25 June 2010

تکلفات


فرانسیسی زبان میں اگر آپ مخاطب الکلام سے بے تکلف ہوں تو tu اور اگر تکلف ملحوظ خاطر رکھنا ہو تو vous کا ضمیر شخصی مستعمل ہے۔ اسی طرح، غائب، حاضر، بڑے، چھوٹے، مذکر و مونث کے لئے مختلف القابات اور اسما رائج الذبان ہیں۔  گویا انگریزی زبان کے برخلاف فرانسیسی زبان تکلفات اور کلام کی چاشنی سے بھرپور ہے۔ فرانسیسی اپنی زبان کی ان خصوصیات کی وجہ سے اسے بڑا اعلیٰ و ارفع جانتے ہیں۔ جہاں کہیں انگریزی اور فرانسیسی کا تقابل آجائے۔۔ان خواص پر فخر کرتے نہیں تھکتے۔ کچھ فرانسیسی اصحاب سے گفتگو کر کے اندازہ ہوا کہ وہ ایک خوش فہمی کا شکار تھے کہ صرف فرانسیسی زبان ہی ان خصوصیات میں یکتا ہے۔ بحث بڑھی تو عرض کیا۔۔صاحب۔۔آپ کی تہذیب اور زبان بہ لحاظ تہذیب اس معاملے میں ابھی طفل مکتب ہے۔ ہمارے ہاں نہ صرف یہ تمام آداب رائج ہیں بلکہ بات دوران کلام منہ بولے رشتوں تک جا پہنچتی ہے۔ اور تو اور۔۔۔گالی گلوچ کے معاملے میں اردو زبان کافی نرم واقع ہوئی ہے۔ مخاطب اردو میں گالی دے رہا ہو تو یوں لگتا ہے گویا پُچکار رہا ہو۔ گالی دینے اور نازیبا فقرے کسنے کے لئے لامحالہ دوسری علاقائی "کمتر زبانوں" کا سہارا لینا پڑتا ہے۔ پھر جا کر کہیں غصہ اُترے تو اُترے۔


زبان ظاہر ہے متعلقہ تہذیب کے مطابق ہی ڈھلتی ہے۔ اور جب تہذیب آداب و تکلفات۔۔چاہے وہ ظاہری ہی کیوں نہ ہوں۔۔سے لبریز ہو تو اس کے اثرات پوری طرح زبان پر بھی چھا جاتے ہیں۔ اکثر گھرانوں میں بڑے چھوٹے خواتین یا مرد حضرات کے ساتھ کوئی منہ بولا رشتہ قائم کئے بغیر ہم کلام ہونے کا رواج نہیں۔ ہم عمر کزن جنس مخالف کو "بات پکی" ہونے سےقبل آپی، بھائی پکارتے دیکھے ہیں۔ میں بذات خود اس بات کا قائل ہوں کہ مجھ سے سات آٹھ سال چھوٹے مجھے رو بہ رو کلام میں کسی لقب کے استعمال کے بنا نہ پکاریں۔ نہ ہی مجھے اپنے سے پانچ سالہ بڑے افرد کو محض نام سے پکارنے کی عادت ہے۔ رو بہ رو کلام میں تو یہ ٹھیک ہے بلکہ احسن ترین ہے۔ تاہم وقت کے ساتھ ساتھ یہ رواج کمزور پڑتا جا رہا ہے۔ اور کچھ بیبیاں اسے ناپسند کرنے لگی ہیں۔

