25 June 2010
تکلفات
فرانسیسی زبان میں اگر آپ مخاطب الکلام سے بے تکلف ہوں تو tu اور اگر تکلف ملحوظ خاطر رکھنا ہو تو vous کا ضمیر شخصی مستعمل ہے۔ اسی طرح، غائب، حاضر، بڑے، چھوٹے، مذکر و مونث کے لئے مختلف القابات اور اسما رائج الذبان ہیں۔ گویا انگریزی زبان کے برخلاف فرانسیسی زبان تکلفات اور کلام کی چاشنی سے بھرپور ہے۔ فرانسیسی اپنی زبان کی ان خصوصیات کی وجہ سے اسے بڑا اعلیٰ و ارفع جانتے ہیں۔ جہاں کہیں انگریزی اور فرانسیسی کا تقابل آجائے۔۔ان خواص پر فخر کرتے نہیں تھکتے۔ کچھ فرانسیسی اصحاب سے گفتگو کر کے اندازہ ہوا کہ وہ ایک خوش فہمی کا شکار تھے کہ صرف فرانسیسی زبان ہی ان خصوصیات میں یکتا ہے۔ بحث بڑھی تو عرض کیا۔۔صاحب۔۔آپ کی تہذیب اور زبان بہ لحاظ تہذیب اس معاملے میں ابھی طفل مکتب ہے۔ ہمارے ہاں نہ صرف یہ تمام آداب رائج ہیں بلکہ بات دوران کلام منہ بولے رشتوں تک جا پہنچتی ہے۔ اور تو اور۔۔۔گالی گلوچ کے معاملے میں اردو زبان کافی نرم واقع ہوئی ہے۔ مخاطب اردو میں گالی دے رہا ہو تو یوں لگتا ہے گویا پُچکار رہا ہو۔ گالی دینے اور نازیبا فقرے کسنے کے لئے لامحالہ دوسری علاقائی "کمتر زبانوں" کا سہارا لینا پڑتا ہے۔ پھر جا کر کہیں غصہ اُترے تو اُترے۔
زبان ظاہر ہے متعلقہ تہذیب کے مطابق ہی ڈھلتی ہے۔ اور جب تہذیب آداب و تکلفات۔۔چاہے وہ ظاہری ہی کیوں نہ ہوں۔۔سے لبریز ہو تو اس کے اثرات پوری طرح زبان پر بھی چھا جاتے ہیں۔ اکثر گھرانوں میں بڑے چھوٹے خواتین یا مرد حضرات کے ساتھ کوئی منہ بولا رشتہ قائم کئے بغیر ہم کلام ہونے کا رواج نہیں۔ ہم عمر کزن جنس مخالف کو "بات پکی" ہونے سےقبل آپی، بھائی پکارتے دیکھے ہیں۔ میں بذات خود اس بات کا قائل ہوں کہ مجھ سے سات آٹھ سال چھوٹے مجھے رو بہ رو کلام میں کسی لقب کے استعمال کے بنا نہ پکاریں۔ نہ ہی مجھے اپنے سے پانچ سالہ بڑے افرد کو محض نام سے پکارنے کی عادت ہے۔ رو بہ رو کلام میں تو یہ ٹھیک ہے بلکہ احسن ترین ہے۔ تاہم وقت کے ساتھ ساتھ یہ رواج کمزور پڑتا جا رہا ہے۔ اور کچھ بیبیاں اسے ناپسند کرنے لگی ہیں۔
زبانی کلام کی حد تک تو ٹھیک ہے۔ لیکن اب آئیے اردو بلاگنگ کی طرف کہ جہاں ان تکلفات کا بار اٹھانا پڑھ رہا ہے۔ میرا اپنا اردو بلاگنگ کرنے اور پڑھنے کا تجربہ و مشاہدہ کافی محدود ہے اس لئے کسی واضح موقف پر پہنچنے کی بجائے بذات خود تذبذب کا شکار ہوں۔ کچھ مثبت اثرات اپنی جگہ لیکن تہذیب اور زبان کے یہ بے جا تکلفات اردو بلاگنگ میں صحت مند بحث اور جامع تنقید پر قدغن لگاتے ہیں۔ اس کے برخلاف انگریزی بلاگستان میں رشتے صرف حلیف بحث یا حریف بحث تک ہی محدود ہیں۔ جس کے بدولت کسی مصنوعی ادب و آداب کو ملحوظ خاطر رکھے بغیر بحث و تنقید بلاجھجک آگے بڑھتی ہے۔ لیکن اردو بلاگنگ میں بات اس طرح نہیں کی جاسکتی۔ ایک آدھ بدتمیزوں کو الگ کردیں تو بات گالی گلوچ اور گھٹیا فقرے بازی تک نہیں پہنچتی۔ جو کہ اچھی بات ہے۔ لیکن ساتھ ہی ساتھ۔۔بحث وتمحیص کا سلسلہ بھی مہمل ہو جاتا ہے۔ بلاگروں کی قلیل تعداد کی وجہ سے ایک تو ویسے ہی کلوز کمیونٹی وجود میں آگئی ہے۔ جس کی وجہ سے منہ بولی رشتہ داریاں، دوستیاں اور تکلفات خود بخود فروغ پا رہے ہیں۔ اگر کسی موضوع پر اختلاف کرتے ہوئے تفصیلی بحث کرنے لگو تو تلخی ہوئے بنا صورتحال انجام کو نہیں پہنچتی۔ کئی دفعہ تو یوں معلوم ہوتا ہے کہ یا تو اس دوستی اور احترام کا ڈھونگ جاری رکھیے۔ اور ساتھی بلاگر کی کسی بات پر اختلاف ہونے کے باوجود تفصیلی اختلاف رائے سے ہر ممکن گریز کریں۔ یا پھر بلاگنگ کی اصل روح یعنی اہل بلاگستان سے اختلاف اور مباحثہ کرنے پر آئیں۔ لیکن ساتھ ہی ساتھ اپنے پر کئی اقسام کے لیبل لگوا کر متنازع ہوجائیے۔ اگر شوخ بیاں ہیں اور طرز کلام مظبوط ہے تو پھر تو کچھ گزارا ہے نہیں تو تنہائی کا شکار ہونے کا خطرہ مول لے لیجئے۔
اس مسئلے سے جان چھڑانے کی ایک فطری صورت تو یہی ہے کہ جوں جوں بلاگستان کا حجم بڑھتا جائے گا توں توں یہ عناصر خودبخود کسی حد تک تحلیل ہوتے چلے جائیں گے۔ اور متنازع موضوعات چھیڑتے وقت اس بات کی فکر نہیں ہو گی کہ کون برا مناتا ہے یا کس چھوٹے بڑے، بزرگ یا خاتون سے ادب کی بوجھل حدود کے دائرے میں رہ کر بحث کرنی ہے۔ کہ اس وقت ہر رنگ ہر حلقہ بلاگستان میں موجود ہو گا۔ اور کسی ایک کو متنازع لیبل لگا کر دیوار سے لگانے کی گنجائش نہیں رہے گی۔
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
السلام علیکم
ReplyDeleteآپ تجزیوں خصوصاً بلاگستان سے متعلق تجزیوں میں بہت فِٹ لکھتے ہیں۔۔۔ اور اچھے انداز میں بات کرتے ہیں۔ آخری دو پیراگرافوں سے ملکل طور پر متفق ہوں۔۔ آپ نے اس سسٹم کی وجہ بھی خود ہی بتا دی ہے۔۔ ۔۔۔
دیکھئے میں نے سب سے پہلے تبصرہ کیا ہے ۔۔۔ یعنی کہ اب آپ مجھے تنہا نہیں چھوڑیں گے بلاگستان میں۔۔۔! :پ
:)
arbi zuban main be alqabat ki bohat bari taadad ha, jo shayd urdu se be zeyada ha, ab in alqabat ka istemal kis had tak darust hain, ye nahi pata
ReplyDeleteحقیقت پر مبنی بُہت ھی زبردست تجزیہ- شُکریہ
ReplyDeleteارے عثمان لگتا ھے آپ کافی حساس طبیعت کے ھو۔بھائی اتنی گہرائی میں جاکر مت سوچا کریں۔اور تھوڑا سا ڈھیٹ ھو جائیں۔اخلاقیات کے دائرے میں رہتے ھوئے اختلاف کریں۔اگر کوئی ٹینشن میں آئے تو ہی ہی ہی کر کے بتیسی نکالئے اور ایک یک سطری تبصرہ مزید کر کے انجوئے کیجئے۔ ہم آپ کو اکیلا نہیں چھوڑیں گے۔کہتے ھو تو آپ کے پاس آجاوں؟آج کل فارغ ھوں ویسے۔
