ISNA جو کہ براعظم شمالی امریکہ میں مسلمانوں کی سب سے بڑی نمائندہ تنظیم ہے۔ جدید آسٹرانومی اور حسابی کیلنڈر جیسے کافرانا علوم پر ایمان رکھتی ہے۔ ان کی سالانہ جنتریاں پہلے ہی سے طے شدہ ہیں جس کے مطابق اس سال رمضان ۱۱ اگست سے جبکہ عیدالفطر ۱۰ ستمبر کو منائی جائے گی۔ کچھ برس پہلے تک یہ کئی اقسام کے ڈرامے کرتے رہے ہیں۔ جس میں سب سے شاہکار ڈرامہ رات کے اڑھائی بجے میکسیکو کے کسی پنڈ سے چاند دریافت کرنا تھا۔ جب مشرقی ساحل والوں نے ان پر لعنت برسائی کہ بھائی جی۔۔۔پانچ ہزار کلومیٹر دور اور پانچ ٹائم زون پیچھے کے کسی علاقے کی شہادت پر ایمان لانا کونسی دانشمندی ہے؟ تب سے دلبرداشتہ ہوکر انھوں نے اپنا قبلہ قبلہ حقیقی کی طرف کرلیا۔ آجکل یہ حضرات مکہ مکرمہ میں نکلنے والا چاند حسابی طریقے سے دریافت کرتے ہیں۔ گویا زمین شمالی امریکہ کی۔۔اور افق صحرائے عرب کا۔ یہ کونسی افلاطونی ہے ۔۔۔بلاگراعظم ابھی تک سمجھنے سے قاصر ہے۔ لیکن چونکہ فدوی جدیدیت کا قائل ہے اسے لئے چاروناچار مسلمانوں کے سب سے بڑے جتھے کے ساتھ سائنسی طریقہ کار پر چلنے پہ مجبور ہے۔
ICNA براعظم شمالی امریکہ میں مسلمانوں کی دوسری بڑی نوٹنکی ہے۔ اس تنظیم کی اکثریت دیسیوں پر مشتمل ہے۔ ان صاحبان نے پچھلے کچھ برسوں میں ایسی ایسی فنکاری دیکھائی ہے کہ جس کی تاریخ مسلمانان شمالی امریکہ میں مثال نہیں ملتی۔ ٹی وی ریڈیو پر ان ارسطوؤں کے انٹرویو اور مساجد میں خطبات اپنی مثال آپ ہیں۔ غالبا پچھلے برس تک یہ حضرات چاند ننگی آنکھ سے دیکھنے کے قائل تھے۔ لیکن چونکہ ننگی آنکھ میں بھی کچھ نا کچھ ننگا ہے اس لئے ان حضرات نے اس فحش طریقہ سے تائب ہوکر نئی درفطنی ماری ہے۔ ملاحضہ فرمائیے چاند کے بارے میں ان کی تازہ چول۔۔
ICNA Canada adopted a balanced approach which is using calculation as a support and very exact means to forecast earlier, but when Hadith is asking us to see the moon, so we added the word " sighting " with calculation. So we benefit from calculation and same time we follow the tradition of seeing the moon. In this way, we are choosing global moon sighting, instead of local sighting, and both are fiqh based ways of moon sighting.
It is sure that when it is determined that moon will be visible on such date it will be seen some where in world. It will be a rare situation that it is said so but not seen any where so we will stick with seeing and not calculation. But such possibility is around 5 to 10 %
اوپر دی گئی انگریزی سے متاثر ہونے کی قطعاً ضرورت نہیں۔ اس افلاطونی کی عملی حقیقت میں آپ کو اردو پنجابی میں سمجھا دیتا ہوں۔
یہ جغادری دراصل خربوزے کو ہدوانے کا اسٹکر لگا کر بیچ رہے ہیں۔ پیروی یہ اُسی حسابی طریقہ کی کررہے ہیں۔ لیکن چونکہ سنت نبوی کا شیرہ لگانا ضروری ہے لہذا استدلال یہ ہے کہ "سجنوں نے چن کہیں تو دیکھا ہوگا!"۔ اب فرض کریں کہ بلاگر اعظم ادھر بیٹھ کر یہ اعلان کردیتا ہے کہ اُس نے چاند بحرمنجمد شمالی کے کسی نکرے میں دیکھا ہے تو کون مائی کا لال اس شہادت کی تصدیق کرنے جارہا ہے؟ باقی رہے نمبر تو ان کا راز جاننے کے لئے santa is dead والی وائرل ای میل سے رجوع کریں۔