زبانی کلام کی حد تک تو ٹھیک ہے۔ لیکن اب آئیے اردو بلاگنگ کی طرف کہ جہاں ان تکلفات کا بار اٹھانا پڑھ رہا ہے۔ میرا اپنا اردو بلاگنگ کرنے اور پڑھنے کا تجربہ و مشاہدہ کافی محدود ہے اس لئے کسی واضح موقف پر پہنچنے کی بجائے بذات خود تذبذب کا شکار ہوں۔ کچھ مثبت اثرات اپنی جگہ لیکن تہذیب اور زبان کے یہ بے جا تکلفات اردو بلاگنگ میں صحت مند بحث اور جامع تنقید پر قدغن لگاتے ہیں۔ اس کے برخلاف انگریزی بلاگستان میں رشتے صرف حلیف بحث یا حریف بحث تک ہی محدود ہیں۔ جس کے بدولت کسی مصنوعی ادب و آداب کو ملحوظ خاطر رکھے بغیر بحث و تنقید بلاجھجک آگے بڑھتی ہے۔ لیکن اردو بلاگنگ میں بات اس طرح نہیں کی جاسکتی۔ ایک آدھ بدتمیزوں کو الگ کردیں تو بات گالی گلوچ اور گھٹیا فقرے بازی تک نہیں پہنچتی۔ جو کہ اچھی بات ہے۔ لیکن ساتھ ہی ساتھ۔۔بحث وتمحیص کا سلسلہ بھی مہمل ہو جاتا ہے۔ بلاگروں کی قلیل تعداد کی وجہ سے ایک تو ویسے ہی کلوز کمیونٹی وجود میں آگئی ہے۔ جس کی وجہ سے منہ بولی رشتہ داریاں، دوستیاں اور تکلفات خود بخود فروغ پا رہے ہیں۔ اگر کسی موضوع پر اختلاف کرتے ہوئے تفصیلی بحث کرنے لگو تو تلخی ہوئے بنا  صورتحال انجام کو نہیں پہنچتی۔ کئی دفعہ تو یوں معلوم ہوتا ہے کہ یا تو اس دوستی اور احترام کا ڈھونگ جاری رکھیے۔ اور ساتھی بلاگر کی کسی بات پر اختلاف ہونے کے باوجود تفصیلی اختلاف رائے سے ہر ممکن گریز کریں۔ یا پھر بلاگنگ کی اصل روح یعنی اہل بلاگستان سے اختلاف اور مباحثہ کرنے پر آئیں۔ لیکن ساتھ ہی ساتھ اپنے پر کئی اقسام کے لیبل لگوا کر متنازع ہوجائیے۔ اگر شوخ بیاں ہیں اور طرز کلام مظبوط ہے تو پھر تو کچھ گزارا ہے نہیں تو تنہائی کا شکار ہونے کا خطرہ مول لے لیجئے۔

اس مسئلے سے جان چھڑانے کی ایک فطری صورت تو یہی ہے کہ جوں جوں بلاگستان کا حجم بڑھتا جائے گا توں توں یہ عناصر خودبخود کسی حد تک تحلیل ہوتے چلے جائیں گے۔ اور متنازع موضوعات چھیڑتے وقت اس بات کی فکر نہیں ہو گی کہ کون برا مناتا ہے یا کس چھوٹے بڑے، بزرگ یا خاتون سے ادب کی بوجھل حدود کے دائرے میں رہ کر بحث کرنی ہے۔ کہ اس وقت ہر رنگ ہر حلقہ بلاگستان میں موجود ہو گا۔ اور کسی ایک کو متنازع لیبل لگا کر دیوار سے لگانے کی گنجائش نہیں رہے گی۔

33 comments:

  1. السلام علیکم
    آپ تجزیوں خصوصاً بلاگستان سے متعلق تجزیوں میں بہت فِٹ لکھتے ہیں۔۔۔ اور اچھے انداز میں بات کرتے ہیں۔ آخری دو پیراگرافوں سے ملکل طور پر متفق ہوں۔۔ آپ نے اس سسٹم کی وجہ بھی خود ہی بتا دی ہے۔۔ ۔۔۔
    دیکھئے میں نے سب سے پہلے تبصرہ کیا ہے ۔۔۔ یعنی کہ اب آپ مجھے تنہا نہیں چھوڑیں گے بلاگستان میں۔۔۔! :پ
    :)

    ReplyDelete
  2. arbi zuban main be alqabat ki bohat bari taadad ha, jo shayd urdu se be zeyada ha, ab in alqabat ka istemal kis had tak darust hain, ye nahi pata

    ReplyDelete
  3. حقیقت پر مبنی بُہت ھی زبردست تجزیہ- شُکریہ

    ReplyDelete
  4. ارے عثمان لگتا ھے آپ کافی حساس طبیعت کے ھو۔بھائی اتنی گہرائی میں جاکر مت سوچا کریں۔اور تھوڑا سا ڈھیٹ ھو جائیں۔اخلاقیات کے دائرے میں رہتے ھوئے اختلاف کریں۔اگر کوئی ٹینشن میں آئے تو ہی ہی ہی کر کے بتیسی نکالئے اور ایک یک سطری تبصرہ مزید کر کے انجوئے کیجئے۔ ہم آپ کو اکیلا نہیں چھوڑیں گے۔کہتے ھو تو آپ کے پاس آجاوں؟آج کل فارغ ھوں ویسے۔