ReplyDeleteميں لکھنے والوں کی کسی کی ذاتیات پر تنقید کا قائیل نهیں هوں هاں ان کے نظریات پر تنقید بلکه حمله کردینے کا قائیل هوں اور اگر کوئی دلائل مين مجھے شکست دے دے تو اس کو تسلیم کرلینے کا بھی عادی هوں
ReplyDeleteلیکن جن لوگوں کی ذاتی زندگی کو جانتا هوں اور ان سے داتی پرخاش رکھتا هوں ان کی ماں بہن کو ایک هی منچی پر ایک کردینے کا قائل هوں جیسا که اسحاق بھٹی اور رانے پداں والے کے متعلق میری تحاریر هیں
تو یہ کیا لکھ رہا ہے
ReplyDelete۔
۔
۔
کیسا لگا یہ طرز تخاطب؟
آپ نے لکھا [QUOTE] ًًً تنہائی کا شکار ہونے کا خطرہ مول لے لیجئے۔ً[/QUOTE]
مطلب اس کا یہ ہوا کہ آپ خود کلامی نہیں کررہے ہو،بلکہ سامنے والے بندے سے مخاطب ہورہے ہو۔
اور چاہ رہے ہو کہ سبھی تک آپ کی بات پہنچے۔
پھر آپ نے لکھا
[QUOTE]ًمیں بذات خود اس بات کا قائل ہوں کہ مجھ سے سات آٹھ سال چھوٹے مجھے رو بہ رو کلام میں کسی لقب کے استعمال کے بنا نہ پکاریں۔ً[/QUOTE]
ایک طرف آپ لوگوں کو مخاطب کررہے ہو ویسے ہی جیسا کہ عام زندگی میں مخاطب کرتے ہیں۔ اور دوسری طرف عام زندگی میں بقول آپ کے آپ کو بغیر لقب پکارنا اچھا نہیں لگتا۔
ہماری اردو کا یہ رواج ہے ریت ہے کہ ہم ایسے ہی لکھتے ہیں جیسا کہ سامنے والے سے بات کرتے ہیں۔اگر آپ عام زندگی میں تکلفات کو لازمی گردانتے ہو تو لکھتے ہوئے بھی تکلفات کرنا چاہیں۔ورنہ پڑھنے والا اردو کی اس تہذیب کو مد نظر رکھ کر لا محالہ ناراض ہوگا ہی۔
ہم لوگ اردو کے تشخص کو بچانا چاہ رہے ہیں۔ نہ کہ اردو کو انگریزی کا جامہ پہنانے جارہے ہیں۔
ہم لوگ پہلے ہی بہت کچھ ہنس کی چال کی نظر کرچکے ہیں۔ اب آپ اور کیا کچھ چاہ رہے ہو؟
خواجہ طلحہ۔۔۔خوش آمدید!
ReplyDeleteاگر آپ نے اس بلاگستان میں مختلف بلاگ اور ان پر ہونے والے تبصرے بغور پڑھے ہوںتو آپ کو میری بات اور اس تحریر کا شان نزول باآسانی سمجھ آجائے گا۔ اسی لئے اوپر تمام تبصرہ نگاروں کو میری بات سمجھ آ گئی اور انھوںنے اتفاق ہی کیا۔
تمیز کا مظاہرہ کرنا اور بات ہے۔ تکلفات کا مظاہرہ کرنا اور بات۔ والد صاحب سے تمیز کے دائرے میں رہ کر بحث کی جاسکتی ہے لیکن جب تکلفات آڑے آجائیں تو بحث نداد۔
آپ مجھے تم کہہ کر مخاطب کر سکتے ہیں۔ جو کہ تمیز کے دائرے میں ہے۔ صاحب، بھائی، جناب، جیسے تکلفات لگانے کی ضرورت نہیں۔
اگر میں اردو کو انگریزی کا جامہ پہنا رہا ہوتا بلاگ اردو میں نہ لکھتا۔ اردو کو انگریزی کا جامہ پہنانے والے اردو لکھنا تو درکنار۔۔۔ صاف اردو میںبات تک کرنا پسند نہیں کرتے۔
عین لام میم : تجزیوںپر تو ابھی کافی تحریریں آنی ہیں۔ آگے آگے دیکھتے جائیے۔ بے فکر رہیں۔ آپ کو کون چھوڑ رہا ہے؟
ReplyDeletefaisal: خوش آمدید! عربی کے متعلق تو عرب بلاگر ہی کچھ بتا سکتے ہیں۔
MD: شکریہ!