تیسری قسم کے شعبدہ باز ٹورنٹو ہلال کمیٹی والے ہیں۔ ان کی رِیت پسندی کا عالم یہ ہے کہ اگر بس چلے تو سحری کے وقت ٹین کے ڈبے کھڑکانا شروع کردیں۔ یہ حضرات ٹورنٹو کی ایک مرکزی مسجد میں چار گھنٹے اجلاس کرنے کے باوجود کوئی بھی چن چڑھانے میں ناکام رہے ہیں۔ اس لئے ان کا روزہ وکھرا ہے۔ چن دیکھنے کے لئے یہ نظر کی عینک کو بھی غیر شرعی گردانتے ہیں۔
چوتھی قسم میں ہر بندہ مفتی اعظم ہے۔ ایسے ایسے دلائل سننے میں آئیں گے کہ بس۔ ان میں کچھ شیدائی ایسے ہیں جو عید ، روزہ اپنے آبائی وطن کے ساتھ رکھتے ہیں۔ بندہ اگر پوچھے کہ صاحبان۔۔۔کیا آپ نماز بھی اپنے وطن کے ساعت میں پڑھتے ہیں تو آگے سے کھی کھی کرنے لگتے ہیں۔ میرے پچھلے محلے میں ایک مسجد تھی۔ جو روزہ اور عید الفطر تو ہلال کمیٹی کے ساتھ مناتے تھے۔ جبکہ بقر عید کے لئے سعودی افق۔ باقی سال کسی مایا کیلنڈر کی پیروی کرتے تھے۔
عام بندہ فیصلہ نہیں کرپاتا کہ کیا کرنا ہے۔ کئی لوگ اپنی قریبی مسجد کے ساتھ چل پڑتے ہیں کہ تراویح اور نماز وغیرہ کی ترتیب برقرار رہے۔ کچھ لوگ اپنے خاندان سے اتفاق کرلیتے ہیں۔ تاکہ عید ملن پالٹیاں نہ بگڑیں۔ ورنہ سلام دعا کے بعد ایک دوسرے سے یہی پوچھتے رہو کہ ہاں بھئی۔۔کتنواں روزہ ہے اور کب عید کررہے ہو؟
امید ہے اگلی پوسٹ میں آپ اس مسئلے کا حل تجویز کریں گے۔
ReplyDeleteکوئ حل نہیں ہے ہمارے لوگوں کا سو جب آپ اپنی گِنتے درُست سمجھیں کر لیں،،،،آج میری بہن بھی بتا رہی تھی کہ اُسے بہُت سے لوگوں نے روزہ نا ہونے کا بتایا اور اُس نے روزہ نہیں رکھا جبکہ مسی ساگا میں ہی دُوسرے کونے پر روزہ تھا،،،
ReplyDeleteہم اچھے ہیں جب بڑے بھائ یعنی سعُودی عرب والے فرماتے ہیں روزہ رکھ لیتے ہیں جب کہتے ہیں عید کر لو عید کر لیتے ہیں ،،
باقی میں نے اپنا جھٹکا طریقہ بھی رکھا ہُوا ہے کہ ایک مہینہ تیس کا ایک اُنتیس کا اُس حِساب سے میں نے آج درُست روزہ رکھا تھا اور حسبِ معمُول اکرم صاحب کو بھی بتا دیا تھا کہ گیارہ کو روزہ اور دس ستمبر کو عید ہے ،،،اب جواب یہ مِلتا ہے تُمہیں رُویتِ ہِلال کمیٹی میں نا بھرتی کروا دُوں بھلا بتاؤ بھلے کا سماں ہی نہیں ہے
:lol: :lol: :lol:
ہاں سچی رمضان مُبارک تو کہا ہی نہیں،،،
ReplyDeleteمُبارک ہو ماہِ صیام،،،
کُلُّ عام وَ اَنتُم بخیر،،،
ہمارے ہاں بھی کچھ لوگ بندوق کی نال سے چاند دیکھ لیتے ہیں
ReplyDeleteیہ اور بات ہے کہ ان کو دینی تقاضوں کا علم ہی نہیں ہوتا.
دراصل رویت چاند میں اختلاف کا مسئلہ مسلمانوں کی مرکزیت کے خاتمہ کے بعد پیدا ہوا ہے. اب اس مسئلے کہ حل کے لئے "المجمتہ الفقہ السلامیہ" کے علماء کرام کو مل بیٹھ کر کچھ کرنا چاہئے.
ReplyDeleteمیں نے کچھ سال قبل ڈاکٹر شاہد مسعود کے پروگرام میں شیخ السلام مفتی تقی عثمانی صاحب کا انٹرویو سنا تھا انہیں نے بھی کہا کہ ساری دنیا کے مسلمان علماء اور حکمران متفق ہوجائیں تو رویت ہلال کا مسئلہ مستقل بنیادوں پر حل کیا جاسکتا ہے.