    ReplyDelete
  5. ميں لکھنے والوں کی کسی کی ذاتیات پر تنقید کا قائیل نهیں هوں هاں ان کے نظریات پر تنقید بلکه حمله کردینے کا قائیل هوں اور اگر کوئی دلائل مين مجھے شکست دے دے تو اس کو تسلیم کرلینے کا بھی عادی هوں
    لیکن جن لوگوں کی ذاتی زندگی کو جانتا هوں اور ان سے داتی پرخاش رکھتا هوں ان کی ماں بہن کو ایک هی منچی پر ایک کردینے کا قائل هوں جیسا که اسحاق بھٹی اور رانے پداں والے کے متعلق میری تحاریر هیں

    ReplyDelete
  6. خواجہ طلحہJune 26, 2010

    تو یہ کیا لکھ رہا ہے
    ۔
    ۔
    ۔
    کیسا لگا یہ طرز تخاطب؟

    آپ نے لکھا [QUOTE] ًًً تنہائی کا شکار ہونے کا خطرہ مول لے لیجئے۔ً[/QUOTE]
    مطلب اس کا یہ ہوا کہ آپ خود کلامی نہیں کررہے ہو،بلکہ سامنے والے بندے سے مخاطب ہورہے ہو۔
    اور چاہ رہے ہو کہ سبھی تک آپ کی بات پہنچے۔
    پھر آپ نے لکھا
    [QUOTE]ًمیں بذات خود اس بات کا قائل ہوں کہ مجھ سے سات آٹھ سال چھوٹے مجھے رو بہ رو کلام میں کسی لقب کے استعمال کے بنا نہ پکاریں۔ً[/QUOTE]

    ایک طرف آپ لوگوں کو مخاطب کررہے ہو ویسے ہی جیسا کہ عام زندگی میں مخاطب کرتے ہیں۔ اور دوسری طرف عام زندگی میں بقول آپ کے آپ کو بغیر لقب پکارنا اچھا نہیں لگتا۔
    ہماری اردو کا یہ رواج ہے ریت ہے کہ ہم ایسے ہی لکھتے ہیں جیسا کہ سامنے والے سے بات کرتے ہیں۔اگر آپ عام زندگی میں تکلفات کو لازمی گردانتے ہو تو لکھتے ہوئے بھی تکلفات کرنا چاہیں۔ورنہ پڑھنے والا اردو کی اس تہذیب کو مد نظر رکھ کر لا محالہ ناراض ہوگا ہی۔

    ہم لوگ اردو کے تشخص کو بچانا چاہ رہے ہیں۔ نہ کہ اردو کو انگریزی کا جامہ پہنانے جارہے ہیں۔
    ہم لوگ پہلے ہی بہت کچھ ہنس کی چال کی نظر کرچکے ہیں۔ اب آپ اور کیا کچھ چاہ رہے ہو؟

    ReplyDelete
  7. خواجہ طلحہ۔۔۔خوش آمدید!
    اگر آپ نے اس بلاگستان میں مختلف بلاگ اور ان پر ہونے والے تبصرے بغور پڑھے ہوں‌تو آپ کو میری بات اور اس تحریر کا شان نزول باآسانی سمجھ آجائے گا۔ اسی لئے اوپر تمام تبصرہ نگاروں کو میری بات سمجھ آ گئی اور انھوں‌نے اتفاق ہی کیا۔
    تمیز کا مظاہرہ کرنا اور بات ہے۔ تکلفات کا مظاہرہ کرنا اور بات۔ والد صاحب سے تمیز کے دائرے میں رہ کر بحث کی جاسکتی ہے لیکن جب تکلفات آڑے آجائیں تو بحث نداد۔
    آپ مجھے تم کہہ کر مخاطب کر سکتے ہیں۔ جو کہ تمیز کے دائرے میں ہے۔ صاحب، بھائی، جناب، جیسے تکلفات لگانے کی ضرورت نہیں۔
    اگر میں‌ اردو کو انگریزی کا جامہ پہنا رہا ہوتا بلاگ اردو میں نہ لکھتا۔ اردو کو انگریزی کا جامہ پہنانے والے اردو لکھنا تو درکنار۔۔۔ صاف اردو میں‌بات تک کرنا پسند نہیں کرتے۔

    ReplyDelete
  8. عین لام میم : تجزیوں‌پر تو ابھی کافی تحریریں آنی ہیں۔ آگے آگے دیکھتے جائیے۔ بے فکر رہیں۔ آپ کو کون چھوڑ رہا ہے؟

    faisal: خوش آمدید! عربی کے متعلق تو عرب بلاگر ہی کچھ بتا سکتے ہیں۔

    MD: شکریہ!