جاپانی: ڈھیٹ تو میں ایک نمبر کا ہوں اس بارے میںتو کوئی شبہ نہیں۔ آپ دعوت جاپان دیں۔ میں آپ کے پاس چلا آتا ہوں۔
خاور: جناب آپ ٹھہرے صحافی لوگ۔ بندے بندے سے نبٹنا جانتے ہیں۔ ہم کسی سے اُلٹا سیدھا کہہ دیں تو ہو گیا کام۔
شکریہ عثمان
ReplyDeleteجہاں تک آپ کی اس بات کہ "صاف اردو میںبات تک کرنا پسند نہیں کرتے"۔ مجھ سے ہے تو یہ سو فیصد درست ہے۔میں اپنی نااہلی کی وجہ سے حقیقتا لکھتے ہوئے اردو کا مذاق ہی اڑا رہا ہوتا ہوں۔
نہایت اچھا آرٹیکل ہے ۔ ڈو یو سپیک انگلش فرنچس کی چھیڑ ہے ۔ یقین مانیں بڑے ہی غصے سے کہینگے لا لانگلے یا لا انگلے ۔ جو تھوڑی بہت انگلش جانتے ہونگے ساتھ میں بڑی مشکل سے اپنی زبان کو آسمان تک پہنچانے کی کوشش کرینگے ۔
ReplyDeleteایویں ایویں دعوت دے دوں ۔آبیل مجھے مار والی۔
ReplyDeleteویسے یہ بلاگنگ میں عام زندگی کے اصول لاگو نہیں ہوتے؟
ReplyDeleteیعنی بڑوں کی عزت
چھوٹو سے شفقت
دوستوں کے ساتھ گپ
اور دشمنوں کی ایسی کی تیسی۔۔۔
اور کیا یہ انسان کی فطرت نہیں۔۔۔
اگر ہے تو فطرت کو دبانا تو اچھا نہیں ہوتا ناں جی۔۔۔
کیا خیال ہے؟
حیرت ہوئی فرانسیسوں کے اترانے پر، کیونکہ فرانسیسی کی بہن زبانیں ہسپانوی اور اطالوی بھی بکثرت القابات کا استعمال کرتے ہیں ۔ ہسپانوی میں ہم عمر کو مخاطب کرنے کے لئے بھی Tu اور کسی بزرگ کو عزت سے بلانے کے لئے Su کا استعمال ہوتا ہے ۔
ReplyDeleteباقی رہ گئی بلاگستان کے بارے میں بات تو اس پر پریشان نہیں ہونا، یہ ابال وقتی طور پر ہمیشہ سے آتا رہتا ہے، ایک مقولہ ہے کہ بالائی ہمیشہ دودھ کے اوپر رہتی ہے، چاہے جتنا مرضی دودھ کیوں نہ ہو ۔ آپ کوشش کریں کہ آپ خود بالائی بنیں ۔ اور دیگر جو کچھ کر رہے ہیں انہیں ان کے حال پر چھوڑ دیں ۔
تیسری بات فارمیٹنگ والی پر آپکے تبصرے کا جواب بھی دے دیا ہے، اور میرے بلاگ پر پہلا تبصرہ کرنے پر خوش آمدید ۔
اچھی تحریر کے لیے شکریہ
ReplyDeleteعثمان بہت ھی عمدہ باتیں کی ھیں آپ نے، کسی کی ناراصگی کے خوف سے حق اور صحیح بات لکھنے سے نہیں گھبرانا چاہیے ، مشہور قول ھے کھ یھ مت دیکھو کون کہھ رہا ھے یھ دیکھو کیا کہھ رہا ھے۔ آپ اپنے ضمیر کی آواز پر لبیک کہتے جائیں ہر حق اور سچ لکھتے جائیں۔
ReplyDeleteعثمان ، میں نے یہ نہیں لکھا کہ مجھے بیٹی یا بہن کہہ کر کوئی پکارے تو برا لگے گا ۔۔ میں نے لکھا ہے کہ بہن یا بیٹی کہہ کر اگر بلایا جائے تو بہن یا بیٹی جیسے لفظ کا احترام بھی کیا جائے یہ نہیں کہ بہن کہہ کر ذومعنی الفاظ کہے جائیں سب لوگ ایسا نہیں کرتے جانتی ہوں مگر جو ایسا کرتے ہیں میری پوسٹ اُن لوگوں کے لیئے تھی ۔
ReplyDeleteحجاب
ReplyDeleteمیں آپ کی اس بات سے متفق ہوں۔ میرا مقصد آپ کی پوسٹ کی نشاندہی کرکے یہ دکھانا تھا کہ اب یہ تکلفات وغیرہ اس طرح مفید نہیں رہ گئے جیسا کہ کبھی ہوتے تھے۔
ہیلو۔ہائے۔اےاواے : پسندیدگی کا شکریہ!