یہ کام کنیڈا میں ہوتا ھے.
ReplyDeleteہمارے یہاں ترکی والوں نے جیسے قسم اٹھائی ہوئی ہے.کہ با قی ایک طرف ہم ایک طرف کبھی بھی ایک ساتھ رمضا ن کی ابتدا یا عید ایک ساتھ نہیں کرتے.
اس سال کا معلوم نہیں.
رمضان مبارک
میں تو پچھلے دو سال سے اِسنا کے ساتھ ہی روزہ رکھتا ہوں . اس لئے آج میرا دوسرا روزہ ہو گا جبکہ کل یہاں کسی کا روزہ تھا کسی کا نہیں .
ReplyDeleteلاس اینجلس میں بھی یہی حال تھا.. کسی کا روزہ تھا کسی کا نہیں. بس رمضان اور شوال میں ہی لوگوں کو شرعی مسئلے کی یاد ستاتی ہے باقی 10 مہینے چپ چاپ دوربینوں پر تکیہ کیے رہتے ہیں.
ReplyDeleteجو قوم چاند پر ایک نہیں ھوسکتی وہ پورے دین پر کیسے ایک ھوسکتی ھے۔
ReplyDeleteمیرا پاکستان : میری کیا مجال جو اس مسئلے کا حل تجویز کرسکوں. :-?
ReplyDeleteشاہدہ اکرم : اکرم صاحب ٹھیک ہی تو کہہ رہے ہیں. آپ کو ہلال کمیٹی ہی میں ہونا چاہیے. :mrgreen: رمضان مبارک. دیکھتا ہوں. اگر عرب امارات پہنچ سکتا تو باقی افطاریاں آپ کے زمہ :lol:
شازل : بندوق کی نال ہی کیوں؟ چاند کو ہٹ کرنا ہے کیا؟ :)
کاشف : مسلمان صرف نااتفاقی پر ہی اتفاق کرسکتے ہیں. :oops:
یاسر : مسلمان ہوں اور ورائٹی نہ دکھائیں. یہ ہوسکتا ہے بھلا. :-D رمضان مبارک!
جہانزیب : ادھر بھی یہی حال ہے. میں بھی اب پچھلے دو تین سال سے اِسنا کے ساتھ ہی روزہ رکھ رہا ہوں. :)
راشد کامران : باقی دس ماہ تو کسی کو پتا بھی نہیں ہوتا اسلامی مہینوں کا. جاگ آتی ہے تو رمضان پر. :mrgreen:
فکر پاکستان : چاند پیچارے کو کیوں گھسیٹتے ہو. :-D
[...] بلاگر عثمان صاحب نے بھی اس مسئلے پر اپنے انداز میں لکھا ہے مگر حل بیان کرنے سے اجتناب کیا ہے۔ کالم نگار اوریا مقبول جان نے اپنے کالم میں نہ صرف مسئلے کی وجہ بیان کی ہے بلکہ اس کا حل بھی لکھا ہے۔ [...]
ReplyDeleteمیرا خیال تھا کہ یہ صرف پاکستان میں ہوتا ہو گا..... باقی سب تو سعودیہ عب کے ساتھ ہوں گے.... لیکن نہیں! :(
ReplyDeleteچلیں جی..... چندا ماما کے ساتھ لاڈ جو ٹھہرا سب کا....