    جاپانی: ڈھیٹ تو میں ایک نمبر کا ہوں‌ اس بارے میں‌تو کوئی شبہ نہیں۔ آپ دعوت جاپان دیں۔ میں‌ آپ کے پاس چلا آتا ہوں۔

    خاور: جناب آپ ٹھہرے صحافی لوگ۔ بندے بندے سے نبٹنا جانتے ہیں۔ ہم کسی سے اُلٹا سیدھا کہہ دیں تو ہو گیا کام۔

    ReplyDelete
  9. خواجہ طلحہJune 26, 2010

    شکریہ عثمان


    جہاں تک آپ کی اس بات کہ "صاف اردو میں‌بات تک کرنا پسند نہیں کرتے"۔ مجھ سے ہے تو یہ سو فیصد درست ہے۔میں اپنی نااہلی کی وجہ سے حقیقتا لکھتے ہوئے اردو کا مذاق ہی اڑا رہا ہوتا ہوں۔

    ReplyDelete
  10. ہیلو۔ہائے۔اےاواےJune 26, 2010

    نہایت اچھا آرٹیکل ہے ۔ ڈو یو سپیک انگلش فرنچس کی چھیڑ ہے ۔ یقین مانیں بڑے ہی غصے سے کہینگے لا لانگلے یا لا انگلے ۔ جو تھوڑی بہت انگلش جانتے ہونگے ساتھ میں بڑی مشکل سے اپنی زبان کو آسمان تک پہنچانے کی کوشش کرینگے ۔

    ReplyDelete
  11. ایویں ایویں دعوت دے دوں ۔آبیل مجھے مار والی۔

    ReplyDelete
  12. ویسے یہ بلاگنگ میں عام زندگی کے اصول لاگو نہیں ہوتے؟
    یعنی بڑوں کی عزت
    چھوٹو سے شفقت
    دوستوں کے ساتھ گپ
    اور دشمنوں کی ایسی کی تیسی۔۔۔
    اور کیا یہ انسان کی فطرت نہیں۔۔۔
    اگر ہے تو فطرت کو دبانا تو اچھا نہیں ہوتا ناں جی۔۔۔
    کیا خیال ہے؟

    ReplyDelete
  13. حیرت ہوئی فرانسیسوں کے اترانے پر، کیونکہ فرانسیسی کی بہن زبانیں ہسپانوی اور اطالوی بھی بکثرت القابات کا استعمال کرتے ہیں ۔ ہسپانوی میں ہم عمر کو مخاطب کرنے کے لئے بھی Tu اور کسی بزرگ کو عزت سے بلانے کے لئے Su کا استعمال ہوتا ہے ۔

    باقی رہ گئی بلاگستان کے بارے میں بات تو اس پر پریشان نہیں ہونا، یہ ابال وقتی طور پر ہمیشہ سے آتا رہتا ہے، ایک مقولہ ہے کہ بالائی ہمیشہ دودھ کے اوپر رہتی ہے، چاہے جتنا مرضی دودھ کیوں نہ ہو ۔ آپ کوشش کریں کہ آپ خود بالائی بنیں ۔ اور دیگر جو کچھ کر رہے ہیں انہیں ان کے حال پر چھوڑ دیں ۔

    تیسری بات فارمیٹنگ والی پر آپکے تبصرے کا جواب بھی دے دیا ہے، اور میرے بلاگ پر پہلا تبصرہ کرنے پر خوش آمدید ۔

    ReplyDelete
  14. اچھی تحریر کے لیے شکریہ

    ReplyDelete
  15. عثمان بہت ھی عمدہ باتیں کی ھیں آپ نے، کسی کی ناراصگی کے خوف سے حق اور صحیح بات لکھنے سے نہیں گھبرانا چاہیے ، مشہور قول ھے کھ یھ مت دیکھو کون کہھ رہا ھے یھ دیکھو کیا کہھ رہا ھے۔ آپ اپنے ضمیر کی آواز پر لبیک کہتے جائیں ہر حق اور سچ لکھتے جائیں۔

    ReplyDelete
  16. عثمان ، میں نے یہ نہیں لکھا کہ مجھے بیٹی یا بہن کہہ کر کوئی پکارے تو برا لگے گا ۔۔ میں نے لکھا ہے کہ بہن یا بیٹی کہہ کر اگر بلایا جائے تو بہن یا بیٹی جیسے لفظ کا احترام بھی کیا جائے یہ نہیں کہ بہن کہہ کر ذومعنی الفاظ کہے جائیں سب لوگ ایسا نہیں کرتے جانتی ہوں مگر جو ایسا کرتے ہیں میری پوسٹ اُن لوگوں کے لیئے تھی ۔