ReplyDeleteیاسر : دعوت کوئی بھی ہو۔۔میں نے پہنچ جانا ہے۔
جعفر: ان تکلفات کی وجہ سے ہی تو فطرت کو دبایا جا رہا ہے۔پیار ، احترام اور تمیز ضروری ہے۔ لیکن تکلفات مختلف چیز ہے۔ اور بلاجھجک تنقید کا راستہ بند کرتی ہے۔ میرے خیال میں زبانی کلام اور تحریری کلام کے طرز گفتگو میں فرق ہوتا ہے۔
جہانزیب اشرف: خوش آمدید! القابات تو بہت سی زبانوںمیںہے۔ لیکن فرانسیسی لوگوں کو انگریزی سے کمپلیکس ہے۔ اور جہاں موقع ملے اسے نیچا دکھانے کی پوری کوشش کرتے ہیں۔
شازل: خوش آمدید!
فکر پاکستان: تنقید اور اختلاف سے ڈرنے والے نہیں ہم
خاور کھوکھر صاحب ان حضرات کی ماں بہنوں نے آپ کا کیا بگاڑا ہے؟؟؟؟؟
ReplyDeleteمیں بھی آپکی بات سے متفق ہوں!
ReplyDeleteاردو بلاگوں میں تو ابھی انگریزی بلاگوں والی آگ کی سیک تک نہیں پہنچی
ReplyDeleteانگل اور باں والا پنجابی محاورہ میں تو یاد نہیں کرواتا
لیکن اگر برداشت نہ ہو تو بات کرنی ہی نہیں چاہیے
بجائے اس کے کہ بات کر دو
اور جواب ملے تو کوسنا شروع کر دو
بحث کو جتنا مرضی گرم کر دو ،کوئی فرق نہیں پڑتا
میں تو کہتا ہوں کہ کوئی گالیاں دے تو جواب میں بے شک گالیاں بھی دو
لیکن جب ایک پارٹی دعوٰی کر کےثابت نہ کر سکے اور جوابی دلیلوں کے جواب میں لعن طعن کرے تو مجھے یہ سمجھ نہیں آتی کہ لکھنے کی وجہ کیا تھی؟
اگر صرف اپنی بات پہنچانا تھا تو اس پوسٹ پر تو تبصرے بند ہونے چاہییں کہ مقصد پورا ہو گیا
ابھی میں جنگی پوسٹوں کے بیچ میں پہنچا
ساری پڑھ لوں تو فیر پورا تبصرہ کروں گا
اب تک کی آخری بات یہ کہ
اس پوسٹ کا آخری پیرا گراف ہی سب سے اہم ہے
اب تو اردو بلاگنگ میں کافی میچورٹی آ گئی
اس پیرا گراف کی رو سے اگر بلاگستان کا حجم بڑھنے کے باوجود کوئی نام تحلیل نہ ہوا تو؟
کیا ہم نتائج کھلے دل سے ماننے کے لیے تیار ہیں؟
اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہم جذباتی قوم ہیں۔ کوئی بات مزاج کے خلاف ہو جائے تو آپے سے باہر ہو جاتے ہیں۔
ReplyDeleteAbdullah: خوش آمدید!