لیکن یہ متفق ہوں تو
ReplyDeleteبندوق کی نال سے یا بندوق کے اوپر لگی ہوئی ٹیلی سکوپ سے؟ 8-O
ReplyDeleteرمضان مبارک ۔۔ یعنی پشاور والے حالات وہاں بھی ہیں ، خود چاند دیکھ لیا کریں عثمان، آسمان والا چاند دیکھئے گا وہ والا نہیں جو ہمارے ہاں عید پر کھڑکی میں چاند دیکھ کے عید کا اعلان کر دیا جاتا ہے :-p
ReplyDeleteعین لام میم : چندا ماما کی پاک لوگاں کے ساتھ گہری رشتہ داری ہے. :mrgreen:
ReplyDeleteحجاب : رمضان مبارک! چاند دیکھنے کے لئے ہمیں یہاں نظریں آسمان پر نہیں اٹھانی پڑتیں. بس دائیں بائیں گردن گھما لیتے ہیں. :z:
او ہو یعنی آپ کا چاند گردن گھمانے سے نظر آ جاتا ہے واہ جی
ReplyDeleteاور مزے کی بات ہے کہ یہ چاند کوئی ایک نہیں بلکہ لاتعداد ہیں. :-P
ReplyDeleteمیں سمجھی آپ کا اپنا چاند ہے :-p
ReplyDeleteچاند پر اختلاف اپنی جگہ، لیکن اس اختلاف کو بنیاد بنا کر ایک دوسرے پر الزام تراشی کرنے والے لوگ اس سے بڑے جرم کا ارتکاب کرتے ہیں۔
ReplyDeleteاس دفعہ تو ہمارے ساتھ ایک اور ڈرامہ کیا جا رہا ہے ۔ پہلے تو ہر شہر کے مطابق روزہ رکھا جاتا تھا ۔۔ زیادہ تر سعودی عرب کے ساتھ ہی روزہ رکھتے اور عید کرتے ۔ ہم بھی ان لوگوں میں شامل ہیں ۔ لیکن اس دفعہ ہر مسجد کے مولانا نے اعلان کیا ہے کہ اپنے محلے کی مسجد کے مطابق روزہ افطار کریں ۔۔ اب یہاں کون سی مساجد قریب قریب ہیں ۔ جو لوگ اذان سن کر روزہ رکھیں گے یا افطار کریں گے ۔۔۔جو دو شہروں کے درمیاں رہتے ہیں وہ پریشان ہیں کہ ہم کس شہر کی مسجد کے ساتھ افطار کریں ۔۔جہاں مولانا لوگوں نے اپنی ضد بنا لی ہو وہاں لوگ بچارے کیا کریں گے ۔۔۔اور یہی حالت کلینڈر کی ہے ۔ وہاں بھی نماز کے اوقات اور سحری اور افطاری بھی ایک ہی شہر میں ایک گھنٹے کے فرق سے ہے ۔۔۔کوئی حل ہے ۔
ReplyDeleteحجاب : چاند اپنانے کی کوشش جاری ہے. :wink:
ReplyDeleteہارون اعظم : صرف چاند کیا، یار لوگ ہردوسرے مسئلے کو اختلاف بنا کر الزام تراشی کے عادی ہیں. :-?
تانیہ جی : اچھی بات ہے نا! :-P ولایت میں ہوکر آزادی کا مزا نہ اٹھایا جائے تو فائدہ کیا؟ بھئی اپنی مرضی سے روزہ کریں ۔۔۔عید منائیں۔ :-D
چاند تو نظر نہیں آیاہے---- لیکن چندا نطر آگئی ہے ----لہذا کل میرا روزہ ہے
ReplyDeleteاسلام علیکم
ReplyDeleteویسے مذاق بنانے کا فن آپ اچھا جانتے ہیں ۔ اکنا اور اسنا وغیرہ سارا سال شور مچاتے رہتے ہیں کہ تقلید حرام اور شرک ہے مجھے سمجھ نہیں آتی کہ رمضان اور عید کے معاملے میں یہ سعودیوں کی تقلید کیوں شروع کر دیتے ہیں ۔ باقی رہی بات ہلال کمییٹی والوں کی جو مدینہ مسجد میں بیٹھتے ہیں ۔ انکے بارے میں آپ نے اپنے مضمون کو رنگ لگانے کے لیے اچھے شوشے چھوڑے ہیں ۔ ہلال کمیٹی والے چاند دیکھ کر فیصلہ کرتے ہیں اگر چاند نظر نہیں آتا تو اس میں انکا کوی قصور نہیں ہے اگر آپکو عید کی اتنی ہی جلدی ہے اور روزہ لگتا ہے آپکو تو آپ بھی افغانیوں اور اسنا اکنا والوں کے ساتھ ہو کر سعودی کی تقلید میں عید کر لیا کریں دوسروں پر بلا علم کے تنقید کرنے سے کافی اچھا ہے ۔ ہلال کمیٹی میں سے ایک مولانا صاحب کو میں خود بھی جانتا ہوں وہ ہر سال تراویح پڑھاتے ہیں اور متقی ہیں کم سے کم آپ کی طرح نہیں کہ نکر پہن کر پھرتے ہوں اسی لیے ان جیسے متقی لوگوں کے مقابلے میں آپ جیسے فاسق (فاسق کھلا گناہ کرنے والے کو کہتے ہیں جیسے داڑھی منڈوانا وغیرہ ) کی بات کون سنے ۔ اور آخر میں جھوٹ بولنے سے پرہیز کریں کہ صحت کے لیا مفید نہیں ہوتا چاہے کسی کا مذاق اڑانے کے لیے بولا جاے
عید پر کیا ہورہا ہے اس چاند کا
ReplyDeleteمحکمہ موسمیات والے نئے چاند کی روئت کے بارے میں اچھا حساب کتاب رکھتے ہیں۔ انہیں معلوم ہو جاتا ہے کہ نیا چاند کس علاقے میں دیکھا جا سکتا ہے۔ ان پر اعتبار کرنے میں کیا حرج ہے؟
ReplyDelete