    ReplyDelete
  17. حجاب
    میں آپ کی اس بات سے متفق ہوں۔ میرا مقصد آپ کی پوسٹ کی نشاندہی کرکے یہ دکھانا تھا کہ اب یہ تکلفات وغیرہ اس طرح مفید نہیں رہ گئے جیسا کہ کبھی ہوتے تھے۔

    ReplyDelete
  18. ہیلو۔ہائے۔اےاواے : پسندیدگی کا شکریہ!

    یاسر : دعوت کوئی بھی ہو۔۔میں نے پہنچ جانا ہے۔

    جعفر: ان تکلفات کی وجہ سے ہی تو فطرت کو دبایا جا رہا ہے۔پیار ، احترام اور تمیز ضروری ہے۔ لیکن تکلفات مختلف چیز ہے۔ اور بلاجھجک تنقید کا راستہ بند کرتی ہے۔ میرے خیال میں‌ زبانی کلام اور تحریری کلام کے طرز گفتگو میں فرق ہوتا ہے۔

    جہانزیب اشرف: خوش آمدید! القابات تو بہت سی زبانوں‌میں‌ہے۔ لیکن فرانسیسی لوگوں کو انگریزی سے کمپلیکس ہے۔ اور جہاں موقع ملے اسے نیچا دکھانے کی پوری کوشش کرتے ہیں۔

    شازل: خوش آمدید!

    فکر پاکستان: تنقید اور اختلاف سے ڈرنے والے نہیں‌ ہم

    ReplyDelete
  19. خاور کھوکھر صاحب ان حضرات کی ماں بہنوں نے آپ کا کیا بگاڑا ہے؟؟؟؟؟

    ReplyDelete
  20. میں بھی آپکی بات سے متفق ہوں!

    ReplyDelete
  21. اردو بلاگوں میں تو ابھی انگریزی بلاگوں والی آگ کی سیک تک نہیں پہنچی
    انگل اور باں والا پنجابی محاورہ میں تو یاد نہیں کرواتا
    لیکن اگر برداشت نہ ہو تو بات کرنی ہی نہیں چاہیے
    بجائے اس کے کہ بات کر دو
    اور جواب ملے تو کوسنا شروع کر دو
    بحث کو جتنا مرضی گرم کر دو ،کوئی فرق نہیں پڑتا
    میں تو کہتا ہوں کہ کوئی گالیاں دے تو جواب میں بے شک گالیاں بھی دو
    لیکن جب ایک پارٹی دعوٰی کر کےثابت نہ کر سکے اور جوابی دلیلوں کے جواب میں لعن طعن کرے تو مجھے یہ سمجھ نہیں آتی کہ لکھنے کی وجہ کیا تھی؟
    اگر صرف اپنی بات پہنچانا تھا تو اس پوسٹ پر تو تبصرے بند ہونے چاہییں کہ مقصد پورا ہو گیا
    ابھی میں جنگی پوسٹوں کے بیچ میں پہنچا
    ساری پڑھ لوں تو فیر پورا تبصرہ کروں گا
    اب تک کی آخری بات یہ کہ
    اس پوسٹ کا آخری پیرا گراف ہی سب سے اہم ہے
    اب تو اردو بلاگنگ میں کافی میچورٹی آ گئی
    اس پیرا گراف کی رو سے اگر بلاگستان کا حجم بڑھنے کے باوجود کوئی نام تحلیل نہ ہوا تو؟
    کیا ہم نتائج کھلے دل سے ماننے کے لیے تیار ہیں؟

    ReplyDelete
  22. اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہم جذباتی قوم ہیں۔ کوئی بات مزاج کے خلاف ہو جائے تو آپے سے باہر ہو جاتے ہیں۔

    ReplyDelete
  23. Abdullah: خوش آمدید!