ReplyDeleteڈفر: اردو بلاگنگ کا حجم بہت سست روی سے بڑھ رہا ہے۔ لگتا ہے اچھا وقت صرف اگلی نسل ہی دیکھ پائی گی اگر اس وقت تک اردو اور بلاگنگ قائم رہی تو۔
Saad: اردو بلاگنگ کو بالغ ہونے میں ابھی تھوڑا ٹائم تو لگے گا۔
السلام علیکم ورحمۃ وبرکاتہ،
ReplyDeleteعثمان بھائي، ایک اچھی تحریر ہے۔ بات یہی ہوتی ہےجوبھی آپ کوسچ وحق لگےآپ اس کوبلاجھجک لکھ دیں۔ پھراس کوتبصروں کی چکی میں سےدیکھیں کہ اس کی کتنی سچائی ہے۔کیونکہ سچ توسوپردوں میں بھی سچ ہی رہےگالیکن جھوٹ آخرجھوٹ ہےاس کاپول کھل جائےگا۔
والسلام
جاویداقبال
اس بارے ميں ُہم` نے بھی ايک تحرير لکھی تھی ايڈريس يہ ہے
ReplyDeletehttp://phapheykutni.3papillons.fr/?p=24
I think u r quite wrong u wudnt say much if u agree with the person n so is true if u don't wana indulge in a stupid conversation as I avoided u a few times as I pretty much follow one problem at a time quotation
ReplyDeletenow if u admire u r labeled siding with the guy u disagree n u r declared being idiot not
understanding the bright facts
honestly u r confused wat u want pretty much happened n u didn't like as u took it in wrong sense n wats a routine u wana change it
I like English better u can do a he'll of a lot insult compare to English for Urdu ppls don't understand soft insults n hardcore like me r hated but I enjoy being loathed
Well, I think you haven't looked on my comments which I have left around Urdu Blogosphere. I occasionally engaged in detail conversation whenever I agreed with someone then the otherwise. One of the reasons that why discussion instantly ended whenever I disagreed , lies in the cultural and hence the linguistic formalities inherited in our society and Urdu Blogosphere as well.
ReplyDeleteAs for the argument that which language you feel comfortable to being loathed in, depends on which language you feel comfortable to conceive the argument with tone. By the way, If you agree that you like to go with English for any given heated debate...., then, my friend, doesn't it prove my argument over formalities in language
او یار کوئی خدا دا خوف کرو۔۔۔
ReplyDeleteاو سدھی انگلش ای شروع کردتی جے۔۔۔
نہیں صاحب آپ میرا مطلب ابھی بھی نہیں سمجھے۔ میں نے اختلاف کیا کہ اگر کھل کر لکھو تو ہر بلاگ سے رونے کی آواز آتی ہے۔ اور اگر آپ جناب کے چکر میں رہو تو آپ ناخوش۔
ReplyDeleteجعفرۛ یار آءی فون سے تھا۔ اردو اس پر لکھنے سے بہتر ہے بندہ خودکشی کر لے۔
خوبصورت تحریر! عمدہ تجزیہ! فرانسیسی اور انگریزوں میں اینٹ کتے کا بیر ہے۔ اینٹ کون اور کتا کون اس بحث میں نہیں جاتے۔ اور خوش فہمی والی بات سے میں بھی متفق ہوں۔ ۔ویسے فرانسیسیوں کے ساتھ میرا تجربہ بھی کچھ اتنا اچھا نہیں ھے۔
ReplyDeleteعثمان کی تحاریر تو میرے سر کے اوپر سے گزر کر نا جانے کہاں گم ہو جاتیں ہین ۔۔۔۔بعض دفعہ تو یوں لگتا ہے کہ عثمان جو لکھتے ہیں وہ صرف اور صرف مرد حضرات کے پڑھنے کا ہوتا ہے ۔۔۔۔ عثمان اب بس کرو سمندر کے کنارے پر آ ہی جاو ۔ ورنہ ڈوبنے کا ڈر بھی ہوتا ہے کتنا ہی اچھا تیراک ہونے کے باوجود
ReplyDeleteمیری بلاگنگ کا جہاز اپنی منزل کی طرف رواں دواں ہے۔ اور آپ ہیں کہ اسے کنارے لگانے کا کہہ رہی ہیں۔ یہ تو دوستوں والی باتیں نہ ہوئیں۔ :(
ReplyDeleteویسے یہ آپ نے مرد بلاگوں والی بات اچھی کہی ہے۔ آئیندہ خیال رکھوں گا اور تحریر میں تغیر بھی لانے کی کوشش کروںگا۔ :)
عمران صاحب
ReplyDeleteبلاگ پر خوش آمدید۔ فرانسیسوں کے ساتھ آپ کا کیا جھگڑا ہے۔ کچھ ہمیں بھی بتائیے۔ :)