع کرتا ہے چاہے وہ بے ڈھنگے ہوں
ReplyDeleteپاکستان بننے سے پہلے کسی نے کہا تھا
واٹر واٹر کر موئوں بچہ
انگريزياں گھر گالے
جے کر جاندی پانی منگدا
بھر بھر ديندی پيالے
خوش آمدید
ReplyDeleteاور لنک کا شکریہ۔۔۔۔پڑھنے کے لائق ہے۔
اس میں انکل مشرف کا کیا قصور؟
ReplyDeleteجب دیکھو ان کو گھسیٹی جاتا ہے ہر بندہ
عثمان مجھے یہ بتاو کہ اتنا زیادہ کس نے لکھ کر دیا ۔ تحریر تو بہت خوبصورت ہے اس میں کوئی شک نہیں ۔ لیکن اصل بات جو ہے وہ پڑھنے والے کی ہے کہ اس نے کس طرح پڑھا ہو گا۔ اور خاص کر میں جس کا کمپیوٹر تھوڑی تھوڑی دیر کے بعد اللہ کو پیارا ہو جاتا ہے ۔۔ خیر اردو کے بارئے میں جو لکھا بہت صھیح لکھا ہماری کمزوری انگریزی ہے ۔ اور ہم آج تک اس سے نہیں نکل پا رہے ۔ جو ہماری بدنصیبی کہہ لیں ۔ زبان کی حد تک تو انگریزی بہت ضروری ہے ، کیونکہ دنیا کے ہر کونے میں ہم اسی زبان سے کام لیتے ہیں ۔لیکن جیسے اس کو فشین یا دوسرے کو نیچا دیکھانے کو بولتے ہیں۔ اور اپنے علم کا رعب ڈالتے ہیں وہ غلط ہے۔
ReplyDeleteتانیہ جی۔۔
ReplyDeleteلیجئے۔۔۔اب بندہ آپ کی شاگردی میں رہ کر اتنا بھی نہ لکھ پائے تو فائدہ کیا۔ تحریر پسند کرنے کا شکریہ۔
ہماری احساس کمتری صرف انگریزی تک ہی محدود نہیں۔ ہر وہ چیز جو درآمد شدہ ہے۔۔ہم اسے فوقیت دیتے ہیں۔
زبان کے زندہ رہنے کے لئے صرف کلام ہی کافی نہیں۔۔۔تحقیق اور تجارت میں بھی اسکا فروغ ضروری ہے۔ بہرحال یہ تفصیلی موضوع ہے۔ کوشش کروں گا کہ اس پر بھی لکھوں۔
[...] ہوشیار باش! پچھلی پوسٹ “اردو میڈیم” پر کسی “آزاد بلوچ” نے ایک سینئر بلاگرشعیب صفدر [...]
ReplyDeleteحیدرآباد دکن کی موجودہ صورتحال میں تو اردو نوجوانوں میں غیرمقبول ہوتی جا رہی ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ بیشمار اردو مدارس ہیں جہاں دسویں جماعت تک اردو میڈیم سے تعلیم کے مواقع میسر ہیں ، ڈھیر سارے کالجز میں اردو اختیاری مضمون کے طور پر لی جا سکتی ہے۔ تین بڑی جامعات میں باقاعدہ اردو کے شعبہ جات قائم ہیں جہاں ایم۔فل اور پی ایچ ڈی کی سہولت مہیا ہے اور لوگ استفادہ بھی کر رہے ہیں ۔۔۔ ہند کے تین مشہور اردو اخبارات بھی حیدرآباد ہی سے شائع ہوتے ہیں ۔۔۔ دیگر اردو روزنامے اور ہفتہ وار اخبارات بھی نکل رہے ہیں ۔۔۔۔۔
ReplyDeleteمگر اردو لکھنے والی نئی نسل کیوں زیادہ آگے نہیں آ رہی ہے ۔۔۔ یہ بس سوچنے کا مقام ہے۔
جب ہم نہم جماعت میں تھے تو ہمارے ایک ایم اے انگلش استاد ایویں ہی تشریف لائے میرے ساتھ بیٹھے لڑکے کو اٹھا کر بولے چل اوئے ڈیفوڈلز کی سمری سنا۔ نڑنوے کا سال تھا ٹائٹنک نئی نئی تشریف لائی تھی اس نے اس کا ٹائٹل سانگ جلدی جلدی سنایا سر نے اس کو شاباش دی اور بیٹھا دیا ساری کلاس کا ہنس ہنس کے برا حال مگر ماشٹر جی کو ککھ سمجھ نہ لگی۔
ReplyDeleteہمار ماسٹر تو اتنا بھی نہیں کرتا تھا۔ کسی لڑکے کو کھڑا کر دیتا کہ اس کا سبق سُن لو۔ اللہ اللہ خیر صلہ۔
ReplyDeleteحیدر آبادی صاحب۔۔۔۔۔خوش آمدید
ReplyDeleteیہ سُن کر غمگین ہوں کہ اردو کے نوحے ہر جگہ ہیں۔