    ڈفر: اردو بلاگنگ کا حجم بہت سست روی سے بڑھ رہا ہے۔ لگتا ہے اچھا وقت صرف اگلی نسل ہی دیکھ پائی گی اگر اس وقت تک اردو اور بلاگنگ قائم رہی تو۔

    Saad: اردو بلاگنگ کو بالغ ہونے میں ابھی تھوڑا ٹائم تو لگے گا۔

    ReplyDelete
  24. السلام علیکم ورحمۃ وبرکاتہ،
    عثمان بھائي، ایک اچھی تحریر ہے۔ بات یہی ہوتی ہےجوبھی آپ کوسچ وحق لگےآپ اس کوبلاجھجک لکھ دیں۔ پھراس کوتبصروں کی چکی میں سےدیکھیں کہ اس کی کتنی سچائی ہے۔کیونکہ سچ توسوپردوں میں بھی سچ ہی رہےگالیکن جھوٹ آخرجھوٹ ہےاس کاپول کھل جائےگا۔

    والسلام
    جاویداقبال

    ReplyDelete
  25. اس بارے ميں ُہم` نے بھی ايک تحرير لکھی تھی ايڈريس يہ ہے
    http://phapheykutni.3papillons.fr/?p=24

    ReplyDelete
  26. I think u r quite wrong u wudnt say much if u agree with the person n so is true if u don't wana indulge in a stupid conversation as I avoided u a few times as I pretty much follow one problem at a time quotation
    now if u admire u r labeled siding with the guy u disagree n u r declared being idiot not
    understanding the bright facts
    honestly u r confused wat u want pretty much happened n u didn't like as u took it in wrong sense n wats a routine u wana change it
    I like English better u can do a he'll of a lot insult compare to English for Urdu ppls don't understand soft insults n hardcore like me r hated but I enjoy being loathed

    ReplyDelete
  27. Well, I think you haven't looked on my comments which I have left around Urdu Blogosphere. I occasionally engaged in detail conversation whenever I agreed with someone then the otherwise. One of the reasons that why discussion instantly ended whenever I disagreed , lies in the cultural and hence the linguistic formalities inherited in our society and Urdu Blogosphere as well.

    As for the argument that which language you feel comfortable to being loathed in, depends on which language you feel comfortable to conceive the argument with tone. By the way, If you agree that you like to go with English for any given heated debate...., then, my friend, doesn't it prove my argument over formalities in language

    ReplyDelete
  28. او یار کوئی خدا دا خوف کرو۔۔۔
    او سدھی انگلش ای شروع کردتی جے۔۔۔

    ReplyDelete
  29. نہیں صاحب آپ میرا مطلب ابھی بھی نہیں سمجھے۔ میں نے اختلاف کیا کہ اگر کھل کر لکھو تو ہر بلاگ سے رونے کی آواز آتی ہے۔ اور اگر آپ جناب کے چکر میں رہو تو آپ ناخوش۔

    جعفرۛ یار آءی فون سے تھا۔ اردو اس پر لکھنے سے بہتر ہے بندہ خودکشی کر لے۔

    ReplyDelete
  30. خوبصورت تحریر! عمدہ تجزیہ! فرانسیسی اور انگریزوں میں اینٹ کتے کا بیر ہے۔ اینٹ کون اور کتا کون اس بحث میں نہیں جاتے۔ اور خوش فہمی والی بات سے میں بھی متفق ہوں۔ ۔ویسے فرانسیسیوں کے ساتھ میرا تجربہ بھی کچھ اتنا اچھا نہیں ھے۔

    ReplyDelete
  31. عثمان کی تحاریر تو میرے سر کے اوپر سے گزر کر نا جانے کہاں گم ہو جاتیں ہین ۔۔۔۔بعض دفعہ تو یوں لگتا ہے کہ عثمان جو لکھتے ہیں وہ صرف اور صرف مرد حضرات کے پڑھنے کا ہوتا ہے ۔۔۔۔ عثمان اب بس کرو سمندر کے کنارے پر آ ہی جاو ۔ ورنہ ڈوبنے کا ڈر بھی ہوتا ہے کتنا ہی اچھا تیراک ہونے کے باوجود

    ReplyDelete
  32. میری بلاگنگ کا جہاز اپنی منزل کی طرف رواں دواں ہے۔ اور آپ ہیں کہ اسے کنارے لگانے کا کہہ رہی‌ ہیں۔ یہ تو دوستوں والی باتیں نہ ہوئیں۔ :(
    ویسے یہ آپ نے مرد بلاگوں والی بات اچھی کہی ہے۔ آئیندہ خیال رکھوں گا اور تحریر میں تغیر بھی لانے کی کوشش کروں‌گا۔ :)

    ReplyDelete
  33. عمران صاحب
    بلاگ پر خوش آمدید۔ فرانسیسوں کے ساتھ آپ کا کیا جھگڑا ہے۔ کچھ ہمیں بھی بتائیے۔ :)

    ReplyDelete